”اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد“

منگل اکتوبر    |    ممتاز امیر رانجھا

محرم الحرام ہی ایسا مہینہ ہے جو ہم سب مسلمانوں کو حضرت محمدﷺ کے نواسوں کی بے مثال قربانیوں کی یاد دلاتی ہے۔ان کی شہادت ہی کی وجہ سے اسلام تاقیامت زندہ و تابندہ ہو گیا۔اس دین اسلام کی خاطر خود ہمارے سب کے پیارے رسول ِ مقبولﷺنے بہت زیادہ تکالیف برداشت کیں۔اپنا گھر بار چھوڑ کر اسی دین کی خاطر ہجرت کی،اسی دین کی خاطر ٹکے ٹکے کے لوگوں کے طعنے و سختیاں برداشت کی۔لیکن آپﷺ نے اپنے ہونٹ ِ مبارک پر کبھی کسی ظالم کے لئے بد دعا تک نہ نکالی اور نہ ہی کسی کو جواباً ذاتی تششد د کا نشانہ بنایا ورنہ تو آپ۔
حضورکریم ﷺ کا صبر ان کی اگلی نسل میں منتقل ہوا ،اسی صبر کی بھرپور مثال حضرت حسن اور حضرت حسین  کی شہادت کی شکل میں تاریخ اسلام کا حصہ بن گئی۔

(خبر جاری ہے)

نواسانِ رسولﷺ نے اپنے سارے خاندان جن میں معصوم بچے،عورتیں ،نوجوان اور بوڑھے تک قربان ہو گئے لیکن انہوں نے اف تک نہ کی اور پرچم اسلام سربلند کر دیا۔
ہمارے نبیﷺ اور ان کے خاندان کی قربانیوں ہم سارے بطور امت کبھی بھی صلہ اتارنے کے قابل نہیں ہیں۔

تمام دنیا بھر کے مسلمانوں میں سے محض 50%مسلمان بھی اگر اسوہ حسنہ پر عمل کرنا شروع کردیں،باقاعدہ نماز پڑھیں اور احکامِ الٰہی کی پیروی کریں تو گارنٹی سے کہا جا سکتا ہے کہ ہم سب مسلمانوں کی زندگیاں ہی بدل جائیں۔ا س وقت دنیا بھر کے مسلمانوں کا جو حال ہے ہم سب کے سامنے ہے۔غیر مذہبی اور مذہبی قوتیں خدانخواستہ اسلام کو دہشت گردی کا مذہب ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ہم سب کے سامنے چند مسلمان ممالک جن میں عراق،افغانستان ،لیبیا،مصر اور شام تباہ ہوئے۔
تمام مسلمان نا اتفاقی اور بے برکتی سے اٹی ہوئی زندگی گزارنے کو ہی اپنا شیوہ بنائے ہوئے ہیں۔ہم سارے مسلمان اپنی گھریلو زندگی کا اگر بغور جائزہ لیں تو خدانخواستہ ہم میں سے اکثریت بے راہ روی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ہم لوگ اخلاقی،مذہبی،معاشی اور معاشرتی لحاظ سے کرپشن آلودہ زندگی میں پھنس چکے ہیں۔نہ تو ہم اپنے آپ کو اس غلیظ اور کیچڑ زدہ زندگی سے دینی اور مذہبی صاف ستھری زندگی میں بدلنے کا دل سے تہیہ کرتے ہیں اور نہ ہی ہمارے چاہنے والے ہمیں دل سے اس بیمار زندگی سے باہر نکالنا پسند کرتے ہیں۔

ہمارے والدین،اساتذہ اور مساجد کے امام سو فی صد دینی ،مذہبی اور معاشرتی زندگی کا درس اور تربیت دینا بھول چکے ہیں یا نااہل ہو چکے ہیں۔ہماری نئی نسلیں فیس بُک،واٹس ایپ اور انٹرنیٹ کے رحم وکرم پر ہیں۔جو اچھی صحبت پر چڑھ گئے وہ کامیاب ہو جائیں گے اور جنہیں مغربی ماحول کی لت پڑ گئی انہیں معاشرے سے بھی لات لگنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔جس نے انٹرنیٹ کو پازیٹو استعمال کیا اس کو فائدہ ہو گیا اور جس نے انٹرنیٹ کی منفی عیاشیوں کو اوڑھنا بچھونا بنایا اس کی آئندہ نسلیں تک برباد ہونے کا خدشہ ہے۔

ملکی سیاست کا اللہ ہی مالک ہے۔ہمارے جیسے ترقی پسند ہیں ہماری نظر کو ن لیگ کی ترقی پسندانہ ادائیں پسند ہیں سو ہم انہیں کے گن گائیں گے،جس کو ن لیگ پسند ہے ،انہیں ن لیگ میں کوئی خرابی نظر نہیں آئے گی،جنہیں ن لیگ پسند ہے انہیں پانامہ لیکس سے کوئی لینا دینا نہیں،جنہیں پی پی پی کی کرپشن پکڑنے والے عینک نہیں لگے گی انہیں پی پی پی سب سے زیادہ بہترین نظر آئے گی۔ سندھ یا پاکستان میں بے شک ان کی کرپشن سے غریب پستا رہے پارٹی کا اور ان کے چاہنے والوں کا بھٹو ہمیشہ زندہ رہے گا۔
جنہیں عمران خان کی جذباتیت پسند ہے انہیں عمران خان کی احمقانہ حرکتیں ہر گز نظر نہیں آئیں گی۔وہ لاکھوں ،کروڑوں روپوں کا نقصان کر کے خواہ مخواہ نواز شریف کو کرپٹ اور نا اہل ثابت کرنے کے لئے اپنا وقت اور پیسہ داؤ پر لگا دیں گے۔قادری کے چاہنے والے اپنی اور اپنے جانوروں کی کھالیں، اپنی خواتین کا زیور اور عزتیں ان کے لئے داؤ میں لگا دیں گے۔طاہر القادری بھلے عیاشی کرے انہیں قادری کی قیادت میں قصاص لینے کی فکر ہے۔

ملک کی کسی کو کوئی فکر نہیں ہے۔حکومتیں جب عوام کو آ سانیاں فراہم کرتی ہیں تو لوگ خوش ہوتے ہیں۔یقین کریں جب ہماری موٹروے پر ہماری فضائیہ کے طیارے لینڈ کرتے ہیں ،فخر سے ہم سر بلند ہو جاتے ہیں اور ہندوستان کی ماں مر جاتی ہے۔میٹرو بس پر بیٹھ کر جب مسافر مردوخواتین روزانہ باخیریت تھوڑے کرائے میں اسلام آباد سے واپس راولپنڈی پہنچ جاتے ہیں تو حکومت کو سو دعائیں دیتے ہیں۔جب لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی تولوگوں کو یقین نہیں آتا اور سوچتے ہیں کہ کیا واقعی پاکستان میں ایسا ہو سکتا ہے۔
یقینا بھائی جان پاکستان میں ہر اچھا کام ہو سکتا ہے۔اگر ہم عوام ٹھیک ہو جائیں تو یہاں ہر کام ٹھیک ہو جائے گا۔ہماری محنت اور ہماری ایمانداری پورے ملک اور پوری عوام کے کام آسکتی ہے۔حکومت کوئی بھی اچھا کام کرے عوام پر اس کا احسان نہیں ہوتا بلکہ حکومت وقت کا فرض بنتا ہے کہ عوام کی دہلیز تک آسانیاں فراہم کرے۔یار بھائی کبھی سارے موازنہ ہی کرلو۔پی پی پی،مشرف،ن لیگ اور پی ٹی آئی میں سے کس نے ملک و ملت کے لئے کچھ بہتر کیا ہے۔
اپنا فرض یہی ہے کہ جس نے عوام کے لئے کچھ بہتر کیا ہے اس کو سپورٹ کریں۔
اگر ن لیگ کرپشن کرے۔عدالت میں جاؤ،ثبو ت دو اور پکڑوا دو۔یہ کیا ہوا کہ آپ الیکشن کمیشن،حکومت ،انتظامیہ اور عدالتوں کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھو اور سب کچھ جام کرنے کی نہ صرف دھمکی دو بلکہ لوگوں کے روزمرہ معمولات زندگی میں بھونچا ل لے آؤ۔ہو سکے تو سیاست میں بھی مذہبی اسلامی اقدار اپناؤ۔متقی اور ایماندار لوگ سیاست میں آئیں تاکہ ملک وملت کو فائدہ ہو۔
ایمانداری سے کہوں تو مجھے محرم میں اہل تشیع کی طرف سے سڑکیں بلاک کرنا بھی اچھا نہیں لگتا۔ہم کہتے ہیں کہ یہ اپنے فرقے کے مطابق اپنے تما م کام کریں لیکن امام بارگاہوں میں۔حکومت اور انتظامیہ انہیں امام بارگاہ تک فول پروف سیکورٹی دے۔لیکن جب یہ سڑکیں مفلوج کردیتے ہیں تو رستے میں کئی مریض نہ صرف دم توڑ دیتے ہیں بلکہ کئی غریبوں کے چولہے بھی ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔سنی ،شیعہ ،وہابی اور بریلوی کے چکر میں ہم لوگوں نے خود ہی ایک دوسرے کو دشمن بنالیا ہے۔
پوری دنیا میں مسلمان نا اتفاقی کا شکار ہیں۔اس کا فائدہ غیر مسلم لوگ،ممالک اور اسلام دشمن قوتیں اٹھارہی ہیں۔ہو سکے تو سارے مسلمان ،سارے پاکستانی اتفاق کرو۔ابھی وقت ہے مقبوضہ کشمیر آزاد ہو سکتا ہے۔اب سنہری وقت ہے اگر ہماری حکومت اور عوام دل سے کوشش کرے تو ہندوستان کے منہ میں خاک ملائی جا سکتی ہے۔آزادی کے لئے ہمارے پاس اقوام متحدہ،مسلم ممالک اور آذادی پسند ممالک کی سپورٹ لینے کا بہترین عہد اور فورم ہے ،دیکھنا یہ ہے کہ اب کون کون اسلام کے لئے قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔
حضرت حسن اور حضرت حسین کی قربانی سے بڑی قربانی بھلا کیا ہو سکتی ہے۔سارے پاکستانی ملکر ہندوستانی بارڈ پر دھرنا دو ،اسلام آباد بندکرنے والو اگر تم LOCپر جا کر ہندوستانی حکومت بند کرو تو ہمیشہ ہیرو رہو گے،احقر سمیت کئی لوگ تمہارے پیچھے ہونگے۔اپنی حکومت گرانے کی بجائے ہندوستانی مظالم کو ختم کرنے کا عہد کر لو۔ہو سکے تو اپنی باری کا انتظا ر کرو،عوام سے ووٹ لیکر ملک و ملت کی ترقی کے لئے آگے آؤ،ترقی کا پہیہ چلنے دو،ترقی میں رکاوٹ مت بنو۔منتخب حکومت اور منتخب وزیر اعظم کو گالیاں دینے کی بجائے ہندوستان کو گالیاں دو جس نے مسلمانوں کا جینا دو بھر کر رکھاہے۔
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کر بلا کے بعد
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ممتاز امیر رانجھا کے پیر اکتوبر کے مزید کالم