”ہارن آہستہ بجائیں ،قوم سور ہی ہے “

بدھ اکتوبر    |    ارشاد بھٹی

ایک” 23مارچ ایوارڈز“ کی سرکاری تقریب پھر پی ٹی وی کی نشریات وہ بھی 18انچ کے بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی پر اور اوپر سے سگریٹوں کو گنڈیریوں کی طرح چوستے شیخو کے تبصرے ۔ لہذا تھوڑی ہی دیر میں کیفیت ایسی ہوگئی کہ جیسے آج میٹرو بس کیلئے کُھدے پڑے گذشتہ کل کے اسلام آباد کے دھرنا چوک کو دیکھ کر چوہدری شجاعت اور بھائی پرویزالہٰی کی ہوجا تی ہے ،جیسے ترکی اور چین سے واپسی پر شہباز شریف کی ،جیسے اگر کبھی ہنسنا پڑ جائے تو چوہدری نثار کی ، جیسے ان دنوں ریکوڈک کی جمع تفریق کے علاوہ کوئی دوسرا کام کرنے پر وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر مالک کی اور جیسے غلطی سے کوئی کام کرنا پڑ جائے تو پختونخواہ کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی ۔
صدر ممنون حسین کو دیکھتے ہی شیخو بولا” صدر ایسا ہی ہوناچاہیے،خوبیوں کی محتاجی بھی نہ ہو اور ان کے سوتے جاگتے مارے گئے کسی خراٹے سے جمہوری نیند میں خلل بھی نہ پڑسکے ۔

(خبر جاری ہے)

چلو اللہ کا شکر کہ کوئی ایک تو ” ہومیوپیتھک عہدہ ‘ ‘ ابھی بھی باقی ہے“ ۔ چست شیروانی میں ایک سابقہ بیوروکریٹ ایوارڈ لینے آیا تو بولا ” شیروانی پہنے کرپشن ملاحظہ ہو ،یہی صاحب کبھی فخریہ فرمایا کرتے ” اس ملک میں جہاں لوگ اِن پٹ ہی کھا جاتے ہیں ہم وہاں آوٴٹ پٹ پر کھاتے ہیں “۔

ایک چالاک چہرے والے سماج سیوک کو ایوارڈ وصول کرتے دیکھ کر کہنے لگا ”موصوف کو دیکھتے ہی نجانے کیوں وہ شرابی یاد آجاتا ہے کہ جو چرچ میں جا کرانتہائی مسکین صورت بنا کر پادری سے بولا ”فادر کیا آپ میری شراب چھڑا سکتے ہیں ،پادری نے خوش ہو کر”ہاں ہاں کیوں نہیں کہا“ تو بولا ”فادر پھر پولیس سے میری 10 بوتلیں چھڑوا دیں“۔ ایک قابلِ ہٹ ( کھیل والی ہٹ ) گلوکار جب ممنوئیت بھرا چہرہ لیئے ممنون حسین کے سامنے جھکا تو شیخو کی زبان پھرسے چل پڑی ”گلوکار اور یہ۔
۔ اس کی تو خاموشی میں بھی لکنت پائی جاتی ہے ۔ اِسے "Out Standing Tv Artist" اس لیئے کہا جاتا ہے کہ جب بھی مِلا ٹی وی سنٹروں کے باہر کھڑا مِلا ۔اسی سے استاد مہدی حسن نے ایک بار اپنا گانا سن کر کہا ”گانا تو تم میرا ہی گا رہے تھے مگر جس طرح گا رہے تھے لگ رہا تھا تمہارا ہی ہے “۔ صدیوں پہلے تحقیق سے توبہ تائب ہو چکا ایک محقق کسی پرانی بیل گاڑی کی طرح گھمن گھریاں ڈالتا ایوارڈ لینے پہنچا تو شیخو کی لائیو کمنٹری بھی اپنے عروج پر پہنچ گئی ۔
”موصوف وہ ریسرچر ہیں کہ اپنی سلگائی ہوئی سگریٹ گم ہونے پر ان کے ہاتھ ،منہ یا جیب سے ان کی بیگم کو ہی ڈھونڈنا پڑتی ہے ۔ عمر بھر ان کی نیت ،معدہ اور نظر خراب رہی، مکانوں میں روشندان بنانے والے اپنے مستری باپ کا تعارف کروایا کرتے کہ ”مائی ڈیڈ سائنسٹسٹ ہیں اور آجکل دیواروں سے سورج کی روشنی گذارنے کے تجربے میں لگے ہوئے ہیں “۔ ان کی کامن سینس کا یہ عالم تھا کہ ایک بوڑھے سفارتکار رچرڈ مکی کے ہاتھ صرف اس لیئے چوم لیئے کہیں اس کا تعلق مکہ سے نہ ہوجبکہ جنرل نالج کی یہ حالت کہ ایک مرتبہ پوچھنے لگے کہ اگر بشار الاسد شام کا صدر ہے تو صبح صدر کون ہوتا ہے اوران کی 30سالہ تحقیق کا نچوڑ یہ ہے کہ ”قبر یں پکی کرنے کا رواج اُس دن پڑا جب ایک شخص کی بیوی قبرسے نکل کر گھر آگئی“۔
اپنی شہرت سے بڑے جسم والے ایک دانشور کو ایوارڈوصول کرتے دیکھ کر شیخو کو ٹرین حادثے میں اکیلا بچ جانے والا وہ پٹھان یاد آگیا کہ جس سے انکوائری ٹیم نے جب پوچھا کہ حادثہ کیسے ہوا تو بولا”سب کچھ ٹھیک تھا لیکن اچانک اس اعلان پر کہ ٹرین پلیٹ فارم پرپہنچنے والی ہے، سب پٹھانوں نے جانیں بچانے کیلئے افراتفری میں پلیٹ فارم سے پٹری پر چھلانگیں لگا دیں “۔ آپ کیسے بچ گئے ، اس سوال پر پٹھان کا جواب تھا ” ہم تو خودکشی کے واسطے پٹری پر لیٹا ہواتھا ،جب ہم نے اعلان سنا کہ ٹرین پلیٹ فارم پر آرہی ہے تو ہم پٹری سے اٹھ کر پلیٹ فارم پر آکر لیٹ گیا“ لیکن شیخو کی حالت اُس وقت تو باقاعدہ غیر ہوگئی جب ایوارڈ کیلئے اسکے محلے دار اُس پروفیسر کو بلایا گیا جو شیخو کو موٹر سائیکل چلاتے دیکھ کرکہتا یہ کیسی سواری ہے جو موٹر بھی ہے اور سائیکل بھی ۔
جسے ایک بارشیخو نے کہا کہ خدا نے آپ کو پیدا کیا ہے کہ دوسروں کی مدد کریں تو بولا پھر دوسروں کو کس لیئے پیدا کیا ہے ۔ اسے ایوارڈ لیتے دیکھ کرسہما ہوا شیخو بولا ”ڈریہ نہیں کہ ایوارڈ لینے کی میری باری بھی آنے والی ہے خوفزدہ اس لیئے ہوں کہ اگر میرا نام کسی ایسے ایوارڈ کیلئے نکل آیا کہ جس کیلئے پہلے مرنا پڑتا ہے تو پھر کیا کروں گا“۔
دکھ کی بات تو یہ ہے کہ اس بار کچھ ایسوں کو بھی ایوارڈز نہ ملے کہ جن کی صرف گذرے سال کی پرفارمنس ہی ایوارڈ وننگ تھی ۔
جیسے دوممالک سے سینکڑوں ہوائی معاہدے کرنے والی حکومتی ٹیم ، جیسے الطاف حسین کی بات سن کر سمجھ جانے والے ، جیسے آصف زرداری کی بات سمجھ کر مان جانے والے ، جیسے تحریک انصاف کا یوٹرن ڈرائیور ، جیسے 14پیروکاروں کو اوپر پہنچا کر خود کینڈاپہنچ چکے اپنے پہنچے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری، جیسے صرف ایک سال میں دولاکھ غلط پیشن گوئیاں کرچکے شیخ رشید، جیسے تھر پر بنی فلم ” سسک سسک کر مریئے “ میں کھڑکی توڑ پرفارمنس دینے والے قائم علی شاہ، جیسے مسلسل اقتدارمیں رہنے کے سو سال پورے کرنے والے مولانا فضل الرحمن ، جیسے سال بھرہر اعداد وشمار بتاکر بھی سب اعدادو شمار چھپا جانے والے اسحق ڈار ، جیسے دریافت شدہ معدنی ذخائر کو پھر سے دریافت کرنے والے ڈاکٹر ثمر مبارک اور جیسے جان پر کھیل کر ملکی سرمایہ محفوظ ہاتھوں میں پہنچانے والی ماڈل ایان علی ۔
ٹیلنٹ کی یہ بے قدری۔توبہ توبہ ۔ ماضی میں تو ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ پچھلی سے پچھلی حکومت میں ایک بار اپنے وقتوں کی ایک سپرفلا پ فنکارہ ایوارڈکی لابنگ کرتے کرتے جب ایک اعلیٰ بیوروکریٹ کے گھر پہنچیں تووہ دوستوں کے ہمراہ سردیوں کی اُس سرد رات کو مشروب ِمغرب سے گرمائے بیٹھے تھے ۔ فنکارہ نے مدعا بیان کیا اور اس سے پہلے کہ بیوروکریٹ بولتے ان کا ایک دوست بول پڑا” اگر آپ ہمارے صاحب کو 5سیکنڈ تک اپنی گود میں اٹھا لیں تو سمجھو ایوارڈآپ کو مل گیا ۔
فنکارہ نے گلاس ایک طرف رکھا اور پھر 5 کیا اگلے 20 سکینڈ تک اپنے سفید بالوں اور پیلے دانتوں سمیت یہ صاحب فنکارہ کی گود میں جھولے مائیاں کرتے رہے اور یوں فنکارہ کی جسمانی طاقت فنی کمزوریوں پر غالب آئی اور انہیں اسی سال ایوارڈ مل گیا ۔ اسی حکومت میں ایک وزیر نے اسلام آباد ائیر پورٹ پر ایک اداکارہ کو اپنے بڑے صاحب کے حضور پیش کرتے ہوئے کہا ”سر آپ سے ملنا ان کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش تھی“بڑے صاحب نے اس بڑی خواہش کی جھیل سی آنکھوں میں جھانکا تو واقعی ہی انہیں وہاں یہ خواہش تیرتی دکھائی دی ، پھرکیا، بڑے صاحب بھی کپڑوں سمیت اس جھیل میں کودگئے، تیراکی کا مقابلہ شروع ہوا اور پھر خاتون نے وہ فنی جوہر دکھائے کہ مجبوراً بڑے صاحب کو انہیں اپنے ہاتھوں سے ایوارڈدینا پڑا ۔
اسی طرح ایک وزیراور ایوارڈ کی خواہشمند ایک فلمی اداکارہ ولائیت میں ایوارڈ کی جزئیات طے کرتے ہوئے عین موقع پر پکڑے گئے ،ہنگامی واپسی کے دو دن بعد دربار ِخاص میں پہلی پیشی پر اداکارہ نے کچھ اس محبوبانہ و معصومانہ انداز میں ” اپنی صفائی“ پیش کی کہ بڑے صاحب کا دل ودماغ تک چمک اٹھا، مگر جو بھی ہوسزا تو ملنا تھی لہذا سزا کے طور پر خاتون کو دربارِ خاص میں نہ صرف نوکری دی گئی بلکہ مزید سزا کے طور پر دو ماہ بعد ہی انہیں ایوارڈبھی لینا پڑا اور سزا کے طور پر ہی شریک ِملزم ” نکے وزیر“ کو بھی ”وڈاوزیر“ بننا پڑا ۔
ایکدفعہ ایک” صاحبِ اعظم“ کے بچپن کا خدمتگار ان کے پاوٴں میں بیٹھ کر ٹانگیں دباتے دباتے بولا ”حضوراِس وقت جب ہر کوئی یہاں ایوارڈلیئے گھوم رہا ہے بس آپ کا یہ خادم ہی اس نعمت سے محروم ہے اور وہ بھی آپ کے ہوتے ہوئے “۔ باتوں اور ہاتھوں کے مساج کی غنودگی میں نجانے کب سے ”غنودہ “ صاحبِ اعظم نے اگلے دن ہی یہ مسئلہ اپنی کچن کیبنٹ کے سامنے رکھتے ہوئے کہہ دیا کہ فوراً حل چاہیے۔ حل کیسے نہ نکلتا ،حل نکل آیا ۔
پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہشمند 3غیر ملکی سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں ہوئیں اور پھر ان سے 3بڑے منصوبوں کا اعلان کروا کر اس کا کریڈٹ محروم خدمت گار کو دلوادیا گیا ،اِدھر ان 3منصوبوں کا اعلان ہوا اُدھر ملکی ترقی و خوشحالی میں شاندار خدمات پر نہ صرف خدمت گذار کیلئے ایوارڈ کا اعلان ہوگیا بلکہ یہ اُسی سال اُسی ملک میں سفیر بھی لگ گئے کہ جہاں سے یہ سرمایہ کاری آئی تھی ۔ زیادہ دور کیوں جاتے ہیں مشرف دور میں ہمارے وزیراعظم شوکت عزیز نے اپنی پسندیدہ گلوکارہ شبنم مجید کو اُس وقت پرائڈ آف پرفارمنس دلوادیا کہ جب گلوکارہ کے گائے ہوئے گانوں میں قابل ِذکر صرف وہی گانے تھے کہ جو غلطی سے ملکہ ترنم نور جہاں ان سے پہلے گا چکی تھیں ۔
(اب اگر فلم سٹار شاہد اور سٹیج کے بادشاہ امان اللہ جیتے جی اور منور ظریف اور عنائیت حسین بھٹی مر کر بھی کسی ٹیلنٹ نواز کی نظروں میں نہیں آئے تو اس میں بھلا کسی کا کیا قصور )۔اور پھر پچھلے دورِحکومت میں تو رحمان ملک ، سلمان فاروقی اورڈاکٹر عاصم حسین تک کو ایوارڈزمل گئے۔ لہذا کچھ بھی ہو شیخ رشید سے ایان علی تک سب کو فوری طور پر ایوارڈز دیئے جائیں کیونکہ ایک تو یہ ٹیلنٹ ضائع ہونے سے بچ جائے گا اور دوسرا صدر ممنون حسین پھر سے مصروف ہو جائیں گے اور آخر میں زیادہ نہیں تو ایک ایوارڈ تو لاہور کے اس رکشہ ڈرائیور کی” دانش اور بصیرت“کو بھی ملنا چاہیے کہ جس نے ایک عرصے سے اپنے رکشے کے پیچھے لکھوارکھا ہے کہ ”ہارن آہستہ بجائیں ،قوم سو رہی ہے “۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ارشاد بھٹی کے منگل اکتوبر کے مزید کالم