کربلا ۔۔۔ درسگاہ

بدھ اکتوبر    |    سید شاہد عباس

"ہمارے لیے یہ گوارا نہیں کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہا کو تنہا چھوڑ جائیں۔ میں اپنے نیزے کو دشمنوں کے سینوں میں اُتار دوں گا۔ اور اپنی جان آپ کے قدموں میں نچھاور کر دوں گا"۔ جب دشت ِ کرب و بلا میں امام عالی مقام رضی اللہ تعالی عنہا نے چراغوں کی روشنی گُل کروا دی ۔ اور اپنے اصحاب سے ہمکلام ہوتے ہوئے کہا کہ میں تم سب سے راضی ہوں۔ اور جنت کی شفاعت کا وعدہ بھی کرتا ہوں۔ تم میرے لیے خود کو مصیبت میں نہ ڈالواور واپس لوٹ جاؤ۔
تو اس وقت جنابِ مسلم  ابن عوسجہ کا یہ جواب آج بھی تاریخ میں روشن ستارہ نظر آتا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دنیاوی مشکلات امام عالی مقام رضی اللہ تعالی عنہا اور ان کے عیال و اصحاب کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی تھیں۔
کربلا ایک عملی درسگاہ نظر آتی ہے۔

(خبر جاری ہے)

برداشت کا ایک ایسا نمونہ نظر آتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ایک لمحہ تصور کیجیے جن کے گھر میں قرآن نازل ہوا۔ جو سجدہء الہٰی کی طوالت کا سبب بن جائیں۔

وہ اپنا کنبہ کٹا کر رب کا شکر ادا ایسے کر رہے ہیں کہ یقینا ابلیس لعین کو بھی روح آدم  کو سجدہ نہ کرنے کا افسوس ہو رہا ہو گا۔ نظرِ امام نے دیکھا کہ اللہ کا گھر خوں زدہ ہو جائے گا۔ کہا عباس احرام کھول دو حج کو عمرے میں بدل ڈالو۔ عرض کی مولا اب آئے ہیں تو حج کر لیتے ہیں۔ مگر امام عالی مقام نے اصل بات بتائی کہ لوگ میرے قتل کے درپے ہیں حاجیوں کے بھیس میں۔ اور میں نہیں چاہتا کہ خانہ ء خدا میں قتل و غارت گری ہو۔
جناب عباس کا اُس لمحے کا جلال آج بھی تاریخ میں رقم ہے ۔ مگر نواسہ ء رسول صلی اللہ و علیہ و آلہ وسلم کے صبر کی انتہا ملاحظہ کیجیے۔ کہ حج کو عمرے میں تبدیل کر دیا۔ جناب مسلم و فررزندانِ مُسلم کی شہادت کی خبر ملتی ہے۔ صبر کا دامن نہیں چھوڑتے۔ آسمان دنگ ، زمین حیران کہ یہ ماجرا کیا ہے کہ دینِ اسلام کی بقاء ہر چیز سے مقدم ٹھہری۔
مختصراً میدانِ کربلا کا منظر ،،، پراؤ دریائے فرات پہ ہے۔
یزیدیت کے پیرو کاروں نے خیمے اکھاڑنے کا حکم صادر فرمایا۔ جناب عباس جلال میں آ گئے۔ صبر کی تلقین کرتے ہوئے جناب ِ عباس کو خیمے اکھاڑنے کا حکم دے دیا۔ ایک لمحہ تصور کریں اگر سانحہ ء کربلا ایک عام جنگ ہی ہوتی تو عباس علمدار جیسے شبیہء علی کے ہوتے ہوئے کسی کی جرات ہو سکتی تھی کہ یوں سادات سے برتاؤ کرتا۔ مگر نگاہء امام  اس معرکہ ء حق و باطل کا اثر قیامت تک دیکھ رہے تھے۔ حبیب سا صحابی کھویا، مسلم  ابن عوسجہ سا وفادر کھویا، عباس  سا بھائی قربان کر دیا۔
علی اکبر سا جوان نیزوں و پھالوں میں شہید ہوا۔ قاسم سا نوجوان ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ علی اصغر سا تبسم خون میں نہا گیا۔ عون و محمد کی جوڑی بکھر گئی۔ اصحاب کھوئے، اہلبیت شہید ہوئے، مگر پایہ اسقلال میں مجال ہے جو لرزش آ پائے۔ صبرِ شبیری ملائک کو بھی حیران کر رہا تھا۔
ربِ کعبہ نے جب ملائک سے کہا تھا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے وہ شاید اسی دن کے لیے کہا تھا۔ رب کی رضا ، صبر کی انتہا، جرات کی داستان ،،،،، دوش نبی  کے سوار زخمی پیشانی کربلا کی تپتی ریت پہ رکھی ہوئی۔
۔۔ بڑھتی تلواریں، دوڑتے گھوڑے، تیز نیزے۔۔۔ مگر مجال ہے جو ایک لمحہ بھی صبر کا دامن چھوڑا اور اپنی تکالیف کا اظہار کیا ہو۔ لاشے بکھر گئے۔ سر نیزوں پہ بلند ہو گئے۔ چادریں لٹ گئیں۔ بیمارِ کربلا کو زیورِ آہن پہنا دیا گیا۔ رب کا شکر کم نہیں ہوا۔ تطھہیر کے وارثان بازاروں میں پھرائے گئے۔ فاسق و فاجر ایک طرف ،،،، عصمت جن کے گھر کی باندی وہ دوسری طرف۔۔۔عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ برداشت کی کب انتہا ہوئی یا خود برداشت بھی حیران کہ الہیٰ یہ کون لوگ ہیں۔
جو اس درجہ صبر کے درجے پہ فائز ہو چکے۔
ہم اپنے عقیدے کے علاوہ دوسرا عقیدہ دیکھنا اور سننا تک گوارا نہیں کر رہے ۔ اسلام کی اصل روح سے انحراف ہمارا معمول بن چکا ہے۔ گریہ و زاری ہم انتہا کی کر رہے ہیں مگر روحِ کربلا سے ہم کوسوں دور ہیں۔ ایک وہ گھرانہ جو اپنے قاتلوں کے کھانے پینے کا بھی خیال رکھے اور آج ہم جو ایک دوسرے کا گریباں ہاتھ میں لیے اپنے نظریات مسلط کرنے پہ تیار،،، باغِ زہرا کے پھول جو کربلا اور پھر کربلا سے شام کے سفر میں مسلے گئے۔
کہ اسلام زندہ رہے۔مگر آج ہم مخصوص نظریات تھام کے بیٹھ گئے ہیں۔ کوئی اسلام کی ایک شاخ پکڑے بیٹھا ہے کوئی دوسری ۔ اور حیران کن طور پر کربلا جو برداشت کی عملی درسگاہ کی صورت ہمارے سامنے ہے۔ ہم اس درسگاہ کا سبق بھول کر باہم دوست و گریباں ہیں۔پوری امت مسلمہ اپنے مخصوص مفادات کے لیے آپس میں پنجہ آزمائی کر رہی ہے اور کفار فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
کربلا کو اپنی عملی زندگیوں میں نافذ کیجیے۔ تا کہ ہم امام عالی مقام کی قربانی کے اصل مقصد تک پہنچ پائیں۔ خود میں برداشت کا مادہ پیدا کریں۔ نہ کے نظریات پہ ایک دوسرے کو گرانا شیوہ بناے رکھیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

سید شاہد عباس کے بدھ اکتوبر کے مزید کالم