سائنس سے بھی آگے

ہفتہ اکتوبر    |    عارف محمود کسانہ

بات کسی حد تک درست ہے کہ جب بھی کوئی نیا سائنسی انکشاف سامنے آتا ہے تو یہ کہا جاتا ہے یہ تو پہلے سے ہی قرآن میں موجود تھا جسے سائنس نے اب دریافت کیا ہے لیکن یہی بات سائنسی تحقیق اور انکشاف سے قبل کیوں نہیں کی جاتی اور کیوں انتظار کیا جاتا ہے کہ پہلے کوئی دریافت ہو تو پھر اس کے بارے میں دعویٰ کیا جائے کہ یہ تو قرآن مجید میں پہلے سے موجود ہے۔ایسا کیوں ہے اور کیا واقعی قرآن حکیم میں ایسے حقائق موجود ہیں جنہیں ابھی سائنس نے دریافت نہیں کیا اور وہ مستقبل میں سامنے آئیں گے۔
جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ سائنسی تحقیق سے قبل کیوں نہیں واضح کردیا جاتا کہ یہ حقیقت قرآن مجید میں موجود ہے تو اس کی بہت سی وجوہات میں ایک تو یونانی فلسفہ کی بالادستی تھی اور مسلمان مفسرین بھی اس سحر سے باہر نہ نکل سکے اور قرآنی الفاظ کے وہ معنی لئے جو مروجہ سوچ سے ہم آہنگ تھے۔

(خبر جاری ہے)

قرآن حکیم کی جو پہلی تفسیر لکھی گئی بعد میں آنے والوں نے اسی کو بنیاد بنایا اور یہ سلسلہ چلتا رہا۔ اسلام کے ابتدائی دور کے بعد قرآن پر غورو فکر کی بنائے دیگر علوم میں توجہ دی جاتی رہی اور قرآن حکیم پس منظر میں گیا۔

اس مختصر کالم میں ان تمام اسباب کا احاطہ ممکن نہیں بحر حال جب قرآن میں تدبر اور زمانے کے علوم سے ہم آہنگی نہ ہوسکی تو نتیجہ یہی نکلنا تھا۔یہاں اس بات کی وضاحت نہایت ضروری ہے کہ قرآن حکیم کوئی سائنس کی کتاب نہیں کہ وہ اس کی تفصیلات پیش کرتا اور نہ ہی وہ اپنی سچائی ثابت کرنے کے لئے سائنسی تحقیقات کا محتاج ہے چونکہ قرآن حکیم بار بار تخلیق کائنات اورگردش لیل و نہار پر غوروفکر کی دعوت دیتا ہے اس لئے ان حقائق کو سامنے لایا جاتا ہے۔
قرآن مجید کا آٹھواں حصہ اسی غور و فکر کی دعوت کے بارے میں ہے اور بار بار غور کرنے والے، فکر کرنے والے، سوچنے والے، سمجھنے والے، عقل رکھنے والے، علم رکھنے والے ، تدبر کرنے والے، تحقیق کرنے والے اور سچائی کے لئے سرگرداں رہنے والے الفاظ اس امر کی دلالت کرتے ہیں کہ انسان اس بحربیکراں میں غوطہ زن ہو۔آل عمران میں کائنات کی تخلیق پر غوروفکر کرنے کو اللہ کا ذکر قرار دیا ہے اور کہا کہ اللہ بندے اٹھتے بیٹھتے کائنات کی تخلیق پر غوروفکر کرتے ہیں گویا سائنسی علوم کا حصول اللہ کا ذکر کرنا ہے۔
سورہ الجاثیہ کی ابتدا ہی میں یہ واضح کردیاکہ کائنات کی تخلیق میں غوروفکر کرنے والے حقیقت تک پہنچ جاتے ہیں۔
اب ان حقائق کا ذکر جو قرآن حکیم میں موجود ہیں لیکن ابھی سائنس نے وہ دریافت نہیں کئے۔ انسان کو اشرف الخلوقات کہا جاتا ہے اور سائنس نے بھی ابھی تک کائنات میں کوئی ایسی مخلوق دریافت نہیں کی جو انسان سے بہتر ہو لیکن قرآن حکیم نے بتایا ہے کہ کائنات میں انسان سے بہتر مخلوق ہوسکتی ہے اور انسان سب سے اعلیٰ نہیں ہے۔
سورہ الاسراء کی آیت ستر میں ہے کہ ” اور ہم نے انہیں اکثر مخلوقات پر جنہیں ہم نے پیدا کیا ہے فضیلت دے کر برتر بنا دیا“ ۔ اکثر کا لفظ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ کی انسان تمام کائنات سے افضل مخلوق نہیں اور اس سے بھی اشرف مخلوق کائنات میں موجود ہوسکتی ہے۔ذہین مخلوق کی تلاش کے لئے سائنس دان جستجو میں ہیں اور آسٹرونومیکل جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق کسی ایک سیارے میں ایسی کوئی مخلوق ہو سکتی ہے۔
سائنس زمین کے علاوہ دیگر سیاروں اور کائنات میں حیات کی موجودگی میں سرگرداں ہے اور ابھی تک کسی اور جگہ جاندار مخلوق تو دور کی بات ہے ابھی زندگی کے اثار بھی نہیں ملے لیکن قرآن حکیم نے سورہ الجاثیہ کی آیت چار اور سورہ الشوری کی آیت انیس میں بیان کیا ہے کہ وسیع اور پھیلی ہوئی کائنات میں اورجاندار مخلوقات کا ہونا ممکن ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے رابطہ کرسکیں یا مل جائیں۔
سورہ النحل کی آیت انچاس میں بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ سائنس دان اس کوشش میں بھی لگے ہوئے ہیں کہ کسی دوسرے سیارے پر موجود مخلوق سے آنے والے کسی پیغام یا سگنل کو وصول کریں۔ اگر کبھی دو مخلوقات کے مابین رابطہ ہوا تو وہ اس کے بارے میں قرآن نے پہلے ہی بتا دیا ہے۔ سائنس نے اب تک جانوروں کی انواع species دریافت کی ہیں ان کے مطابق تقریباََ پرندوں کی 8600، دودھ پلانے والے جانور 4500، رینگنے والے 6000، خشکی و تری والے Amphibiansکی 2500اور مچھلیوں کی 32000انواع دریافت کی ہیں جبکہ ہر سال صرف مچھلیوں کی ایک سو نئی اقسام دریافت ہورہی ہیں۔
اب دیکھیے قرآن نے کیا کہا اور جھوم جائیے ۔ سورہ النحل کی آیت آٹھ میں ہے کہ وما یخلق وما لاتعلمون یعنی وہ اپنی تخلیق میں ایسے اضافے کرتا رہتا ہے جنہیں تم پہلے سے نہیں جانتے۔ سورہ فاطر کی پہلی آیت میں فرمایا کہ اللہ اپنی تخلیق میں جس قدر اضافہ اور توسیع ہے کرتا رہتا ہے۔ علامہ اقبال نے اسی لئے کہا تھا کہ
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آ رہی ہے دما دم صدائے "کن فیکوں"
قرآن حکیم میں ذاتِ باری تعالٰی اور قرآن حکیم کے بعداس کائنات کو بار بار حق یعنی سچائی کہا گیاہے۔
یہ سراب ، دھوکہ ، وہم یا مایا نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے اور حقیقت کی تلاش میں سرگرداں لوگوں کو سورہ فاطر کی آیت اٹھائیس میں علماء کا نام دیا ہے ۔ وہی اہل علم اس کائنات پر غوروفکر کرتے ہوئے تلاش حقیقت کو پالیتے ہیں جس بارے میں سورہ فصلت کی آیت 53میں ہے کہ ہم انہیں اپنی نشانیاں اطراف عالم میں دیکھائیں گے تا آنکہ ان پر یہ بات ظاہر ہوجائے گی کی قرآن واقعی ایک حقیقت ثابتہ ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عارف محمود کسانہ کے ہفتہ اکتوبر کے مزید کالم