پاکستانی کتے !!

اتوار اکتوبر    |    محمد عرفان ندیم

آپ دنیا کا کو ئی بھی ادب اٹھا کر پڑھیں آپ کو اس میں ”گریڈی ڈوگ “یا ”لالچی کتا“ کی کہانی ضرور ملے گی ۔دنیا کے ہر ادب میں کتے کو اتنی اہمیت کیوں دی جاتی ہے اس کی وجہ کتے کی خصلت،نیچر،وفاداری،جفاکشی اور رتجگی ہے ۔کتا بھیڑیے کی نسل سے تعلق رکھتا ہے ،یہ پالتو جانور ہے اور انسان کا سب سے وفا دار دوست ہے۔کتا دنیا بھر کی ثقافتوں کا اہم جز ہے اور مغربی معاشروں میں کتوں کو اولا د سے ذیادہ درجہ دیا جا تا ہے ۔
کتے انسانوں کے لئے بے شمار خدمات سر انجام دیتے ہیں مثلا شکار ،چوکیداری ،غلہ بانی اور جا سوسی وغیرہ ۔ماضی میں کتے مردہ ا ور بے ہوش انسانوں کی شناخت کے فرائض بھی سر انجام دیتے تھے اور اہل روم مردے کو اس وقت تک نہیں دفناتے تھے جب تک وہ کسی کتے سے اس کی تصدیق نہ کر والیتے تھے۔

(خبر جاری ہے)

کتے پالنے کی روایت بہت قدیم ہے اور یہ روایت پچھلے پندرہ ہزار سال سے چلی آ رہی ہے ۔اس وقت دنیا میں آٹھ اقسام کے تقریبا چالیس کروڑ کتے پائے جاتے ہیں ،ایک کتا تقریبا چودہ سال تک جی پاتا ہے ۔

اس وقت دنیا میں مختلف رنگوں کے کتے پائے جاتے ہیں لیکن کالے رنگ کا کتاسب سے خطرناک گردانا جا تا ہے ۔کتے کی سونگھنے کی حس انسان سے ایک لاکھ سے دس لاکھ تک ذیادہ ہے ،کتوں کی ایک نسل بلڈ ہاوٴنڈی میں یہ حس سب سے ذیادہ پائی جاتی ہی ۔کتوں کی اہم خصوصیات میں سیکھنے کا ملکہ ،کھیلنے کا شوق او ر مالک کی مرضی کے سامنے دم ہلا نا شامل ہیں ۔کتوں کا انسانوں کے ساتھ رہنے کا ثبوت بیلجئم کے ایک غار سے ملتا ہے جو 31700سال پرا نا ہے ۔
3نومبر1957میں جب سو ویت یونین نے اپنا راکٹ خلا میں بھیجا تو اس میں پہلی بار” لائیکا“ نامی کتا بھی خلا میں بھیجا گیا ۔کتوں کی سننے کی حس بھی بہت ذیادہ ہو تی ہے ،کتوں کے کانوں میں 18 ایسے ریشے ہو تے ہیں جو انہیں دائیں بائیں اور آگے پیچھے مڑنے میں مدد دیتے ہیں ،کتا انسان سے چار گنا دور تک کی آواز سن لیتا ہے ۔ایک تحقیق کے مطابق 77.10ملین لوگوں نے کتے پالے ہوئے ہیں ۔کتے انسانوں کو کاٹنے سے بھی با ز نہیں آتے اور ہر سال تقریبا 4.7ملین لوگوں کو کتے کا ٹ جاتے ہیں ۔
کتیا کے بچے پیدائش کے وقت اندھے ہو تے ہیں اور پیدائش سے بارہ دن بعد ان کی آنکھیں کھلتی ہیں ۔کہتے ہیں کتے اور بجو میں بڑی عداوت ہو تی ہے ،کتا اگر چاندنی رات میں کسی بلند مقام یا مکان پر ہو اور اس کے سائے پر بجو کا قدم پڑ جائے تو کتا بے اختیار نیچے گر پڑتا ہے اور بجو اسے پکڑ کر کھا جاتا ہے ۔اور اگر کتے کو بجو کی دھونی دی جائے تو کتا پاگل ہو جا تا ہے ۔اور اگر کو ئی انسان بجو کی زبان کاٹ کر اپنے پاس رکھ لے تو اس پر کو ئی کتا بھونکے گا نہ حملہ کرے گا ۔
کتے کی بری عادتوں میں مردار کھانا ،ناپاک اشیا میں منہ مارنا اور بعض دفعہ اپنی ہی کی ہو ئی قے کو چاٹنا شامل ہیں ۔
کتوں کے کاٹنے کا علاج مشہور فرانسیسی کیمیا دان لو ئی پاسچر نے ایجاد کیا تھا ۔لو ئی پاسچر27دسمبر1822مشرقی فرانس کے شہر ڈول میں پیدا ہوا ۔اس کا والد چمڑا رنگنے کا کام کر تا تھا ،لوئی پاسچر نے تعلیم مکمل کر نے کے بعد یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کر دیا اور یہیں سے اسے بائیو کیمسٹری کے شعبے سے دلچسپی پیدا ہو ئی ۔
اس کی تحقیق سے جرثومیات کا نیا علم وجود میں ،پاسچر نے نہ صرف متعدد بیماریوں کے جراثیم دریافت کئے بلکہ حیوانات کے متعدد امراض کا علاج بھی دریافت کیا ،اس نے پاگل کتوں کے کاٹنے کا ٹیکہ بھی دریافت کیا ۔1888میں اسکی خدمات کے اعتراف میں پیرس میں پاسچر انسٹی ٹیوٹ قائم کیا گیا جہاں مختلف امراض کے جراثیموں اور ٹیکوں سے متعلق ریسرچ کی جاتی ہے ۔کتے کے دانت انتہائی تیز اور نو کیلے ہو تے ہیں اور غصے کی حالت میں کتا اگر پتھر پر بھی دانت مارے تو وہ اس میں بھی گھس جائیں ۔
کتے کو جو بیماریاں لاحق ہوتے ہوتی ہیں ان میں جنون بھی شامل ہے ،جنون کی حالت میں کتا بھوکا ہو تا ہے لیکن کچھ کھاتا نہیں ،پیاسا ہو تا ہے مگر پانی نہیں پیتااور بعض اوقات پانی سے بہت ڈرتا ہے حتٰی کہ اس سے مر بھی جاتا ہے ۔جنون کی حالت میں جو بھی جاندار شے اس کے سامنے آئے یہ اس پر حملہ کر دیتا ہے اور سے کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے،اس حالت میں عام کتے بھی اس سے دور بھاگتے ہیں اور اس کے سامنے نہیں آتے ۔
کتوں کے حوالے سے امریکہ کی شہرت زبان زد عام ہے اور امریکہ میں ہر قسم کے کتے وافر مقدار میں دستیاب ہیں ۔ویسے تو امریکہ میں ہر قسم اور ہر رنگ کے کتے پائے جاتے ہیں لیکن آج کل امریکہ میں کالے کتوں کا راج ہے ۔امریکی کا لے کتوں نے دنیا بھر میں دہشت پھیلائی ہو ئی ہے اور یہ دنیا میں کسی بھی وقت کسی کو بھی کا ٹ کھانے کے لیئے تیار رہتے ہیں ۔دکھنے میں کالے کتے عام کتوں سے شریف اور بھلے مانس دکھائی دیتے ہیں لیکن یہ اندر سے اتنے ہی ذیادہ گٹھیا اور خطرناک ہیں ۔

کتوں کی ایک قسم لالچی کتے ہیں اور پاکستان ایسے کتوں کی آماجگاہ ۔دنیا بھر کے ادب میں ”گریڈی ڈوگ“یا” لالچی کتا“صرف کہانیوں میں پایا جاتا ہے لیکن پاکستان میں یہ کتے کہانیوں میں نہیں عملی طور پر پائے جاتے ہیں ۔عالمی ادب میں کتے کو گوشت کے ٹکڑے کی خاطر ہوس اور لالچ میں اندھا ہوتا د کھایا گیا ہے لیکن پاکستانی کتے ذرا وکھری ٹائپ کے ہیں ،یہ گوشت کے ٹکڑے کے ساتھ اقتدار کی ہوس اور لالچ میں بھی مبتلا ء ہو تے ہیں ۔
آج کل پاکستان میں ایسے کتوں کا راج ہے اور انہوں نے پورے پاکستان کو یرغمال بنایاہوا ہے ۔ان میں سے بعض کتوں کو ماضی میں اقتدار میں رہنے کا موقعہ بھی ملا لیکن اس کے باوجود ان کی لالچ کی آگ ابھی تک ٹھنڈی نہیں ہوئی ۔پاکستانی کتوں میں ایک اعلیٰ نسل کا کتا پوٹھوہاری علاقے میں پایا جاتا ہے اور وقت بدلنے کے ساتھ اپنی وفاداریاں بدلتا رہتاہے ۔گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستانی کتوں میں کچھ نئے لالچی کتوں کا اضافہ ہوا ہے اور یہ کتے اقتدار کے سوا کم پر راضی نہیں ،اس گروہ نے آج کل پور ے پاکستان کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور یہ ہر روز کو ئی نیا ہنگامہ کھڑا کر دیتاہے ۔
ان کتوں کو شاید جنون کا مرض لاحق ہو گیا ہے جس کی جہ سے اب یہ عجیب وغریب حرکتوں پر اتر آے ہیں ۔کبھی اپنی کی ہوئی قے کو چاٹتے ہیں ،کبھی عوام کو آگے لگا لیتے ہیں ،کبھی دھرنے دیتے ہیں اور کبھی لانگ مارچ پر اتر آتے ہیں ،جب کچھ حاصل نہیں ہو تا تو مہینے سال بھر کے لئے خاموش بیٹھ جاتے ہیں اور سال بعدپھر اک نئے ولولے کے ساتھ میدان میں کودپڑتے ہیں ۔ان کتوں کی منزل کیا ہے اور یہ کیا چاہتے ہیں کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا ،حالانکہ کہ انہیں اقتدار کی ایک ہڈی پھینک دی گئی ہے مگر اس کے باوجود ان کی لالچ ختم نہیں ہو رہی اور یہ چین سے خودبیٹھتے ہیں نہ دوسروں کو بیٹھنے دیتے ہیں ۔ لو ئی پاسچر نے پاگل کتوں کے کاٹنے کا علاج تو دریافت کر لیاتھا لیکن پاکستان کے ان لالچی کتوں کا کیا علاج ہے اور ان کا یہ علاج کون دریافت کرے گا ؟ یہ آج کے پاکستان کا سب سے بڑا سوال ہے ؟؟
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد عرفان ندیم کے ہفتہ اکتوبر کے مزید کالم