باڈی لینگوئج !

منگل اکتوبر    |    محمد عرفان ندیم

تھامس ایلوا ایڈیسن بیسویں صدی کا حیران کن کردار تھا ،وہ بیسویں صدی کا سب سے بڑا مو جد تھا اور اگر آپ بیسویں صدی کو ایڈیسن کی صدی ڈکلیئر کردیں تو شاید یہ غلط نہ ہو گا ۔اس نے اپنی 84سالہ زندگی میں ایک ہزار سے زائد چیزیں ایجاد کیں اور شاید کو ئی دوسرا موجد آج تک اتنی چیزیں ایجاد نہیں کر سکا ۔وہ 1847میں پیدا ہوا اور 1931میں وفات پائی ۔اس کا بچپن بڑا دلچسپ تھا ،اسے پڑھنے کا شوق تھا اور نہ ہی وہ اسکول جاتا تھا ،اس کی والدہ اسے اسکول چھوڑ کر آتی تو وہ والدہ سے پہلے گھر پہنچ جاتا ۔
وہ کلاس میں بیٹھ کر سو جاتا ،کھیل کود میں مشغول ہو جا تا ،دوستوں کو تنگ کرتا یا ٹیچرز کی نقلیں اتارنا شروع کر دیتا ،ایک دن ٹیچر نے تنگ آ کر کہہ دیا تھا ”ایڈیسن ایک گندا انڈا ہے اور اس پر محنت فضول ہے “اس کی والدہ نے یہ بات سنی تو وہ کئی ہفتے روتی رہی ۔

(خبر جاری ہے)

اگلے ہفتے امتحانات تھے ،اس نے بالکل تیاری نہیں کی تھی لیکن رزلٹ آیا تو وہ اعلیٰ نمبروں سے پاس تھا ،اس کی والدہ اسکول چلی گئی ،اس کے سر نے والدہ کے سامنے وضاحت کی ”میں جانتا ہوں ایڈیسن نے پیپروں میں کچھ نہیں لکھا لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں یہ بچہ پوری کلاس میں سب سے ذیادہ ذہین ہے ۔

یہ جس خود اعتمادی کے ساتھ کلاس میں بیٹھتاہے ،سبق سنانے کے لیئے کھڑا ہوتا ہے ،سوال کرنے کے لیئے انگلی اٹھاتا ہے بے خوفی سے سوال کرتا ہے اور سوال کرنے کے بعد بحث کرتا ہے ،یہ جس خود اعتمادی کے ساتھ اپنے دوستوں سے بات کرتا ہے ،ٹیچرز کوسلام کرتا ہے ،ڈائس پے آتا ہے اور گفتگو کرتا ہے میں اس کی اس باڈی لینگوئج سے متائثر ہوں ،مجھے پتا ہے اس بچے نے پیپر میں کچھ نہیں لکھا لیکن اس کی باڈی لینگوئج بتا تی ہے کہ یہ بچہ سب کچھ جانتا ہے ،اس کی باڈی لینگوئج ظاہر کرتی ہے یہ غیر معمولی ذہانت کا حامل ہے اور میں نے اس کو پیپر میں لکھنے کے نہیں اس کی باڈی لینگوئج کے نمبر دیئے ہیں ،اس کی باڈی لینگوئج سے خود اعتمادی اور کانفیڈنس جھلکتا ہے اور اس کی باڈی لینگوئج بتاتی ہے ایک دن یہ بڑا انسان بنے گا ۔

اکیسویں صدی میں باڈی لینگوئج باقاعدہ فن کی حیثیت اختیار کر چکی ہے اور آج بڑ ے بڑے فیصلے صرف باڈی لینگوئج کی بنیاد پر کیئے جاتے ہیں ۔ آپ اگرکسی ملٹی نیشنل کمپنی ،کسی بینک ، میڈیا فرم ،بیورو کریسی ،رئیل اسٹیٹ یا کسی کمرشل ادارے میں جاب کے لیئے اپلائی کرتے ہیں تو انٹرویو کے دوران آپ کی تعلیم ،تجربے ،قابلیت اور صلاحیت سے ذیادہ آپ کی پرسنیلٹی اور آپ کی باڈی لینگوئج کو دیکھا جاتا ہے ۔
انٹر ویو کے دوران اگر آپ اپنا اعتماد بحال رکھتے ہیں ،قدم اٹھا کر چلتے ہیں ،کرسی پر اطمینان سے بیٹھتے ہیں ،اپنی سانس بحال رکھتے ہیں ،اپنے ہونٹوں پربار بار زبان نہیں پھیرتے ،کرسی پر بیٹھ کر دائیں بائیں نہیں دیکھتے ،انگلیاں نہیں چٹخاتے اور میزبان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیتے ہیں تو آپ کی کامیابی کے چانس بڑھ جاتے ہیں اور اگر انٹر ویو روم میں داخل ہوتے وقت آپ کی چال میں فرق آ جاتا ہے ،آپ کا اعتماد خطا ہو جاتا ہے ،آپ کی سانس پھول جاتی ہے ،آپ انگلیاں چٹخا رہے ہیں ،گلاس میں پانی ڈالتے ہوئے آپ کے ہاتھ کپکپا رہے ہیں اور آپ میز پر پانی گرا دیتے ہیں یا آپ کی نظریں میزبان کی آنکھوں کا سامنا نہیں کر پا رہیں تو آپ خاموشی سے واپس گھر تشریف لے آئیں ۔
ہم جب کسی سے ملتے ہیں تو اس کے لیئے پہلے چار سیکنڈ انتہائی اہم ہوتے ہیں اور ان چار سیکنڈ میں مخاطب ہمارے بارے میں رائے قائم کر لیتا ہے ،کسی بھی انسان کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے کے لیئے ہمیں صرف 90سیکنڈ درکار ہوتے ہیں ۔کسی کمرشل میٹنگ میں پہلے 90سیکنڈ آپ کو ارب پتی بنا سکتے ہیں ،جاب انٹر ویو کے دوران پہلے دس سیکنڈ آپ پر نوکری کے دروازے کھول سکتے ہیں ۔دراصل جب ہم گفتگو کرتے ہیں تو ہماری زبان صرف پچیس فیصد تک ہمارا ساتھ دیتی ہے بقیہ 75فیصد کمیونیکیشن ہماری باڈی لینگوئج سے ہو تی ہے ۔
گفتگو کے دوران اگرآپ کا مخاطب سینے پر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہے تو یہ اس کی دفاعی پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے اور اگر وہ سینے پر ہاتھ باندھے اپنا سارا وزن کبھی ایک ٹانگ اور کبھی دوسری ٹانگ پر ڈالتا ہے تو مطلب ہے وہ بیزار کھڑا ہے اور آپ کی گفتگونہیں سننا چا ہتا ،گفتگو کے دوران اگر آپ کا مخاطب آپ سے نظریں چرا رہا ہے تو یا وہ جھوٹ بول رہا ہے یا آپ سے کسی بات پر شرمندہ ہے ،میٹنگ کے دوران اگر کو ئی ممبر خاموش بیٹھا ہے اور اس کی آنکھیں باری باری سب کے چہروں کی نگرانی کر رہی ہیں تو وہ ڈکٹیٹر مزاج کا بندہ ہے اور اپنی مرضی سب پر مسلط کرنا چاہتا ہے ،اگر بہت سنجیدہ رہے والا انسان بات بات پر قہقہے لگا رہا ہے تو وہ اندر سے ٹو ٹ چکا ہے اور خود کو خوش رکھنے کی ناکام کو شش کر رہا ہے ،بار بار قسمیں کھا کر اپنی سچائی کا یقین دلانے والا یقینا جھوٹ بول رہا ہے ،اگر کوئی بات بات پر رونا شروع کر دیتا ہے تو وہ پیار اور محبت کا بھو کا ہے ،سلام کے دوران اوپر والا ہاتھ ملکیت اور قبضے کی علامت ہے ،دونوں ہاتھوں سے سلام عزت اور احترام کی علامت ہے ،اگر آپ کا انتہائی قریبی دوست بات بات پر آپ کو ٹوکتا ہے ،آپ سے غصے ہوتا ہے اور آپ سے ناراض ہوجاتا ہے تو وہ آپ سے انتہائی مخلص ہے ،گفتگو کے دوران اگر کسی کی آنکھوں کی پتلیاں دائیں بائیں گھو م رہی ہیں تو یقینا وہ جھوٹ بول رہا ہے اور گفتگو کے دوران واحد متکلم کے صیغے کا بکثرت استعمال خود پسندی اور تکبر کی علامت ہے ۔
خوشی غمی ،سچ جھوٹ ،تکبر عاجزی ،خوف گھبراہٹ، شک اور یقین کی اپنی اپنی باڈی لینگوئج ہوتی ہے اور ہم خود کو چھپانے کی لاکھ کوشش کریں لیکن ہماری باڈی لینگوئج سب کھول کر مخاطب کے سامنے رکھ دیتی ہے ۔
میں گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستانی سیاستدانوں کی باڈی لینگوئج کو بڑی گہرائی سے آبزرو کر رہا ہوں اور مجھے آبزرویشن کے اس آئینے میں صاف دکھا ئی دے رہا ہے کہ سیاستدانوں کی اتنی بھیڑ میں کوئی ایک بھی ایسا لیڈر نہیں جو اس ملک کے مسائل کو حل کر سکے ۔
میرا آپ کو مشورہ ہے کہ آپ بھی اپنے ان ” مقبول“ کرداروں کا گہرائی سے جائزہ لیں ،ان کی باڈی لینگوئج کو آبزرو کریں ، آپ نوازشریف کی میرے ہم وطنوں ، زرداری کی پاکستان کھپے، عمران خان کی اوئے نواز شریف، بلاول کی جئے بھٹو، سراج الحق کی گلابی اردو، مولانا فضل الرحمان کی 1973کے آئین کے تناظر میں ، طاہر القادری کی اگر مجھے شہید کر دیا جائے ، شہباز شریف کی میں نہیں مانتا اور الطاف حسین کی اووووئے والی تقاریراور جلسوں میں ان کے خطاب سنیں اور اس دوران ان کی باڈی لینگوئج کا جائزہ لیں تو آپ کو یہ فیصلہ کرنے میں قطعا کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی کہ یہ کس پائے کے لیڈر اورکس درجے کے سیاستدان ہیں ۔
آپ ان لیڈروں اور سیاستدانوں کی عالمی کانفرنسوں میں شرکت اور وہاں خطاب کا جائزہ لیں اور اس دوران ان کی باڈی لنگوئج کو آبزرو کر یں آپ کو حقیقت جاننے میں ذیادہ دیر نہیں لگے گی۔ آپ اگر مزید حقیقت جاننا چاہتے ہیں تو پچھلے ماہ نواز شریف نے جنرل اسمبلی میں جو خطاب کیا ہے اس کی ویڈیو دیکھ لیں ، آپ عمران خان کے دھرنے کے دنوں کی باڈی لینگوئج کو آبزرو کر لیں اور آپ بلاول کی کوئی پرانی تقریر نکال کے سن لیں آپ کو اپنے ان مقبول لیڈروں کی ساری حقیقت واضح دکھائی دے دے گی۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد عرفان ندیم کے پیر اکتوبر کے مزید کالم