وہ سیاہ دِن

منگل اکتوبر    |    پروفیسر رفعت مظہر

12اکتوبر پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دِن ہے ۔یہی وہ دِن ہے جب 17 سال پہلے ایک آمر نے جمہوریت کی بساط لپیٹی اور منتخب وزیرِاعظم کو پابندِسلاسل کیا۔ یہ وہی آمر ہے جس کی” دلیری“ کا یہ عالم تھا کہ وہ امریکہ کی ایک کال پر چاروں شانے چِت ہوگیا اور اُسے وہ کچھ بھی دے دیا جس کا اُس نے مطالبہ بھی نہیں کیا تھا۔ اُس کے عزائم تو تا دَمِ مرگ پاکستان پر ڈنڈے کے زور پر حکومت کرنے کے تھے لیکن پھر قدرت کو اِس قوم پر رحم آیا اور وہی آمر جو مُکّے لہرا لہرا کر اپنی اَندھی طاقت کا اظہار کیا کرتا تھا ،کسی مریل چوہے کی طرح ہسپتال کے بستر پر جا لیٹا حالانکہ اُسے بیماری کوئی بھی نہیں تھی۔
اگر وہ واقعی بیمار ہوتا تو پاکستان سے باہر جا کر محفلوں میں ڈانس نہ کرتا پھرتا۔

(خبر جاری ہے)

بیماری کا بہانہ تو محض عدالت کی آنکھوں میں دُھول جھونکنے کے لیے تھا ۔جونہی ای سی ایل سے اُس کا نام خارج ہوا ، وہ ٹَپ ٹَپ جہاز کی سیڑھیاں چڑھتا یہ جا ،وہ جا۔ لوگوں نے اُس کے جانے کے بعد کہا ”خَس کم ،جہاں پاک“۔
ہر ڈِکٹیٹر کواپنی مقبولیت کا زعم ہوتا ہے اور یہ زعم خود بخود پیدا نہیں ہوتا بلکہ اِس کے پیدا کرنے والے اور 10بار وردی میں منتخب کروانے والے ضمیر فروش تھوک کے حساب سے مِل جاتے ہیں۔

اُس کے ریفرینڈم کی گلی گلی تبلیغ کرنے اوراُس کے جلسوں میں اپنی سیاسی جماعت کے جھنڈے اُٹھا کر شرکت کرنے والے بھی بہت۔ یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جن کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہوتی اور وہ اقتدار میں آنے کے لیے چور دروازوں کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے ،ایسے آمروں کا انجام کبھی بخیر نہیں ہوا۔ وہ دربدر کی ٹھوکریں کھاتے ہوئے قبر میں جا سوتے ہیں ۔اپنی طاقت کے نشے میں چُور یہ آمر خواہ پرویزمشرف کی صورت میں سامنے آئے یا بھگوڑے الطاف حسین کی شکل میں ،انجام اِن کا ہمیشہ بھیانک ہی ہوتا ہے ۔
آج برطانیہ میں الطاف حسین کے خلاف مَنی لانڈڑنگ کا کیس محض اِس لیے ختم کر دیا گیا کہ اہلِ یورپ کو اُس جیسے ننگِ دیں ،ننگِ ملک ،ننگِ وطن شخص کی اشد ضرورت ہے کیونکہ وہ اُسے پہلے بھی افراتفری پھیلانے کے لیے استعمال کرتے رہے اور اب بھی اُن کا ارادہ یہی ہے لیکن وہ نہیں جانتے کہ اُس مخبوط الحواس شخص کی آواز پر کم از کم پاکستان میں تو لبیک کہنے والا کوئی نہیں ہے ۔ہم نے تو سنا تھا کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ ایسا تحقیقاتی ادارہ ہے جس پر برطانوی حکومت کا کوئی دباوٴ نہیں لیکن وقت نے ثابت کیا کہ فیصلے تبدیل بھی کیے جا سکتے ہیں اسی لیے ہمارے دبنگ وزیرِداخلہ چودھری نثار علی خاں نے بَرملا کہہ دیا ”ہم الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ ،قتل اور تشدد پر اکسانے کے کیسز کی پیروی کرتے رہیں گے “۔
اُنہوں نے برطانوی ہائی کمیشن پر واضح کر دیا کہ الطاف حسین کے خلاف برطانیہ کو بھجوائے گئے ریفرنس کا سرکاری فیصلہ نہ صرف غیر تسلی بخش ہے بلکہ اِس پر شدید تشویش بھی ہے ۔ اُنہوں نے کہا ”ایک شخص کی خاطر دونوں ملک بند گلی میں نہ پھنسیں۔ پاکستانی عوام دیکھ رہے ہیں کہ برطانیہ الطاف حسین کے خلاف کیسز پر کیا کارروائی کر رہا ہے۔ لندن میں اُس کے گھر میں چھا پے کے دَوران حاصل کی گئی دستاویزات میں ہتھیاروں اور اُن کی خریداری کی فہرست بھی موجود تھی ۔
حال ہی میں کراچی میں پکڑے گئے ہتھیاروں کی بڑی کھیپ اور الطاف حسین کے گھر سے ملنے والی ہتھیاروں کی فہرست میں کافی یکسانیت ہے ۔ دونوں ملکوں میں بہت اچھے تعلقات ہیں۔ ہم کیوں ایک شخص کے حوالے سے بند گلی میں پھنس رہے ہیں“۔ عرض ہے کہ جب حکمت کی عظیم الشان کتاب قُرآنِ مجید فرقانِ حمید نے ہی یہ فیصلہ کر دیا کہ یہودی اور عیسائی ہمارے کبھی دوست نہیں ہو سکتے تو پھر ہم اُن پر اعتبار ہی کیوں کرتے ہیں ۔

عجیب اتفاق ہے کہ اِس سال 12 اکتوبر کو یومِ عاشور تھا ،وہ دِن جب ایک آمرِ مطلق نے کربلا کی ریت کو نواسہٴ رسولﷺ کے پاکیزہ لہو سے رنگین کر دیا اور 12 اکتوبرہی وہ دِن تھا جب یزیدیت کے علمبردار پرویز مشرف نے جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا ۔وہ صرف میاں فیملی ہی نہیں بلکہ ملک وقوم کا بھی مجرم ہے ۔ اُس نے ڈالروں کے عوض نہ صرف پاکستانیوں کو بیچا بلکہ پاکستان کو ایک ایسی اندھی اور بے چہرہ جنگ میں جھونک دیا جس کا خمیازہ ہم پتہ نہیں کتنی دیر تک بھگتتے رہیں گے۔
یہ دہشت گردی ،بم دھماکے اور خودکُش حملے اُسی کے دَور کی پیداوار ہیں۔پاکستانی طالبان نامی ناسور بھی اُسی کے دَور کی پیداوار ، جس کا نتیجہ یہ کہ ہم 60 ہزار سے زائد جانیں گنوا چکے ،اپنی معیشت کو تباہ کر چکے اور اندھی جنگ میں 100 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان کر چکے لیکن تا حال امن وسکون سے محروم ہیں ۔
کراچی میں ایم کیو ایم کے سَر پر دستِ شفقت رکھنے والا بھی پرویزمشرف ہی تھا اور پھرسبھی نے دیکھا کہ ہر روز عروس البلاد میں خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی ، ٹارگٹ کلنگ ،بھتہ خوری اور پرچی مافیا کا عروج رہا ۔
اُس کے دَور میں ایم کیوایم نے جو چاہا ،وہ کیا لیکن اُس کا ہاتھ روکنے والا کوئی نہ تھا کیونکہ آمرِ مطلق کی ساری طاقت اُس کے ساتھ تھی ۔ وہ خود تو اپنی بیماریوں کا بہانہ بنا کر بیرونِ ملک فرار ہوچکا لیکن پاکستان کو ایک لامتناہی اذیت میں گرفتار کر گیا ۔
سوال مگر یہ ہے کہ کیا پرویزمشرف اکیلا ہی ملک وقوم کا مجرم ہے ؟۔ کیا وہ نہیں جو اُس کے دست وبازو بنے پھرتے تھے ؟۔ کیا وہ نہیں جو اُس کی ہاں میں ہاں ملاتے اور اُس کے ہر حکم پر سَر جھکاتے تھے ۔
۔۔۔اگر وہ بھی مجرم ہیں تو پھر چلیں پرویزمشرف تو بھاگ گیا ،باقی سب تو یہیں پر ہیں۔اُن سے ملک کی بربادی کا حساب کب لیا جائے گا اور کون لے گا؟۔
اللہ بھلا کرے شہیدوں کے خاندان سے تعلق رکھنے والے جنرل راحیل شریف کا جن کے عزمِ صمیم نے دہشت گردوں کی کمر توڑ کے رکھ دی، اِس کے باوجود بھی ابھی بہت سا کام باقی ہے ۔ دہشت گرد اب بھی کہیں نہ کہیں اپنی موجودگی ظاہر کر رہے ہیں لیکن جنرل صاحب تو اگلے ماہ ریٹائر ہو کر گھر جا رہے ہیں ۔ کیا وہ مطمئن ہیں کہ اُنہوں نے اپنے حصّے کا کام کر دیا۔ اگر نہیں تو پھر وہ شدید ترین عوامی اصرار کے باوجود اپنی ریٹائرمنٹ پر زور کیوں دے رہے ہیں؟۔۔۔۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

پروفیسر رفعت مظہر کے پیر اکتوبر کے مزید کالم