ہم بھی یتیم ہو گئے

پیر اکتوبر    |    عمر خان جوزوی

کل تک والدہ کی قبر کے سرہانے بیٹھ کر معصوم بچوں کی طرح ہم یہ رونا رو کر ضد کرتے تھے کہ اماں اٹھ گھر چلتے ہیں۔۔۔ بہت دن آپ نے یہاں گزاردےئے اب آٹھو نا گھر واپس جاتے ہیں ۔۔۔ ماں کی قبر سے جواب تو کوئی نہیں آتا لیکن جب بھی ہم گاؤں جاتے تو سب سے پہلے ماں کی قبر پر جاکر قبر سے لپٹ کر معصوم بچوں کی طرح رونا اور گڑگڑانا شروع کر دیتے۔۔۔۔ ہمارا یہ رونا اور گڑ گڑانا اس وقت تک جاری رہتا جب تک دل ٹھنڈا اور آنکھوں میں آنسو خشک نہ ہو جاتے۔
۔۔ مجھے یاد ہے آخری بار جب بھانجے کی شادی پر ہم گاؤں گئے تو والدہ کی قبر سے لپٹ کر میں اتنا رویا کہ میری آنکھیں پھر کئی دن بعد بھی سرخ رہیں۔۔ والدہ کی اچانک جدائی سے دل پر لگنے والے زخم ابھی تازہ اور آنکھیں نم ہی تھیں کہ والد بھی ہم سے روٹھ گئے۔

(خبر جاری ہے)

۔۔۔ ہمارا وجود تو والدہ کی جدائی کا بھاری غم بھی ابھی تک مکمل طور پر برداشت نہیں کر سکا تھا کہ اوپر سے والد کی ہمیشہ کیلئے دنیا سے جانے کی قیامت نے بڑی بے دردی ۔

۔ بے رخی اور سنگدلی سے ہمارا استقبال کیا ۔۔۔ 5 اکتوبر کی رات کے آخری پہر جب دنیا میٹھی نیند سو رہی تھی ۔۔رات کی اس تاریکی میں ہمارے سروں سے سایہ ہمیشہ کیلئے اٹھ رہا تھا ۔۔۔ رات کے آخری پہر۔۔ ابا ہمیں تاریک شب اور آدھے راستے میں چھوڑ کرہمیشہ کے لئے چلے گئے ۔۔۔ میں نے نو دن ابا کے ساتھ ہسپتال میں گزارے لیکن ان نو دنوں میں ابا نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی۔۔۔ ابا کو برین ہیمبرج ہو گیا تھا ۔۔۔ حالت اس کی شروع دن سے خراب تھی ۔
۔۔ ۔مجھ سے ابا کی خاموشی دیکھی نہیں جارہی تھی۔۔۔۔ ابا کو ہسپتال کے بیڈ پر خاموش لیٹتے دیکھ کر میرا دل پھٹنے لگتا ۔۔۔ اکثر اوقات جب دل کی دھڑکنیں تیز اور صبر کا بندھن ٹوٹنے لگتا میں وارڈ سے باہر نکل کر کسی ویرانے میں جاکر بچوں کی طرح زار و قطار رونا شروع کر دیتا۔۔ جب دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہو جاتا تو میں بوجھل قدموں کے ساتھ پھر ابا کی طرف واپس آتا۔۔۔ رات کو جب دنیا خاموشی کی چادر اوڑھ لیتی۔
۔ میں آہستہ سے اٹھ کر ابا کے سرہانے لڑکھاتے قدموں کے ساتھ کھڑے ہو کر ”ابا“ ”ابا“ کی آواز لگاتا۔۔۔ میں ابا کی پیشانی اور کبھی چہرے پر ہاتھ پھیر کر ”ابا“ ”ابا“ پکارتا۔ اس وقت پھر میرے آنسو بے قابو۔۔۔ دل کی دھڑکنیں تیز اور جسم سے گویا جان نکل جاتی جب ابا کی جانب سے کوئی جواب نہ آتا۔۔۔۔ وہ ابا جس نے کبھی آندھی و طوفان۔ ۔۔۔ بارش و برفباری۔۔۔۔ سردی و گرمی ۔۔۔۔ دن اور رات۔
۔۔۔ مہنگائی و غربت۔۔ ۔۔ روشنی اور تاریکی میں بھی ہمیں نہیں چھوڑا ۔۔۔ آج وہ ہمیں دنیا کی بے رحم موجوں کے سامنے تنہا چھوڑ کر چلے گئے ۔۔۔ ابا نے تو ہمارے کل کیلئے اپنا آج قربان کیا لیکن افسوس ہم ابا کیلئے اپنا آج تو دور گزرا ہوا کل بھی قربان نہ کر سکے۔۔۔ ہمیں ابا کی زیادہ خدمت کا موقع ہی نہ ملا ۔۔۔۔ ابا بھی اماں کی طرح اپنی خدمت کا قرض ہمارے ناتواں کندھوں پر ادھار چھوڑ کر ہمیں الوداع کہہ گئے ۔
۔۔ کاش! زندگی کی آخری سانس تک ہمیں ابا کی خدمت کا موقع ملتا ۔۔۔ کاش ! ابا لمبی عمر پاکر رات کی کسی تاریکی میں مجھے آواز دیتے۔۔۔۔ عمر اور میں دوڑتے ہوئے آکر کہتا جی ابا ۔۔۔ اب تک تو رات کی تاریکیوں میں ہم نے ہی ابا کو آواز دی۔۔ جب اس کی آواز دینے کا وقت آیا تو وہ ہم سے ہی روٹھ گئے۔۔۔۔ بڑے بدقسمت ہیں ہم ۔۔کہ جن کا اب اس دنیا میں نہ باپ ہے اور نہ ماں۔۔۔ وہ کیا زندگی ہے جس میں اماں ہو نہ ابا ۔۔۔
ہماری زندگی ہی تو اماں اور ابا سے وابستہ تھی ۔۔۔۔ ہم تو ابا اور اماں کے سہارے ہی جی رہے تھے ۔۔۔ ۔اب ہم کس کواماں اورکس کواباکہہ کرپکاریں گے ۔۔۔۔اب ہم کہاں سے ا ماں اوراباکولائیں گے ۔۔۔۔اماں اوراباآپ توکہتے تھے کہ ہم ہمیشہ آپ کے ساتھ رہیں گے ۔۔۔۔پھرآپ ہمیں چھوڑکرکہاں چلے گئے ۔۔۔۔اماں نہ ہم آپ کے بغیررہ سکتے ہیں نہ اباکے بغیر۔۔پلیزواپس آجائیں نہ۔۔۔۔ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آئندہ ہم آپ کوکبھی بھی تنگ نہیں کریں گے۔
۔پلیزاب واپس آئیں نہ۔۔۔۔ جب بھی ہم پر کہیں سے گرمی کی کوئی تپش لگتی تو اماں اور ابا سایہ بن کر سامنے کھڑے ہوتے ۔۔۔۔میں وہ آدھی رات کیسے بھولوں ۔۔جب دنیامیٹھی نیندسورہی تھی ۔۔انسان کیاکسی جانورکی آہٹ بھی دوردورتک سنائی نہیں دے رہی تھی۔۔انگوٹھے میں دردوتکلیف کے باعث میں نیندمیں جب دردسے فریادکرنے لگاتو۔۔اباجی ۔۔آدھی رات کواٹھ کرچارپائی پربیٹھتے ہی عمر۔۔عمرپکاراٹھے۔۔میں جاگاتوجواب دیا۔
۔جی ابا۔۔ابابولے ۔۔بیٹے کیامسئلہ ہے۔۔؟کہاں دردہے۔۔؟کیوں فریادکررہے ہو۔۔؟میں نے کہا۔۔ابا۔۔انگوٹھے میں ناخن اندربڑھاہے ۔۔اس کی وجہ سے تکلیف ہے۔۔ابابولے ۔۔کوئی گولی دوں ۔۔اس پرکوئی مرہم لگاؤں ۔۔یہ سنتے ہی میرادردبالکل غائب ہوگیااورمیرے جسم میں راحت وسکون کی ایسی لہریں دوڑنے لگیں کہ میں سوچ بھی نہیں سکتاتھا۔۔میں نے کہا۔۔نہیں ۔۔اباجی ۔۔میں نے گولی ۔۔کھائی ہے ۔۔سب ٹھیک ہوجائے گا۔
۔مجھے اچھی طرح یادہے کہ اس رات میری وجہ سے اباصبح تک نہیں سوئے۔۔درحقیقت اماں اور ابا کے ہوتے ہوئے کسی آندھی و طوفان ۔۔۔ گرمی و سردی اور کسی تاریکی کو ہماری طرف رخ موڑنے کی جرأت نہیں ہوئی۔۔سخت سے سخت تکلیف اورشدیددردوتکلیف بھی اماں اوراباکودیکھتے ہوئے ہم سے کئی میل کافاصلہ رکھنے پرمجبورہوتا ۔۔آج اماں کے بعد ابا کے روٹھ جانے سے ہم یتیم ہو گئے ہیں۔۔۔ اب چاروں طرف یتیمی کی تاریکیاں ۔۔
۔۔ جنگل اور بھیڑئیے ہیں اور درمیان میں ہم اورصرف ہم ہیں ۔۔۔۔ اب آندھی و طوفان کا رخ بھی ہماری طرف ہوگا۔۔ ہو ا۔۔ گرمی و سردی کی سختیاں بھی ہمارے سامنے ہوں گی اور تاریکیوں کا سایہ بھی ہمارے سروں پر تلوار کی طرح لٹک رہا ہو گا۔۔۔ مطلب ایک طرف دنیا جہاں کے مسائل ۔۔۔ مصائب و مشکلات ہوں گے اور دوسری طرف اماں و ابا کی دست شفقت سے محروم ہمارے بدقسمت بدن اورسرہوں گے ۔۔۔۔ اماں اور ابا کے جانے سے ہماری دنیا اجڑ چکی ۔
۔۔۔ آج ہم تنہا بہت تنہا ہو چکے ۔۔ جن کی دعاؤں کی صورت میں تاریکی سے روشنی ۔۔۔۔شکست سے کامیابی اور موت سے زندگی کی طرف واپس آنے کا جو چانس ہمارے پاس تھا وہ اماں اور ابا کی جدائی سے اب ختم ہو چکا ۔۔۔۔ اب ہمارے سروں پر شفقت کا کوئی ہاتھ ہے اور نہ ہی کوئی سایہ ۔۔آج ہم اکیلے بہت اکیلے ۔۔تنہاء بہت ہی تنہاء رہ گئے ہیں ۔۔اب ہرطرف دردوتکلیف کے سائے۔۔مسائل وپریشانیوں کے انبارہوں گے اوردوسری طرف ہم اورصرف ہم ہوں گے ۔۔۔۔اباکی جدائی سے ہم واقعی یتیم ہوچکے ۔۔اب دنیابھی ہمیں یتیم کہے گی ۔۔اللہ کسی کویتیم نہ کرے۔۔نہ کسی کواماں سے جدا۔۔اماں اوراباواقعی سب کچھ ہوتے ہیں ۔۔یہ دونوں نہ ہوں توپھرمشرق سے مغرب اورشمال سے جنوب تک اس دنیامیں بھی کچھ نہیں ۔۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمر خان جوزوی کے پیر اکتوبر کے مزید کالم