لاہور پولیس: تبدیلی کے سفر پر گامزن

منگل اکتوبر    |    حافظ ذوہیب طیب

ایک اندازے کے مطابق شہریوں کو جن حکومتی محکموں سے زیادہ پالاپڑتا ہے اس میں اولین پولیس کا محکمہ ہے ۔ صبح اور رات کی تمیز کئے بغیر چوبیس گھنٹے پولیس ،عوام اور عوام، پولیس کے درمیان رابطہ سازی کاایک منقطع نہ ہونے والا سلسلہ چلتا رہتا ہے ۔ پولیس کو شب و روز برا بھلا کہنے والے لوگ جب کسی آفت کا شکا ر ہوتے ہیں تو سب سے پہلے 15ڈائل کر کے پولیس کو ہی اپنی مدد کے لئے طلب کرتے ہیں اور پولیس بھی ان کے تما م منفی روئیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا فرض منصبی سمجھتے ہوئے ان کی مدد کے لئے آپہنچتی ہے ۔

یہ بات بھی درست ہے کہ محکمہ پولیس جس میں چند افسروں کے غلط فیصلے جو محکمے کو تٍباہی کے دہانے پر پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے اور سیاسی اثرو رسوخ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ جس کی وجہ سے محکمے پر اس قدر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں کہ ان کی ہر نیک نامی بُرائی میں تبدیل ہو کر پہلے سے موجود محکمے کے ماتھے پر لگے سیاہ دھبوں میں مزید اضافہ کر دیتا ہے ۔

(خبر جاری ہے)

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دوسرے محکموں کی طرح جہاں کرپشن اور حرام خوری کی ایسی ایسی داستانیں موجود ہیں کہ جنہیں سن کر روح کانپ اٹھتی ہے کو دیکھ کر پولیس کی کرپشن ،کرپشن نظر نہیں آتی ۔


قارئین !میرے نزدیک محکمہ پولیس کی بد نامی میں کرپشن سے بڑھ کر ان کاکرختگی کے زہر میں ڈوبا لہجہ ہے جومعاشرے کے لوگوں میں ان کے خلاف نفرت کے جذبات کو مزید ابھارتا ہے اور یوں تھانہ کلچر کی تبدیلی کے لئے خرچ کئے جانے والے اربوں روپوں کے باوجود افسران کو کوئی خا ص نتائج بر آمد نہیں ہو پاتے تھے۔ بھلا ہو لاہور پولیس کے سی۔سی۔پی۔او امین وینس اور ڈی۔ آئی۔جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف کا جنہوں نے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے اس ساری صورتحال کو پر قابو پانے کے لئے تھانوں میں فرنٹ ڈیسک قائم کئے۔
جہاں عام پولیس کلچرسے ہٹ کر پڑھے لکھے اور نوجوان عملے کو تعینات کیا گیا بلکہ عام شہریوں کے ساتھ ان کے روئیوں کو جانچنے کے لئے کیمروں کے ذریعے ان کی مانیٹرنگ بھی کی جا رہی ہے ۔ تھانوں میں قائم فرنٹ ڈیسک کی بدولت اب شہریوں کو کئی الجھنوں میں پھنسے محرر کے غیض وغضب کا سامنا نہیں کر نا پڑتا اور یوں کچھ ہی لمحوں میں پڑھے لکھے اور اخلاقیات کی دولت سے مالا مال عملے کی خوش اخلاقی اور بر وقت سروسز کی وجہ سے صرف چند منٹوں میں ہی مسائل حل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

امین وینس اور ڈاکٹر حیدر اشرف کی مخلصانہ اور انتھک محنت کے بدولت حقیقی معنوں میں اب تھانہ کلچر کا خواب پورا ہو تا دکھائی دے رہا ہے ۔ اس میں اہم کردار بلا شبہ ڈاکٹر حیدر اشرف کا ہے جنہوں نے صدیوں پہلے والے گھسے پٹے نظام کی جگہ دور جدید کی ٹیکنا لوجی کو استعمال کرتے ہوئے پولیس کی استعداد اور صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے ۔ ایس۔ایم۔ایس ، وٹس ۔ایپ اور ہیلپ لائن سروسز اور انہیں مانیٹر کرتے ہوئے ڈاکٹر حیدر اشرف کا ہر معامے کو ذاتی طور پردیکھنے کی روش کی وجہ سے تھانوں میں عملے کی ناقص انتظا می صلاحیتوں کی وجہ سے شہریوں کے مہینوں سے رکے معاملات دنوں میں حل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
بہت جلد شہریوں کے لئے بھی انڈرائیڈ فون پر ایک ایسے سوفٹ وئیر کاآغاز کیا جا رہا ہے جہاں تھانوں میں جمع ہونے والے کرایہ داری کے فارم اور کریکٹر سر ٹیفیکیٹ آن لائن اپلائی ہو سکیں گے۔اس کے علاوہ پولیس کی مدد کے لئے 15، ایس۔ایم۔ایس اور گھریلو ملازمین کی تصدیق کی سہولت بھی یہاں حاصل ہو سکے گی۔ محرم الحرام کے حساس مہینے میں با احسن تمام امور انجام کو پہنچ جانے ، یقینا اس کا اعزاز بھی لاہور پولیس کے افسروں اور جوانوں کو جا تا ہے جنہو ں نے کمال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی نا خوشگوار واقعہ پیدا نہیں ہونے دیاجس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔

قارئین کرام ! جہاں تک بات ہے عملے کی اخلاقی و نفسیاتی تربیت کی تومجھے یہ جان کر از حد خوشی ہوئی کہ اس پر بھی کام جاری ہے۔ کچھ روز قبل مجھے ایک ذاتی کام کے سلسلے میں کئی عرصے بعدلاہورکے مسلم ٹاؤن تھانے میں جانے کا اتفاق ہوا۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ کچھ عرصہ پہلے تک بوسیدہ عمارت، ٹوٹے پھوٹے کمرے اور ان کمروں میں بیٹھے لاکھوں پریشانیاں اپنے سینے میں چھپائے افراد جن کے لہجوں کی تلخیاں ان کے چہروں پر نمودار ہو رہی تھیں سگریٹ کے لمبے لمبے کش اورلوگوں کے ساتھ بد تمیزی کی تما م حدیں توڑتے ہوئے جنہیں یہ کم کر نے کی کوشش کرتے تھے، انکی جگہ اب صاف ستھری عمارت، سفید رنگ سے چمکتے کمرے اور ان کمروں میں سگریٹ کے لمبے لمبے کشوں سے آزاد، چمکتے دمکتے اور ہنستے مسکراتے چہرے شہریوں کی خدمت میں مصروف تھے۔
مجھے معلوم ہوا کہ ان انقلابی تبدیلیوں کے پیچھے ایس۔پی اقبال ٹاؤن عادل میمن کا ہاتھ ہے جنہوں نے کچھ ہی دنوں میں اپنی ڈویژن کے دوبوسیدہ عمارت کے حامل تھانوں اور یہاں تعینات عملے کو چند ہی دنوں میں واقعتا ماڈل تھانوں اور بہترین عملے میں تبدیل کر دیا۔ امید کی جا سکتی ہے کہ اگر کیپٹن (ر) امین وینس، ڈاکٹر حیدر اشرف اور عادل میمن جیسے افسران اسی مخلصانہ نیت کے ساتھ کام کرتے رہے تو کچھ بعید نہیں کہ پولیس کلچر کی تبدیلی کاعشروں پر محیط خواب بہت جلد شر مندہ تعبیر ہو اور عوام اور پولیس کے درمیاں نفرتوں اور بے یقینی کا رشتہ یقین اور محبت میں تبدیل ہو جائے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

حافظ ذوہیب طیب کے منگل اکتوبر کے مزید کالم