جوائنٹ فیملی سسٹم اور ہمارے لکھا ری !

ہفتہ اکتوبر    |    محمد عرفان ندیم

آپ یہ مثالیں دیکھیں : ”کسی انسان کو تکلیف پہنچانا غلط ہے لہذا بچوں کو سبق یاد نہ کرنے پر تکلیف دینا بھی غلط ہے ، ” کسی انسان کی جان لینا گناہ ہے لہذا سزائے موت بھی گناہ ہے ، ” انسانی اعضاکو کاٹنا جرم ہے سرجن انسانی اعضا کاٹتا ہے لہذا وہ بھی مجرم ہے “ ۔یہ ہے خلاصہ اس تحریرکا جو چند دن پہلے حیا حریم کے نام سے دلیل کے پلیٹ فارم پر شائع ہوئی ہے ۔ محترمہ حیا حریم نے بڑی جسارت کرتے ہوئے ہمارے مروجہ خاندانی نظام کو ہندوانہ نظام سے تعبیر کیا ہے اور بجائے اس کے کہ وہ اپنے اس موقف کو ثابت کرنے کے لیے ٹھوس دلائل و شواہد پیش کرتیں انہوں نے قاری حنیف ڈار کی تحریر کا اقتباس پیش کرتے ہوئے اسے حوالے کے طور پر پیش کیا ہے ۔
میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اتنا بڑا موقف پیش کرتے ہوئے اور اتنی بڑی جسارت کرتے ہوئے انہوں نے کو ئی ٹھوس حوالہ کیوں پیش نہیں کیا ، حوالے سے مراد ضروری نہیں تھا کہ اصول اربعہ سے ہی کوئی دلیل پیش کی جاتی بلکہ تاریخی حوالہ بھی پیش کر دیتی توشاید ان کی تحریر کا کوئی مطلب سمجھ میں آ جاتا ،فیا للعجب۔

(خبر جاری ہے)


حیا حریم کی اس تحریر کو مختلف پہلووٴں کے حوالے سے دیکھنے کی ضرورت ہے ، سب سے پہلے اس تحریر میں موجود منطقی مغالطوں کی نشان دہی کی ضرورت ہے کہ محترمہ نے کس طرح کمال مہارت یا کمال جہالت سے اپنے غلط موقف کو صحیح بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔

محترمہ اپنا مقدمہ قائم کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ہمارے مروجہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں بڑے بھائی کو سب کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے اور ایسا ہندومت میں ہوتا ہے لہذا ہمارا خاندانی سسٹم بھی ہندوانہ ہے اور ہمار ے ستر فیصد گھرانے اس سسٹم کی آگ میں جل رہے ہیں ، سب سے پہلے میں محترمہ سے پوچھنا چاہوں گا کہ آپ نے ستر فیصد کا جو حوالہ دیا ہے آپ کی اس ریسرچ کا ماخذ کیا ہے ؟ کیا آپ وہ ماخذ قارئین کے ساتھ شیئر کرنا پسند کریں گی ؟ جہاں تک حقیقت کا تعلق ہے تووہ اس سے بہت دور ہے۔
محترمہ نے ستر فیصد گھرانوں کو دلیل بنا کے پیش کیا ہے اور یہ دلیل سراسر غلط ہے،ایسی دلیل کو unrepresentative sampleکہتے ہیں ، اس دلیل میں یہ مغالطہ پایا جاتا ہے کہ آپ پورے ملک سے اپنی مرضی کا مواد منتخب کریں اور اسے نمائندہ بنا کر پیش کر دیں ،یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ شہر کے چند کاروباری افراد کا ڈیٹا جمع کر یں اور نتیجہ پیش کر دیں کہ اس شہر میں لوگوں کی آمدنی بہت ذیادہ ہے ۔حیا حریم نے بھی یہی کیا ہے اپنی مرضی کا مواد منتخب کر کے اور اپنے حلقے اور جاننے والے گھروں کو مد نظر رکھ کر اسے سب مسلمانوں کے نمائندے کے طور پر پیش کر دیا کہ خاندانی نظام میں تو ہوتا ہی یہی ہے ۔

حیا حریم نے اپنی تحریر کا آغاز ان الفاظ کے ساتھ کیا ہے کہ مجبوری صرف سڑک پر بھیک مانگنا نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔ اور اپنی اس بات کو خاندانی نظام کے خلاف بطور دلیل پیش کیا ہے ، پہلی بات یہ ہے کہ یہ کو ئی دلیل نہیں اور اگر بالفرض ہم اس بات کو دلیل مان لیں تو ایسی دلیل کو appeal to emotion کہتے ہیں یعنی آپ مخاطب کو علمی وعقلی دلیل پیش کرنے کی بجائے اس کے جذبات سے اپیل کریں ، یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک بچہ کہتا ہے کہ ابو میرے تمام دوست بریک ٹائم روزانہ چاکلیٹ کھاتے ہیں اور میں ان کا منہ دیکھتا رہتا ہوں لہذا مجھے بھی آپ چاکلیٹ دینے آیا کریں ،حیا حریم نے بھی مذکورہ دلیل میں جذبات سے اپیل کیا ہے حالانکہ اس دلیل کا مقدمے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔

حیا حریم نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا مروجہ خاندانی سسٹم اس لیے ٹھیک نہیں اور ہندوانہ ہے کہ اس میں وراثت ٹھیک طرح تقسیم نہیں ہوتی اور اس میں عدل وانصاف کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا ، یہ دو الگ الگ باتیں ہیں جنہیں آپس میں گڈ مڈ کر دیا گیا ہے ، بات جوائنٹ فیملی کی ہو رہی تھی اور اصل مقدمہ یہ تھا کہ جوائنٹ فیملی سسٹم ٹھیک ہے یا نہیں ، ہندوانہ ہے یا اسلامی لیکن محترمہ نے اصل مقدمے کو تقسیم وراثت اور عدل وانصاف کی بحث میں الجھا دیا ہے ایسی دلیل کو red herring کہتے ہیں ، اس میں ہوتا یہ ہے کہ مخالف آپ کو اصل مقدمے کی بجائے غیر ضروری بحثوں میں الجھا دیتا ہے اور اصل مقدمہ پس منظر میں چلا جاتا ہے ، یہ ایسے ہی ہے جیسے استاد کہے کہ کل میں نے آپ سے یہ سبق سننا ہے اور آگے سے اسٹوڈنٹ کہنا شروع کر دیں سر یہ سبق کیا ہوتا ہے اور سنا کیسے جاتا ہے ۔
مذکورہ دلیل میں حیا حریم نے اصل مقدمے کی بجائے بات کو غیر ضروری مباحث میں الجھا دیا ہے حالانکہ کسی کو اس بات سے انکار نہیں کہ تقسیم وراثت میں عدل وانصاف سے کام لینا چاہئے ۔
محترمہ نے اس سے بھی بڑی جسارت یہ کی کہ اپنا موقف ثابت کرنے کے لیے غلط مقدمہ قائم کیا اور پھر خود ہی اس سے نتیجہ اخذ کر لیا ۔ کہتی ہیں جوائنٹ فیملی سسٹم میں بڑے بھائی کو سب کی خاطر قربانی دینی پڑتی ہے ،بیوی کے نفقے اور اولاد کے پیسے فیملی پر خرچ کرنے پڑتے ہیں اور پھر اس مقدمے سے خود ہی نتیجہ اخذ کرتی ہیں کہ جوائنٹ فیملی سسٹم ہندوانہ ہے ایسی دلیل کو fallacy of irrelevance کہتے ہیں کہ آپ مقدمے کے ایسے قضیے اور دلائل پیش کریں جو نتیجے سے غیر متعلق ہوں اور انہیں زبردستی اس نتیجے کے ساتھ جوڑا جائے تاکہ مخالف کو خاموش کروایا جاسکے۔
حیا حریم نے جو مقدمہ قائم کیا ہے وہ نتیجے سے ہی غیر متعلق ہے، مقدمہ تو یہ ہے کہ بڑے بھائی کو فیملی کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے اس سے کسی کو اختلا ف نہیں لیکن اس سے یہ نتیجہ کیسے اخذ ہو گیا کہ یہ سسٹم ہندوانہ ہے ۔یہ دلیل ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ تمہیں بھوک لگی ہے ، باہر سردی ہے لہذا کرکٹ کھیلنے چلتے ہیں ۔ یہ ہے اس ساری سوچ اوذہنیت کا خلاصہ جو محترمہ نے اپنی مختصر سی تحریر میں پیش کی ہے ۔

منطقی مغالطوں کی نشاندہی کے بعد ہم اس تحریر کے دوسرے پہلووٴں کا جائزہ لیتے ہیں کہ مروجہ خاندانی نظام اسلام کے اصول معاشرت سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں ۔ مذکورہ تحریر میں سارا زور اس بات پر صرف کیا گیا ہے کہ چونکہ بڑے بھائی کو فیملی کے لیے سب سے ذیادہ محنت کرنی پڑتی ہے اور ایسا ہندو گھرانوں میں ہوتا ہے لہذا جیسے تیسے بھی ہو اس سسٹم کو ہندوانہ قرار دیا جائے ۔ پہلی بات یہ ہے کہ پڑھے لکھے ، مہذب اور سلجھے ہوئے خاندانوں میں ایسا ہر گز نہیں ہوتا جو محترمہ نے منظر کشی کی ہے ، بڑا بھائی عموما والد کے ساتھ مل کر گھر اور کارو بار کو سنبھالتا ہے پھر جیسے جیسے چھوٹے بھائی جوان ہوتے جاتے ہیں وہ والد اور بھائی کا ہاتھ بٹانے لگتے ہیں ، یہ ہے اصل تصویر جو اس وقت ہمارے معاشرے میں ر ائج ہے ۔
رہی یہ بات کہ بڑے بھائی اور بھابی کو سب سے ذیادہ محنت کرنی پڑتی ہے تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ اگر چھوٹے بھائیوں میں سے کوئی بڑا ہوتا تو اسے بھی یہ سب کرنا پڑتا ، اب یہ اللہ کی مرضی کہ اس نے بڑے بھائی کو پہلے دنیا میں بھیج دیا اور چھوٹے کو بعد میں ۔ دوسری بات یہ کے اگر بڑے بھائی کو دوسروں سے ذیادہ محنت کرنی پڑتی ہے تو اس کے عوض وہ بہت سارے فوائد بھی سمیٹ رہا ہوتا ہے ، مثلا بڑے بھائی کی اولاد جوائنٹ فیملی میں ہی پل کر جوان ہو جاتی ہے اور اسے الگ سے بچوں کے اخراجا ت برداشت نہیں کرنے پڑتے ۔
عموما بڑا بھائی کمانے کے لیے گھر سے دور جاتا ہے تو ایسی صورت میں اس کی بیوی اور بچے جوائنٹ فیملی میں مطمئن اور محفوظ رہتے ہیں ، ذرا تصور کریں اگر بڑا بھائی ملک سے باہر ہو اور بیوی کو اکیلے گھر میں رہنا پڑے تو اس کے کیا کیا نقصانات ہو سکتے ہیں ؟ مزید برآں بڑے بھائی کو جو عزت و احترام ملتا ہے وہ چھوٹوں کے حصے میں کم ہی آتا ہے ،بڑے بھائی کی اولاد کو جو پیار محبت ملتا ہے وہ چھوٹوں کی اولاد کو نہیں ملتا۔
یہ وہ فوائد و ثمرات ہیں جو بڑے بھائی اور بھابھی کو جوائنٹ فیملی میں رہتے ہوئے مل رہے ہوتے ہیں لیکن ان کی طرف کوئی دھیان نہیں دیتا۔
محترمہ کے بقول ہندو معاشروں میں بڑا بیٹا قربانی کا بکرا بنتا ہے اور ہمارے ہاں بھی یہی ہو رہا ہے لہذا ہمارا خاندانی نظام ہندوانہ ہے ، میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کیا صرف مشابہت کی بنیاد پر کسی نظام پر اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کا حکم لگایا جا سکتا ہے ؟ کیا کسی نظام کو غیر اسلامی ڈکلیئر کرنے کے لیئے ٹھوس دلائل اور شواہد درکا ر نہیں ہوتے ؟ کل کو اگر کوئی اٹھ کر کہتا ہے کہ جدید ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا مسلم معاشروں میں استعمال کیاجاتا ہے اور یہ غیر مسلموں کی ایجاد ہے او ر ان معاشروں میں استعمال کیا جاتا ہے لہذا مسلم معاشرے بھی غیر مسلم معاشرے ہیں تو ایسی صورتحال میں ہم کہاں جائیں گے اور یہ روش ہمیں کہاں لے جائے گی۔
ہر پیش آمدہ حکم اور ہر نئی روایت کی دلیل خلفائے راشدین کے طرز عمل اور ان کے معاشرے سے ڈھونڈنا کوئی عقل مندی نہیں کیونکہ سنت الہیہ یہ ہے کہ وہ احکام کے نزول میں ایک مجموعی ضابطہ حیات بیان کرکے جزئیات اور فروعیات کو انسانی عقلوں پر قیاس کر کے ان سے پہلو تہی کر لیتی ہے ۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اسلام غیر مسلموں اور دشمنوں کے ساتھ تو حسن سلوک کا حکم دے لیکن ایک گھر کے اندر رہنے والے دو سگے بھائیوں کو اس حکم کا مخاطب نہ ٹھہرائے ، اسلام چالیس گھروں تک ہمسائیگی کے آداب تو سکھائے لیکن دو بھائیوں کو جوائنٹ فیملی میں رہنا نہ سکھائے ۔
نبی اکرم کی ساری زندگی حسن سلوک اور خوش اخلاقی کا بہترین نمونہ ہے لیکن اس کے باوجود محترمہ کو ایک گھر میں حسن سلوک کے ساتھ اکٹھے رہنے والے بھائی اچھے نہیں لگتے بلکہ ان کی خواہش ہے کہ جیسے ہی شادی ہو بڑا بھائی اپنی گھر والی کو لے کر الگ ہو جائے باقی والدین جانیں اور ان کے بچے ۔محترمہ نے اگر دین اسلام کے حکامات ، ان کی تعبیر و تشریح اور مقاصد شریعت کوٹھیک طرح سمجھا ہوتا تو وہ کبھی بھی یہ بے تکی تحریر لکھنے کی جسارت نہ کرتیں ۔
کاش یہ سطحی تحریر لکھنے سے پہلے محترمہ سوچ لیتی کہ معاشرتی اقدارو روایات بھی کوئی چیز ہوتی ہیں، ہمارے مشرقی معاشروں میں جوائنٹ فیملی سسٹم کو آج بھی عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جبکہ وہ عورت جو شادی کے فورا بعد بھائیوں کو آپس میں لڑوا دے اور گھر سے الگ ہو جائے وہ آج بھی معاشرے میں مطعون ٹھہرتی ہے ۔ اس سسٹم میں موجود غلطیوں کی نشاندہی اور ان کی اصلاح کی بات تو کی جا سکتی تھی لیکن سرے سے اس نظام کو غیر اسلامی قرار دے دینا بہت بڑی جسارت تھی جس کا ارتکاب حیا حریم جیسی ”بہادر“ خاتون ہی کر سکتی تھی۔

آخر میں ،میں سوشل میڈیا کے کردار کے حوالے سے بھی بات کرنا چاہوں گا ، کیا یہ حقیقت نہیں کہ سوشل میڈیا جن جرائم اور زیادتیوں کے خلاف میدان میں آیا تھا آج وہ خود ان جرائم میں ملوث ہو چکا ہے ۔ میں سوشل میڈیا کا ایک خاموش قاری ہوں اور چیزوں کو دیکھتا اور ان کا تجزیہ کرتا رہتا ہوں ، کیا یہ حقیقت نہیں کہ سوشل میڈیا بھی شہرت اور ریٹنگ کے چکر میں اپنے اصل میدان سے بہت دور نکل گیا ہے اور ریٹنگ کی بھوک میں ہر طرح کی اخلاقیات سے آذاد ہو گیا ہے ۔
محض ریٹنگ بڑھانے کے لیے سنسنی خیزی پھیلائی جاتی ہے ۔ آپ مذکورہ تحریر کو دیکھ لیں ، محض سنسنی خیز عنوان کی وجہ سے اسے اتنی ریٹنگ ملی ورنہ آپ دل تھام کر بتائیے کہ موضوع کی مناسب سے تحریر کے ساتھ انصاف کیا گیا ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی مکمل تحریر نہیں تھی بلکہ محض چند بکھری ہوئی باتیں تھی اور اس میں بھی آدھی تحریر قاری حنیف ڈار کی تھی جسے اقتباس کی صورت میں اصل تحریر کے ساتھ جوڑ دیا گیاتھا۔
تحریر کی ابتدائی سطریں شعر کے انداز میں لکھی گئی تھیں جسے بعد میں نثر کے پیرائے میں ڈھال دیا گیا تھا ۔ اتنے اہم اور نازک موضوع کو بلا کسی ٹھوس دلائل و شواہد کے پیش کر دینا اور صدیوں سے رائج ایک نظام کو بیک جنبش غیر اسلامی قرا ر دے دینا اور اس پرمستزاد کہ سینئر قلم کاروں کا اس تحریر کو شیئر کرنا یہ سب سوشل میڈیا کی ” برکات “ ہی تو ہیں ۔ گزشتہ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا کے طفیل کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جنہوں نے اصحا ب فکر ونظر کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے ، مختلف نئی ویب سائٹس نے آکر سوشل میڈیا کے میدان میں دھما چوکڑی مچا دی ہے اور لوگوں کی عزتوں سے کھیلنا شروع کر دیا ہے۔
لکھنے کے شوقین نئے لکھاری ہر اچھے برے موضوع پر طبع آزمائی کر رہے ہیں قطع نظر اس کے کہ ان کی ان سرگرمیوں سے اسلام،ملک اور معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ، کچے ذہن ، محدود مطالعے اور مشہور ہونے کے شوق نے نئے لکھا ریوں کوحقیقت سے بہت دور کر دیا ہے ۔ اب بھی اگرہم نے سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے کو ئی ضابطہ اخلاق وضع نہ کیا تو یہ روش ہمیں بہت دور لے جائے گی اور ہماری آنے والی نسلوں میں ایسے لکھاری اور دانشور پیدا ہوں گے جو صدیوں سے رائج اقدار وروایات کو بغیر کسی ٹھوس دلیل اور شواہد کے غیر اسلامی او رغیر مذہبی قرار دے دیں گے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد عرفان ندیم کے جمعہ اکتوبر کے مزید کالم