دفاعِ پاکستان کِس کی ذمہ داری ہے؟

پیر اکتوبر    |    شاہد سدھو

دفاعِ پاکستان کونسل نے اسلام آباد میں میں منعقدہ اپنی کور کمانڈر ز کانفرنس یعنی قومی مشاورتی اجلاس میں اسلامی جمہوریہ سے مطالبہ کیا کہ اسکے فورتھ شیڈول میں شامل کور کمانڈروں کے بلاک شدہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بحال کئے جائیں تاکہ ان کو ’ ’ بیرونی“ محاذوں کے دورے کرنے میں سہولت ہو اور اسکے علاوہ انکے دیگر بے شمار تحفظات بھی دور کئے جائیں۔ اگرچہ کانفرنس کے اعلامیے سے مکمل طور پر آگاہ نہیں کِیا گیا مگر ہوسکتا ہے کہ ماضی میں منعقدہ اجلاسوں کی طرح اِس بار بھی اِن مطالبوں پر غور کِیا گیا ہو کہ ڈرون گرائے جائیں، نیٹو سپلائی بند رکھی جائے، دہشت گردوں سے مذاکرات کئے جائیں، امریکہ کی جنگ سے نکلا جائے اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن بند کیا جائے ۔

(خبر جاری ہے)

یاد رہے کہ ماضی میں یہ مطالبات ایک اعلامیے کی صورت میں جاری کئے جاتے تھے تاکہ کونسل کے لشکریوں اوراسلامی جمہوریہ میں بسنے والی ”غیرت مند “ قوم تک بر وقت پہنچ سکیں اور قوم کو یقین ہو سکے کہ اُسکا دِفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ شنید ہے کہ اِس کو ر کمانڈرز کانفرنس (مشاورتی اجلاس) کے دوران چند دیگر اہم امور بھی زیرِ غور آئے ہوں گے جِن کی تشہیر قومی مفاد کے خلاف سمجھی گئی ہوگی۔ تجزیہ نگاروں کے خیال میں اِس کانفرنس میں دفاعی بجٹ پر بھی غور کِیا گیا ہوگا اور جنگی حکمتِ عملی کے معاملات بھی زیرِ بحث آئے ہوں گے، صلیبی جبروت کے خلاف کارروائی کو حتمی شکل دی گئی ہوگی اور نصرانیوں، یہودیوں ، مشرکوں اور منافقوں کے عالمی اتحاد کے تحت تشکیل کردہ جنگی لشکر کا قلع قمع کرنے کا منصوبہ بھی منظور کِیا گیا ہوگا۔

اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں موجود، دفاع پاکستان کونسل کے وفد نے اپنے کمانڈر انچیف کی قیادت میں دیگر کور کمانڈروں کے ہمراہ ، اسلامی جمہوریہ کے وزیرِ داخلہ سے بھی ملاقات کی اور ” باہمی دِلچسپی“ کے امور پر تبادلہ خیال کِیا۔ ملاقات کے بارے میں وزارتِ داخلہ نے ایک بیان جاری کرکے بتایا کہ تمام صوبوں کو شیڈول فور کی فہرستوں کا دوبارہ جائزہ لینے کا کہا جائے گا اور آئندہ اِن کمانڈروں کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کرنے سے مکمل اجتناب کِیا جائے گا اور دیگر تمام تحفظات بھی دُور کئے جائیں گے۔

ماضی قریب میں دفاعِ پاکستان کونسل اپنے کمانڈر انچیف اور کور کمانڈروں کے ہمراہ مختلف شہروں کی سڑکوں پر مارچ پاسٹ اور فلیگ مارچ بھی کر چُکی ہے اور آنے والے دِنوں میں اسلام آباد میں بھی مارچ پاسٹ کا ارادہ رکھتی ہے۔ کونسل کا یہ مارچ پاسٹ اور کور کمانڈرز کانفرنسیں اسکی جنگی تیاریوں کا حصہ ہیں۔دفاع کونسل بتدریج اپنی جنگی حکمتِ عملی کو آگے بڑھا رہی ہے۔ اِس سلسلے میں ایک اہم کام کونسل کے رنگروٹوں نے اسلام آباد کو بلاک اور جام کر کے بھی کرنا ہے۔
نصرانیوں اور ہنود و یہود کی شِکست کو یقینی بنانے کے لئے رنگروٹوں کا لشکر اپنے ڈائرکٹ حوالدار کی قیادت میں اسلام آباد میں افراتفری پھیلانے کا منصوبہ بنا چُکا ہے۔ منصوبے کے مطابق اسلامی جمہوریہ کے دارالحکومت میں زندگی مفلوج کی جاتی رہے گی تاکہ مغربی ملکوں میں مقیم نصرانی ، یہودی اور ہندو بلبلا اُٹھیں اور ان کو بھاری نقصان پہنچے۔ دفاع کونسل اور رنگروٹوں کے لشکر کی دفاعی حکمتِ عملی کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ اسلام آباد کو مکمل بلاک کر دیا جائے تاکہ امریکی ، بھارتی اور مغربی حکومتوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے اور ان ممالک کے ممالک کے عوام بھی تڑپ اُٹھیں۔
گذشتہ دھرنے سے بھی کافی اسٹریٹیجک ڈیپتھ حاصل کی گئی تھی اور امریکہ، بھارت، برطانیہ اور عرب ملکوں کی حکومتوں اور عوام پر لرزہ طاری ہوگیا تھا، اگر چند دِن اور موقع مِل جاتا تو لال قلعہ اور سری نگر پر جھنڈا بھی لہرا رہا ہوتا۔
دفاع کونسل کی تشکیل اِسی پاک سر زمین پر دفاعِ افغانستان کونسل کے نام سے ہوئی تھی ۔ اِس کونسل نے بڑی مہارت کے ساتھ افغانستان کا دِفاع کِیا اور دشمن کو ناکوں چنے چبوائے۔
افغانستان کے تباہ شدہ چپے چپے پر اِن کی بہادری کے ثبوت موجود ہیں۔ یوں پڑوسی مُلک کا بھر پور دفاع کرنے کے بعد پاک سر زمین کا دفاع اِس کونسل کا اگلا ہدف تھا لہٰذا کونسل نے اپنا نام تبدیل کر لِیا۔ کونسل نے اِسلام کے اِس قلعے کا بھی اِس مہارت سے دفاع کِیا بلکہ مسلسل کیے جارہی ہے کہ مُلک کے طول و عرض میں انمٹ نقو ش بن رہے ہیں۔
اگرچہ قوم نے اپنی جغرافیائی سر حدوں کی حفاظت کا ذمہ کِسی اور کو سونپا ہے، مگراِس بھٹکی ہوئی قوم کی دانش پر بھروسہ نہیں کِیا جاسکتا، لِہٰذا دِفاعِ پاکستان کا ذمہ صالحین پر مشتمل لشکروں نے اپنے مقدس ہاتھوں میں لِیا ہُواہے اور مُلک بھر میں دندناتے پھر رہے ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

شاہد سدھو کے اتوار اکتوبر کے مزید کالم