زمانہ موجود کے شاہ اور غلام درغلام قوم

پیر اکتوبر    |    محمد ثقلین رضا

بادشاہ کون ہوتاہے؟ وہ شخص جو اپنے فیصلوں میں آزاد ہو اوردن کو ہونیوالے فیصلے رات کو بدل ڈالے، یا پھر بیٹھے بٹھا ئے من میں جو آئے وہی فیصلہ بن کر رعایاپر مسلط کرڈالے، ہم نے شاہ یابادشاہ تو دیکھے نہیں ،البتہ ان کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا ہے، ہاں یہ کہ بعض اسلامی ممالک میں ابھی تک شاہانہ نظام حکومت موجود ہے تاہم جس قسم کی سخاوت اورسخنوری ماضی کے شاہوں سے منسوب ہے ،موجودہ بادشاہ اس کا کس قدرعشرعشیر ہیں یہ معلوم نہیں البتہ زبان کی چاشنی اوردل کی تسلی کو ہم کہہ سکتے ہیں زمانہ موجود کی ایک سلطنت ایسی بھی پائی جاتی ہے کہ جہاں چھوٹے بڑے کئی بادشاہ موجود ہیں ان بادشاہوں کا عنان حکومت تو ایک طرف اپنی پارٹیوں پر بھی خوب زور چلتا ہے، دن کو رات کہیں تو غلاموں کی طویل فہرست سرجھکا کر”آمین “ کہہ کر آگے چل نکلتی ہے اور پھرپورے ملک میں”رات ہے بھئی رات “ کاڈھنڈورہ پیٹتے نکل کھڑی ہوتی ہے۔

(خبر جاری ہے)

حد تو یہ کہ اگر بادشاہ بالباس لوگوں کو ننگا کہہ دے تودل کے اندھے غلام بھی یہی گردان لیکر جگہ جگہ گنگناتے پھرتے ہیں کہ فلاں فلاں ننگا ہے۔ چہ جائیکہ ان کی اس حرکت پرپورا ملک اوررعایاانہیں لعن طعن کرتی ہے۔عرض کررہے تھے کہ اس مملکت میں چھوٹے بڑے کئی بادشاہ موجود ہیں، اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ کسی بھی مملکت یا ریاست میں ایک بادشاہ ہوتاہے مگر اس سلطنت میں کئی بادشاہوں کاراج کیسے ہے؟ کیا ایک نیام میں اتنی ساری تلواریں سماسکتی ہیں؟ یقینا جواب دونوں کا ایک ہی ہے کہ ”ہاں“ رہی بات تلواروں کی تویہ بھی نقطہ توجہ کاطالب ہے کہ جن تلواروں نے آپس میں ٹکرانا ہی نہ ہو ، یا جنہیں اپنی گرفت میں رکھنے والے ہاتھ فیصلہ کرچکے ہوں کہ مل بانٹ کھانا ہے تو پھر وہاں تلواریں ایک ہی نیام میں سماسکتی ہیں ۔
ایسا ہی کچھ اس مملکت میں بھی ہورہاہے۔ اب زیادہ دیر نام صیغہ راز میں نہیں رکھا جاسکتا ، ارے صاحب اس مملکت کانام ”پاکستان “ ہے ۔ کہنے کو یہ ایک اسلامی جمہوری ملک ہے مگر حکمرانوں اورسیاسی جماعتوں کے روئیے بالکل شاہوں جیسے ہیں بلکہ یوں کہہ لیں کہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھا شخص ہی اکیلا بادشاہ نہیں ہوتا بلکہ اس کا پورا خاندان عنان اقتدار میں برابر کاحصہ دار ہوتاہے۔ دیکھنے میں اگر یہ ملک جمہوری ہے تو ظاہر ہے کہ پھر نام کی حد تک ہی سہی غلاموں پر مشتمل پارٹیاں بھی تشکیل دینا ضروری ہے، ایسی پارٹیاں جن میں کسی کاعمل دخل نہ ہو، جونہی آقا /بادشاہ سراٹھائے غلاموں پرمشتمل یہ پارٹیاں سر جھکالیتی ہیں کہ ان میں شاہ کی آنکھ سے آنکھ ملانے کی ہمت ہی نہیں ۔
یقین نہیں آتا تو گذشتہ ایک عرصہ سے جاری ڈرامہ بازی ملاحظہ کرلیجئے، زندہ انسانوں کی مردہ ضمیری کے واضح عکس جگہ جگہ بکھرے نظرآتے ہیں۔ شاہ نے کہا میں ہی شاہ رہوں گا اس وقت تک جب تک کہ میری سانس چل رہی ہے ، اس کے بعد پھر آنیوالے وقتوں میں میری بیٹی جگہ لے گی“ غلاموں کی صف میں کھڑے لوگوں نے یہ سوچے بنا کہ وہ تو اس شاہ کے غلام ہیں ہی ،کیا ان کی آنیوالی نسل بھی شاہ کی آنیوالی نسلوں کی غلام رہے گی؟“ یہ سوچے اورسمجھے بنا فوراً سرجھکایا اور باآواز بلند نعرہ لگایا ” جو حکم عالی جاہ!“ بس جی بادشاہ سلامت ایک پھر بادشاہ بن گئے بلکہ ایک رسم سی تھی جو ادا ہوگئی۔
اب اگلی کہانی سنئے، ماضی کی ایک اورحکمران جماعت بھی بھلا کیوں کر پیچھے رہتی یہ ثابت کرنے کیلئے ان کے ہاں بھی بادشاہ پائے جاتے ہیں ،اسی رو ز غلام اکٹھے کرکے پہلے سے موجود بادشاہ کے حق میں قرارداد لاتی ہے ۔عموماًانہیں قرارداد تصور نہیں کیاجاتا بلکہ یہ حکم نامہ ہوتا ہے جس پر غلاموں نے سرجھکاکر ”آمین“ کہنا ہوتا ہے ۔تیسری جماعت کی کہانی بھی الگ نہیں،جیسا کہ وراثتی نظام میں دیکھا، سنا اورپایاجاتاہے کہ باپ کے بعد بیٹا اورپھر بیٹے کے بعد اس کا بیٹا، مگریہاں معاملہ کچھ الٹ ہوگیا کہ باپ کے بعد بیٹی اورپھراس کے بعد اس کا بیٹا۔
یعنی نانا سے شروع ہونیوالی کہانی اب نواسے تک آن پہنچی ہے۔ اس کہانی میں فی الوقت ایک بادشاہ واضح نظرآتا ہے لیکن یہاں بھی غلاموں کی کمی نہیں، باعت حیرت ہے کہ میدان سیاست کی دھوپ میں بال سفید کرنے والے غلام بھی نوخیز بادشاہ کی ہرہرادا پر نثار چلے جارہے ہیں۔ یہاں بھی کوئی سوچنے والا نہیں کہ انہوں نے باپ کے بعد بیٹی کی غلامی کرلی کیا ان کی آنیوالی نسل نواسے کی غلامی کریگی؟؟ ہاں صدقے واری جانیوالوں کو بھلا کیا نظرآسکتا ہے ۔
اس جماعت کی عقل کل یعنی بانی باپ کی بیٹی کی وفات پر ایک انٹرنیشنل ادارے نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مرحومہ نے اپنی وراثت میں دو بیٹیاں، ایک بیٹا، بہت بڑی جائیداد اور ایک جماعت چھوڑی ہے۔ گویایہ اس بات کی سند ہے کہ سیاسی جماعتیں بھی جائیداد ہی ہیں بلکہ ان جماعتوں کو اگر سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کہاجائے تو بے جانہ ہوگا ۔ کیونکہ پارٹی عہدوں سے لیکر ٹکٹوں کی تقسیم تک اور پھر شاہ سے ملاقات تک ،سبھی کچھ بکتا ہے، سبھی کچھ خریدا جاتا ہے، ظاہر ہے کہ خریدنے،بیچنے والے ہاتھ بھلا شاہ کی مرضی کے بنا بھی حرکت کرسکتے ہیں ،اتنی جرات بھلا ان میں کہاں؟
صاحبو! ذرا آنکھیں کھول کردیکھئے کہ ان شاہوں کی پارٹیوں کے چلے آرہے غلاموں کی تعداد کتنی ہے؟ بیس کروڑ آبادی والے ملک میں جہاں تقریباًدس سے بارہ کروڑ کے قریب لوگ عاقل وبالغ یعنی ووٹ کے اہل تصور کئے جاتے ہوں وہاں غلاموں کی تعداددواڑھائی کروڑ سے بہت بھی کم ہے۔
مگران غلاموں کے غلاموں کی تعدا د اگر شامل کرلی جائے تو یہ تعداد مزید بڑھ جائے گی اور پھر غلاموں کی تیسری پیڑھی پر دیکھاجائے تو پھر رعایاہی نظرآئے گی۔ یعنی شاہوں کے تیسرے درجے کے غلام تیسرے ہی درجے میں مرجاتے ہیں۔ گویا یہ ثابت ہوا کہ رعایا کاکوئی فرد براہ راست بادشاہ سے ہم کلام ہوناتو الگ اسے دیکھ بھی نہیں سکتا۔ بلکہ یہ عزت وقار غلاموں کے دوسرے اورپہلے درجے کو بھی کم کم نصیب ہوتی ہے۔
کئی کئی دن تک لائن میں لگے لوگوں کی قسمت اس وقت جاگتی ہے جب شاہ کی دم پر کسی کا پاؤں آجاتا ہے اورشاہ کو اپنے تخت کی فکر ہونے لگتی ہے تو پھر وہ اپنے غلاموں کی پہلی فہرست یا پہلے درجے کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ غلام بھی بھلا کیسے برداشت کرپاتے ،فوراً چرنوں کو چھوکر دم پرپڑے پاؤں کو ہٹانے دوڑ پڑتے ہیں اور یہ سلسلہ 80 ء کی دہائی سے تاحال جاری ہے اور امید رکھی جاسکتی ہے کہ نئے بادشاہ کی آنے تک جاری رہے گی ۔

####
دھاندلی ایسے بھی ہوتی ہے
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے ضلعی الیکشن کمشنرز کو نوٹیفکیشن جاری کیاگیا کہ آزاد حیثیت سے کوئی بھی شخص بلدیاتی اداروں کی مخصوص نشستوں پر انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتا انہیں منتخب کرنیوالے بلدیہ ممبران کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ کسی نہ کسی جماعت سے منسلک ہوں اوراس جماعت کے کم ازکم ڈویژنل صدریا انچارج کے دستخطوں سے جاری لیٹر ضلعی الیکشن کمشنر کو جمع کرائیں۔
19اکتوبر کو جاری ہونیوالایہ نوٹیفکیشن آزادبلدیاتی ممبران کی اکثریت رکھنے والے اضلاع میں 20اکتوبر کو ارسال کیاگیا ۔عجب ڈرامہ ملاحظہ ہو کہ اس نوٹیفکیشن پر جماعتی وفاداری ثابت کرنے کی آخری تاریخ بھی 20اکتوبر ہی لکھی گئی ہے اور پھر یہ نوٹیفکیشن بلدیاتی ممبران یا اکثریت رکھنے والے سیاسی گروپوں اور حد تو یہ کہ میڈیا سے خفیہ رکھاگیا ،مقصد؟؟ محض اتنا کہ جدید انداز میں دھاندلی کی جائے اور پھر پہلے سے موجود ن لیگی ممبران میں سے چیئرمین منتخب کرکے آزاد ممبران کو بالکل الگ تھلگ کردیاجائے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد ثقلین رضا کے پیر اکتوبر کے مزید کالم