دھرنے ،مارچ اور انقلاب

بدھ اکتوبر    |    عاکف غنی

پاکستان کے نامور اسلامی سکالر،داعیٴِ خلافت اورتنظیمِ اسلامی پاکستان کے بانی ڈاکٹر اسرار احمد اپنی عمر بھر کی قران فہمی اور سیرتِ رسولِ انقلابﷺ کے مطالعہ کی روشنی میں اسلامی انقلاب کا طریقہ ہمیں یہ بتلایا کرتے تھے کہ اگر پاکستان میں اسلامی نقلاب لانا ہے تو چند لاکھ تربیت یافتہ نوجوان جو اپنے آپ کو اسلامی شریعت میں ڈھال چکے ہوں ایک تحریک کی شکل میں دھرنا دے کے بیٹھ جائیں اور حکومتِ وقت سے یہ منوا کر اٹھیں کہ ہمیں پاکستان میں اسلامی نظام چاہیے۔
ڈاکٹر اسراراحمد مرحوم تمام عمر اسی تگ دو میں لگے رہے ،انہوں نے تنظیمِ اسلامی کی بنیاد تو رکھ دی اور اپنے مشن کی تکمیل کے لئے ایسے نوجوان تیار کرنے کی کوشش کرتے رہے جن کے بارے میں وہ یہ شعر اکثر دہرایا کرتے تھے:۔

(خبر جاری ہے)


#تو خاک میں مل اور آگ میں جل جب خشت بنے تک کام چلے
ان خام دلوں کے عنصر پر بنیاد نہ رکھ تعمیر نہ کر
یہ نکتہ انہوں نے سیرتِ محمدی ﷺ سے اخذ کیا،کہ نبیٴِ آخر الزماںﷺ اپنی تیرہ سالہ جدوجہد میں محض سو کے لگ بھگ افراد تیار کر پائے اور اہلِ مکہ کی ریشہ دیوانیوں اور ظلم و ستم سے تنگ آکر مدینہ ہجرت کر گئے جہاں وہ صبر و استقامت سے اپنے صحابہ کی تربیت فرماتے رہے ۔
آپ ﷺ کی مسلسل جدوجہد سے مدینے میں ان کی محنت رنگ لے آئی ،ریاست ِ مدینہ کا قیام وجود میں آ گیااور مختلف غزوات کے بعد جب مکہ کی طرف چڑھائی کی تو تربیت و دبدبے کا یہ عالم تھا کہ بغیر خون بہائے مکہ فتح ہو گیا۔ڈاکٹر اسرا ر احمد تمام عمر نبی آخر الزمانﷺ کے دیے گئے نظام کو نافذ کرنے کی تگ و دو کرتے رہے مگر وہ اپنی زندگی میں اتنے نوجوان تیار نہ کر سکے جو ظلم کے نظام سے ٹکرا سکتے۔
اس سے پہلے ایک جماعت جس کی کوکھ سے تنظیمِ اسلامی نے جنم لیا تھا ،جماعتِ اسلامی اپنے بانی، عالمِ اسلام کے مایہ ناز عالم مولانا مودودی کے ہاتھوں مروجہ نظام، نظامِ انتخاب کی نذر ہو چکی تھی۔
مولانا مودودی مرحوم جو ایک بہت بڑے عالمِ دین اور مفکرِ قران تھے اورتفہیم القران جیسی انتہائی اہم تفسیر تحریر کرنے کا اعزاز رکھنے کے باوجود پاکستان میں انقلاب لانے کی کوشش میں ناکام رہے ،اس کی وجہ یہ ہے کہ جمہوریت جیسے نظام کے لئے لوگوں کا پڑھا لکھا ہونا ضروری ہوتا ہے جبکہ پاکستان کی اکثریت ناخوِاندہ ہے اور یہاں تعلیم کے فروغ کے لئے کبھی خاطر خوِاہ کوششیں کی بھی نہیں گئیں۔
پاکستان میں اسلام کے نام پر کئی جماعتیں وجود میں آئیں مگر آپس کے تفرقوں اور متفرق راستوں پر چلنے کی وجہ سے کوئی خالی تبلیغ پہ لگ گیا ،کسی نے بندوق اٹھا لی تو کوئی اللہ ہو پہ لگ گیا ،یوں پاکستان میں بیشمار مذہبی جماعتیں ہونے کے باوجود پاکستان کی اکثریت دینِ محمدی ﷺکے اثرات سے مستفید ہونے سے قاصر ہے اور انقلاب کی منزل تو ہنوز دور است۔

اس ضمن میں جس طرح کئی دیگر علماء نے بھی کوششیں کیں،اسی طرح لاہور سے اٹھنے والی ایک تحریک ، تحریکِ منہاج القران کے بانی مولانا طاہر القادری بھی کچھ عرصہ سے انقلاب کی سعی کر رہے ہیں اور کبھی انتخاب تو کبھی دیگر راستوں کا انتخاب کر لیتے ہیں، کچھ عرصہ قبل انہوں نے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کے طے کردہ اصول کے مطابق اسلام آباد میں ایک انتہائی اہم دھرنابھی دیا جس میں انہوں نے رول آف لاء کی امپلیمنٹیشن کی بات کی، وہ دھرنا اپنے عروج پر تھا جہاں انہوں نے حاکمانِ دوراں کو یزید قرار دیا مگر بدقسمتی سے انہی یزیدوں سے معاہدہ کر کے دھرنا لپیٹ کر کینڈا کی راہ لی اور انقلاب کو ڈی چوک پہ رُلتا چھوڑ گئے۔

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو حاصل تو اسلام کے نام پر کیا گیا مگر یہاں ،جاگیرداروں، سرمایہ داروں وڈیروں،پیروں،اسلام کے نام پر سیاست کرنے والے ملاوٴں،بابووٴں اورفوجی آمروں کا تسلط قائم ہو گیا جو کبھی سوشلزم ،کبھی اسلام تو کبھی احتساب کا نعرہ لگا کر اس ملک کے مختارِ کل بنے رہے۔پاکستان کی بانی جماعت مسلم لیگ ،شخصیات کے ناموں پر تقسیم در تقسیم کے چکر میں درجوں سابقوں، لاحقوں کے ساتھ کہیں نون تو کہیں قاف بن کر رہ گئی۔
پیپلز پارٹی آئی تو وہ لٹے پھٹے پاکستان میں ایک مقبول بھٹو کے ساتھ زندہ تو رہی مگر روٹی کپڑے اور مکان کے نعرے کو عوام کامقدر نہ بنا سکی۔
پاکستان پہلے تو دو لخت ہو ا اور جو بچ گیا وہاں ،جاگیرداری کی لعنت ابھی تک ختم نہ ہو سکی،سرمایہ داروں کا تسلط قائم ہو گیا۔حاکمانِ وطن کے کہیں سرے محل بنے تو کہیں بلاول ہاوٴس اسی طرح رائے ونڈ ،سرمایہ دارانہ بدمعاشی کا ایک سمبل بن گیا ،لاڑکانہ میں بھٹو کا مقبرہ بھی دیکھنے کی چیز ہے، جبکہ تھر میں بھوک سے بلکتے بچے،سندھ میں تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں کا فقدان ،اسی طرح پنجاب ،کے پی کے یا دیگر علاقوں کے لوگوں کے مسائل ہمارے سامنے ہیں۔
انصاف نام کی کسی چیز کا کہیں کوئی وجود نظر نہیں آتا،امیر کے لئے قانون اور تو غریب کے لئے کچھ اور،امیر،امیرتر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے،کرپشن کا دور دورہ ہے۔
موجودہ حکومت،میٹروبس،سڑکیں اور نمائشی منصوبوں میں تو مصروفِ عمل ہے مگر پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنے میں ناکام نظر آتی ہے، تعلیم، صحت اور روزگار ان کی سوچ میں کہیں نظر نہیں آتے، زرداری کا سڑکوں کو گھسیٹنے کا دعوٰی کرنے والے اب تو خوِدپانامہ کے الزام تلے دب کے رہ گئے ہیں۔

پانامہ کا الزام شریف فیملی پہ کیا لگا دیگر جماعتیں تو آئیں بائیں شائیں کرتی نظر آئیں ایسے میں سٹیند لیا تو ایک ایسی جماعت نے جس کے بانی کی شہرت تو ایک کھلاڑی کی تھی مگر وہ کھلاڑی جسے کل تک یہ روائیتی نام نہاد سیاستدان اناڑی کا طعنہ دیتے پھر رہے اب پاکستان میں مزاحمت کی ایک علامت بن چکا ہے۔
پاکستان تحریک انساف جس کی بنیاد دو عشرے قبل رکھی گئی تھی پچھلے انتخابات میں ایک بہت بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری،روائتی سیاست سے تنگ آئی قوم نے عمران اور اس کی جماعت کو وہ پذیرائی بخشی کہ حاکمانِ دوراں کو دھاندلی کا سہارا لینا پڑا اور جیت کرایک بار پھر اس ملک کی باگ دوڑ سنبھال لی۔
اس حکومت کی چونکہ بنیاد ہی دھاندلی تھی سو شروع سے ہی مخالتوں کا شکار ہو گئی،افسوس مگر یہ کہ حکومت نے بجائے اس کہ کہ عوام کی تعلیم،صحت اور سستے انصاف پہ توجہ دیتی اس نے میٹروبس،موٹر وے،اور اس قبیل کے نمائشی منصوبوں پہ زور رکھا اور ابھی دھاندلی کے الزام سے چھٹکارہ نہیں ملا تھا کہ پانامہ لیکس نے بجلی آن گرائی۔
پاکستان کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی نے عمران خان کو احتجاج پہ مجبور کیا اور یہ احتجاج دھرنوں کی شکل اختیار کر گیا،اس طرح کے دھرنے یوں تو قادری صاحب بھی دیتے رہے مگر ان کے ماڈل ٹاوٴن میں شہید ہونے والے ساتھیوں کی شہادت کے بعد ان کے احتجاج کی بنیاد ماڈل ٹاوٴن کے شہداء بن کے رہ گیا۔
عمران خان نے چار حلقوں کے کھولنے کی جس تحریک کا آغاز کیا تھا وہ اب پانامہ لیکس کے الزام کے بعد اینٹی کرپشن تحریک بن گئی ہے اور عمران خان نے دو نومبر کونواز شریف کے استعفے یاخوِد کواحتساب کے لئے پیش کرنے کے مطالبے کے ساتھ اسلام آباد کو بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔دیکھتے ہیں اس دو نومبر کے دھرنے سے کیا برآمد ہوتا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عاکف غنی کے بدھ اکتوبر کے مزید کالم