حکومت کیلئے دعا کریں

جمعہ اکتوبر    |    ارشاد بھٹی

شیخو جس کا بچپن خسرے اور جوانی خسارے میں گذری ، جس کی جسامت ایسی کہ پیدل بندہ تو اسکی شلوار میں نالہ بھی نہ ڈال سکے ، جو بڑا ہی مادہ پرست، یہاں ”مادہ“ سے مراد وہی جو آپ سمجھ رہے ہیں ، جسے چینی اور نکتہ چینی ناپسند، جو تیز ایسا کہ جب تک آپ ایک پُل کراس کریں یہ آپکو ڈبل کراس کر جائے ، جو مسئلے کا حل یوں نکالے کہ اگلا سوچے کہ اس حل سے تو مسئلہ ہی بہتر تھا ، جس کی طبیعت میں بظاہر ایسی عاجزی کہ دو منٹ میں بندہ عاجز آجائے جبکہ اندر خانے حال یہ کہ ہر بات ”میں“ سے شروع کرے اور بات ختم ہو جائے مگر’ ’میں‘ ‘ ختم نہ ہو ، جسکی باتوں میں اتنا وزن کہ دو منٹ میں سننے والے کا سر بھاری ، جو آدھا دن وہ کہے جو وہ سننا چاہے جبکہ باقی آدھا دن وہ سنے جووہ کہنا چاہے ، جو چپ ہو تو لوگوں کو شبہ ہو کہ اسے سیاست کا کچھ پتا نہیں ،بول پڑے تو یہ شبہ دور ہو جائے ،جو اپنی گفتگو میں پنجابی کے الفاظ یوں استعمال کرے جیسے سیاستدان عوام کو استعمال کریں ، جسے جانور بہت پسند ، اس لیئے جب کسی کو پسند کر رہاہو توانسان یہ سوچ کر پریشان ہوجائے کہ نجانے مجھے کیا سمجھ رہا ، جس نے دنیا میں جو چیز سب سے زیادہ دیکھی وہ ”سورج“ ،واقعی چڑھتے سورج کو اس سے زیادہ کس نے دیکھا ہوگا ، جب کوئی اقتدار میں ہو تو یہ اسکے ”دائیں بائیں “ ملے اور جونہی اقتدار جائے تو یہ ”دائیں بائیں “ ہو جائے ،جو مصیبت میں کام آنے والے کو کبھی نہ بھولے ،خاص طور پر اُس وقت جب یہ پھر مصیبت میں ہو،جو کسی کو سنجیدگی سے نہ لے، جس کو سنجیدگی سے لے وہ مذاق بن جائے،جسکا سیاسی قد اتنا کہ دیکھنے والے کی دیکھتے ہوئے پگڑی گر جائے، یہ علیحدہ بات کہ اکثر یہ پگڑی آگے کو ہی گرے، جس کی 30سالہ سیاست کا ایک ہی اصول کہ کوئی اصول نہیں ،جو کسی پارٹی میں ”کھپ“ نہ سکا، جس پارٹی میں گیا وہاں ”کھپ “پڑگئی، جو ملکی مفاد میں ہر مسئلے پر سب سے پہلے ڈٹ جائے بلکہ اکثر تو مسئلے سے پہلے ہی ڈٹ جائے ، جو کایاں ایسا کہ سکول کے زمانے میں ایکدن باپ سے بولا ”بابا فیس بک پر میرے 15اکاوٴنٹ ہیں “ باپ نے حیران ہو کر کہا کہ ”مجھے کیوں بتارہے ہو“ بولا” آپ کو اس لیئے بتا رہا ہوں کہ پچھلے 10دنوں سے جس عالیہ کو آپ چائے پر بلا رہے ہیں وہ میں ہی ہوں “، جو حاضر جواب ایسا کہ ایک مرتبہ جب ایک دوست نے کہا کہ ”میں اُس لڑکی سے شادی کروں گا جسے لطیفے پسندہوں “تو بولا”فکرنہ کرو تم سے شادی ہی وہی کرے گی جسے لطیفے پسندہوں گے “، جس سے ایک دفعہ جب پوچھا گیاکہ ایک سیاستدان سے ناقابلِ اعتبار کون توکہنے لگا ”دو سیاستد ان“، جس سے ایک بار جب سوال ہوا کہ ” اگر ہمارے ملک سے سیاست نکال دی جائے تو باقی کیا بچے گا “تو جواب آیا ” ملک بچے گا“ اور وہ شیخو جو سیاست کا ایسا خزانہ کہ جسے زمین میں دبا دینے کو دل چاہے اسی سے چند دن پہلے ملاقات ہوئی تو سلام دعا کے بعد جب میں نے پوچھا کہ ”قبلہ کیسی جارہی سیاست “ تو بولا” ہماری سیاست۔

(خبر جاری ہے)

۔۔ جو کچھ ہماری سیاست میں ہو وہ ہماری سیاست میں ہی ہو سکے، یہاں سیاست کرنا ایسے ہی جیسے خشک فرائی پان میں مچھلی تلنا ، یہاں سیاست تب تک چلے، جب تک آپکی چلے ،ورنہ بازا ر میں جوجوتا ہزاروں میں پڑے یہاں مفت پڑ جائے“۔ سب سیاستدان ملکر اپنی سیاست کو ٹھیک کیوں نہیں کرلیتے ،میرے اس سوال پر شیخو کا لہجہ اچانک طنزیہ ہو گیا ” جو سیاستدان انچوں میں سوچیں اور گزوں میں بولیں، جو خود پرست ایسے کہ ا پنے بچوں کے والد کو اپنا آئیڈیل مانیں ، جو لوگوں کے وسائل کو لوگوں کیلئے ہی مسائل بنا دیں، جو اسمبلیوں میں پہنچ کر عوام کی طرف پشت کرکے سوچیں کہ عوام انکی پشت پر،جو عوام سے پیار کریں تو لگے کہ’ ’پی آر‘ ‘ کر رہے اور جن کی صلاحیتیں دیکھ کر یہ لگنے کی بجائے کہ دریا کو کوزے میں بند کیا گیا یہ لگے کہ کوزے کو دریا میں بند کر دیا گیا ، وہ سیاستدان سیاست ٹھیک کرنے کی بجائے خود ٹھیک ہوجائیں تو یہی بہت“۔
شیخو نے جیسے ہی بات مکمل کی تو میں نے اگلا سوال کر دیا ” 2نومبر کو اسلام آباد بند کرکے میاں صاحب سے استعفیٰ لینے یا انہیں تلاشی دینے پر مجبور کر لیں گے؟“ ، ا یک لمبی اور ٹھنڈی سانس لیکر شیخو نے کہا ”جہاں قانون کی حکمرانی کی بجائے حکمرانوں کا قانون چلے ، جہاں حالات ایسے کہ کوئی شریف آدمی گالی دیئے بغیر 5منٹ حالات پربات نہ کر سکے، جہاں بڑوں کے ہاتھ کرپشن سے رنگے جبکہ پکڑنے والوں کے ہاتھ بندھے ہوئے ، جہاں آدھی قوم سوئی ہوئی اور باقی آدھی کیلئے 2نومبر سمیت سب کچھ ایک کھیل تماشا ، جہاں نزلے زکام تک کے چیک اپ باہر کرواتے میاں صاحب اپنے اسپتالوں میں رُلتی عوام کے ذکر پر آبدیدہ ہوجائیں ،بھلا کوئی ان سے پوچھے حضور تین دہائیوں کے اقتدار اور تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کا نتیجہ اگر عوامی مسائل پر بے بسی کے آنسو ہی تو پھر تو آپ کو بھی کپتان کے ساتھ کینٹینر پر ہونا چاہیے اورپھر جہاں اگر عمران خان کھانس بھی لے تو 73ارب ڈالر کی مقروض جمہوریت خطرے میں پڑ جائے ، وہاں تبدیلی لانا آسان تو نہیں، مگر ہم تو کوشش ہی کر سکتے ہیں اور وہ ہم کر رہے “ ، اس سے پہلے کہ با ربار گھڑی
د یکھتا شیخو محفل برخاست کرنے کا اعلان کرتا میں نے جلدی جلدی جب اس کی توجہ سرکاری عمارتیں گروی رکھ کر قرضے لیتی حکومت کی طرف دلوائی تو عجیب سے انداز میں ہنس کر بولا ” جب دنیا بھر میں حکومتی گارنٹی کی کوئی حیثیت نہ ہو ،جب حکمرانوں کی زبان پر کوئی اعتبار نہ کرے اور جب اتنا قرضہ لیا جا چکا ہو کہ اگلے 20سال تک پید اہونے والا ہر پاکستانی مقروض ہو ،تب ”گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا“ مطلب بے چاری حکومت کے پاس سرکاری عمارتیں گروی رکھوانے کے علاوہ بھلا آپشن ہی کیا ،باقی اپنے وہ تمام پانی کے بلبلے کہ جن کی وطن پرستی پانی کے بُلبلوں جیسی ، ان سے یہی گذارش کہ اپنے کچن کے مسائل کا ذمہ دار آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کو ٹھہراتے ہوئے ، اپنے گھر کی فریج خراب ہونے پر امریکہ کو کوستے ہوئے اور ٹی وی کے آگے ہاتھ پر ہاتھ دھرے انقلاب کی خواہش کر تے ہوئے براہ مہربانی نواز حکومت کی زندگی اور صحت کیلئے بھی دعا کر دیا کریں کیونکہ ایک یہی حکومت تو وہی کچھ کر رہی ، جو اسے کرنا چاہیئے تھا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ارشاد بھٹی کے جمعرات اکتوبر کے مزید کالم