ازوج لاھور میٹ اَپ - ایک انوکھی تقریب

جمعرات اکتوبر    |    رابعہ ارشد ترکمان

گزشتہ دنوں مجھے ایک ایسی تقریب میں جانے کا اتفاق ہوا جس کے حوالے سے پاکستان جیسے روایتی معاشرے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا، یہ تقریب ’’ازوج‘‘ نے دورِ جدید میں مناسب رشتہ کی تلاش کے سماجی مسئلے کے حل کے سلسلے میں منعقد کی تھی۔ آج کل مناسب رشتہ کی تلاش حقیقتاً ایک گھمبیر مسئلہ بن چُکا ہے، مجھے غیرروایتی حل کی جستجو نے اس نئی اور اُچھوتی تقریب میں شمولیت کے لئے اُکسایا کیونکہ ہمارے ہاں تو رشتہ کرانا صرف وچولی یا گھر کے بڑوں کا کام سمجھا جاتا ہے۔
مزید جاننے کےلئے کہ یہ ادارہ ’’ازوج‘‘ کس طرح کا حل پیش کر رہا ہے، اور یہ لوگ پاکستانی معاشرے میں کونسا نیا انداز متعارف کروا رہے ہیں۔ اس حوالے سے ادارے کی سنجیدگی، حل کی دریافت، معیار اور اس بابت اس کی کامیابی کے امکانات کا اندازہ لگانے کے لئے میرا اس تقریب میں شرکت کرنا ناگزیر تھا۔

(خبر جاری ہے)


’’ازوج‘‘ نے اپنے کلائنٹس کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب جگہ کا انتخاب کیا اور شہر کی مشہور شاہراہ ایم ایم عالم روڈ پر طباق ریستوران میں اس کا انعقاد کیا۔

جب میں تقریب میں شرکت کے لئے ’طباق‘ ریستوران پہنچی تو میری حیرت کی انتہا نا رھی کہ ایسے معاشرے میں جہاں لوگ تقریب میں دیر سے جانا شان سمجھتے ہیں وہ قبل از وقت ہال میں موجود تھے۔
’’ازوج‘‘ ہر دوماہ بعد ایک رابطہ میٹنگ منعقد کرتا ہے تاہم یہ میٹینگ اس لحاظ سے خاص تھی کہ اس میں ازوج کا کامیابی سے ایک سال مکمل کرنے کی خوشی منائی گئی اور لوگوں کو ازوج کے سافٹ وئیر کو استعمال کرنے کی دعوت بھی دی گئی۔
مناسب رشتہ ڈھونڈنا آجکل ہر گھر کا مسئلہ بن چُکا ہے، عصرِ حاضر یا اگر اسے ڈیجیٹل دور کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، میں بھی ہمارے معاشرے میں فیملی ہی لڑکے یا لڑکی کے لئے رشتہ پسند کرتی ہے اور اس مقصد کے لئے وہ روایتی میچ میکرز یا وچولی (matchmakers) کا سہارا لیتے ہیں۔ ان وچولیوں کے پاس ایک ڈائری ہوتی ہے جس میں وہ لوگوں کی نہایت مختصرمعلومات اکٹھی کرتے ہیں جو ان (لڑکا یا لڑکی) کے نام، عمر، ذات، تعلیم، والد کے نام، پیشہ اور رہائش گاہ کے ساتھ ایک عدد تصویر (جو ممکن ہے آپ کو کبھی واپس نہ ملے) پر مشتمل ہوتی ہیں۔
روایتی طریقہ کار میں ان بنیادوں پر رشتے جوڑے جاتے ہیں۔ جو انتہائی سطحی انداز کا ٹوٹکہ لگتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر ان کی ڈائری گم ہو جائے یا وہ نئی ڈائری بنا لیں تو آپ کو معلومات دوبارہ سے انہیں رجسٹر کرانا پڑتی ہیں اور پھر بار بار فون کرکے انہیں یاد دہانی کا کام کیا جاتا ہے جو وقت کی بربادی کے علاوہ کوفت اور بدمزگی کا بھی باعث بنتا ہے۔
ہمارے ہاں زیادہ تر والدین کمپیوٹر یا سمارٹ فون کے استعمال سے ناواقف ہیں یا پھر انہیں استعمال کرنا عجیب لگتا ہے جس کی وجہ سے وہ آئن لائن رشتہ سائٹس کو بھی بھرپور توجہ نہیں دیتے اور روایتی وچولیوں کے رحم و کرم پر ہی پڑے رہتے ہیں۔
مناسب رشتہ کی تلاش میں رکاوٹ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بچے تعلیم یافتہ ہونے کے بعد صرف خاندان کے تعلق کی بنیاد پرشادی نہیں کرنا چاہتے بلکہ انہیں اپنے ہم پلہ ساتھی کی تلاش ہوتی ہے۔ جو اکثر والدین کو خاندان سے باہر دیکھنے پر مجبور کرتی ہے اس کے علاوہ جو لوگ عرصہ دارز سے ملک سے باہر مقيم ہیں، وہ اپنے ملک اور رشتہ داروں سے تعلق کو برقرار نہیں رکھ پاتے یا تعلق میں تسلسل برقرار نہیں رہتا جس کی بنا پر انہیں مناسب رشتہ کی تلاش کے لئے وچولی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
تعلیم کے علاوہ ذہنی وسعت حاصل کرلینے کی وجہ سے بھی لوگ اپنی قابلیت اور اہلیت کے مطابق خاندان سے باہر رشتہ کرنا چاہتے ہیں جو ان کے مزاج کو سمجھ سکیں۔ اس کے علاوہ میڈیکل سائنس بھی بچوں میں لاعلاج امراض کی تشخیص کے بعد خاندان یا کزن میرج کی ممانعت کا مشورہ دیتی ہے۔
اب پاکستان میں نئی نسل کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی بدولت غیرروایتی طریقہ کار کو اپنانے کی طرف تیزی سے پیش قدمی کر رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ کپڑوں، جوتوں اور دیگر ضروریاتِ زندگی حتیٰ کہ سبزی وغیرہ گھر بیٹھے ہی آن لائن آرڈر کے ذریعے منگوا لی جاتی ہے۔
لیکن ابھی تک آئن لائن رشتہ ویب سائٹس کے حوالے سے لوگوں میں اعتبار کی کمی نظر آئی۔ تقریب میں شامل (نام نہ ظاہر کرنے کی بنیاد پر) ایک وکیل کا کہنا تھا کہ ’’میں ایک برس سے آئن لائن ویب سائٹس پر اکاؤنٹ بنا کر رشتہ تلاش کر رہا تھا مگر یا تو لوگ سنجیدہ نہیں ملتے یا دھوکے باز ہوتے ہیں، تاہم اس تقریب میں شمولیت سے مجھے پہلی بار ہی میں اپنا جیون ساتھی ملنے کی اُمید ہوگئی ہے۔ یہاں میری ملاقات ایک فیملی سے ہوئی ہے جو رشتہ کی تلاش میں اپنی بیٹی کے ساتھ آئے ہیں اور یوں ہم دونوں نے اپنی فیملیز کی موجودگی میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے ایک دوسرے کو مناسب پایا ہے۔
ہمارے والدین نے فون نمبرز کا بھی تبادلہ کیا ہے تاکہ بات آگے بڑھائی جا سکے۔‘‘
تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے۔ ایک بینکر جو اپنے بھانجے اور بھانجی کے رشتے کے لئے اس تقریب میں شريک تھے، انہوں نے اس تقریب کے بارے میں رائے دیتے ہوئے کہا کہ ’’ایسی تقاریب اور سنجیدہ اداروں کی وقتِ حاضر میں اشد ضرورت ہے، کیونکہ ترقی کی دوڑ میں بھاگتے ہوئے ہم اتنے مصروف ہوجاتے ہیں کہ ایسے میں سماجی تعلقات کے لئے کوئی وقت ہی نہیں بچتا جس کی وجہ سے ہمیں اپنے بچوں کے مناسب رشتوں کی تلاش میں بہت دقت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
‘‘
پچاس سالہ مہرالنسا، اپنی سافٹ وئیر انجینئر بیٹی کے رشتہ کے لئے اپنے خاندان اور بیٹی کے ہمراہ تقریب میں بہت پُر اُمید دکھائی دیں، اُن کا کہنا تھا کہ اس سے قبل وہ اپنی دو بیٹیوں کی شادی کرچُکی ہیں۔ ’’روایتی طريقے سے مناسب رشتہ کی تلاش میں گھر رشتہ دیکھنے کے لئے آنے والوں کی خاطرداری میں ایک دن پورا نکل جاتا ہے اور خرچہ الگ سے ہوتا ہے۔ اُس دن ہم کوئی اور کام نہیں کرسکتے کیونکہ لڑکے والے کبھی بھی وقت مقررہ پر نہیں آتے۔
جو بعض اوقات بہت تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔‘‘ مہرالنسا نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’’اسی لئے اپنی چھوٹی بیٹی کے رشتہ کے لئے میں نے اپنی سہیلی کے مشورے پر ’’اَزوج‘‘ میں رجسٹریشن کروائی اور اس پہلی ہی میٹنگ میں مجھے چار پانچ فیمیلیز نے اپنے گھر آنے کی دعوت دے دی ہے جو میرے لئے بہت خوشی کا باعث ہے۔ اب میں بے جا مہمانداری اور وقت کے ضیاع سے بچ گئی ہوں۔ ایسی تقریبات کا ہونا بہت حوصلہ افزا ہے۔
‘‘
مسز نیلم جو اپنے بھائی کے لئے مناسب رشتہ کی تلاش میں اس تقریب میں موجود تھیں، انہوں نے اپنے تاثرات قلمبند کراتے ہوئے بیان کیا کہ ’’تعلیم اور کمپیوٹر نے دنیا کو چھوٹے سے گاؤں میں بدل دیا ہے مگر ابھی ہم اپنی پرانی روایات کو چھوڑنے پر ذہنی طور پر آمادہ نہیں ہوئے، یہی وجہ ہے کہ لوگ مناسب رشتہ کی تلاش کرتے ہوئے اپنے معیارات کے حوالے سے بھی واضح سوچ نہیں رکھتے، انہیں دس گھروں میں چکر لگانے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں کیسا خاندان، لڑکی یا لڑکا چاہیے۔
‘‘
ان خیالات اور آرإ کے ساتھ تقریب اور ’’اَزوج‘‘ ادارے کے مقاصد کے بارے مزید تفصیلات جاننے کے لئے میں نے پبلک ریلیشن مینیجر کہکشاں فاروق سے گفتگو کی۔ کہکشاں کا تقریب کے حوالے سے کہنا تھا کہ انہیں لوگوں سے اس قدر پزیرائی کی توقع نہیں تھی مگر آخری وقت تک لوگوں کی انٹری کی درخواست موصول ہوتی رہیں۔ ’’ہم نے اپنے اندازے سے پچاس سے ستر لوگوں کے لئے میٹنگ کا انتظام کیا تھا، مگر ہماری سوچ سے بھی زیادہ لوگ اس تقریب میں شرکت کے خواہش مند تھے۔
سو سے زايد لوگوں نے اس تقریب میں شرکت کی ہے۔ اس تقریب میں ہم نے مہمانوں کے لئے تفریحی سرگرمیوں کا انتظام کیا ہے تاکہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل جائیں۔ اسی وجہ سے آپ دیکھ سکتی ہیں کہ تقریب کا ماحول انتہائی خوشگوار اور دوستانہ ہے۔ حالانکہ لوگ پہلی ملاقات میں کسی سے کھل کر بات نہیں کرتے، اور بعض اوقات رسمی گفتگو سے آگے بات بڑھ ہی نہیں پاتی۔‘‘
کہکشاں نے بات جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ ’’ہمارے مہمانوں کے لئے مختلف مایہ ناز برانڈز نے اپنی مصنوعات تحائف کے طور پر پیش کیں ہیں۔
ان مشہور برانڈز میں آن لائن شاپنگ سٹورایمینینٹ تھریڈ (online shopping store EmMinent Thread) نے دو شرٹس، معروف ڈیزائنر (Shahbano) شاہ بانو نے تین کُرتیاں اور 100 ڈسکاؤنٹ واؤچرز، اور ایمان میک اپ لاؤنج (Eiman’s Makeup Lounge) نے پارٹی میک اپ کے لئے 4 ڈسکاؤنٹ واؤچرز دئیے ہیں۔ کارڈن بلیو (Cordon Blue ) نامی کیک بیکری نے ’’ازوج‘‘ کے ایک سال کے کامیاب سفر کی مبارکباد کے طور پر سالگرہ کا خصوصی کیک بھجوایا اور ساتھ ہی بیس ڈسکاؤنٹ واؤچرز بھی دئیے۔
جبکہ جویریہ آرٹ کیک (Jewaria Art Cake) والوں نے تقریب میں موجود مہمانوں کے لئے 100خصوصی کپ کیکس پیش کیے۔ پنجاب گورنمنٹ آئی ٹی بورڈ اور پلان9 نے گفٹ ہیمپرز دئیے۔ دی فیلیمک آؤل فوٹوگرافی اسٹوڈیو (The Filmic Owl ) نے ساری تقریب کی کوریج کے ساتھ ہر مہمان کے لئے ڈسکاؤنٹ واؤچرز دئیے جبکہ آئن لائن شاپنگ سٹور مائی جیری ڈاٹ کام (online shopping store MyJerry.com) نے بھی 50 ڈسکاؤنٹ واؤچرز فراہم کئے ہیں۔‘‘
ادارے کی اولین ترجیحات بتاتے ہوئے کہکشاں کا کہنا تھا ’’ازوج کا مقصد روایتی نظام میں ایسی تبدیلی لانا ہے جو بدلتے زمانے میں بدلتی روایات اور وقت کے تقاضوں کو پورا کرسکے اور ایسا جیون ساتھی تلاش کرنے میں مدد دے جو کہ حقیقی معنوں میں آپ کا ساتھی بننے کے لائق ہو۔
’’اَزوج‘‘ کی ٹیم پڑھی لکھی ہونے کے ساتھ دوستانہ رویہ بھی رکھتی ہے اور لوگوں کو خود کو جانچنے میں مدد بھی دیتی ہے تاکہ وہ تخیلاتی خواہش کی بجائے حقیقت پسندانہ انداز میں اپنے لائف پارٹنر کا انتخاب کریں۔ یہاں کہکشاں نے ’’ازوج‘‘ کی چیف ایگزیکٹو آفیسر اور تخیلق کار سعدیہ سلیم چیمہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ سعدیہ خود کمپیوٹر سائینسدان ہیں اور سعدیہ نے اس آئیڈیا کو اپنے آس پاس، خاندان اور دوستوں میں مناسب رشتوں کی تلاش کے مسائل کو دیکھتے ہوئے انسان-کمپیوٹر بیسڈ سسٹم کو متعارف کروایا ہے۔
جس میں انسان دوست ٹیکنالوجی کے ذریعے حل پیش کیا گیا ہے۔ اس میں محفوظ طریقے سے ڈیٹا جمع کیا جاتا ہے۔ اس سسٹم کے ذریعے لوگ خود فارم بھرتے ہیں اور اس تفصیلی فارم میں انہیں ناصرف اپنے بارے میں تفصیلاً بتانا ہوتا ہے بلکہ اپنی ريکوارٔمنٹ (requirement) بھی بتانے کا موقع دیا جاتا ہے۔ تاکہ وہ وقت کے ضیاع سے بچ جائیں۔ مستقبل قریب میں اس فارم میں مزید کچھ سوالات شامل کئے جائیں گے تاکہ لوگوں کو اپنی سوچ کو واضح کرنے میں آسانی ہو سکے۔
‘‘
کہکشاں نے مستقبل کی پلاننگ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ ہم نومبر کے آخری ہفتے میں کراچی میں ایسی ہی تقریب کا انعقاد کریں گے۔ اگلے سال کے آغاز جنوری-فروری میں ایک طویل دورانیے کی تقریب منعقد کی جائے گی تاکہ فمیلیز زیادہ وقت اکٹھے گزار سکیں۔ اس تقریب میں مختلف سرگرمیوں کے ذریعے ماحول کو پُرلُطف بنانے کے لئے مختلف برانڈز کے ساتھ مل کر اسٹالز بھی لگائے جائیں گے اور مہمانوں کو تحائف دئیے جائیں گے۔
‘‘
’’اَزوج‘‘ کے نیٹ ورک کے حوالے سے ذکر کرتے ہوئے کہکشاں نے بتایا کہ ’’اَزوج کے نمائندے اور دفتر اس وقت پاکستان کے بڑے شہروں کے علاوہ بیرونِ ملک بھی موجود ہیں۔ اس حوالے سے سعدیہ سلیم چیمہ بیرونِ ملک جہاں بھی معقول تعداد میں پاکستانی کمیونٹی کے لوگ موجود ہے، وہاں ’’اَزوج‘‘ کے دفتر اور نمائندوں کا نیٹ ورک بنانے میں مصروف ہیں۔ تاکہ ہرممکن حد تک پاکستانیوں کے اس مسئلے کا حل ممکن بنایا جا سکے۔
اس وقت ’’اَزوج‘‘ کا نیٹ ورک پاکستان میں گوجرانوالہ، لاہور، کراچی، اسلام آباد جبکہ بیرونِ ملک میں لندن، نیویارک، کینیڈا، آسٹریلیا، اور جرمنی میں ہے۔‘‘
رُخشان میر، نووارد صحافی جو اُردو پوائنٹ (آن لائن جریدہ) سے منسلک ہیں، نے میزبانی کے فرائض انجام دیتے ہوئے اس تقریب کا آغاز بہت خوبصورت انداز سے کیا اور لوگوں کی توجہ ایک دوسرے کی جانب مبذول کرانے کے لئے تعارف کرانے کا نیا انداز اپنایا جس کو لوگوں نے بہت سراہا۔
رُخشان نے خاص محنت سے کچھ تفریحی گیمز کا انتظام کر رکھا تھا جس میں مہمانوں نے بہت دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس وقت ہال تالیوں اور قہقہوں سے گونج اُٹھا جب ایک گیم میں حاضرینِ محفل سے پوچھا گیا کہ انکے جیون ساتھی انہیں کس نام سے پُکارتے ہیں، تو حاضرین نے مختلف جوابات دئیے مگر ببلی، پنکی اور ہٹلر کے ناموں میں سے ہٹلر کے نام والی خاتون کو حاضرین نے خوب داد دی۔ ایک اور سرگرمی میں حاضرین میں موجود شادی شدہ جوڑوں سے ایک منٹ میں ’’اچھی شادی شدہ زندگی کا راز‘‘ بیان کرنے کو کہا گیا اور دلچسپ جواب والے مہمان کو انعام دیا گیا۔
‘‘
اس تقریب کی ایک اور حیران کُن بات والدین کا اپنے نوجوان بچوں کو ہمراہ لانا تھا۔ ایسا معاشرہ جہاں اپنی شادی کی بات کرنا یا خود کے لئے رشتہ تلاش کرنا معیوب گردانا جاتا ہے وہاں ایسی تقریب میں والدین کا بلاججھک نوجوانوں کو ایک دوسرے کو ملنے دینا اور مناسب رشتہ کی تلاش میں ان کی رہنمائی کرنے کا عمل کافی دلچسپ تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک سال میں ہی ازوج نے لوگوں کا اعتبار جیت لیا ہے۔

تقریب میں موجود ہر فرد کی رائے تھی کہ زمانہ حاضر میں ایسی تقاریب کی اشد ضرورت ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ تقریب میں ازوج اور دوسرے شريک برانڈز کے ڈسکاؤنٹ واؤچرز بھی تقسیم کئے گئے۔ گو کہ یہ ایک closed group meeting تھی لیکن اس کے باوجود بہت سے لوگوں نے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے مشورے سے اس میں شرکت کی۔ تقریب کے احتتام پر جب کارڈن بلیو (Cordon Bleu) کا بھیجا گیا خصوصی کیک، جو نہ صرف دیکھنے بلکہ کھانے میں بھی لاجواب تھا، کاٹا جا رہا تھا تو میرے دماغ میں تقریب میں موجود ایک خاتون کی بات بازگشت کرنے لگی ۔
۔۔۔ ’’ہم اپنے معاشرے کو بہت تنگ نظر، پرانا اور جمود کا شکار سمجھتے ہوئے نئے حل کی پیشکش کو قبول ہی نہیں کرتے، حالانکہ اس تقریب کے لئے ہال میں لوگوں کی بڑی تعداد کی موجودگی اس خیال کی نفی کرتی ہے، کہ ہمارا معاشرہ اس قدر بھی ذہنی پسماندگی کا شکار نہیں کہ اپنے مسائل کے حل کے لئے نئے طریقہ کار کو اپنانے سے گریز کرے گا۔‘‘
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

رابعہ ارشد ترکمان کے جمعرات اکتوبر کے مزید کالم