سگے اور سوتیلے شہید

جمعہ اکتوبر    |    عمار مسعود

کوئٹہ سانحے میں پاکستان آرمی کا ایک کپتان بے جگری سے لڑتے ہوئے شہید ہوا۔ پاکستان آرمی نے اسکو اعزاز دیا، احترام دیا ، شجاعت کے تمغے سے نواز ا۔ بہت اچھا کیا۔یہ شہید کا حق اور ادارے کا فرض تھا۔
کوئٹہ سانحے میں پولیس کے اکسٹھ نوجوان شہید ہو ئے۔ انکی لاشوں کو کرائے کی ویگنوں پر انکے گھروں میں روانہ کر دیا۔ جانے کسی نے ان ویگنوں کا کرایہ بھی دیا ہو گا کہ نہیں۔ کتنی دیر یہ لاشے وگین کے انتظار میں سڑک کنارے پڑے رہے ہوں گے۔
کب شہید کے سٹاپ کی ویگن آئی ہو گی۔ کس طرح کنڈیکٹر نے چھت پر بیٹھی سواریوں کو بمشکل اتروا کر تابوت کا چھت پر پہنچایا ہوگا۔ شائد ڈبل سواری کے کرائے کا بھی مطالبہ کیا ہوگا۔ پٹرول کی مہنگائی کا رونا بھی ڈرائیور لے کر بیٹھ گیا ہوگا۔

(خبر جاری ہے)

روٹ پر چلنے والی ویگنوں سے طلب کیئے جانے والے بھتے کا بھی ذکر شہید کی لاش کے قریب ہی ہوا ہو گا۔
یہ اکسٹھ نوجوان بھی ملک کی خدمت کے لیئے آئے تھے۔ اس دھرتی کی حفاظت کے لیئے خون کا آخری قطرہ بھی بہا دینا ان کا بھی عزم ہو گا۔

شہادت کو یہ بھی معراج سمجھتے ہوں گے۔ بہادری کی داستان یہ بھی رقم کرنا چاہتے ہوں گے۔ شجاعت کے کسی کارنامے کی متلاشی انکی حیات بھی ہو گی۔کسی تمغے کی چاہت انکے دل میں بھی کسکتی ہو گی۔ وطن کا نام روشن کرنا انکا بھی عزم ہوگا۔
ہم نے ان اکسٹھ نوجوانوں سے سوتیلا سلوک کیا مگر یہ اپنی ماوں کے سگے بیٹے ہوں گے۔ ان ماوں کے بچے جنہوں نے سفر پر جاتے انکے بازوں سے امام ضاضن باندھا ہوگا۔ دعاوں کے سائے تلے انہیں رخصت کیا ہوگا۔
سر پرقران پاک کا سایہ کیا ہوگا۔ بہن بھائی فخرسے سارے محلے میں انکی بہادری کے قصے سناتے ہوں گے۔ انکے احباب انکی قسمت پر رشک کرتے ہوں گے۔
ان شہیدوں کے ساتھ اس بہیمانہ سلوک پر اس قدر رنج ہے کہ پہلی دفعہ فون تھاما اور ایک افسر کو فون کر کے اس زیادتی کہ وجہ جاننے کی کوشش کی۔ ان صاحب نے اپنے سے بڑے افسر کا حوالہ دے دیا۔ ان سے بات کی تو وہ اپنے سینئر کا نام دے کر فون بند کر گئے۔ انکے سینئر سے بات کی تو جواب آیا کہ ہماے پاس بجٹ نہیں تھا۔

یہ کون لوگ ہیں جن کے پاس اہنے شہیدوں کو احترام دینے کا بجٹ نہیں ہے۔ یہ کون سے ادارے ہیں جو شہدا کے لاشوں کو ویگنوں پر سوار کر کے اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو گئے۔یہ کون سے محکمے ہیں جو تعزیت کے ایک سے بیانات دے کر اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ براہ ہو جاتے ہیں۔
مدتوں پہلے لاہور کی سردی میں آدھی رات کے وقت ایک نحیف اور مدقوق پولیس والے سے بات ہوئی جو سردی میں کانپتاایک ٹوٹی چارپائی کے سہارے آدھی سڑک بلاک کیئے ناکہ لگائے کھڑا تھا۔
بندوق کا تکلف بھی اس کے پاس پیسر نہں تھا۔ دہشت گرودوں کے خلاف اسکے تمامتر حفاظتی اقدامات ایک ٹوٹی چارپائی اور ایک موہوم سی ٹارچ تک محدود تھے۔ دریافت کرنے پر معلوم پڑا کہ اس ٹارچ کے سیل کا خرچہ بھی وہی خود اٹھاتا ہے کیونکہ محکمے کے پاس بجٹ نہیں ہے۔
ایک دوست اپنی کوئی ذاتی ایف آر درج کروانے گئے ۔ محرر نے سب سے پہلے سفید کاغذوں کے دستے اور بال پوائینٹ کا مطالبہ کر یا۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ محکمے کے پاس بجٹ نہیں ہے۔

افسوس تو اس بات کا ہے کہ افسروں کے گھروں کی رکھوالی ہو، وی آئی پیز کی پروٹوکول کی ڈیوٹی ہو، سیاستدانوں کی خوشامد درکار ہو تو گاڑیوں میں پٹرول بھی ڈل جاتا ہے، اسلحہ بھی کارآمد دستیاب ہوتا ہے۔ یونیفارم کی نوک پلک بھی درست ہوتی ہے۔سلیوٹ کرنے کا درست سلیقہ بھی نصیب ہوتا ہے۔
ان سب شہیدوں میں صرف ایک بات مشترک تھی کہ سب کے جسد خاکی کو سبز پرچم میں لپیٹ دیا گیا تھا۔ سب کے جسموں پر ایک ہی لبادہ تھا۔
ایک ہی سبز ہلالی لباس تھا۔ ان کا مقصد بھی ایک تھا۔ شائد خواہشیں ، امیدیں ، امنگیں اور آرزوئیں بھی ایک سی ہوں۔ وطن کی خدمت کی خواہش بھی ایک طرح سے دل میں جگمگاتی ہو گی۔ سبز پرچم میں یہ سب لاشے ایک سے تھے بس ہم نے انکو سگا یا سوتیلا بنا دیا۔
یہ روٹ پر چلنے والی ویگنوں پر دھرے لاشے بھی ہمارے بیٹے ہیں، اس زمیں کا خمیر ہے، ہمارا ہی خون ہیں۔ انکی زندگی کو اگر احترام نہیں دے سکے تو انکی موت کا احترام ضرور دیں۔
انکی شہادت کو خراج پیش کریں، انکے پیش روں کا حوصلہ بڑھائیں۔ انکو سلام کریں ، سلیوٹ پیش کریں ۔انکی قربانی پر ناز کریں ۔ سب شہیدوں کا احترام کریں۔
اور اگر اب کوئی شخص کہے کہ ہمارے پاس شہیدوں کو احترام دینے کا بجٹ نہیں تھا تو اس سے التماس کریں کہ ہاتھ میں تھامی بندوق کو کاندھے سے اتار کر کشکول کو تھام لیں۔ خدارا ۔اب کبھی بہادری، جرات اور شجاعت اور احترام کا نام نہ لیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمار مسعود کے جمعہ اکتوبر کے مزید کالم