نواز شریف بمقابلہ عمران خان

اتوار اکتوبر    |    عمار مسعود

ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک گھر میں دو چوہے رہتے تھے۔ دونوں ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے۔ ایک دوسرے کو دیکھتے ہی شیر ہو جاتے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ ایک دن گھمسان کا رن پڑا۔ دونوں اپنے اپنے حامی لے کر میدان میں آگئے۔ خونخوار نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ زہریلے دانت اور خونی پنجے باہر نکل آئے۔ ۔۔۔
خیر یہ موقع کہانیاں لکھنے کا نہیں ہے ۔ ملکی سیاسی صورت حال اس قدر سنسنی خیز ہے کہ یہ کہانی تو توقف کر سکتی ہے۔
سیاست کی شوریدہ سری نہیں رک سکتی۔ تو صاحبان اس وقت حالات کچھ یوں ہیں کہ ابھی ابھی اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون میں تحریک انصاف والوں کے ایک کارکنوں کے اجتماع پر پولیس نے ہلہ بول دیا۔ کارکنوں کو ڈنڈے مارے۔ خواتین کے ساتھ بدتمیزی کی۔

(خبر جاری ہے)

گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ اسد عمر اور شاہ محمود قریشی اس واقعے پر سراپا احتجاج بنے رہے مگر پولیس کے ڈنڈے کے آگے کسی کی شنوائی نہیں ہوئی۔ اس قبیح حکومتی فعل کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

یہ کارکن ایک شادی ہال میں پرامن تھے لیکن شائد حکام بالا کو خوش کرنے کی خاطر پولیس نے وہ چھترول شروع کی کہ جمہوریت کے نام پر یہ واقعہ ایک کلنک بن کر رہ گیا۔
شیخ رشید نے اسلام آباد میں لگی دفعہ ایک سو چوالیس سے سرعام انحراف کر دیا ۔ انہوں نے واضح طور پر کہہ دیا کہ ہم دفعہ ایک سو چوالیس کے ایک سو چوالیس ٹکڑے کر دیں گے۔شیخ صاحب اس سے پہلے بھی دھرنے میں جلا دو، گرا دو، لڑا دو کا الٹی میٹم دے چکے ہیں۔
انکے ارادے اس دفعہ بہت واضح ہیں کہ جب تک وزیر اعظم تلاشی نہیں دیں گے یہ نہیں ٹلیں گے۔
عمران خان نے پانامہ لیکس کو حکومت کے لیئے ایک تازیانہ بنا دیا ہے۔ ابھی تک حکومت اپوزیشن کی جماعت تحریک انصاف کو پانامہ لیکس پرمطمئن نہیں کر سکی۔ بقول عمران خان ان چوروں کی جان نہیں چھوڑیں گے۔ آخری لمحے تک ان کو ستائیں گے۔ رولائیں گے۔
حکومت کو پانامہ لیکس کے خوف سے اب اچانک جنوبی پنجاب کی فکر کھانے لگی۔
وزیراعظم جنوبی پنجاب کے اچانک دورے کرنے لگے۔ جن ہسپتالوں میں دہائیوں سے زندگی شفا کو ترس رہی تھیں وہاں کے دورے پر اچانک وزیر اعظم کی آواز رندھ جاتی ہے۔ آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ چہرہ دکھ سے اور گلابی ہو جاتا۔اور یکدم پچاس ہسپتالوں کا اعلان ہو جاتا ہے۔ اس موقعے پر وزیر اعظم تحریک انصاف کے لتے لینے سے باز نہیں رہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم سڑکیں بناتے رہیں گے اور کچھ لوگ سڑکیں ناپتے رہیں گے۔

نعیم الحق جیسے جید اور نامی گرامی سیاست دان کسی چینل پر حکومت کو نہیں بخش رہے۔ کرپشن کے حوالے سے ان کے کہنے کے مطابق نواز شریف وزیر اعظم بننے کے اہل نہیں رہے اور انہیں مستعفی ہو جانا چاہیے۔انہوں نے بارہا باور کروایا کہ تحریک انصاف کرپٹ وزیر ااعظم کو اتار کر ہی دم لے گی۔
خواجہ سعد رفیق نے آج اپنی لاہوری زبان کا تڑکہ چینلوں پر دکھایا۔ جس تحمل، نرم مزاجی اور صلح کل کا پیغام مسلم لیگ والے دنیا کو دیتے تھے۔
اس کے بالکل برعکس خواجہ صاحب نے تحریک انصاف کے وہ لتے لئے اور وہ نازیبا زبان استعمال کی کہ شیخ رشید جیسے نامی گرامی استاد
وں کے کانوں سے دھواں نکل گیا ہوگا۔ ایسی زبان استعمال کر کے صرف مخالفین اشتعال دلایا جا سکتا ہے۔ احتجاج کو دعوت دی جا سکتی ہے۔
شہباز شریف اچانک قصور کے اس ہسپتال کے دورے پر چلے گئے جو انکے راستے میں پڑتا تھا مگر کئی دہائیوں سے اس کی قسمت جاگی نہیں تھی۔ شہباز شریف نے حسب روایت چار پانچ لوگوں کو فی الفور معطل کیا اور انکی نااہلی پر ایک طویل تقریر کر ڈالی۔
تحریک انصاف پر تنقید کرنے سے وہ کہاں رکنے والے تھے۔انہوں نے جوش خطابت میں عوام کو مطلع کیا کہ ہمارا مقصد خدمت ہے۔ ہم سیاست کو عبادت سمجھتے ہیں۔ ہم وہ لوگ نہیں جو دھرنے دے کر حکومت کو نیک مقاصد سے روکیں۔ ہم تعمیر کے لئے آئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔
سندھ کے نو منتخب وزیر اعلی نے عمران خان کو کہا کہ آپ کو اگر نوکری چاہیے ۔ تو سندھ کرکٹ بورڈ میں نوکری دے سکتا ہوں ۔ سیاست آپ کے بس کی بات نہیں۔
پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ نے واضح کیا کہ ہم غیر جمہوری طریقے سے حکومت گرانے میں ساتھی نہیں بنیں گے۔ البتہ بلاول بھٹو نے تحریک انصاف کے کارکنوں پر حکومتی تشدد کی شدید مذمت کی اور حکومت کو جمہوریت کش قرار دے دیا۔
علامہ طاہر القادری نے پہلے تو دھرنے میں شرکت سے معذرت کر لی تھی ۔لیکن عمران خان اور شیخ رشید کے پرزور اصرار پر انہوں نے دھرنے میں شرکت کی حامی بھر لی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق انہوں نے ماڈل ٹاون کے شہیدوں کے لہو کا بدلہ اسلام آباد کے دھرنے میں لینے کی نوید سنا دی ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے ایک ایک پرہجوم جلسے سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے تحریک انصاف کو جمہوریت کا دشمن قرار دیا اور واضح اعلان کیا کہ جمہوریت کے گریبان تک بڑھنے والا ہاتھ ہم توڑ دیں۔انہوں نے تحریک انصاف پر طنز کرتے ہو ئے کہا کہ جو لوگ چوہے نہیں مار سکے وہ شیروں کا کیا بگاڑ لیں گے۔
سیاست کے میدان سے بس اتنا ہی۔ اس بدمزہ صورت حال سے بہتر ہے کہ چلیں اپنی کہانی کی طرف واپس چلتے ہیں۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک گھر میں دو چوہے رہتے تھے۔ دونوں ایک دوسرے کی جانی دشمن تھے۔ ایک دوسرے کو دیکھتے ہی شیر ہو جاتے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ ایک دن گھمسان کا رن پڑا۔ دونوں اپنے اپنے حامی لے کر میدان میں آگئے۔ خونخوار نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ زہریلے دانت اور خونی پنجے باہر نکل آئے۔ کہانی تو بہت پرانی اور طویل ہے کئی دفعہ سنائی جا چکی ہے بس جلدی سے نتیجہ سن لیں ۔ چوہے تو اپنی اپنی لڑائی لڑتے رہے مگر اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ایک دن بلی نے اچانک دونوں چوہوں کو ہڑپ کیا اور گھر کا سارا دودھ پی گئی۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمار مسعود کے اتوار اکتوبر کے مزید کالم