سونامیوں سے معذرت کے ساتھ

بدھ نومبر    |    عمر خان جوزوی

میں جونہی گھرمیں داخل ہوا۔۔ میرابھانجاتوصیف چہرہ لٹکائے سامنے کھڑے میراانتظارکررہے تھے۔۔مجھے دیکھتے ہی بول پڑے ۔۔ماموں آپ نے اچھانہیں کیا۔۔میں نے پوچھا۔۔کیاہوا۔۔؟کہنے لگے آپ نے کل پھرپی ٹی آئی کے خلاف کالم لکھا ۔۔آئندہ ایساکیاتو پھرمیں کبھی تمہارے گھرنہیں آؤں گا۔۔میں بات سنی ان سنی کرکے کمرے میں داخل ہوا۔۔ ابھی میں بیڈپرلیٹاہی تھاکہ میری کانوں میں ،،دیکھودیکھوکون آیا،،شیرکاشکاری آیا،،اورگونوازگونوازکے نعرے گونجنے لگے۔
میں نے سراٹھاکردیکھاتومیراچھوٹابیٹاجس کی عمرتقریباًچار پانچ سال ہوگی ۔۔بیڈکے ساتھ زمین پرکھیلتے ہوئے اپنی دنیامیں مگن ہوکرنعرے پریہ نعرہ لگاتاجارہاتھا۔۔بھانجے کالٹکتاچہرہ اوراپنے پھول جیسے بچے کاعمران خان کے بارے میں یہ جوش وجذبہ دیکھ کرمیں سوچوں کے سمندرمیں کھوگیا۔

(خبر جاری ہے)

۔مدعی لاکھ براچاہے توکیاہوتاہے۔۔ہوتاتووہی ہے جومنظورخداہوتاہے۔۔تحریک انصاف میں شامل ہونے والے سیاسی خانہ بدوشوں ،لوٹوں اورمفادپرستوں کے عوام کش اقدامات۔

۔ کارناموں اورغیروں کی سازشوں کے باوجودعمران خان کی محبت آج بھی واقعی بڑوں کے ساتھ بچوں کے دلوں میں بھی پیوست ہے۔۔خٹک سرکارسے مایوس لوگ بھی آج عمران خان کواپنے لئے نجات دہندہ سمجھتے ہیں ۔۔عمران خان کی عوامی مقبولیت سے توہم نے بھی کبھی انکارنہیں کیا۔۔البتہ ان کے فیصلوں ۔۔بچگانہ سیاست اورنامناسب اوربے محل اٹھائے جانے والے اقدامات سے ہمیشہ اوربرملااختلاف ضرورکیا۔۔اسی وجہ سے میرے اپنے بھانجے سمیت پی ٹی آئی کے کئی سونامی ہمیں انٹی پی ٹی آئی کی فہرست میں شمارکرتے ہیں ۔
۔جب کہ حقیقت باالکل اس کے برعکس ہے ۔۔ہم عمران خان کے اچھے اقدامات اورکارناموں کے کل بھی معترف تھے ۔۔اورآج بھی ہمیں کپتان کے ملک وقوم کے لئے دی جانے والی خدمات اورقربانیوں سے انکارنہیں ۔۔لیکن عمران خان کے غلط فیصلوں ۔۔بچگانہ سیاست اورنامناسب اوربے محل اٹھائے جانے والے اقدامات کی ہم نے کل بھی مخالفت کی ۔۔آج بھی ہم اس مخالفت پرقائم ہیں اورجب تک قلم کی چوکیداری کاشرف ہمیں حاصل ہوگا۔۔
اس وقت تک ہم نہ صرف عمران خان بلکہ ہرلیڈر۔۔سیاستدان ۔۔ایم این اے ۔۔ایم پی اے۔۔جاگیردار۔۔خان ۔۔نواب ۔۔رئیس۔۔چوہدری ۔۔وڈیرے اورسرمایہ دارکے ہربرے کام ۔۔برے کردار۔۔برے عمل اوربرے فعل کی مخالفت کافریضہ اسی طرح بلاکسی خوف وخطر سرانجام دیتے رہیں گے۔۔چنددن پہلے،، تبدیلی سے گمراہی تک،،کا کالم لکھنے پرپی ٹی آئی کے درجنوں کارکنوں نے کال اورمیسیج پرخوب دل کی بھڑاس نکالی۔۔ایک صاحب نے تویہاں تک کہاکہ آپ نے نہ صرف میرے بلکہ تحریک انصاف کے ہزاروں کارکنوں کی دل آزاری کی ۔
۔آپ کوکرپٹ نظام کے خاتمے کے لئے پی ٹی آئی کی مخالفت کی بجائے عمران خان کاساتھ دیناچاہئے ۔۔میں نے کہاہم نے کب کرپٹ نظام کے خاتمے کی مخالفت کی ہے۔۔ملک کی ترقی اورسلامتی کے لئے اگرآپ ایک قدم اٹھاتے ہیں توہم دواٹھاچکے ہوتے ہیں ۔۔عمران خان اورپی ٹی آئی کے غلط فیصلوں اوراقدامات کی مخالفت کرپٹ نظام ۔۔چوروں اورلٹیروں کی حمایت ہرگزنہیں ۔۔نہ ہی عمران خان پرتنقیدکرنے کایہ مقصدہے کہ ہم وزیراعظم نوازشریف کوکوئی فرشتہ سمجھتے ہیں ۔
۔پی ٹی آئی کارکنوں معذرت کے ساتھ ۔۔ہمارے ہاں چورچوراورمجرم مجرم ہوتاہے۔۔چاہے وہ ہماراسگابھائی اوربھانجاہی کیوں نہ ہو۔۔غلط کوصحیح ۔۔جھوٹ کوسچ ۔۔مجرم کومحرم ۔۔دن کورات اورچورکوفرشتہ کہنے کی ہماری عادت نہیں ۔۔سچ کوسچ اورحق کوحق کہناہماریمجبوری ہے اورہماری اسی مجبوری کی وجہ سے سیاسی کارکنوں۔۔درباری ملاؤں۔۔بادشاہی ثناخوانوں اور غیروں کے ساتھ ہمارے کئی اپنے بھی ہم سے ہمارے بھانجے کی طرح ہمہ وقت ناراض رہتے ہیں ۔
۔ہمارا آئینہ دکھانے پرتحریک انصاف کے ہزاروں کارکنوں کی دل آزاری توہوئی لیکن ہزارہ کی سرزمین پرایک کروڑہزارے والوں کے لیڈراوربزرگ سیاسی شخصیت جن پرآج بھی ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ جان نچھاورکرناسعادت سمجھتے ہیں کے بارے میں پی ٹی آئی کے وزیراعلیٰ پرویزخٹک کے نازیباالفاظ پرکیا۔۔؟کسی کی کوئی دل آزاری نہیں ہوئی ۔۔؟پرویزخٹک نے باباسردارحیدرزمان کے بارے میں گمراہی کے جوالفاظ استعمال کئے۔
۔ کیاان الفاظ سے کسی کے دل نہیں دکھے۔۔؟پی ٹی آئی والو ہم اس لئے آپ کودشمن اورمجرم نظرآرہے ہیں کہ جوچیزتم دوسروں کے لئے پسندکرتے ہووہی ہم آپ کے لئے بھی پسندکرتے ہیں ۔۔آپ کے وزیراعلیٰ کی طرف سے باباکے لئے گمراہی کے الفاظ کے انتخاب سے اگرکسی کی دل آزاری نہیں ہوئی توپھروہی الفاظ آپ کے وزیراعلیٰ کے لئے پسندکرنے سے آپ کی دل آزاری کیونکرہوئی۔۔سینے میں دل صرف تم نہیں رکھتے۔۔ہزارہ کی مٹی پربسنے والے ایک کروڑہزارے وال بھی اپنے سینے میں کسی مٹی ۔
۔لوہے اورپتھرنہیں گوشت کے دل رکھتے ہیں ۔۔جودوسروں کی سنگ باری ۔۔الزام تراشیوں اوران کے بڑوں کی بے ادبی کرنے سے نہ صرف دکھتے ہیں بلکہ کرچی کرچی بھی ہوتے ہیں ۔۔جنہوں نے ملک کولوٹا۔۔عوام کے حقوق پرڈاکے ڈالے۔۔سیاست کے نام پرمفادات حاصل کئے۔۔ان کوتم جومرضی کہو۔۔لیکن خدارا۔۔جوملک وقوم کیلئے اپنی توانائیاں صرف کریں ۔۔جوآپ کے لیڈرعمران خان کی طرح مظلوم اورمحکوم عوام کواپنے حقوق کے لئے لڑنے اورڈٹنے کادرس دیں ۔
۔اس کے بارے میں اگرتم اچھے الفاظ استعمال نہیں کرسکتے۔۔نیک خواہشات اورخیالات کااظہارنہیں کرسکتے تو کم ازکم اس کے خلاف اپنی زبان کوبے لگام گھوڑے کی طرح بھی نہ چھوڑو۔۔باباسردارحیدرزمان میں لاکھ غیوب سہی ۔۔لیکن ان کی یہ ایک خوبی ۔۔جواس نے عوام کواپنے حقوق کے لئے لڑنے ۔۔کٹنے اورمرنے کاجوسبق پڑھایا۔۔بے زبانوں کوجوزبان دی ۔۔لاشعوری کے سائے تلے زندگی گزارنے والوں کوجوشعوردیا۔۔وہ باباکے ان سب ناکردہ گناہ اورغیوب جوآپ اورآپ کے وزیرعلیٰ کوسیاسی دشمنی ۔
۔بغض اورکینہ پروری میں واقعی گناہ اوغیوب ہی نظرآتے ہیں پربھاری اورحاوی ہے۔باباعوام کی دلوں میں جگہ بناچکے ۔۔تم جومرضی ۔۔اس کے بارے میں رائے قائم کرو۔۔الفاظ استعمال کرو۔۔باباکی محبت تم لوگوں کے دلوں سے نہیں نکال سکتے۔۔تحریک انصاف کے سونامیو اورعمران خان کے کھلاڑیوں دوسروں پرسنگ باری کرتے ہوئے ان سے پھرپھول پھینکنے کی توقع ہرگزنہ رکھو۔۔جیساکروگے ۔۔ویساپھربھروگے۔۔سیاسی چوروں اورلٹیروں کے خلاف ایک نہیں سوباراحتجاج کرو۔
۔دھرنے دو۔۔ہم اورپوری قوم آپ کے ساتھ ہے ۔۔لیکن خداراسیاست کی آڑمیں کسی کوذاتی عناداورانتقام کانشانہ ہرگزنہ بناؤ۔۔منفی سیاست کی بجائے مثبت سیاست کوفروغ دو۔۔انتقامی سیاست نے اس ملک کی جڑیں کھوکھلیں کردی ہیں ۔۔اچھے اوربرے۔۔دوست اوردشمن۔۔چوراورایماندارمیں تمیزکرکے آگے بڑھوکیونکہ اسی میں نہ صرف ملک اورقوم بلکہ آپ کی بھی بھلائی ہے۔۔تحریک انصاف والو۔۔ اللہ نے آپ کو خیبرپختونخوامیں عوام کی خدمت کاموقع دیا۔
۔آپ کاوزیراعلیٰ اگردوسروں کی ٹانگیں کھنچنے کی بجائے اپنی کارکردگی پرتوجہ دیں ۔۔جوتوانائیاں وہ دوسروں پرالزام تراشیوں اوربیان بازیوں کے ذریعے ضائع کرتے ہیں ۔۔یہی اگروہ عوام کی فلاح وبہبودکے کاموں پرصرف کریں توکیاہی اچھاہو۔۔لیکن افسوس پرویزخٹک کومستقبل سے زیادہ اپناحال سنوارنے کی فکرہے۔۔جس کی وجہ سے وہ ہروقت دوسروں کے پیچھے لگے رہتے ہیں ۔۔خیبرپختونخواکے عوام نے اگرآپ کووٹ دے کرآپ پراعتمادکیا۔
۔توآپ کوبھی عوامی اعتمادکاپاس رکھتے ہوئے ان کے مسائل حل کرنے چاہئیں ۔اب کی بارآگرآپ نے عوامی مسائل حل نہ کئے۔۔آپ عوامی اعتمادپرپورانہ اتریں ۔۔توخودسوچیں آئندہ عوام آپ کوکس طرح ووٹ دیں گے۔۔کس طرح آپ پراعتمادکااظہارکریں گے۔۔پی ٹی آئی والودوسروں کی طرف انگلی اٹھانابہت آسان لیکن عوام کے دل جیتنابہت مشکل ہے ۔آپ کوسیاسی میدان میں اپنالوہامنوانے کے لئے ہرحال میں عوام کے دل جیتنے ہوں گے ورنہ اس کے بغیرایک نہیں سودھرنے بھی بے کارثابت ہونگے۔۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمر خان جوزوی کے منگل نومبر کے مزید کالم