فورسز ریاست کے تابع ہوتی ہیں !!

ہفتہ نومبر    |    سید بدر سعید

دہشت گرد اور محافظ میں سب سے بڑا فرق یہی ہے کہ دہشت گرد کا ایک ہی قانون ہوتا ہے کہ وہ کسی قاعدے قانون کا پابند نہیں ہے ۔ اس کے برعکس محافظ ریاستی قوانین کا پابند ہوتا ہے ۔اسے اپنا فرض ادا کرتے ہوئے قانون کی پابندی کرنا ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر شدت پسندوں کی جانب سے پاک فوج کے جوانوں کے سر کاٹ کر ان سے فٹبال کھیلنے کی خبریں ریکارڈ کا حصہ بن چکی ہیں ۔ اس کے باوجود جب پاک فوج کی جانب سے ان کے خلاف کارروائی کی گئی تو فوج نے صرف اپنا فرض ادا کیا ۔
ذاتی انتقام اس میں کہیں نہ تھا ۔ ایسی کوئی خبر کبھی سامنے نہیں آئی جس میں کہا گیا ہو کہ پاک فوج نے بھی اسی بربریت کا مظاہرہ کیا جس کا سامنا ہمارے سپاہیوں کو کرنا پڑا تھا ۔ دہشت گردوں کے خلاف بڑی کارروائیاں ہوئیں ، انہیں گرفتار بھی کیا گیا لیکن گرفتار ہونے والے دہشت گردوں کو فوجی یا سول عدالتوں کے حوالے کر دیا گیا ۔

(خبر جاری ہے)

کسی فوجی نے یہ نہیں کہا کہ اس کے ساتھی کا سر کاٹنے والوں کو وہ بھی یہی سزا دے گا ۔

اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ فوج ایک سسٹم کے تحت کام کرتی ہے اوراسی لئے پاکستانیوں کی محبتیں سمیٹتی ہے ۔
پاک فوج ملکی سرحدوں کی امین ہے لیکن ملک کے اندر عوام کی حفاظت کے لئے مزید کئی ادارے بھی متحرک ہیں ۔ متعدد خفیہ ادارے ایسے ہیں جن کے گمنام جانباز عام شہریوں کی حفاظت کے لئے جان کی بازی تک لگا دیتے ہیں لیکن ان کی قربانیاں منظر عام پر نہیں آتیں ۔ ہماری صفوں میں موجود ملک دشمن عناصر انہی کی اطلاعات پر گرفتار ہوتے ہیں ۔
فوج کے بعددوسری بڑی مسلح فورس پولیس ہے ۔ فوج ملکی سرحدوں کی امین ہے لیکن آبادی میں پولیس ہی عام شہری کے تحفظ کے لئے متحرک ہوتی ہے ۔ ہمیں کوئی مسئلہ ہو تو ہم فورا 15 پر ہی کال کرتے ہیں ۔کہیں کوئی دھرنا ہو ، جلسہ جلوس ہو ، کوئی جرم ہو یا پھر کہیں سکیورٹی کی ضرورت ہو تو پولیس کو ہی بلایا جاتا ہے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پولیس کا اصل فرض عام شہری کی حفاظت ہے ۔ اس میں بھی دو رائے نہیں کہ پولیس کو سیاسی اثر رسوخ سے آزاد کئے بنا بہتر کارکردگی کی امید نہیں کی جا سکتی لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پولیس بے لگام ہے یا کسی قاعدے قانون کی پابند ہے ؟ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پولیس قوانین کی پابند ہے تو ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ پولیس اہلکاروں کے لئے سیاسی وابستگی ، ذاتی پسند نا پسند اور خود ساختہ فیصلے جرم تصور کئے جاتے ہیں ۔
یہ ایسے ہی ہے جیسے فوج میں اگر کوئی حکم جاری ہو جائے تو سپاہی کے لئے اپنی سوچ یا ذاتی پسند نا پسند کی بجائے اس حکم کی تعمیل لازم ہوتی ہے اور جو سپاہی ایسا نہ کرے اس کو کورٹ مارشل کے ذریعے سخت سزا سنائی جاتی ہے ۔ بالکل اسی طرح پولیس میں بھی حکم نہ ماننے کے صورت میں محکمانہ جزا وسزا کا نظام موجود ہے ۔
گذشتہ دنوں اسلام آباد دھرنے کی کال کے بعد پولیس اہلکار بھی اسی طرح احکامات کے پابند تھے ۔
پنجاب پولیس اگر عمران خان یا کسی غیر متعلقہ وزیر کی بات مانتی تو یہ یقینا سیاسی عمل دخل کہلاتا لیکن اگروزارت قانون کی جانب سے احکامات دیئے گئے تھے تو پھر تسلیم کرنا پڑے گا کہ پولیس کو احکامات کی پابندی کرنا تھی۔ اسلام آباد میں پولیس نے رکاوٹیں لگا رکھی تھیں ۔ لوگوں کو بتایا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 نافذ ہے اور اس راستے پر آگے جانے کی اجازت نہیں ہے ۔ اس کے باوجود جس طرح پولیس پر حملے کئے گئے وہ بھی ہمارے سامنے تھے ۔
بدقسمتی سے ہمارے یہاں ہر شخص اپنا قانون نافذ کرنے پر تل جاتا ہے ۔
اگر ہم مہذب معاشروں کو دیکھیں تو وہاں قانون کی پابندی کی جاتی ہے ۔ پولیس بھی احکامات کی پابند ہوتی ہے ۔ اگر پولیس کو یہ حکم دیا جائے کہ اس نے کسی راستے پر سے کسی کو گزرنے نہیں دینا یا کسی کو گرفتار کرنا ہے تو پولیس اس حکم کے خلاف ذاتی خواہش کے تابع نہیں ہو سکتی ۔ پولیس نہ تو وکیل ہے اور نہ ہی عدالت ہے ۔ کسی کی گرفتاری کا فیصلہ درست تھا یا غلط، یہ عدالت نے بتانا ہے ۔
اسی طرح کوئی راستہ بند کرنا یا کسی کو کہیں سے گزرنے سے روکنا درست ہے یا غلط اس کا فیصلہ بھی پولیس نے ہرگز نہیں کرنا ہوتا ۔ اگر کسی کو اسلام آباد لاک ڈاؤن کرنے ، موٹروے بند کرنے یا کنٹینر لگانے پر اختلاف ہو تو اسے عدالت میں جانا ہو گا ۔ یہ عدالت کو دیکھنا ہے کہ ایسا فیصلہ کرنے والوں کو سزا دینی ہے یا جزا ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے وزیر اعلی کے پی کے کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ چاہتے تو مقابلے کے لئے کے پی کے پولیس کو لا سکتے تھے لیکن انہوں نے محاذ آرائی سے گریز کیا ۔
یقینا ان کا فیصلہ قابل تحسین ہے لیکن اس سے یہ بھی تو واضح ہوتا ہے کہ کے پی کے پولیس بھی حکم ملنے پر میدان میں آ سکتی تھی ۔ اس میں مجرم کے پی کے پولیس تو ہرگز نہیں ہو سکتی۔ اب عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہو گاکہ کیا ہمارے معاشرے میں ایسے احتجاج کی اجازت دی جا سکتی ہے جس سے دیگر شہریوں کے حقوق مجروح ہوں ۔ اگر ایسی اجازت نہیں دی جا سکتی تو پھر پولیس کو ہی ایسا احتجاج روکنا پڑے گا جس میں لاک ڈاؤن کر کے شہریوں کو کئی کئی دن تک محصور کئے جانے کا اعلان کیا گیا ہو۔

ہمارے کہنے کا مقصد صرف اتنا ہی ہے کہ جو ہوا اس کے ذمہ دار سیاسی عناصر تو ہو سکتے ہیں لیکن حکم ملنے پر پولیس حکم کے تابع ہوتی ہے ۔ کل اگر تحریک انصاف کی حکومت آ جائے اور مسلم لیگ کا راستہ روکنے کا حکم دیا جائے تب یہی اہلکار مسلم لیگ ن کے راہنماؤں کو بھی روکتے نظر آئیں گے ۔ نواز شریف اٹک جیل میں لیجائے گئے تو انہیں بھیجنے والا غلط ہو سکتا ہے لیکن لیجانے والے سٹیٹ کے حکم کے تابع تھے ۔وکلا تحریک میں یہی پولیس مسلم لیگ ن کا راستہ بھی روک رہی تھی ۔
اس میں دو رائے نہیں کہ ایسا حکم غلط ہو سکتا ہے اور ایسا حکم دینے والے کے خلاف عدالتی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے لیکن اگر کوئی بھی فورس حکم کی پابندی کرتی ہے تو اسے غلط نہیں کہا جا سکتا۔ اگر ہماری یہ فورسسز حکم اور سسٹم سے باہر نکل جائیں اور میرے یا آپ کے کہنے پر فیصلے کرنے لگیں تو ملک میں انارکی کے سوا کچھ نہ رہے گا ۔ ہمیں تسلیم کرنا ہو گا کہ پولیس میری یا آپ کی خواہش کی بجائے ریاست کے تابع ہوتی ہے ۔

اس بارپنجاب پولیس کو حکم ملا تھا کہ اسلام آباد کو لاک ڈاؤن ہونے سے بچانے کے لئے لوگوں کو وہاں پہنچنے سے روکنا ہے ۔ شیخ رشید نعرہ لگارہے تھے کہ دفعہ 144 کے 144 ٹکڑے کر دیں گے ۔ پرویز خٹک اس حکم کو بزور طاقت ختم کرنے کے لئے کرین تک ساتھ لے آئے ۔ ایسے موقع پر آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا رات 11 بجے خود برہان انٹرچینج پر چلے گئے اورپھر پرویز خٹک کو وااپس جانا پڑا ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے روز صورت حال مختلف تھی ۔
عام طور پر آئی جی اس طرح فیلڈ میں نہیں جاتے ۔ وہ اپنے دفاتر سے صورت حال کو مانیٹر کرتے ہیں لیکن آئی جی پنجاب کا رات گئے تک یوں متحرک نظر آناایک فورس کے سربراہ کی حیثیت سے قابل تعریف ہے بالکل ویسے ہی جیسے جنرل راحیل شریف کے اگلے مورچوں میں جانے پر ہم ان کی تعریف کرتے ہیں ۔ اگر ہم ان فورسسز کو سسٹم اور کمانڈ کی بجائے ذاتی خواہشات اور جذبات کے تابع لانے کی خواہش کریں گے تو یہ بالکل ویسی ہی خواہش ہے جیسی طالبان کرتے ہیں ۔
ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ فوج اپنے لوگوں پر حملہ کر رہی ہے لیکن وقت نے یہ ثابت کیا کہ ملک وقوم کو بچانے کے لئے فورسسز کو ہر ایسی طاقت کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے جو عام شہریوں کے حقوق سلب کر کے انہیں محصور کرنا چاہتی ہوں ۔اگر پولیس نے ہماری سوچ کے تابع چلنا ہے تو پھر ہم میں ہی چور اور ڈاکو بھی بستے ہیں ۔فیصلہ کیجئے ۔اپنے ضمیر سے پوچھیئے ، پولیس ریاست کے تابع رہے یا پھر ہر اس شہری کا حکم مانے جو خود کو درست سمجھتا ہو ، چاہے وہ ڈاکو ہو یا پھر قاتل ۔ قتل کا کوئی نہ کوئی جواز تو قاتل بھی رکھتا ہے ۔ یہ پولیس کا کام ہے کہ قانون توڑنے پر اس کے خلاف کارروائی کرے۔ قاتل کا جواز پولیس کو نہیں عدالت کو سننا ہے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

سید بدر سعید کے ہفتہ نومبر کے مزید کالم