ہٹو، پرے ہٹو۔شہنشاہ آنے والا ہے

پیر نومبر    |    عمار مسعود

پرے ہٹو، پرے ہٹو۔ ہمار ا شہنشاہ آنے والا ہے۔ تین نومبر کو پانامہ لیکس کے کیس کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ سے نکلتے ہوئے تحریک انصاف کے جید رہنما نعیم الحق کے یہ الفاظ جمہوریت کے سب نعروں پر بھاری تھے۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ سپریم کورٹ کے باہر تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈران کی پریس ٹاک کے لئے ایک جگہ مخصوص تھی۔ جگہ تنگ اور لوگ زیادہ تھے۔ نعیم الحق صاحب جنکی عمران خان کے لئے خدمات ان گنت ہیں انہوں نے سب سے پہلے ڈائس کے بائیں جانب جگہ سنبھال لی۔
اس لئے کہ آج کل پارٹی انکے اشاروں پر چلتی ہے ۔ وہی ایک زیرک سیاستدان ہیں جو ہر پارٹی رہنما کی حیثیت اور مقام کا تعین کرتے ہیں۔ پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی رہنما خرم گنڈا پور بھی میڈیا سے گفتگو میں شامل ہونا چاہتے تھے۔

(خبر جاری ہے)

نعیم الحق نے اس موقع پر اپنا استحقاق استعمال کیا اور خرم گنڈا پور کو اپنے ہاتھ سے دھکیل کر باآواز بلند نعرہ لگا یاکہ پرے ہٹو ، پرے ہٹو ہمار شہنشاہ آنے والا ہے۔خرم گنڈا پور اس نازیبا حرکت پر سیخ پا ہو گئے اور جواب میں نعیم الحق کی شان میں وہ قلابے ملائے کہ چینلوں پر تو صرف بیپ، بیپ کی آواز سنائی دی مگر چہرے کے تاثرات نے گفتگو کی شدت کا راز ہر چینل پر کھول دیا۔


خرم گنڈا پور کا تعلق اس جماعت سے ہے جسکی مدد سے ایک سو چھبیس دن کا دھرنا سجایا گیا تھا۔ ان کا تعلق اسی جماعت سے ہے جسکے حامی شدید سردی میں ٹھٹھرتے مگراایک سو چھبیس دن اپنی جگہ سے نہیں ہلے۔ ان کا تعلق اسی جماعت سے ہے جس کے قائد طاہر القادری کو کنٹینر پر جا کر گلے لگانا عمران خان نے اپنے لئے اعزاز سمجھا ۔ ان کا تعلق اسی جماعت سے ہے کہ جنکے لاک ڈاون میں شمولیت کی ہر ممکن منت سماجت کی گئی۔
انکا تعلق اسی جماعت سے ہے جس کے قائد کے لاک ڈاوان میں آنے کی خبر چینلوں پر بریکنگ نیوز بنی رہی۔ انکا تعلق اسی جماعت سے جس کے قائد کے ساتھ مل کر لندن پلان بنا تھا۔ شخصی سیاست اس قدر خوفناک چیز ہے کہ جیسے ہی کام ختم ہوا، لاک ڈاون ناکام ہوا ، جیسے ہے معاملے کی باگ ڈورسپریم کورٹ نے سنبھالی اب قریبی حلیفوں کو دفع دور کرنے کا وقت آگیا ۔ انکو شہنشاہ کی دہشت سے ڈرانے کا وقت آگیا ۔ انکو انکی اوقات یاد دلانے کا وقت آگیا ۔

گزشتہ چند دنو ں میں جو کچھ اسلام آباد میں لاک ڈاون کے نام پر ہوا ہے اس نے تحریک انصاف کی جمہوریت پسندی کی قلعی کھل گئی ۔ خیر یہ معاملہ تو اس وقت بھی طے ہو گیا تھا۔ جب گذشتہ دھرنے میں بار بار ایمپائر کی انگلی کا ڈراوا دیا جاتا تھا۔ اس دفعہ بھی صورت حال مختلف نہیں تھی۔ نادیدہ قوتوں کی مدد کا امکان دہرایا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ نادیدہ قوتیں نادیدہ ہی رہیں۔ نہ انہوں نے اس جمہوریت کش لاک ڈاون کی پذیرائی کی، نہ ایمپائر کی انگشت میں کوئی جنبش ہوئی، نہ مارشل لاء کا کوئی امکان پیدا ہوا ، نہ اداروں نے جمہوری عمل میں مداخلت کی۔
البتہ یہ ضرور ہوا کہ کچھ باتیں کھل کر سامنے آگئیں۔ لوگوں نے دیکھا کہ بنی گالہ میں کتے تو گرم کمروں میں سوئے مگر کارکن باہر سردی میں ٹھٹھرتے رہے۔ جس لیڈر کی خاطر وہ جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلے تھے ان کے گھر میں بھی داخلے کی اجازت نہیں ملی۔
لوگوں نے یہ بھی دیکھا کہ عمران کان کے ایک سیکیورٹی گارڈ نے ایک کارکن کی آواز بلند ہونے پر سرعام دھنائی کر دی۔ لوگوں نے یہ بھی دیکھا کہ کے تما م لیڈر بنی گالہ کی ریاست میں قید رہے کسی نے اٹھ کر خود لوگوں کو اکھٹا کرنے کی کوشش نہیں کی۔
شاہ محمود قریشی کے مرید، جہانگیر ترین کے شوگر ملوں کے ورکر، علیم خان کے کارندے کہیں نظر نہیں آئے نہ انکے لیڈروں نے میڈیا کے سامنے پریس ٹاک کے سوا کوئی کام کیا۔ لوگوں نے یہ بھی دیکھا کہ کارکن مار کھاتے رہے مگر کسی نے مارنے والے کا ہاتھ نہیں پکڑا، کسی نے گرفتار کارکنوں کو تھانوں سے نہیں چھڑوایا۔ یقین مانیئے۔ عمران خان اور دیگر لیڈران نظر بند نہیں تھے۔ یہ چاہتے توبنی گالا سے نکل سکتے تھے۔
مگر اس میں کرنی پڑتی ہے کچھ محنت زیادہ۔
جمہوریت کا نام لیوا اس جماعت نے اسی لاک ڈاون میں ایک صوبے کو دوسرے صوبے سے بغاوت پر اکسایا۔ وفاق اور کے پی کے کی پولیس آمنے سامنے آگئیں۔ شیلنگ پتھراو اور لاٹھی چارج ہونے لگا۔ بھلا ہو چوہدری نثار کا جنہوں نے کسی پولیس والے کو ہتھیار ہی نہیں دیئے۔ورنہ پولیس کی وردی میں کون کسے گولی مار دیتا ہے اس کا فیصلہ اس ملک میں کبھی نہیں ہوا۔عمران خان نے جب یوم تشکر کے موقع پر پرویز خٹک کو گلے لگایا اور انکی بہادری کی تعریف کی تو یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ اس عمل کی تعریف کرتے ہیں کہ صوبوں کے درمیان نفرتیں بڑھیں۔
وہ اس بات پر تبسم فرماتے ہیں کہ کارکن شہیدہوں، وہ اس بات پر اثبات میں سر ہلاتے ہیں کہ وزیر اعلی اعلان کر دے کہ وزیر اعظم میرے صوبے میں نہیں آ سکتے۔ وہ اس با ت کی تائید کرتے ہیں کہ نفرت کا بیج صوبوں کی سرزمین میں بو دیا جائے۔ وہ اس بات کو لائق تحسین سمجھتے ہیں کہ وزیر اعلی جلسے میں کہے کہ ہم کوئی اور نعرہ بھی لگا سکتے ہیں۔
ایک طرف یہ آمرانہ ، جاہلانہ اور سفاکانہ کھیل جاری تھا او دوسری طرف نام لیا جا رہا تھا جمہوریت کا، مثالیں دی جا رہی تھیں یورپ اور امریکہ کی۔
رونا رویا جا رہا تھا برطانوی طرز حکومت کا۔ ماتم کیا جا رہا تھاغیر جمہوری اقدار کا۔ دنیا کے آئین اور قانون کے قائدے بتائے جا رہے تھے ۔انسانی حقوق کا نعرہ لگایا جا رہا تھا۔ آزادی اظہار پر بندشوں کا غم منایا جا رہا تھا۔ اس جماعت کے لئے، اس شخص کے لئے جو اپنے سے مخالفت کرنے والوں کو سرعام درباری ، پٹواری اور لفافہ کہتا ہے ۔ اورتماشہ یہ ہے کہ اپنے حرم کے محافظوں کو حکم ہے کہ میری آمد پرا علان کیا جائے۔پرے ہٹو، پرے ہٹو۔ ہمار ا شہنشاہ آنے والا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمار مسعود کے اتوار نومبر کے مزید کالم