چوہے اور جیو نیوز

اتوار نومبر    |    نبی بیگ یونس

اکتوبر نومبر 2015میں جیو نیوز اسلام آباد کے آفس میں چوہوں کی برمار ہوئی۔ اُن دنوں میں بھی وہاں صحافت کے پیشہ وارانہ فرائض انجام دے رہا تھا۔ ان چوہوں نے زیادہ تر عمارت کی چوتھی (آخری منزل)کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا جہاں کیپٹل ٹاک، اور لائیو وِد طلت حسین کے آفسز اور اسٹوڈیوز قائم ہیں۔ انہوں نے چوتھی منزل کے فرش کو اپنا مسکن بنارکھا تھا جہاں یہ موج مستی میں مگن رہتے تھے۔ یہ چھپن چھپائی بھی کھیلتے تھے اور ان کے کھیل کود اور دوڑیں ہم بخوبی محسوس کرتے تھے۔
انہوں نے کچھ مخصوص ٹریک رکھے تھے جہاں سے یہ فرش سے نیچے چوتھی منزل پر آیاکرتے تھے۔ کیونکہ یہاں انہیں کھانے پینے کیلئے اچھی خوراک ملتی تھی۔انہیں جیونیوز کے پروگراموں میں شرکت کیلئے آنے والے مہمانوں کی توازع کیلئے تہذیب بیکری سے آئے بسکٹ اور کیک بھی کھانے کو ملتے تھے۔

(خبر جاری ہے)

انہیں بخوبی علم تھا کہ کھانے پینے کی بچی چیزیں کس جگہ ہوتی تھیں۔ یہ چوہے بڑے خونخوار قسم کے تھے اور مختلف سائزوں میں تھے۔

کچھ نے مونچھیں رکھی تھیں اور کچھ کلین شیو تھے۔ ہم سب اِن سے تنگ تھے، بار بار انتظامیہ کو بھی شکائت کی لیکن کوئی حل نہیں نکلتا تھا۔ جیو نیوز کے سینئر اینکر پرسن حامد میر صاحب نے تنگ آکر انتظامیہ کو ای میل میں ان خوفناک چوہوں کے بارے میں شکایت کی۔ یہ چوہے رات کو حامد میر صاحب کی ریوالونگ چیئر کے مزے بھی لیتے تھے۔بالآخر انتظامیہ حرکت میں آئی اور اِن چوہوں کا قلہ قمہ کرنے کی ٹھان لی۔ ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں اور اِن کے لئے ایک ایسی زہر تجویز کی گئی جس کے قریب گزرتے ہوئے بھی یہ مَر جائیں ۔
اِس طرح اِن ناسور زدہ چوہوں سے نجات مل گئی اور ہم سب نے سکھ کا سانس لیا۔
رواں سال 2016کے اکتوبر نومبر میں بھی چوہوں نے پورے اسلام آباد کو اپنی لپیٹ میں لینے کا فیصلہ کیا اور اعلان کیا کہ وہ ملک کے مختلف حصوں سے آکر وفاقی دارلحکومت میں کئی دن تک پڑاوٴ ڈالیں گے۔ اِن چوہوں میں بہت وارائٹی تھی، کچھ داڑھی والے تھے، کچھ مونچھوں والے، کچھ لمبے بالوں والے ۔۔۔ یہ چوہے شراب، کباب اور دیگر سرگرمیوں میں خوش رہتے ہیں۔
اتنا ہی نہیں یہ ناچ گانا بھی بہت پسند کرتے ہیں،اور موج مستی منانا اِن کی فطرت میں شامل ہے۔ یہ سب چیزیں انہیں اسلام آبادمیں پڑاوٴکے دوران میسر ہوجاتیں ۔ اِن کا منصوبہ تھا کہ وہ دارلحکومت کو لاک ڈاوٴن کریں گے جس سے حکومت کا تخت اُلٹ جائے اور نئی حکومت میں اُنکی کوئی جگہ بنے۔ روزانہ رالپنڈی سے اسلام آباد آتے ہوئے کچھ چوہے مجھ سے بھی استفسار کرتے تھے کہ کہیں پولیس کا ناکہ تو نہیں ؟ میں انہیں کہتا تھا کہ انقلاب لانے کیلئے تمہیں شیر بننا پڑے گا، شیر نہ بن سکو تو کم سے کم شیروں والا حلیہ بناوٴ وہ ایک دوسرے کی طرف مسکرا کر آگے بڑھتے تھے۔
پورے ملک کے عوام کافی پریشان تھے اگر یہ چوہے اسلام آباد کو بند کرنے میں کامیاب ہوئے تو ملک کیلئے اچھا نہیں ہوگا۔ اِس سے نہ صرف ملک کی بدنامی ہوگی بلکہ وفاقی دارلحکومت کا نظام بھی دَرہم برہم ہوجائے گا۔
چونکہ چوہے بزدلی کی علامت ہیں اِس لیے اِن چوہوں نے بالآخر اپنا فیصلہ واپس لیا اور وطن عزیز کو پریشانی سے چھٹکارا ملا۔ چوہوں نے اپنا فیصلہ کیوں واپس لیا۔ وہ خود ڈر گئے، کسی نے اُن کو ڈرایا، یا کسی نے انہیں کوئی اور لالچ دی یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن ہم اِن چوہوں کے بھی شکر گزار ہیں کہ جیسے تیسے انہوں نے اپنا پروگرام ترک کردیا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

نبی بیگ یونس کے اتوار نومبر کے مزید کالم