تعلیمی ادارے یاسبزی منڈی۔۔؟

بدھ نومبر    |    عمر خان جوزوی

یہ تعلیم میں نے بھی حاصل کی ۔۔ انگریزی، اردو، سائنس، مطالعہ پاکستان، ریاضی اور اسلامیات وغیرہ کی کتابیں بھی میں نے پڑھیں۔۔ سرکاری سکولوں کے ساتھ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو مادر علی کا اعزاز بھی میں نے بخشا۔۔۔ لیکن پلے گروپ سے لے کر ایف اے اور ایم اے تک ایسا ظلم تو میں نے کہیں نہیں دیکھا۔۔ سر آپ دیکھیں یہ ظلم نہیں ۔۔؟ یہ کہتے ہوئے نوجوان نے اپنے بچوں کے سارے فیس کارڈز میرے سامنے رکھ دئیے۔
۔ سران میں کوئی ایک کارڈ بھی ایزی لوڈ سے خالی نہیں ۔۔ میں نے پوچھا جوان یہ ایزی لوڈ کیا ہے ۔۔؟ یہ تو موبائل نہیں۔۔ سکول کارڈ ہے اور سکول کارڈوں سے بھلا ایزی لوڈ کا کیا تعلق ۔۔؟ نوجوان ۔۔ سر جو چیز اضافی ہو۔۔ اسے آج کل عرف عام میں ایزی لوڈ کہا جاتا ہے اور یہ اصطلاح و طریقہ اے این پی دور حکومت میں عوام کو بولنے کیلئے متعارف و ایجاد ہوا ۔

(خبر جاری ہے)

۔ شائد آپ کو پتہ نہیں ۔۔ سر آپ ان کارڈز کو غور سے دیکھیں۔

۔۔ آپ ایک منٹ میں ایزی لوڈ کی ساری کہانی سمجھ جائیں گے ۔۔ میں کارڈز ہاتھ میں اٹھائے جنوری اور فروری سے ہوتے ہوئے مئی اور جون کا دیدار کرنے کے بعد نومبر اور دسمبر تک گیا ۔۔۔ کوئی کارڈ ٹیوشن فیس اور امتحانی فیس سے خالی نہیں تھا ۔۔ ہر مہینے ساٹھ، اسی سے 120 اور ڈیڑھ سو روپے اضافی ہرکارڈمیں ضرور لگے تھے ۔۔ سر یہ دیکھیں ۔۔ یہ میرے سب سے چھوٹے بچے عبدالرحمن جو پلے گروپ میں پڑھتا ہے ان کا کارڈ ہے ۔
۔ 1200 روپے اس کی فیس ہے ۔۔ آپ دیکھیں ۔۔ اکثر فیس کارڈوں میں ان کی فیس 1260 سے لے کر 1320 روپے آیا ہے۔۔ سر کیا یہ ٹیوشن اور امتحان تعلیم سے ہٹ کے کوئی بلا ہے ۔۔؟ یا یہ دونوں سکول سے باہر کہیں رہتے ہیں ۔۔۔؟ بچوں کو داخل کرتے وقت تو یہ سکول والے کہتے ہیں کہ یہ فائنل فیس ہے۔۔ جو پورے سال تک یہی ہوگی۔۔ اس میں ایک روپے کا بھی اضافہ نہیں ہوگا۔ ۔ پھر آپ خود دیکھیں ۔۔ سر 50 سے دو سو تک ہر ماہ ٹیوشن اور امتحانی چارجز کے نام پر یہ ایزی لوڈ ظالمانہ اضافہ نہیں تو اور کیا ہے ۔
۔؟ یہ سن کر میں سمجھ گیا کہ نوجوان کو اصل تکلیف اور مسئلہ کیا ہے ۔۔؟میں نے کہانوجوان یہ کام صرف آپ کے ساتھ نہیں ہورہا۔۔آج پورے ملک میں تمام پرائیوٹ تعلیمی اداروں کے اندرٹیوشن فیس ۔۔امتحانی فیس۔۔قلم فیس ۔۔کتاب فیس۔۔ڈائری فیس۔۔لنچ فیس اورٹورفیس وغیرہ کے نام پریہ لوٹ مارجسے آپ ایزی لوڈکانام دیتے ہیں کایہ کھیل دھڑلے سے جاری ہے۔۔نجی تعلیمی اداروں کے بے لگام مالکان بڑے طریقے سے عوام کوتعلیم کے نام پرلوٹ رہے ہیں ۔
۔لوٹ مارکی اسی وجہ سے آج ان نجی اداروں پر تعلیمی مراکزکاگمان کم اورسبزی منڈی کایقین زیادہ ہوتاہے۔۔پہلے صرف سبزی وفروٹ منڈیوں میں اتارچڑھاؤکارجحان ہوتاتھا۔۔منڈیوں میں ہی نرخیں کم اورزیادہ ہوتیں تھیں ۔۔لیکن افسوس حکمرانوں کی نااہلی۔۔غفلت ولاپرواہی اورتعلیمی افسران کی عدم توجہی کے باعث اب مہینے میں ایک نہیں کئی باربلکہ باربار نرخوں میں اضافے کارواج نجی تعلیمی اداروں میں بھی عام ہوچکاہے۔
۔نجی تعلیمی اداروں کے مالکان نے آج تعلیم کومنافع بخش کاروباربنالیاہے۔۔آج اس ملک میں جوشخص کسی کام کانہ ہو۔۔وہ فوراً۔۔سکول ۔۔کالج اوریونیورسٹی کھول کراپناکاروبارشروع کردیتاہے۔۔سیاست کی طرح ۔۔تعلیم پربھی مفادپرستوں نے قبضہ جمالیاہے۔۔ظالم اوربے حس حکمران سرکاری تعلیمی اداروں کے حالات پرتوجہ دینے کی بجائے خودنجی تعلیمی اداروں کے مالک بن کرلوٹ مارمیں مصروف ہیں ۔۔نوجوان تم ٹھیک کہتے ہو۔
۔یہ تعلیم آپ کی طرح ہم نے بھی حاصل کی ۔۔ انگریزی، اردو، سائنس، مطالعہ پاکستان، ریاضی اور اسلامیات وغیرہ کی یہ کتابیں ہماری نظروں سے بھی گزریں ۔۔کئی سکولوں کادیداربھی ہم نے کیا۔۔لیکن اف توبہ ۔۔اتنی کتابیں جوآج کل نرسری اورپریپ کے بچے اپنے ناتواں کندھوں پراٹھاتے ہیں ۔۔اتنی کتابیں توکندھوں پراٹھانادورہم نے پورے تعلیمی سفرمیں دیکھیں بھی نہیں ۔۔آج اگردیکھاجائے توبچے کاوزن کم ہوتاہے جبکہ اس کے کندھوں پرلادنے والی کتابیں اس کے وزن سے کئی گنا زیادہ ۔
۔پھربھی بچے سے اگرکوئی سوال پوچھوتومایوسی کے سواکوئی جواب نہیں ملتا۔۔پیسے کی حرص نے آج تعلیم کواذہان میں منتقل ہونے کی بجائے کتابوں میں بندکردیاہے۔۔آج بچے کچھ سیکھنے اورپڑھنے کی بجائے کتابوں کازیادہ سے زیادہ وزن اٹھانے کواپنامقصدسمجھ رہے ہیں ۔۔تعلیمی ادارے بھی نرخ بڑھانے کے چکرمیں مقصدسے دوربہت دورنکل چکے ہیں ۔۔آج ہرگلی۔۔محلے۔۔شہراوردیہات میں سکول توہے مگرپڑھنے کاہنراورشوق نہیں ۔
۔نہ استادکویہ پتہ کہ میں نے کیاکرناہے۔۔؟نہ بچوں کویہ علم کہ ہمارا سکول جانے کامقصدکیا۔۔؟جدیددورکاسورج چڑھنے سے پہلے تواتنے سکول بھی نہیں تھے۔۔لیکن اس وقت تعلیم حاصل کرنے کا ایک شوق تھا۔۔جس کی وجہ سے سکول جانے والے بیکارکم اورکام کے زیادہ نکلتے تھے۔۔آج تعلیم کے نام پرزندگی بھرکاسرمایہ اورجمع پونجی لٹانے کے بعدبھی خالی ڈگریوں کے سواہاتھ کچھ نہیں آتا۔۔غریب والدین اپنے سینوں میں سہانے خواب سجاکراس امیدکے ساتھ زندگی بھرکی جمع پونجی صرف اس لئے بچوں کی تعلیم پرخرچ کرتے ہیں کہ لکھ پڑھ کروہ کچھ بن جائیں گے لیکن اس وقت ان کے سارے خواب چکناچوراوران کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل جاتی ہے جب ان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ بچے ڈگریاں سینے کے ساتھ لگانے کے سواپھرکچھ نہیں کرپاتے۔
۔ماناکہ تعلیم کے فروغ میں نجی تعلیمی اداروں کااہم کردارہے لیکن انتہائی معذرت کے ساتھ خودنمائی اورلوٹ مارمیں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے چکرمیں اکثرنجی تعلیمی اداروں نے تعلیم کانام اورحلیہ بگاڑکے رکھ دیاہے۔۔اسی وجہ سے آج یہ تعلیمی ادارے کم اورسبزی منڈی کے شاپس زیادہ نظرآتے ہیں ۔۔تعلیم کے نام پرغریب عوام کولوٹناکوئی انصاف نہیں ۔۔حکومت کوتعلیم کے نام پرکاروبارکرنے والوں چاہے وہ منتخب ممبران اسمبلی ہوں۔
۔ضلعی وتحصیل۔۔یونین کونسل اورویلج کونسل کے ناظمین ۔۔سرمایہ دار۔۔جاگیردار۔۔یاپھرخان اورنواب سب کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرنی چاہئے۔۔اب بھی وقت ہے کہ چیک اینڈبیلنس کامئوثرنظام نافذکرکے لوٹ ماراورایزی لوڈکایہ گھناؤناکھیل ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بندکیاجائے۔۔اب بھی اگرحکمرانوں نے ہوش کے ناخن نہ لئے اوراپنوں کوبچانے۔۔چہیتے ممبران اسمبلی۔۔ناظمین ۔۔چوہدریوں۔۔وڈیروں اوررشتہ داروں کوکروڑپتی وارب پتی بنانے کی خواہش میں قوم اورتعلیم کے ان دشمنوں پرہاتھ نہ ڈالاتو پھرکچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا۔
۔وقت بڑی تیزی کے ساتھ گزررہاہے ۔۔ہمارے یہی بچے ہی ہمارامستقبل ہے۔۔ان کی اگرصحیح تعلیم وتربیت نہیں ہوگی ۔۔تویہ ملک کیسے ترقی کرے گا۔۔؟ہم کیسے ا قوام عالم میں سراٹھاکرچل سکیں گے۔۔؟روشن کل کے لئے ہمیں اپنی آنکھیں کھول کراپنے اس قیمتی سرمائے کوضائع ہونے سے ہرحال میں بچاناہوگا۔۔ورنہ پھرہاتھ ملنے اورنظریں جھکانے کے سواہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہوگا۔۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمر خان جوزوی کے منگل نومبر کے مزید کالم