جوڑی سلامت

پیر نومبر    |    دانش حسین

وقت بدل گیا۔ دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ مقابلے کا دور ہے اور دوڑ کا مقابلہ ہے۔ ہر کوئی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں ہے۔ اور مفادات کی جنگ ہر کوئی لڑتا ہے۔ لیکن ہمارے یہاں یہ جنگ صرف سڑکوں پر ہی نظر آتی ہے۔ جہاں ہر وقت نفسا نفسی کا عالم ہے۔ ہر کوئی جلدی میں ہے۔ کہ جیسے اگر تھوڑی بھی اور تاخیر ہوگئی تو جانے کیا قیامت برپا ہو جائے۔ حالانکہ اُن میں سے اکثر "جسٹ آؤٹنگ" کر رہے ہوتے ہیں۔
یعنی تفریح کےنام پر سڑکیں چھاپنا۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ پیڑول سستا ہونے سے فائدہ ہوا یا نقصان۔۔۔۔
قائد اعظم نے فرمایا۔ کام کام اور صرف کام۔ سڑکوں پر ٹریفک کی جلد بازی دیکھ کر تو یوں گمان ہوتا ہے کہ جیسے سچ میں اِس قول پر دل و جان سے عمل ہو رہا ہے۔

(خبر جاری ہے)

لیکن سوال یہ ہے کہ پھر ہم اُتنی ترقی کیوں نہیں کر پارہے۔ جتنی چند ممالک نظم و ضبط کے ساتھ اور آہستہ رفتار میں گاڑیاں چلا کر بھی ترقی کر چکے۔

اور بابائے قوم کے اس قول پر عمل درآمد کا وہم محض سڑکوں تک ہی محدود ہے۔ حقیت شاید اِس کے برعکس ہے۔ کیونکہ دفاتر میں تو ہمارے پاس چائے، سگریٹ، فون، انٹرنیٹ اور گپ شپ کے لیئے وافر مقدار میں وقت ہوتا ہے۔ لیکن سڑک پر ہمیں ہمیشہ جلدی ہی ہوتی ہے۔ بریک سے زیادہ ہارن دباتے ہیں۔ اور کوشش یہی ہوتی ہے۔ کہ آگے والی گاڑی سے ہماری گاڑی آگے ہو۔ اور اس سے آگے جانے کے بعد بھی ہم اسی فیصلے پر قائم ہوتے ہیں کہ آگے والی گاڑی سے آگے نکلنا ہے۔
میں اکثر اپنے احباب سے کہتا ہوں کہ انسان کی اصلیت یا فطرت کا دراصل اندازہ روڈ پر ہوتا ہے کہ وہ کیسے گاڑی چلا رہا ہے۔ اور روڈ پر اس کا اپنے قریب والی ٹریفک سے کیسا رویہ ہے۔بعض اوقات تیس سیکنڈ بچانے کے لیئے سگنل توڑ دیتے ہیں اور آگے کوئی حادثہ پیش آجائے تو تیس منٹ بحث کرتے ہیں۔
میرا ٹریفک پولیس سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا مقصد ایک خاص سگنل کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے۔ جہاں ایک عجیب یا شاید مضحکہ خیر واقعہ رونما ہوا۔
جو ہم میں سے اکثر کے ساتھ ہو چکا ہوگا۔ لیکن اس بات سے پہلے ٹریفک کے حالات پہ روشنی ڈالنا اس لیئے ناگزیر تھا کیوں کہ ٹریفک میں تحمل اور نظم و ضبط سلجھی ہوئی قوموں کے لیئے طرہِ امتیاز ہوتا ہے۔
آج میں بھی حسبِ معمول اپنے دفتر جا رہا تھا۔ راستے میں ایک سگنل آتا ہے۔ جسے روزانہ میں چھ سے سات بار کھلتا اور بند ہوتا دیکھتا ہوں۔ جس دن مجھے تیسری یا چوتھ بار میں گرین سگنل مل جائے۔ اس دن مجھے اتنی ہی خوشی ہوتی ہے۔
جتنا ہمیں بھارت سے کرکٹ میچ جیتنے میں۔۔۔ آج بھی میں اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔ گاڑیاں رینگ رہیں تھیں۔ میں نے بھی محبِ وطن ہونےکے ناطے اپنے گاڑیی کے بمپر کو اگلی گاڑی کے بمپر سے چپکایا ہوا تھا۔ اور اسی انتظار میں تھا۔ کہ جیسے ہی اگلی گاڑی والا دو انچ بھی گاڑی آگے کرے گا، میں بھی دو انچ آگے کر لوں گا۔ کیونکہ جب دو گاڑیوں کے درمیان تین انچ سے زیادہ فاصلہ ہو تو چند موٹر سائیکل والے حضرات خالی سڑک سمجھ کر اسی تین انچ کےفاصلے سے موٹرسائکل نکالنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔
اور بعض اوقات موٹر سائیکل کے گزارنے کی جگہ بناتے بناتے گاڑی پر سکریچ لگ جاتا ہے۔ اور وہ موٹر بائیک والا بغیر پیچھے دیکھے نکل لیتا ہے۔ کیونکہ اُسے اندازہ ہوتا ہے کہ گاڑی والے کی ہتھیلی کا رخ اُس کی ہی جانب ہوگا۔ جس کے گرد پانچوں انگلیاں پھیلیں ہوں گی۔
سگنل پر انتظار جاری تھا۔ جتنی دیر سگنل پر رکنا پڑتا ہے ساتھ رکی گاڑی والے ہمسائے ہمسائے سے لگنے لگتے ہیں۔ ایسے ہی ایک ہمسائے کی گاڑی میرے برابر دائیں جانب کھڑی تھی۔
جس میں ایک خاتون اور ایک لڑکا سوار تھا۔ لڑکا ڈرایونگ سیٹ پر براجمان تھا۔ اور خاتون اُن کے برابر میں تشریف فرما تھیں۔ ایک فقیر عورت خاتون کی طرف آئیں اور صدا لگائیں۔ خاتون غالباً پیسے دینے ہی لگیں تھیں۔ کہ فقیر کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا کہ اللہ جوڑی سلامت رکھے۔ خاتون نے فوراً اپنا ہاتھ اندر کی جانب کھینچا اور چلاِ کر کہا کہ یہ میرا بیٹا ہے۔ خاتون کے چلانے سے فقیرنی آگے چلی گئی۔ اور سگنل پر چند سیکنڈ کے لیئے خاموشی چھا گئی۔ شاید سب کے لئیے یہ اچنبے کی بات تھی۔۔۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

دانش حسین کے اتوار نومبر کے مزید کالم