سوال یہ ہے !

پیر نومبر    |    محمد عرفان ندیم

ایمرسن انیسویں صدی کا مشہور امریکی شاعر ہے ، وہ میساچوسٹس میں 1803میں پیدا ہوا ۔ ایمرسن کی خوبی یہ تھی کہ وہ بیک وقت ایک اچھا مقرر ،مصنف اور شاعر تھا ۔ ایمرسن جس قصبے میں رہائش پذیر تھا اس قصبے کا پہلا نوجوان یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر کے آیا تو قصبے والوں نے مل کر اس کے اعزاز میں ایک پارٹی ارینج کی ،علاقے کے تمام معززین کو اس پارٹی میں مدعو کیا گیا ، ایمرسن کو خصوصی دعوت نامہ ارسال کیا گیا ،تمام معززین نے اسٹیج پر آ کر اپنے خیالات کااظہار کیا ، ایمرسن کی باری آئی ،وہ اسٹیج پر آیا اور حاضرین سے خطاب کرتے ہو ئے کہا ”میں اس نوجوان کو ملنے کے بعد اس کا گرویدہ ہو گیا ہوں ، مجھے یہ نوجوان بہت پسند آیا ہے ، جب سے میں اسے ملا ہوں، مجھے اس پر رشک آنے لگا ہے ، آپ جانتے ہیں کیوں ؟ اس لیئے کہ اس نوجوان نے یونیورسٹی میں پڑھنے کے باوجود اپنی صلاحیت اور ذہانت کو برقرار رکھا ہے“ ۔

(خبر جاری ہے)

ہماری یونیورسٹیاں کس طرح کی تعلیم ،تہذیب اور کلچر کو پروان چڑھا رہی ہیں شاید اس کا اندازہ لگانا اب مشکل نہیں رہا ۔یونیورسٹیاں کسی ملک کے پالیسی ساز ادارے ہوتے ہیں ، یونیورسٹیوں کی تحقیق اور ریسرچ کے نتیجے میں آئندہ کے لیئے حکمت عملی ترتیب دی جاتی ہے ،دنیا میں ہر سال انگریزی میں تقریبا دو لاکھ ریسرچ پیپر شائع ہو تے ہیں ان میں مسلمانوں کی تعداد کیا ہے ؟ میرا خیال ہے رہنے دیں ،آپ پڑھیں گے تو دکھ ہو گا ،صرف دو سواور ان دو سو میں شاید ہی کو ئی پاکستانی ہو گا ۔
ہمارے نوجوان یونیورسٹی سے صرف ڈگری لیتے ہیں ، قابلیت اور مہارت نہیں اور یونیورسٹی بھی ہمیں صرف سی جی پی اے دیتی ہے ،کوئی ہنر ،فن ،مہارت اور صلاحیت نہیں سکھاتی ۔ مارکیٹ میں آج بھی مانگ ہے ، مارکیٹ میں آج بھی اچھا پلمبر ، اچھا الیکٹریشن اور اچھا مکینک نہیں ملتا ۔ مارکیٹیں آج بھی ترس رہی ہیں ایک ایسے دکاندار کو جو اپنے اصولوں کا پابند ہو ، ایسا سبزی فروش جو دھوکا نہ دے ، ایسا چھابڑی والا جو دونمبری نہ کرے ۔
معاشرہ آج بھی ایسے کاریگر کو ہاتھوں ہاتھ لیتا ہے جو اچھا کام کرنا جانتا ہے ، لوگ آج بھی اپنی گاڑی اسی ورکشاپ پر لے کر جاتے ہیں جس کے کام سے وہ مطمئن ہوتے ہیں ،اچھا الیکٹریشن آج بھی سترھویں اسکیل کے ملازم سے ذیادہ پیسے کماتا ہے ۔ لوگ آج بھی اچھے ڈرائیوروں کے نخرے اٹھانے کے لیئے تیار ہیں ، اچھا مالی آج بھی بے روز گار نہیں ، خوش اخلاق دکاندار کی دکان آج بھی سب سے ذیادہ چلتی ہے ماہر خطاط او رنقاش آج بھی ہاتھوں ہاتھ لیئے جاتے ہیں ،محنتی کسان آج بھی خوشحال ہے اور مجموعی طور پر ہنر اور فن آج بھی علم اور تعلیم سے آگے ہیں۔
ہمیں ماننا پڑے گا ہماری یونیورسٹیاں وہ کردار ادا نہیں کر رہیں جو انہیں کر نا چاہیئے تھا ،یہ محض ڈگریاں تقسیم کرنے کی فیکٹریاں ہیں ، یہ رٹے بازی اور سی جی پی اے دینے کے کارخانے ہیں ،یہاں صرف طوطے کی طرح تھیوریز پررٹا لگایا جاتا ہے ۔ جہاں سے قیادت جنم لینی تھی وہاں قیامت جنم لیتی ہے ۔ ہماری یونیورسٹیاں وہ ماحول پیدا نہیں کر پائیں جس کی ہمیں ضرورت ہے ۔ہمارے اسٹوڈنٹس میں وہ جوش، جذبہ ، لگن اور وہ احساس دکھا ئی نہیں دیتا جو ایک تخلیق کا ر کے لیئے ضروری ہے ،ہماری یونیورسٹیوں کا ماحول اور یونیورسٹی میں دی جانے والی تعلیم اس قابل نہیں کہ وہاں تخلیق کا ر جنم لیں ۔
تخلیق کار وہ شخص بنتا ہے جو اپنے چوبیس میں سے بیس گھنٹے اپنی اسٹڈی پر خرچ کرے ،اسے اپنے پرائے کی کو ئی خبر نہیں ہو تی ،وہ ہر لمحہ اپنے کام ،اپنے پراجیکٹ اور اپنی سوچ میں مگن رہتا ہے ،اسے اپنے لباس ،اپنے رہن سہن اور اپنے کھانے پینے کی کوئی فکر نہیں ہو تی ا ور وہ ہر لمحہ اپنی تخلیق کے بارے میں سوچتا ہے ،آپ آئن سٹائن ،نیوٹن اور ایڈیسن کی تصاویراٹھا کر دیکھیں آپ کو نظر آئے گا ان کے بال بڑھے ہو ئے ہیں ،ڈاڑ ھی الجھی ہو ئی ہے اور آپ کوتصویر میں بھی یہ لوگ کسی گہری سوچ میں مگن نظر آئیں گے ،یہ ان کی تصاویر کا وہ رخ ہے جو عام انسان کو نظر نہیں آتا ۔

با ت صرف علم کی نہیں آپ دنیا کی گزشتہ دو سو سالہ تاریخ کا مطالعہ کر لیں ،آپ گزشتہ دو سو سالوں میں وضع کیئے جانے والے علوم ، ایجادات، سائنس ، تاریخ ، تہذیب ، ثقافت اور طرز زندگی کا موازنہ کر لیں آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی ۔ مغربی تہذیب کی برائیاں اپنی جگہ مگر سوال یہ ہے کہ ہم نے گزشتہ دو سو سالوں میں دنیا کو کیا دیا ؟آپ صرف موبائل فون کو لے لیں ، موبائل فون اور اس کے تما م اجزاء مثلا مائیکرو فون ، اسپیکر ،کی بورڈ ،ڈسپلے، فلیش،سم ،میموری کارڈ ،بیٹری،چارجر،چپ اور ہینڈفری یہ سب نام انگریزی میں ہیں ،کیوں ؟کیوں کہ یہ ایجاد ان کی ہے تو نام بھی انہی کی زبان میں ہو ں گے۔
آپ مائیکرو فون کو لے لیں ، وہی مائیکرو فون جس کے بغیر ہماری مساجد میں اذان اور قرآن کی تلاوت نہیں ہوتی ، مائیکرو فون اور اس کے تما م اجزاء مثلا کنڈنسر،سائیڈ ویو،بیک پلیٹ،ساوٴنڈ ،ریبن،میگنٹ اور ڈایا گرام یہ سب نام بھی انگریزی میں ہیں ۔آپ آج کی سب سے ذیادہ اہم ایجاد کمپیوٹر کو لے لیں ، کمپیوٹر اور اس کے تمام اجزاء مثلا سی پی یو،مانیٹر،ماوٴس،کی بورڈ، مدر بورڈ، پاور سپلائی،ونڈو،سوفٹ ویئر اورہارڈ ویئریہ سب نام بھی انگریزی میں ہیں ۔
آپ کیمرے کو لے لیں ، آج کا دور میڈیا کا دور ہے اور کیمرے کے بنا میڈیا اندھا اور بہراہے ، کیمرہ اور اس کے تمام اجزاء مثلا لینز،باڈی، میموری کارڈ، ایل سی ڈی اسکرین، فلیش، ٹرائی پوڈ، زوم لینز، لینز کور ، کنٹرول بٹن ،ڈسپلے کنٹرول ،پکچر ویواور شٹر بٹن یہ سب نام بھی انگریزی میں ہیں ۔ موجودہ زمانے کی ساری ترقی ٹرانسپورٹ کے تیز ترین ذرائع پر منحصر ہے ، آپ سب سے چھوٹی گا ڑی کار کو دیکھ لیں ، کار اور اس کے تمام اجزء مثلا ، ایکسیلریٹر،بریک پیڈل، کلچ پیڈل ، فیول گیج ، گیئر سٹک ،ہینڈ بریک ، سپیڈو میٹر، سٹیئرنگ ویل ، بیٹری، بریکس، کلچ، انجن، گیئر بوکس، ہیڈ لائٹ،انڈیکیٹر، بوٹ، بمپر، ونڈ اسکرین، ایئر کنڈیشن ،نمبر پلیٹ، سیٹ بیلٹ اور ویل یہ سب نام بھی انگریزی میں ہیں ۔
اب یہ تمام الفاظ ہماری تہذیب وثقافت کا حصہ بن چکے ہیں اورہم چاہتے ہوئے بھی انہیں اپنی تہذیب وثقافت سے نہیں نکال سکتے ۔ اور الفظ محض الفاظ نہیں ہوتے یہ اپنے ساتھ پوری تہذیب اور ثقافت کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آج مسلم ممالک میں بولی جانے والی زبانیں خواہ وہ اردوہو ، عربی ،فارسی، ترکی،بنگالی،پشتو یا کو ئی اور یہ پچیس فیصد انگریزی میں بدل چکی ہیں ۔آ ج دنیا کا نظام مغربی تہذیب کے تحت چل رہا ہے کیوں ؟ کیوں کہ انہوں نے علم کے میدان میں محنت کی ہے ،انہوں نے دنیا کو علم دیا ہے ، نئی نئی ایجادات دی ہیں ، دنیا کو زندگی کی جدید سہولتوں سے آراستہ کیا ، گھر بیٹھے دنیا جہاں کی خبریں سننے کے لیئے کمپیوٹر، انٹر نیٹ اور ٹی وی دیا ہے ، دنیا کو نئے علوم سے روشناس کرایا ہے ، سائنسی علوم کی نئی شاخیں قائم کی ہیں اور ہمارے آباوٴاجداد کا وہ علمی ورثہ جسے ہم نے چھوڑ دیا تھا اس کو انہوں نے آگے بڑھایا ہے تو ان کو حق ہے کہ وہ دنیا کو اپنی مرضی سے چلائیں ، وہ جمعے کی بجائے اتوار کو چھٹی کریں اور وہ دنیا میں نیا نظام ، نئے قوانین اور نئے آرڈر نافذ کریں ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد عرفان ندیم کے اتوار نومبر کے مزید کالم