کیا پھانسی کی سزا صرف دہشت گردوں کے لئے ہے؟

پیر نومبر    |    عمار مسعود

لاہور کی خوبصورت دو رویہ ما ل روڈ سے اگر آپ ریلوے ا سٹیشن کی جانب جائیں اور پھر اپنا رخ مصری شاہ کی جانب کر لیں یہاں سے دو موریہ پل کے نیچے سے گزریں تو آپ شہباز روڈ تک پہنچ جائیں گے۔ یہی روڈ آگے جا کر گجرپورہ کے علاقے تک جاتی ہے۔یہ زندہ دلان لاہور کے روشن شہر کا وہ تاریک علاقہ ہے جہاں ابھی ترقی کے ثمرات پوری طرح نہیں پہنچ سکے۔ سڑکیں ٹوٹی ہوئیں، کھمبوں سے نکلے ہوئے ٹرانسفارمر، ابلتے ہوئے گٹر اس گجر پورہ کی اہم نشانیاں ہیں۔
یہ زیادہ تر شہر کے مزدور طبقے کا رہائشی علاقہ مانا جاتا ہے۔ پرائمری سکول کے ٹیچر،ریڑھی والے، پھل بیچنے والے، دیہاڑی پر کام کرنے والے، موٹر میکنک اورمزدور یہاں رہائش پذیر ہیں۔ یہاں زیادہ تر گھر دو سے ڈھائی مرلے کے ہیں۔

(خبر جاری ہے)

چھوٹے چھوٹے گھروں میں ہزاروں کے حساب سے لوگ بستے ہیں۔ جس گھر کا دروازہ کھلتا ہے وہاں سے لوگ ابلنا شروع ہو جاتے ہیں۔
بخت گل کا تعلق اسی علاقے سے ہے۔ وہ یہاں اپنی بیوی کے ساتھ کئی برسوں سے رہتا ہے۔

ایک چھوٹا سا دو مرلے کاکرائے کا گھر انکی کل کائنات ہے ۔ اس گھر کے کرائے کو پورا کرنے کے لئے اور دو وقت کی روٹی کمانے کے لئے بخت گل سارا دن مزدوری کرتا۔ دن بھر کی کمائی بمشکل تین سے چار سو ۔ اسی کمائی میں بجلی کا بل بھی ، دو وقت کا کھانا اورگیس کا بل بھی ادا ہوتاہے۔ ڈھائی سال پہلے اسی گھر میں بخت گل کے بڑے بیٹے نوید کی پیدائش ہوئی۔بخت گل نے خوشی میں سارے دو ، دو مرلے والے گھروں میں مٹھائی تقسیم کی۔
اپنی بساط کے مطابق خوشیاں منائیں۔ اب میاں بیوی کی خواہش تھی کہ اللہ ان کو بیٹی نصیب کرے۔ دونوں میاں بیوی نے سن رکھا تھا کہ بیٹی کی پیدائش اور پرورش جنت کا دروازہ بنتی ہے۔ ایسے گھر میں رحمت برستی ہے۔ پار سال کے اوائل بخت گل کی خواہش پوری ہوئی اور ایک ننھی سی پری نے انکے گھر میں آنکھ کھولی۔بخت گل نے اس ننھی پری کا نام بڑے چاؤ سے ثنا بخت رکھا۔ بخت گل سارا دن مزدوری کرتا اور گھر بیٹھے اس کی بیوی نوید اور ثنا کے روشن مستقبل کے خواب دیکھتی۔

یہ سات نومبر دوہزار سولہ کی صبح نو بجے کی بات ہے۔ ثنا بخت اب سو ا سال کی ہو چکی تھی۔ سارے گھر میں ہاتھوں پاؤں پر رینگتی پھرتی تھی۔ ماں کبھی ڈھائی سالہ نوید کو شرارتوں سے باز رکھتی اور کبھی ثنا کو سنبھالتی تھی۔ باورچی خانے میں چائے کی کیتلی پر پانی ابل رہا تھا۔ ماں سے نظر بچا کر سوا سال کی ننھی پری باروچی خانے میں پہنچ گئی۔ ابلتی چائے کی کیتلی کو ہاتھ ایسا مارا کہ لاوے کی طرح ابلتا پانی ننھے سے جسم پر ایسا گرا کہ جسم پینتیس فیصد جھلس گیا۔
بچی کی چیخیں سن کر ماں کچن کو دوڑی اور اپنی لاڈلی کے جلے ہوئے جسم کو دیکھ کر سارے محلے کو چیخ چیخ کرا کھٹا کر لیا۔
ہسپتال کی پرچی بتاتی ہے کہ سات نومبرکو دن کے دس سے گیارہ بجے کے درمیان ثنا بخت کو لاہور کے میو ہسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ میو ہسپتال لاہور میں صوبہ پنجاب کا سب سے بڑا بر ن یونٹ ہے۔ جلے ہوئے مریضوں کے فوری علاج کے لئے یہاں جدید آلات، دوائیاں او رسرکاری عملہ موجود ہے۔پینتیس فیصد جلے ہوئے جسم کا بچنا محال نہیں ہے۔
ثنا بخت کو جب ہسپتال میں داخل کیا گیا تو جسم سے جلنے کی بو آرہی تھی۔ اور ننھی سی بچی کے جسم سے کھال موم کی طرح اتر رہی تھی۔ بچی شدید تکلیف میں تھی۔ فوری علاج کی ضرورت تھی۔ زندگی اور موت کے درمیان وقفہ بہت ہی کم تھا۔ماں سے بیٹی کی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی۔ اسے غشی کے دورے پر رہے تھے۔ بخت گل پاگلوں کی طرح چیخیں مارتا ڈاکٹروں کو تلاش کر رہا تھا۔ نرسوں کو مدد کے لئے بلا رہا تھا۔ ہر آنے جانے والے کو خدا کے واسطے دے رہا تھا۔
زور زور سے رو رہا تھا۔
میو ہستال کے ڈاکٹرشہر یار ، ڈاکٹر مظہر رفیق اور ایک نرس کے ساتھ ایک مریض کے اہل خانہ نے کچھ دن پہلے بدتمیزی کی۔ کچھ مارکٹائی بھی ہوئی۔ یہ ینگ ڈاکٹر اگلے دن شکایت لے کر اے ایم ایس کے پاس گئے تو وہاں اسی مریض کے رشتہ دار صلح صفائی اورمعافی کے لئے بیٹھے تھے۔ یہاں پر پھر مارکٹائی شروع ہوئی اور اس دفعہ ڈاکٹروں نے ان تیماداروں سے خوب بدلہ لیا۔ ایک اور موقف کے مطابق یہ جھگڑا ڈاکٹر شہریار کی جانب سے دو ڈاکٹروں کو ٹریننگ نہ دینے پر شروع ہوا تھا۔
اے ایم ایس نے دو ڈاکٹروں اور ایک نرس کو اس بدتمیزی پر معطل کر دیا ۔ اسی معطلی کے خلاف سات نومبر دو ہزار سولہ کو ینگ ڈاکٹرز نے ہڑتال کا فیصلہ کیا ۔ یہ وہی دن ہے جب ثنا بخت اپنے جھلسے ہوئے نیم مردہ جسم کے ساتھ ہسپتال میں داخل ہوئی۔
دس نومبردن تین بجے کے قریب سوا سال کی ثنا بخت نے تین دن کے بعد تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔ ان تین دنوں میں ہڑتال اپنے عروج پر رہی۔ینگ ڈاکٹروں نے مال روڈ پر خوب ادھم مچایا، نعرے لگائے، تمام دن ٹریفک بلاک کی ،سیلفیاں بنائیں اور احباب کے گھروں سے آئے کھانے اڑائے او رہر چینل کو اپنے مطالبات گنوائے۔
ان تین دنوں میں بخت گل اور اور اس کی بیوی اپنی ننھی پری کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لئے عملے کے پاؤں پڑتے رہے مگرہڑتال کے سبب برن سینٹر میں داخلہ منع تھا۔ تین دن سوا سال کی بچی جس کے جسم کا پینتیس فیصد حصہ جلا ہوا تھا وہ تڑپتی رہی۔ اسکے جسم کا گوشت ریزہ ریزہ ہو کر جسم سے الگ ہوتا رہا۔ بخت گل کے بخت اتنے نہیں تھے کہ وہ پرائیوٹ ہسپتال جا سکے۔ان تین دنوں میں اس بچی کے جسم سے ساری کھال اتر گئی مگر مرہم نصیب نہ ہوا اس لئے ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال جاری تھی ۔ اب دس نومبر کی رات ہے او ر اس وقت بخت گل اور اسکی بیوی اب اپنی سوا سال کی شہزادی ثنا بخت کو منوں مٹی تلے دفنا چکے ہیں۔
مجھے اس بچی کی کہانی کو لکھنے کے بعد کسی کو کچھ نہیں بتانا ہے ۔ بس بار، بار اپنے کالم کے عنوان کو دوہرانا ہے ۔ کیا پھانسی کی سزا صرف دہشت گردوں کے لئے ہے؟۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمار مسعود کے پیر نومبر کے مزید کالم