سیاست کے حمام میں سب ننگے

جمعرات نومبر    |    عمر خان جوزوی

کارکن توکارکن۔۔وہ واقعی پی ٹی آئی کاکوئی خطرناک قسم کاسونامی تھا۔۔تحریک انصاف کی محبت اورعمران خان کی عقیدت کوٹ کوٹ کراس کے دل ودماغ اوررگ رگ میں بس چکی تھی۔۔جونہی دفتر میں داخل ہوکر مسلم لیگ ن۔۔پیپلزپارٹی۔۔جے یوآئی ۔۔جماعت اسلامی ۔۔قومی وطن پارٹی ۔۔ایم کیوایم ۔۔مسلم لیگ ق ودیگر سیاسی پارٹیوں کے سادہ اورخاموش طبع ورکروں سے ان کاسامنا ہوتا۔۔ وہ فوراً ،،گونوازگو،،روزرداری رو۔
۔جلوفضل الرحمان جلو اورچیخوالطاف حسین چیخو کے نعرے بلند کرکے پورے دفتر کوسرپراٹھالیتا۔۔منابھائی جن کاکسی سیاسی جماعت کے ساتھ تعلق تودور جوسیاست کی الف ب سے بھی ناواقف ۔۔نابلد اورکورا نظرآتاتھا۔۔چشمے لگائے یہ منظر پچھلے تین دنوں سے اپنی موٹی آنکھوں اورمدہم سی بینائی کے سہارے بغور دیکھ اورآگ کے شعلوں کی طرح بلند ہوتے ان سیاسی نعروں کواپنے کانوں سے سن رہاتھا۔

(خبر جاری ہے)

۔اگلے روز سونامی نے جونہی پھر دفتر کارخ کیا۔

۔ اور،،گونوازگو،، ،،روزرداری رو،جلوفضل الرحمن جلو کے نعرے بلند ہونے لگے تونعروں کی ان ہی گونج میں توقعات سے ہٹ کے منابھائی اپنے چشموں کوقمیض کے پلے سے صاف کرتے ہوئے اچانک اپنی جگہ سے کھڑاہوگیا ۔۔بھائی صاحب۔۔ تم ٹھیک کہتے ہو۔۔ اس ملک اورقوم کونوازشریف اورآصف زردار ی جیسے حکمرانوں نے لوٹا۔۔تم یہ بھی ٹھیک کہتے ہو کہ ایسے چوراورکرپٹ حکمرانوں کوہمیشہ مولانافضل الرحمن نے سہارافراہم کیا۔
یہ بھی ٹھیک کہ نوازشریف اورزرداری سمیت ان تمام سیاستدانوں اورحکمرانوں کوجانا۔۔رونا۔۔جلنا۔۔چیخنااورچلانا چاہیے ۔۔میراکسی سیاسی جماعت سے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔۔نہ ہی نوازشریف۔۔آصف علی زرداری ۔۔فضل الرحمن یاچوہدری شجاعت میرے کسی مامے چاچے کے بیٹے ہیں ۔۔تم توان کے جانے۔۔جلنے اوررونے کی بات کررہے ہو۔۔میں توکہتا ہوں جنہوں نے بھی اس ملک وقوم کولوٹا۔۔پانامہ میں نام اورسوئس بنکوں میں اکاؤنٹ بنایا۔
۔قوم کاسرمایہ باہر منتقل کیا۔۔غریبوں کے ارمانوں کاخون کیا۔۔سیاست کوکاروبار بنایا۔۔ ان سب کوآگ سے ایک نہیں باربار غسل دیناچاہیے لیکن معذرت کے ساتھ ایک بات توبتاؤ ۔۔تم جس کے گن گارہے ہو۔۔ وہ صاحب کونسا فرشتہ ہے۔۔؟نوازشریف اورزرداری جیسے حکمرانوں نے توملک کوکھایا ۔۔تیرے صاحب کواگراقتدار مل گیا وہ توملک کے ساتھ اس قوم کوبھی کھاجائے گا ۔۔یہ سنتے ہی سونامی بپھر گیا ۔۔تمہیں شرم نہیں آتی ۔
۔اس عظیم لیڈر کے بارے میں اس طرح کی بات کرتے ہوئے ۔۔وہ تواس ملک اورقوم کیلئے لڑرہاہے ۔۔کرکٹ کاعالمی کپ جیتنے کے بعد راحت وسکون اورعیاشی کی زندگی اس نے اس قوم کی خاطر داؤ پر لگائی ۔۔وہ چاہتا توجمائمہ سے دولت بٹور کرتاحیات عیش وعشرت اورحکمرانوں جیسی زندگی گزار سکتا تھا لیکن انہیں اس ملک وقوم کی فکر ہے ۔۔اسی وجہ سے وہ لڑتا جارہاہے ۔۔آج تک اس پرایک روپیہ کی کرپشن بھی ثابت نہیں ہوئی ۔۔نہ اس نے قوم کاسرمایہ نوازشریف اورآصف علی زرداری کی طرح باہرمنتقل کیا۔
۔نہ اس نے فضل الرحمن کی طرح ڈیزل پرمٹ لئے اورنہ ہی اس نے الطاف بھائی کی طرح کسی سے بھتے وصول کئے۔۔اس کادامن آج بھی نیسلے پانی کی طرح صاف اورشفاف ہے۔۔منابھائی ہنستے ہوئے بولے ۔۔اب واقعی شرم آہی گئی ہے۔۔حضرت ۔۔سیتاوائٹ کوبھول گئے ہوکیا۔۔یہ سنتے ہی سونامی کی لہریں آسمان کی طرف اٹھیں ۔۔وہ چیخے۔۔چلائے۔۔غصے کاردھم جونہی تھوڑاساکم ہوا۔۔گویاہوئے ۔۔کیاتم نے سیتاوائٹ والی کہانی اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔
۔؟منا۔۔نہیں ۔۔سونامی ۔۔جوچیزتم اپنی آنکھوں سے دیکھونہیں ۔۔اس کے بارے میں تم رائے کیسے قائم کرسکتے ہو۔۔؟اس لئے جوچیزتم اپنی ان آنکھوں سے نہ دیکھو۔۔اس کے بارے میں خاموشی پرہی اکتفاکرو۔۔یہی انسانیت کااصول ہے۔۔بہت خوب۔۔بہت خوب۔۔منافوراًبول پڑا۔۔بالکل ٹھیک کہا۔۔یہی توپوری دنیاتم سے کہتی ہے۔۔مگرتم مان ہی نہیں رہے ہو۔۔نوازشریف۔۔آصف علی زرداری ۔۔فضل الرحمن سمیت کئی سیاستدانوں کوتم چوکوں اورچوراہوں میں چور،ڈاکونہ جانے کیاکیاکہتے ہو۔
۔سیاسی مخالفت اپنی جگہ ۔۔ذرہ یہ توبتاؤ۔۔کیاتم نے ان کواپنی ان آنکھوں سے چوری ۔۔ڈاکہ زنی اورگناہ کرتے ہوئے دیکھاہے۔۔اگرنہیں ۔۔توپھردوسروں کوانسانیت کے اصول بتانے سے پہلے تم خوداس پرعمل کیوں نہیں کرتے۔۔؟میں ہرگزیہ نہیں کہتاکہ نوازشریف۔۔آصف علی زرداری ۔۔فضل الرحمن اوردیگرسیاستدان کوئی فرشتے ہیں یاانہوں نے کوئی سیاسی چوری۔۔ڈاکہ زنی اورگناہ نہیں کئے۔۔یہ چوربھی ہونگے۔۔ڈاکوبھی اورگناہ گاربھی ۔
۔لیکن دوسروں پرانگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں بھی ضرورجھانکناچاہئے۔۔عمران خان کے بارے میں بات کرتے ہوئے جس طرح تمہارے ہوش اڑتے ہیں ۔۔کلیجہ منہ کوآنے لگتاہے۔۔آنکھیں غصے سے سرخ ہوتی ہیں ۔۔پیمانہ صبرجس طرح لبریزہوتاہے۔۔عین اسی طرح کسی اورسیاستدان اورلیڈرکے بارے میں آپ کی زبان درازی اوربے بنیادالزامات سے بھی ان کے سیاسی کارکنوں ۔۔ووٹروں اورسپورٹروں کایہی حال ہوتاہے۔۔جوچیزتم اپنے لیڈرکے لئے پسندنہیں کرتے وہ دوسروں کے سیاسی پیروں کے لئے کیوں پسندکرتے ہو۔
۔؟جس لیڈراورسیاستدان کوخودچوری ۔۔ڈاکے یاکسی گناہ پرخوداپنی آنکھوں سے نہ دیکھو۔۔کسی کے کہنے پراس کوبرابھلامت کہو۔۔ویسے صاحب ۔۔سیاست کے اس حمام میں نوازشریف،آصف زرداری اورفضل الرحمن کیاآپ کے عمران خان سمیت تمام سیاستدان ننگے ہیں۔۔ تم سیاسی دشمنی میں اپنی زبان گندی نہ کرو۔۔منابھائی کے بڑے میٹھے لہجے اوردرمندانہ اندازمیں ہونے والی اس گفتگوسے سونامی کاجاگ کافی حدتک بیٹھ چکاتھا۔
۔سواس نے اپنی راہ لی اورکام میں مصروف ہوگیا۔۔ان دونوں کی اس گفتگوکے بعدمیں کافی دیرتک پھر سوچتارہاکہ۔۔ اگرہم سیاسی دشمنی میں اندھاہونے کی بجائے برداشت کادامن مضبوطی کے ساتھ ہاتھ سے پکڑیں ۔۔توبے اتفاقی۔۔نفرت اورلڑائی جھگڑوں کایہ کھیل ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے۔۔عوام کے سامنے ایک دوسرے کوچوراورڈاکوکہنے والے یہ سیاستدان اورلیڈراندرسے سب ایک ہی ہوتے ہیں ۔۔ہوااورفضاء میں یہ ایک دوسرے پرالزات اورگالیوں کی بارش تو یہ کرتے ہیں ۔
۔لیکن بندکمروں میں عوام کی نظروں سے اوجھل ہوکریہ پھرگلے ملنے سے بھی دریغ نہیں کرتے ۔۔نوازشریف سے لے کرآصف زرداری تک ہرسیاستدان نے اس قوم کوسبزباغات دکھائے۔۔لیکن حقیقت میں آج تک کسی بھی حکمران نے دل سے عوام کے لئے کچھ نہیں کیا۔۔عمران خان اس قوم کے لئے روشنی کی ایک امیدضروربن کرآئے ۔۔لیکن لوٹوں اورلٹیروں کوساتھ ملانے سے وہ روشنی بھی اب مدہم ہوچکی ۔۔ویسے وزیراعظم نوازشریف سے لے کرعمران خان تک اس ملک کا کوئی بھی سیاستدان اورحکمران پاک اورصاف نہیں ۔
۔نہ ان سیاستدانوں میں کوئی فرشتہ ہے۔۔پارٹی کارکنوں تک توان کالیڈرانتہائی ایماندار۔۔امانت دار۔۔شریف اوربڑابہادرہوتاہے ۔۔لیکن حقیقت میں وہ وہی نوازشریف۔۔زرداری۔۔فضل الرحمن۔۔عمران خان اورالطاف حسین ہی ہوتاہے۔۔اگردیکھاجائے توان میں کوئی پانامہ میں پھنسا۔۔کسی کوسوئس بنکوں نے گھیرا۔۔کوئی ڈیزل سے گیلاہوا۔۔توکسی پرسیتاوائٹ کاسایہ پڑا۔۔اس لئے ہرسیاسی کارکن کودوسروں پرالزام تراشیوں۔۔گونوازگو۔۔روعمران رو۔۔جلوفضل الرحمن جلووغیرہ کے نعرے لگانے اورسیاسی مخالفین کی طرف انگلی اٹھانے سے پہلے ذرہ اپنے گریبان میں بھی جھانکناچاہئے کہ کہیں ان کااپنالیڈرکسی پانامہ۔۔ڈیزل۔۔سوئس یاسیتاوائٹ کے کسی جال میں تونہیں پھنسا۔۔کیونکہ سیاست کے اس حمام میں صرف نوازشریف،،زرداری اورفضل الرحمن ہی نہیں بلکہ اس ملک کے اکثر سیاستدان ہی ننگے ہیں ۔۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمر خان جوزوی کے جمعرات نومبر کے مزید کالم