مسئلہ اخلاقی تربیت کا ہے

ہفتہ نومبر    |    عارف محمود کسانہ

کہنے وا لے نے درست ہی کہا تھا کہ ہمارا مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے ہاں تعلیم کی کمی ہے بلکہ اصل مسئلہ ہمارے ہاں تربیت کی کمی ہے۔ دانائے راز اورحکیم الامت نے اپنی بصیرت سے قوم کے مرض کہن کی نشاندہی نوے برس قبل کردی تھی لیکن اب تو حالات اور بھی ناگفتہ بہ ہیں۔ دور حاضرمیں تعلیمی میدان میں تو کافی ترقی ہوئی ہے لیکن تربیت کا میدان تنزلی کی طرف گامزن ہے۔ اب تعلیم ہے مگر تہذیب نہیں ۔ ترقی اورخوشحالی کے لئے تعلیم کی اہمیت سے کون انکار کرسکتا ہے مگر جو اکبر آلہ آبادی نے کہا تھا کہ
ہم ایسی کل کتابیں قابلِ ضبطی سمجھتے ہیں
جنھیں پڑھ کر کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں
عام آدمی ہو ں یا بڑے عہدے پر فائیزشخصیات ہوں ، کم پڑھے لکھے یا اعلیٰ تعلیم یافتہ چنداں فرق نہیں اس حمام میں سب ننگے ہیں ۔

(خبر جاری ہے)

معاشرہ کی غالب اکثریت کا یہی حال ہے۔ بظاہر دیکھنے میں کئی انسان بڑے نظر آتے ہیں لیکن جب انہیں اخلاق اور تربیت کے معیار پر کھا جائے تو وہ بہت چھوٹے انسان دیکھائی دیتے ہیں۔آئے روز میڈیا ہمارے معاشرہ کی منظر کشی کرتا ہے جس میں ڈاکٹر، وکلاء، طالب علم، قانون کے محافظ، افر شاہی، سیاستدان، علماء، اساتذہ ، صحافی غرض ہر شعبہ زندگی کاحال پنجابی کے محاورہ اکو منڈھ کماد دا تے کوئی نہیں گنا سواد دا یا تند نہیں تانی ای وگڑی ہوئی اے یعنی ہر شخص بگڑا ہوا ہے۔
بقول اقبال قافلہ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں ۔اخلاقی اقدار اور تربیت کا ہمارے ہاں قحط ہے۔ سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے اپنے کارکنوں کی تربیت کی طرف کبھی توجہ نہیں دی۔ روز مرہ زندگی میں ہمارے رویے اخلاقی گراوٹ کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ آداب و اطوار مفقود ہیں۔ انسان اور حیوان میں فرق صرف اقدار کا ہے۔ حیوانات میں اخلاقیات کو کوئی سوال نہیں ہوتا۔ گائے بھینس بھوک کے وقت یہ نہیں دیکھتیں کہ یہ ان کے مالک کا کھیت ہے یا کسی اور کا ، انہوں نے اپنا پیٹ بھرنا ہوتا ہے۔
انسان تب ہی انسان کہلانے کے لائق ہوتا ہے جب وہ شرف انسانیت کی حامل اقدار کا امین ہو۔ رسول اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد یہ بیان کیا گیا کہ وہ اخلاق کی تعلیم و تربیت دینے والے ہیں۔ خود ان کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ آپ اخلاق کی بلندیوں پر فائیز ہیں۔ یہ تعلیم بھی دی کہ تم میں سے بہترین وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں لیکن اس کے باوجود بقول غالب
بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
تعلیم کے ساتھ تربیت اور اخلاق و اقدار کے لئے بچپن سے ہی انتظام ہونا چاہیے۔
کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ کسی بھی بچے کی تربیت کے لئے پہلے سات سال ماں، اگلے سات سال باپ اور مزید سات سال معاشرہ تربیت کرتا ہے ۔ اکیس سال کا عرصہ گذرنے کے بعد تربیت کافی دشوار ہوجاتی ہے۔اچھے اخلاق و اطوار بچپن سے ہی سکھائے جاسکتے ہیں۔ نزول قرآن کا ایک مقصد انسانوں کی تربیت اور اخلاق کی تعمیر بھی ہے۔ سورہ حجرات میں تربیت کا ایک لائحہ عمل دیا گیا ہے اور یہ نصیحتیں کی گئی ہیں کہ فتبینوا یعنی کوئی بھی بات سن کر آگے کرنے سے پہلے تحقیق کر لیا کرو ،کہیں ایسا نہ ہو کہ بات سچ نہ ہو اور کسی کوانجانے میں نقصان پہنچ جائے۔
فائصلحوا یعنی دو بھایوں کے درمیان صلح کروا دیا کرو. تمام ایمان والے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ وائقسطوا مطلب دو گروہوں کے درمیان جھگڑے کو انصاف سے حل کرو۔ لا یسخرکسی کا مذاق مت اڑاوٴ.ولا تلمزوا کسی کو بے عزت مت کرو۔ولا تنابزوا لوگوں کو برے القابات(الٹے ناموں) سے مت پکارو۔ ظن یعنی برا گمان کرنے سے بچو۔لا تجسَّسْواایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ رہو۔ کسی دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی مت کرو۔
سورہ نور میں تربیت کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ کسی کے گھر بغیر اجازت نہ جاؤ، اگر اہل خانہ اس وقت معذرت کریں تو واپس چلے آؤ اور برا مت مناؤ۔اگر تمہیں کسی کام کے لئے بلایا جائے تو وہاں سے بغیر اجازت مت جاؤ۔ اخلاق و اقدار کی مزید تربیت سورہ احزاب میں یوں دی کہ سچی اور سیدھی کرو۔ کسی کے ہاں دعوت پر قبل از وقت مت جاؤ اور جب کھانے سے فارغ ہوجاؤ تو زیادہ دیر نہ بیٹھو تاکہ اہل خانہ کو دقت نہ ہو۔ دعوت پر جاتے ہی کھانے کا مطالبہ نہ کرو۔
ایک اور بڑی بد تہذیبی یہ ہے کہ کسی کی دعوت قبول کرکے نہ جانا اور نہ ہی میزبان کو مطلع کرنا۔ مزید آداب کی تعلیم قرآن حکیم میں یوں ہے کہ جب وعدہ کرو پورا کرو، چیخ چیخ کر بات نہ کرو۔ مجلس میں ناشائستہ حرکات مت کرو۔ اگر محفل میں کہا جائے کہ جگہ کھول دو تو ایسا ہی کیا کرو اور جب محفل برخاست ہوجائے تو اٹھ کر چلے جاؤ۔ ایسی زبان بولو جو معاشرہ میں شرفاء کی زبان تسلیم کی جاتی ہو۔ عدل سے بات کرو اگرچہ وہ تمہارا قربت دار ہی کیوں نہ ہو۔
جھوٹ کو سچ کا لباس نہ پہناؤ ، سچ اور جھوٹ کو آپس میں غلط ملط نہ کرو۔بہیودہ باتوں سے کنارہ کش رہو۔ اگر کہیں اتفاق سے لغویات کا سامنا ہوجائے تو شریفانہ انداز میں پہلو تہی کرکے آگے بڑھ جاؤ۔ ان تعلیمات کی روشنی میں اگر ہم اپنے قول و فعل کا جائیزہ لیتے ہوئے اپنی اصلاح کی کوشش کریں تو ہم وہی انسان بن سکتے ہیں جس کی تعلیم آخری پیغامِ خداوندی میں دی گئی ہے اور یہ وہ خوبیاں ہیں جو ہر مہذب معاشرہ کی بنیاد ہیں۔ گذشتہ دنوں کوئٹہ میں معذوروں سے پولیس کی بدسلوکی اور سیالکوٹ میں خواجہ سرا پر وحشیانہ تشدد کرنے والوں کو قہر خداوندی سے ڈرنا چاہیے اور بااختیار حکام کو مظلوموں کی بددعا سے بچنے کے لئے انصاف کرنا ہوگا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عارف محمود کسانہ کے ہفتہ نومبر کے مزید کالم