سیاسی جنگل میں وہ گدھا لگتا نہیں !

اتوار نومبر    |    ساجد خان

کیا امریکہ میں سیاسی اخلاقیات کو صرف نظر کیا جارہاہے؟ امریکہ کے طول و عرض میں انتخابات کا شور شرابہ اب میڈیا کے لیے شرمندگی کا باعث بنتا نظر آیا ہے۔ ایک طرف منتخب صدر ٹرمپ اب بھی میڈیا سے ناراض نظر آتے ہیں۔ اب ان کی شکایت کہ میڈیا عوامی احتجاج کو غیر معمولی طور پرزیادہ دکھانے کی کوشش کر رہاہے ۔ جبکہ وہ امریکہ کے منتخب صدر ہیں۔ اور امریکی جمہوری نظام کے مطابق ان کے انتخاب پر کوئی شک نہیں کر سکتا۔
مگر دوسری طرف عوام کی خاصی بڑی تعدادسوشل میڈیا پر انتخابی نتائج پر غیر مطمئن نظر آتے ہیں اور اس میں خاصی بڑی حقیقت بھی ہے۔ پاپولر ووٹ میں ہیلری کلنٹن کا پلا بھاری نظر آتا ہے اور اس ہی وجہ سے عوام میں بے چینی ضرور ہے ۔
امریکہ میں جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کر کے ایک ایسا جمہوری نظام رائج کیا ہے جس میں عوام کی رائے کو اہمیت نہیں دی گئی۔

(خبر جاری ہے)

مگر عوام کو اب اندازہ ہو رہا ہے کہ ان کو نظر اندا کیا جا رہا ہے۔

اور اس ہی وجہ سے وہ لوگ جو ان عوام کی رائے کو استعمال کرتے ہیں وہ سیاسی نیتا ہوتے ہیں۔ ان میں سے لوگ سینٹر اور کانگرس میں منتخب ہوتے ہیں ۔ اور ٹرمپ کا انتخاب بنیادی جمہوری نظام کے مطابق درست ہوا ہے۔
اب ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے منتخب صدر ٹرمپ کی خواہش ہے کہ ان کے پورے پری وار کوحکومت میں شرکت میں آزادی ہو اور ان کی بھی سیکورٹی کاکلیرینس بھی ہونی چاہیے جبکہ اصولی اور قانونی طور پر صدر امریکہ کسی کی طرح کے کاروبار میں شامل نہیں ہو سکتے۔
جبکہ ہونے والے صدر امریکہ مکمل طور پر ایک بڑے کاروباری شخصیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں امریکی نظام کو نظر انداز کرنے کا طریقہ بتایا کہ وہ ایک چالاک اور شاطر انسان ہیں۔ اور و رقم کمانے اور بچانے کے لیے چالاکی سے کام لیتے رہے ہیں۔ عوام نے ان کو خوب پسند بھی کیا مگر عام عوام کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں ے۔
رخصت ہونے والے امریکی صدر اوبامہ نے حسب روایت منتخب صدر کو وائٹ ہاوس بھی مدعو کیا۔
عموماََ ایسے موقعہ پر منتخب صدراپنے ساتھ میڈیا کو بھی وائٹ ہاوس لے کر جاتے ہیں۔ دنیا بھر کا میڈیا جس کا اس وقت ہم بھی حصہ ہیں ۔ وائٹ ہاوس کے باہر اس انتظار میں رہے کہ وہ نئے منتخب صدر سے ملاقات ہو سکے گی۔ مگر ہونے والے صدر امریکہ نے میڈیا کو مکمل نظر انداز کئے رکھا۔ وائٹ ہاوس کا میڈیا اپنا کام کرتا رہا اور ٹرمپ نے بڑی بے زاری کا اظہار بھی کیا۔
نیو یارک میں مین میشن کے علاقہ میں ٹرمپ ٹاور ہے جہاں پر نئے منتخب صدر کی نجی رہائش گاہے ۔
وہ علاقہ اب مکمل طور پر حساس اداروں کے کنٹرول میں نظر آتا ہے۔ پولیس نے جگہ جگہ ناکے بنا رکھے ہیں اور روز مرہ کی ٹریفک کے لیے شدید مشکلات کا سامنا ہواتا ہے۔ اگرچہ نیویارک شہر کی انتظامیہ کی کوشش ہے کہ عوام کو زیادہ تنگی اور پریشانی نہ ہو۔ مگر نئے صدر کو حفاظت مہیا کرنا بھی ضروری ے۔ اجکل نئے منتخب صدر کی تربیت بھی ہو رہی ہے۔ اور ان کو امور سلطنت سے آگاہی بھی کرائی جا رہی ہے۔ جبکہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کا پورا پری وار سرکار کا حصہ ہو گا اس معاملہ پر قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ اگر ان کے خاندان کے تمام لوگوں کی سکیورٹی کلیرینس ہو گئی تو وہ تمام سرکاری معاملات میں شامل ہو جائیں گے اور انتہائی حساس سرکاری معاملات تک ان کی رسائی ہو گئی اور وہ اپنے کاروبار کے لیے سرکار کے لوگوں اور اصولوں کو اپنی مرضی سے استعمال کر سکیں گے۔
اگرچہ ابی حلف برداری کے لیے کچھ وقت ضرور ہے مگر ٹرمپ تمام معاملات کو جلداز جلد طے کرنا چاہتے ہیں ۔ اس معاملہ پر اعلیٰ انتظامیہ تقسیم نظر آتی ہے۔ مگر ابھی تک کوئی فیصلہ بھی نہیں ہو سکاہے۔
امریکہ کے ہونے والے صدر تقریبا 70 سال کے ہیں اور عمر رسیدہ نظر نہیں آتے۔ ان کی موجودہ (شیری) بیگم جو عمر میں ان سے کافی کم اور نوجوان نظر آتی ہیں ان کا تعلق فنون لطیفہ سے ہے۔ امریکی معاشرہ میں ٹرمپ فیملی ایک آزاد خیال پری وار ہے۔
ان کی بیٹی نے ان کی انتخابی مہم میں سب سے زیادہ حصہ لیا اور اس ہی وجہ سے اندازہ ہو چکا ہے ہے کہ وہ سرکاری حیثیت میں اپنے داماد کو اہم سرکاری حیثیت بھی دیں گے۔ ان کی کابینہ بھی ان کی طرح زیادہ عمر کے لوگوں پر مشتمل ہوگئی۔ اس وقت اپنی پارٹی میں ان کی کافی مخالفت ہے اور اس وجہ سے ان کو خطرہ ہے کہ وہ جب قانون سازی کریں گے تو ان کی اپنی پارٹی ان کی مخالفت شروع نہ کر دے۔
وہ تارکین وطن کے بارے میں خوش گواررویہ نہیں رکھتے اور حالیہ ایک انٹرویو میں انہوں نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کو ہر صورت میں امریکہ سے نکال دیں گے۔
ان کے اندازہ کے مطابق تقریباََ 30 لاکھ غیر قانونی تارکین وطن متاثر ہو سکتے ہیں۔ اب یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اس سے امریکی معیشت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
امریکہ میں رہنے والے تمام مسلمان ٹرمپ کو قبول کرتے نظر نہیں آتے۔ ایک تو مسلمانوں کے بارے میں ٹرمپ کے نظریات مخفی نہیں ہیں۔ پھر اسرائیل سے ان کا لگاوٴ اور اندونے خانہ اسرائیل نے جس طرح ان کی مددکی ہے ۔ وہ اب سب کے سامنے ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ پہلے غیر ملکی دورہ میں اسرائیل یا روس جانے کا سوچتے ہیں اور روسی ان کی جیت پر کافی خوش نظر آتے ہیں۔
مگر امریکی معیشت دان ٹرمپ کی معاشی نظریات سے متفق نظر نہیں آتے اور ان کی جیت کے بعد شاک مارکیٹ کا جو حال ہے وہ حوصلہ افزا نہیں ہے۔ ایک اور مسئلہ جو امریکہ انتظامیہ کو پریشان کر رہا ہے کہ ٹرمپ کی ٹیم امریکی پالیسی کو مکمل تبدیل نہ کر دے۔ اس وقت بھی کچھ خود مختار اادارے امریکی حکومت پر نظر رکھتے ہیں امریکی مرکزی بنک فیڈرل ریزور ایک آزاد خود مختار ادارہ ہے۔ اب ٹرمپ کے آنے کے بعد کیا وہ اپنی آزادی برقرار رکھ سکے گا۔
وہ مانٹری پالیسی ترتیب دیتا ہے۔ اب سب کچھ ٹرمپ اپنی مرضی سے ایک کاروبار کے انداز میں سرکار کو چلا کی کوشش کریں گے۔
اس امریکی الیکشن پر غیر ملکی سفیروں کو زیادہ حیرانگی نہیں ے۔ اگرچہ میڈیا یا پولر ووٹ کے تناظر میں ہیلری کلٹن کی جیت کا دعویٰ ضرور کر رہا تھا مگر امریکی گورے جو امریکی سیاسی اشرافیہ کا حصہ میں ٹرمپ کی منہ پھٹ گفتگو سے متاثر نظر آتے تھے۔ پھر اس کی اپنی پارٹی میں مخالفت نے ہیلری کلنٹن کو زیادہ پر اُمید بنا دیا تھا مگر ان کو دھڑکہ سا لگا تھا کہ انتخاب کے نتائج سے ٹرمپ کوئی مشکل نہ پیدا کر دے۔
انہوں نے اپنی شکست کا نہیں سوچا۔ ٹرمپ کی جیت نے ہاتھیوں اور گدھوں دونوں کو شدید مایوس کیا۔ اگرچہ ٹرمپ گدھوں کی نمائندگی کر رہا ہے۔ مگر وہ گدھا لگتا نہیں۔
وہ امریکہ کو بدلنا چاہتا ہے وہ امریکی غیر ملکی سرمایہ کاری کو واپس لانا چاہتا ہے وہ اندرونے ملک امریکیوں کو زیادہ روزگار دینا چاہتا ہے۔ وہ امیروں کے ٹیکس میں کمی چاہتا ہے۔ کیا یہ سب ممکن ہو سکے گا۔ اب فوج کے اخراجات میں کمی کی بات بھی ہو گی۔ کیا جنوری تک کوئی ایسا فارمولہ بن سکتا ہے۔ جو ٹرمپ کو محدود اختیارات والا صدر بنا سکے اور کچھ ہونا ضرور ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ساجد خان کے ہفتہ نومبر کے مزید کالم