پاک سر زمین تونے مجھے ہمیشہ حیران کیا ہے

پیر نومبر    |    شاہد سدھو

اکنامک کاریڈور کا شہرہ سُن کر غیر ملکی سیاح جو اسلامی جمہوریہ کے کئی دورے کر چُکا ہے اور عطا ء الحق قاسمی صاحب کے غیر ملکی سیاح کی طر ح پا ک سر زمین کے سفر نامے بھی لِکھ چُکا ہے، ایک بار پھر یہاں آدھمکا۔ زیرِ نظر تحریر اس غیر ملکی سیاح کے ایک حالیہ سفرنامے کا اقتباس ہے، ملاحظہ فرمائیے۔
” پاک سر زمین نے مجھے ہمیشہ حیران کیا ہے اس لئے میں بار بار اِ س سر زمین کا رُخ کرتا ہوں۔ پاک لوگوں کی قومی ایئر لائن سے سفر کے دوران ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے ہوئے شخص نے قومی عادت کے عین مطابق میرے بارے میں تفتیش شروع کردی ۔
میں چونکہ اپنے ماضی کے سفروں کی بدولت پاک لوگوں کی اِس عادت سے واقف تھا اس لئے برداشت کرتا رہا۔ اگلے آدھے پون گھنٹے میں وہ شخص میرے فیملی بیک گراونڈ، مالی حالات، گرل فرینڈز اور میری نصابی اور غیر نصابی ہر طرح کی سرگر میوں کے بارے میں سوالات پوچھ چُکا تھا۔

(خبر جاری ہے)

حالانکہ میں نے اُس شخص سے ایک سوال بھی نہیں پوچھا مگر وہ اپنے اٹلی میں کاروبار، جائیداد، بچوں اور اطالوی ویٹریسوں سے معاشقوں کی داستان سُنا چُکا تھا بلکہ یہ بھی بتا چُکا تھا کہ اُس کی بیوی کافی ظالم ہے اور وہ اپنی بیوی سے ڈرتا ہے۔

اب اگلا نمبر اطالوی اور مغربی تہذیب کا تھا۔ وہ میرے ملک کی گرتی ہوئی اخلاقی قدروں اور خاندانی نظام کی تباہی پر مجھ سے اظہار افسوس کرتا رہا۔ اُس نے مجھے دو ٹوک الفاظ میں وارنگ دی کہ ’ تمہاری تہذیب آپ اپنے خنجر سے خود کشی کرے گی‘ یہ سُن کے دِل تو میرا چاہ رہا تھا کہ اپنے ایک لاہوری دوست کی طرح اُسے کہوں ’ فیر تینوں کی‘ ، مگر میں خاموش رہا۔ میری خاموشی میرے کام آئی اور اسنے باتوں کا رُخ اسلامی جمہوریہ کی طرف پھیر دِیا۔
اور اپنے مُلک کے سیاستدانوں کو بے نقط سُنانے لگا۔ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہ یہ جملہ دُہرانا نہیں بھولتا تھا ’ اِن کے بچے باہر ہیں، ان کے کاروبار باہر ہیں ، ان کا پیسہ باہر ہے، ان کی جائیدادیں باہر ہیں‘۔ خُدا خُدا کر کے جہاز نے لینڈ کیا۔ ایئر پورٹ سے نکل کر ہوٹل پہنچا تو حالات جاننے کے لئے ٹی وی آن کِیااور میں گھبرا گیا ، اس چینل پر چار کا ٹولہ چیخ چیخ کر بتا رہا تھا کہ اسلامی جمہوریہ پر مودی کے یاروں اور غداروں کا قبضہ ہوگیا ہے۔
امریکہ سے وڈیو لنک پر بات کرتے ہوئے مخبوط الحواس اینکر یہ بھی کہ رہا تھا ’ اِن کے بچے باہر ہیں، ان کے کاروبار باہر ہیں ، ان کا پیسہ باہر ہے، ان کی جائیدادیں باہر ہیں‘۔ میں فوراً دوڑتا ہوا ہوٹل ریسیپشن گیا تاکہ واپس ایئرپورٹ نِکلوں اور اپنے ملک کی راہ لوں۔ مگر ریسیپشن پر موجود لڑکا اور لڑکی بڑے اطمینان سے ایک دوسرے میں مصروف تھے۔ میری حالت دیکھ کر دونوں ہنسنے لگ گئے اور کہا ’بادشاہو! قیم ہوجاوٴ کچھ نہیں ہُوا،چمڑے اور پالش کی بو نے اس چینل والوں کو نفسیاتی کر دِیا ہے‘۔
میں نے کمرے میں واپس جاکے دوسرا چینل لگایا تو بشیر نام کا افسر اپنی بیرون ملک میں موجود جائیدادوں کو اپنے ہونہار، تابعدار، داماد مشرق کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ بتا رہا تھے اور اینکر واہ واہ کر کر کے بچھے جارہا تھا۔ اگلے ہی لمحے بشیر نام کے افسر نے سیاسی نظام اور سیاستدانوں کو مسلح قسم کی انگریزی اور اردو میں پچھاڑ کے رکھ دِیا، موصوف فرما رہے تھے ’ اِن کے بچے باہر ہیں، ان کے کاروبار باہر ہیں ، ان کا پیسہ باہر ہے، ان کی جائیدادیں باہر ہیں‘۔
یہ سننے کے بعد میں نے چینل گھُمایا تو آدھی اسکرین پر ایک شخص ایک وسیع و عریض محل میں سوئمنگ پول کنارے مصلے پر نماز پڑھتا نظر آیا جبکہ بقیہ اسکرین پر شووخ و چنچل اینکر چیخ چیخ کر ہلکان ہوئے جارہی تھی۔ بڑی مشکل سے سمجھ آیا کہ وہ ایک سو دو ملکوں کے سواچار ارب عوام جہاں اس چینل کی نشریات دیکھی جارہی تھیں کو بتا رہی تھی کہ جان صاحب نماز پڑھ رہے ہیں اور فارغ ہوتے ہی انٹرویو سے نوازیں گے۔ جلد ہی جان صاحب چہرے پر تنی ہوئی نسوں ،کالے چشمے کے پیچھے چھپی ہوئی شعلے اگلتی آنکھوں اور بھینچی ہوئی مٹھیوں کے ساتھ پوری اسکرین پر موجود تھے۔
شوخ و چنچل اینکر نے جان صاحب سے ہلکی پھلکی گفتگو کا آغاز کِیا اور انکے مشاغل اور بچوں کے بارے میں پوچھا۔ جان صاحب نے بتایا کہ بچے پردیس میں نانی جان کی خدمت کرکے جنت کما رہے ہیں۔ جان صاحب نے مزید بتایا کہ جِن دِنوں وہ کم سن نوجوان تھے ، مغربی ملک میں تھے اور چونکہ مغربی ملک میں نمازوں کی ٹائمنگ بہت مختلف ہوتی ہے ، گرمیوں میں مغرب کی نماز ساڑھے نو بجے تو عشاء گیارہ بجے، اس لئے انہوں نے ایک اکاونٹنٹ رکھ لِیا تھا جو نمازوں کے اوقات اور رکعتوں کی تعداد گنتا رہتا تھا تاکہ غلطی کی گنجائش نہ رہے۔
اسی اکاونٹنٹ کے مشورے پر مغربی مُلک سے حج پر جانے والے حاجیوں کی خدمت کے لئے انہوں نے ’ حجازی سر وسز لمیٹڈ‘ کمپنی بنائی تھی ، اس کمپنی کا نام یہاں غلط رپورٹ ہُوا ہے۔حکمرانوں کے بارے میں اگلے سوال پر جان صاحب کے نتھنے پھول گئے اور مُنہ سے کف نکلنے لگی ، آکسفورڈ کی ڈکشنریاں تک سہم گئیں، آپ چیخ رہے تھے ، ’ اِن کے بچے باہر ہیں، ان کے کاروبار باہر ہیں ، ان کا پیسہ باہر ہے، ان کی جائیدادیں باہر ہیں‘۔
مجھ سے اتنی وحشیانہ چیخ و پُکار بردداشت نہ ہوئی، میں نے چینل بدل دِیا۔ اِ س چینل پر راہبوں جیسے لباس میں ملبوس ایک شخص کئی ہزار کلومیٹر دور کے ایک مُلک سے چیخ و پُکار میں مصروف تھا۔ یہ اُس مُلک کا شہری ہے اور اُس مُلک کے آئین کو مانتا ہے اور ملکہ محترمہ کی وفاداری کا حلف اُٹھا چُکا ہے، مگر میرے لئے حیرانی کی بات یہ تھی کہ یہ شخص اسلامی جمہوریہ کے آئین کو نہیں مانتا۔ اُس کے تھوک کے چھینٹے کیمرے تک آرہے تھے۔ جذبات کی شدت سے اُس ٹھنڈے ملک میں بھی اسے پسینے آرہے تھے۔یہ پاک وطن کے آئین اور حکمرانوں کے خلاف چیخ رہاتھا۔باہر بیٹھ کر یہ کہ رہا تھا، ’ اِن کے بچے باہر ہیں، ان کے کاروبار باہر ہیں ، ان کا پیسہ باہر ہے، ان کی جائیدادیں باہر ہیں‘۔ پاک سر زمین تونے ہمیشہ مجھے حیران کیا ہے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

شاہد سدھو کے اتوار نومبر کے مزید کالم