تبدیلی کیسے آئے گی۔۔۔۔؟

اتوار نومبر    |    عمر خان جوزوی

چور ایک نہیں۔۔ نہ ہی ڈاکوؤں کی کوئی کمی ہے ۔۔راہزن بھی گنتی کے نہیں۔۔ نہ ہی نوسرباز شمار کے قابل ہیں۔۔ جعل سازوں اور فراڈیوں کی توپوری فصل یہاں اگی ہوئی ہے۔۔ ایمانداری۔۔ امانتداری۔۔ جرأت ۔۔ شجاعت اور بہادری کے لبادے میں گلی۔۔ گلی اور نگر نگر گھومنے پھرنے والے مداری تو حساب سے بھی باہرہیں ۔۔ آپ کراچی سے گلگت۔۔ پشاور سے کاغان۔۔ گوادر سے سوات اور مری سے چترال تک کسی بھی جگہ جائیں آپ کو سینکڑوں اور درجنوں نہیں تو چار پانچ چور ۔
۔ ڈاکو ۔۔ راہزن ۔۔ جعل ساز ۔۔ فراڈئیے اور ایمانداری ۔۔ امانتداری ۔۔۔ جرأت ۔۔ شجاعت اور بہادری کے صاف و شفاف کپڑوں میں ملبوس مداری ضرور ملیں گے ۔۔ پورا ملک تو دور ۔۔ہمارا کوئی قصبہ ۔۔ کوئی گاؤں ۔۔ کوئی دیہات ۔

(خبر جاری ہے)

۔ کوئی شہر اور کوئی صوبہ چوروں ۔۔ ڈاکوؤں ۔۔ راہزنوں ۔۔ جعل سازوں ۔۔۔۔ فراڈیوں اور مداریوں سے خالی نہیں ۔۔ مانا کہ اس ملک میں اللہ کے ولیوں کی کوئی کمی نہیں۔۔ لیکن اس مٹی پر اللہ اور اس کے رسول سے اعلان جنگ کرنے والے سود خور ۔

۔ چور ۔۔ ڈاکو ۔۔ راہزن اور مداری بھی حساب سے باہر ہیں ۔۔ سر سے پاؤں تک ہم جھوٹ ۔۔ فریب ۔۔ غیبت۔۔ حسد ۔۔ بعض کینہ اور منافقت کی بیماری میں کب کے مبتلا ہو چکے ہیں ۔۔ دوسری طرف چوروں ۔۔ ڈاکوؤں ۔۔۔ راہزنوں ۔۔ جعل سازوں ۔۔ فراڈیوں اور مداریوں نے ہمیں چاروں اطراف سے گھیر رکھا ہے ۔۔ اب ہم چاہتے ہوئے بھی ان سے جان چھڑا نہیں پا رہے ۔۔ گھر ۔۔ دفتر ۔۔ سکول۔۔ کالج ۔۔۔ یونیورسٹی اور مدرسے سے نکلتے ہی چور ۔
۔ ڈاکو ۔۔ نوسرباز ۔۔۔ فراڈئیے۔۔ جعل ساز اور مداری ہمارا استقبال شروع کر دیتے ہیں ۔۔ گلی ۔۔ محلے کی سبزی اور کریانے کی دکان سے لے کر حکمرانوں کے سنگ مر مر سے بنے محلات کی ناک تلے وی آئی پی ٹک شاپ ۔۔ کیفے ٹیریا اور فائیو سٹار ہوٹلوں تک ہر جگہ ان چوروں ۔۔ ڈاکوؤں ۔۔ راہزنوں ۔۔ جعل سازوں ۔۔ فراڈیوں اور مداریوں کاسایہہماراپیچھانہیں چھوڑتا۔۔وزیراعظم سے وزیراعلیٰ۔۔ایم این اے سے ایم پی اے اورضلع ناظم سے ویلج کونسل کے بے چارے غریب ناظم تک ہرکوئی توہمیں چور۔
۔ڈاکو۔۔راہزن۔۔نوسربازاورمداری نظرآرہاہے لیکن ہمیں اپنے درمیان چھپنے والے ان چھوٹوگینگ کے چوروں۔۔ڈاکوؤں۔۔نوسربازوں۔۔جعل سازوں۔۔فراڈیوں اورمداریوں کی کوئی فکرنہیں ۔۔حالانکہ یہ بڑے مگرمچھوں سے بھی کچھ کم نہیں ۔۔حکمرانوں اورسیاستدانوں کوچوراورڈاکوکہہ کرگالیاں توہم سب دیتے ہیں لیکن جوچوراورڈاکوگھرکی دہلیزاورمحلے کے اندرصبح سے شام تک ہمیں لوٹتے ہیں ۔۔انہیں ہم کچھ نہیں کہتے۔
۔چوریاڈاکوبڑاہویاچھوٹا۔۔سیاسی ہویاعوامی ۔۔چورچوراورڈاکوڈاکوہوتاہے۔۔آج ہم چوروں ۔۔ڈاکوؤں اورلٹیروں کے درمیان بری طرح پھنس چکے ہیں ۔۔ان سے چھٹکاراپاناتودورہم ان سے جان بھی نہیں چھڑاسکتے۔۔ نہ آگے جاسکتے ہیں نہ پیچھے مڑسکتے ہیں ۔۔آج ہماری حالت اس بابے سی ہے جوچورکے ہاتھوں ایک نہیں تین بارلٹا۔۔کہتے ہیں کہ ایک ستراسی سال کاباباجیب میں پچاس ساٹھ ہزارروپے لئے گاڑی میں کہیں سفرکررہاتھا۔
۔ابھی گاڑی تھوڑی سی آگے گئی تھی کہ کنڈیکٹرنے آوازلگائی۔۔اپنااپناکرایہ دو۔۔باباجی کرایہ دینے کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالنے ہی لگاتھاکہ پاس بیٹھے شخص نے باباجی کاہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔۔باباجی کیوں گنہگارکرتے ہو۔۔آپ اس عمرمیں کرایہ دیں گے۔۔یہ اچھانہیں لگتا۔۔آپ کاکرایہ میں ہی دے دیتاہوں ۔۔باباجی نے بہت کوشش کی مگراس شخص نے باباجی کاہاتھ جیب میں ڈالنے نہیں دیا۔۔اس شخص نے اپنااورباباجی کاکرایہ دے دیا۔
۔گاڑی تھوڑی آگے گئی تواگلے سٹاپ پرہی وہ شخص گاڑی سے اترگیا۔۔کچھ آگے جانے کے بعدباباجی نے کسی چیزکے لئے جیب میں ہاتھ ڈالاتوجیب میں وہ پچاس ساٹھ ہزارروپے ہی نہیں تھے ۔۔کچھ عرصے بعدباباجی نے بازارمیں اسی شخص کوقابوکیاتوباباجی کے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ روروکرکہنے لگے۔۔باباجی مجھے معاف کرنا۔۔جب میں آپ کی جیب سے پیسے لیکرگھرپہنچاتومیری بیٹی فوت ہوگئی۔۔وہ اس قدرزاروقطارسے رورورہاتھاکہ باباجی نے پیسوں کاتقاضاکرنے کی بجائے اسے گلے لگالیا۔
۔وہ چندلمحے باباجی سے گلے ملا۔۔لیکن اس دوران بھی وہ اپناکام کرگیا۔۔نظروں سے غائب ہونے کے بعدباباجی نے جب جیب میں ہاتھ ڈالاتوایک بارپھرجیب میں کچھ نہیں تھا۔۔باباجی سے گلے ملتے ہوئے وہ باباکی جیب سے بقایاجات بھی لے گیاتھا۔۔باباجی کوغصہ توبہت آیا۔۔پراب کیاہوسکتاتھا۔۔سوباباجی نے گھرکی راہ لی ۔۔اس دوران پھرکافی عرصہ گزرگیا۔۔ایک دن باباجی اپنی گاڑی میں کسی کام سے بازارگیا۔۔اتفاق سے وہی شخص دوبارہ مل گیا۔
۔اس بارپھرباباجی کے کچھ کہنے سے پہلے اس نے باباجی کومخاطب کرتے ہوئے کہا۔۔باباجی اس سے پہلے جوہوگیاسوہوگیا۔۔میں آپ کے سارے پیسے واپس کرتاہوں ۔۔آپ خداکے لئے مجھے معاف کردیں ۔۔باباجی نے کہامیں نے معاف کردیاہے۔۔وہ شخص بولا۔۔اس خوشی میں ایک ایک کپ چائے ہوجائے ۔۔ہوٹل کے اندرگئے۔۔چائے منگوائی ۔۔ابھی تھوڑی سی چائے پی تھی کہ وہ شخص بولا۔۔ باباجی میری کوئی ایمرجنسی ہوگئی ہے میں جارہاہوں ۔
۔آپ چائے پی کے آرام سے چلے جانا۔۔باباجی جب چائے پی کرباہرنکلے توکیادیکھتے ہیں کہ گاڑی ہی نہیں ۔۔وہ صاحب پیسوں کی بجائے اس بارگاڑی ہی لے گئے۔۔یہ دیکھتے ہی باباجی سرپکڑکربیٹھ گئے۔۔آج یہی کچھ ہمارے ساتھ ہورہاہے یاہم اپنے ہاتھوں سے دوسروں کے ساتھ کررہے ہیں ۔۔محلے کی دکان میں لٹنے کے بعدشہرپہنچتے ہی نہ جانے کتنی بارہماراچوروں اورڈاکوؤں سے آمناسامناہوتاہے۔۔ہمیں قدم بقدم چور۔۔ڈاکو۔
۔راہزن۔۔نوسرباز۔۔فراڈےئے اورمداری ملتے ہیں ۔۔آپ سوچتے ہونگے کیسے۔۔؟ذرہ خوداندازہ لگاےئے۔۔آپ گھرسے سبزی یاسودسلف لانے کے لئے نکلتے ہیں ۔۔سبزی یاکریانے کی دکان پرپیسے توآپ منہ مانگے دیتے ہیں لیکن سبزی ۔۔دال ۔۔آٹا۔۔چینی ۔۔دودھ۔۔دہی یاکوئی اور چیزپھربھی آپ کوآپ کی مرضی کے مطابق نہیں ملتی۔۔ نہ دی جاتی ہے۔۔آپ اگرکسی جگہ پرمرضی کی چیزلینا چاہیں بھی۔۔ توسبزی۔۔فروٹ۔۔دودھ دہی یاکریانے شاپ والاآپ کے ہاتھ کھینچ کروہ چیزآپ سے واپس لے لیتا ہے ۔
۔سبزی والاخراب سبزی۔۔دہی شاپ والاپانی ملادودھ وپوڈرکے ذائقے سے لبریزدہی اورکریانے والاجب تک دونمبراورغیرمعیاری اشیاء آپ کے ہاتھ میں نہ تھمائے اس وقت تک ان کوچین ہی نہیں آتا۔۔آج تاجروں سے ٹیچروں۔۔ڈاکٹروں سے پولیس اہلکاروں۔۔وکلاء سے انجینئروں۔۔صحافیوں سے قلم فروشوں ۔۔بینکاروں سے جاگیرداروں۔۔سرمایہ داروں سے صنعتکاروں اورسیاستدانوں سے حکمرانوں تک اس ملک میں ہرشخص کی یہ خواہش ہے کہ وہ کسی طرح دوسرے کوچونالگائے۔
۔بیوقوف بنائے اورجی بھرکرلوٹے۔۔ہم پچھلے سترسالوں سے اپنے سے کم پڑھے لکھے۔۔غریب ۔۔نادار۔۔فقیراورکمزورقسم کے لوگوں کولوٹ رہے ہیں مگرپھربھی ہمارے پیٹ نہیں بھررہے۔۔آپ کریانے کی کسی دکان پرجائیں۔۔وہ دکاندارآج بھی گاہگ کوکسی طرح لوٹنے کاکوئی طریقہ سوچ رہاہوگا۔۔آپ ایوان صدراوروزیراعظم ہاؤس چلے جائیں ۔۔وہاں بھی اسی سلسلے میں سوچ وبچارجاری ہوگی ۔۔جس ملک میں نیچے سے اوپر۔۔چوکیدارسے افسراورعوام سے حکمرانوں تک ہردوسرے اورتیسرے انسان کے اندرکوئی نہ کوئی چور۔
۔ڈاکو۔۔راہزن۔۔نوسرباز۔۔قاتل۔۔ظالم ۔۔فراڈی یاکوئی مداری ٹانگیں ہلارہاہو ۔۔کوئی ہلاکوخان۔۔چنگیزخان یامیرجعفرومیرصادق باہرنکلنے کیلئے بے تاب ہو۔۔وہاں اتنی جلدی اورآسانی سے ترقی نہیں آسکتی۔۔انتہائی معذرت کے ساتھ ملک میں حقیقی تبدیلی لانے کے لئے سب سے پہلے ہمیں خودکوبدلناہوگا۔۔جب تک ہم خودٹھیک نہیں ہوتے ۔۔یہ ملک ۔۔یہ نظام اوریہ لوگ کبھی ٹھیک اورتبدیل نہیں ہونگے۔تبدیلی کیلئے ہمیں اپنے اندرکے چور۔۔ڈاکو۔۔راہزن۔۔نوسرباز۔۔قاتل۔۔ظالم ۔۔فراڈی اور مداریوں کوہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کرناہوگاورنہ یہ ہمیں کبھی بھی آگے بڑھنے نہیں دیں گے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمر خان جوزوی کے اتوار نومبر کے مزید کالم