جب جمہوریت مایوس کرے

پیر نومبر    |    سید شاہد عباس

جمہوریت سے وابستہ امیدی جب مایوسی میں ڈھل جائیں تو تب "ڈونلڈجے ٹرمپ" جیسے کھرب پتی جمہوری امیدوں کے محور بن جاتے ہیں۔ ہم بے شک کہتے رہیں کہ وہ دنیا کے لیے خطرہ ہے، وہ امریکہ کے لیے خطرہ ہے، وہ امریکہ کے لیے اللہ کا عذاب بنے گا۔ لیکن اس حقیقت سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں کہ اُس پہ چھ کروڑبہتر ہزرا پانچ سو اکاون(60072551) لوگوں نے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ بلکہ ہم اس طرح نہیں کہیں گے کہ اتنے لوگوں نے ٹرمپ پر اعتماد کا اظہار کیا ہے بلکہ اتنے ہی لوگوں نے سہل پسند جمہوروں ، ناکام جمہوریت، اور سیاست کے لبادے میں سست ، اور ناکافی فلاح کے اقدامات پہ عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
امریکی تاریخ کے پہلے سیادہ فام صدر باراک اوباما پورے دور صدارت میں سوائے اس کے کوئی قابل ذکر کارنامہ سر انجام نہ دے سکے کہ وہ پہلے سیاہ فام امریکی صدر ہیں۔

(خبر جاری ہے)

یہ ٹرمپ کی جیت سے زیادہ چھ کروڑ سے زائد لوگوں کا اوبامہ انتظامیہ سمیت لبرل جمہوری قوتوں پہ عدم اعتماد ہے۔ ایسی قوتیں جو کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے پہ یقین رکھتی ہیں۔ جو ٹرمپ کے بیانات کو دیوانے کی بڑھک سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے۔

ان کا خیال تھا کہ یہ صرف بڑھکیں ہیں۔ لیکن ٹرمپ میں عوام کے دلوں میں عدم تحفظ کاخوف پیدا کر کے اپنے مقاصد حاصل کر لیے۔
ٹرمپ کی صدارت میں دنیا کیسی ہو گی؟ یہ ایسا سوال ہے جس نے ہر ایک کو پریشان کر رکھا ہے۔ سب سے پہلے امریکہ ، میکسیکو بارڈر پہ دیوار کی تعمیر ایک ایسا فیصلہ ہو سکتا ہے جو کچھ بعید نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسا شخص کر جائے گا۔ کم و بیش پانچ سے سات سال کی سفارت کاری کے بعد 2015میں ایران اور امریکہ کے درمیان طے ہونے والی نیوکلیئر ڈیل بھی ٹرمپ کی شدت پسندانہ سوچ کے آگے ایک امتحان ہو گی۔
اور اس معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سلواکیہ کے اپنے دورے کے دوران پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد نیوکلیئر معائدہ ناکام ہوتا ہے تو ایران کے پاس دیگر آپشن موجود ہیں۔ اس بیان سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ دنیا کا منظر نامہ ٹرمپ کے جیتنے کے بعد کس قدر متاثر ہو رہا ہے۔ ٹرمپ کے جیتنے کے بعد کے منظر نامے کا سب سے دلچسپ پہلو امریکہ کے 25سے زائد شہروں میں احتجاج ہونا اور امریکہ کے سب سے بڑے نشریاتی ادارے کا اس احتجاج کی بھرپور کوریج کرنا ہے۔
یاد رہے اس ادارے پہ ٹرمپ انتخابی مہم میں جانبدار ہونے کا الزام بھی لگا چکے ہیں۔ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد امریکہ کی تقسیم کے خدشات کو Calexit نے مزید تقویت پہنچا دی ہے۔ برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے طرز پہ ہی 2019میں کیلیفورنیا میں ایک ریفرنڈم/ووٹنگ ہونی ہے بشرطیکہ یس کیلیفورنیا نامی کمپنین کامیابی کا زینہ طے کر لیے۔ اس دلچسپ کمپین کے بارے میں جاننے کے لیے yescalifornia.org ضرور وزٹ کیجیے۔ اور خدشات اور امکانات اس کی کامیانی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
کیوں کہ کیلیفورنیا کے 60فیصد سے زائد لوگوں نے ہیلری کو صدر دیکھنا چاہاتھا۔
ٹرمپ کی صدارت کا اگلا امتحان پیرس ماحولیاتی آلودگی کا معائدہ ثابت ہو گا۔ کیوں کہ وہ اپنی انتخابی مہم میں اس معائدے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پینٹا گون کے ساتھ ٹرمپ کے تعلقات بھی اس لیے قابل غور ہوں گے کیوں کہ ہیلری کی انتخابی مہم میں ٹرمپ کو روس کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
جس طرح ٹرمپ انتخابی مہم کے دوران ہیلری کی ای میلز کے حوالے سے روس سے مدد مانگ چکے ہیں اور روسی وزارت خارجہ کے ترجمان کا اعتراف کے مہم کے دوران ان کا ٹرمپ کی ٹیم کے ساتھ کچھ رابطہ رہا، یقینا ٹرمپ کے پینٹا گون کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے دلچسپ ہو گا۔ امریکی نشریاتی ادارے کی پینٹا گون رپورٹرباربرا سٹار کے مطابق جس طرح مہم کے دوران دہشت گردوں کے لیے واٹر بورڈنگ کے تحقیقاتی حربے کے حق میں ٹرمپ کا بیان آیا وہ اس لیے بھی قابل عمل نہیں کہ امریکی و عالمی قوانین میں یہ ممنوع ہے۔
وہ پینٹاگون پریس سیکریٹری پیٹر کوک کے بیان کو بھی موضوع بحث بناتی ہیں کہ امریکی افواج کسی بھی غیر قانونی حکم نامے کو ماننے سے انکار کر سکتی ہیں۔افغانستان سے فوج کا انخلاء، عراق میں موجودگی، داعش سے نمٹنا، شام کا بحران یہ تمام مسائل ایسے ہیں جن میں ٹرمپ اور موجودہ فوجی قیادت کے موقف میں فی الحال واضح فرق نظر آتا ہے۔
جب معتدل جمہوری قوتیں موقع ملنے پر بھی اپنا آپ ثابت نہ کر پائیں۔
اور لوگوں کو تحفظ نہ دے پائیں تو پھر جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر ٹرمپ ، مودی ، السیسی، جیسے راہنما عوام کی امیدوں کا محور بن جاتے ہیں۔ٹرمپ ، مودی جیسے راہنما جب خود کو عوام کے سامنے جمہوریت کے علمبردار ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ تو ان کی کامیابی پہ واویلا کرنے کے بجائے حقیقی جمہوری راہنماؤں کو اپنی خامیوں کو تلاش کرنے اور ان پہ قابو کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے جن کی وجہ سے ایسے عناصر عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

سید شاہد عباس کے پیر نومبر کے مزید کالم