مجھے سلیفی لینی نہیں آتی

بدھ نومبر    |    عمار مسعود

بڑے بڑے لوگوں سے سب ملنا چاہتے ہیں، سب کی خواہش ہوتی ہے انکا ایک جھلک دیدار ہو جائے، آپ کے ہاتھ کے اشارے کو ہجوم میں انکی جانب سے پذیرائی مل جائے، انکے ساتھ سلیفی بنوائی جائے، ان سے آٹوگراف کی التماس کی جائے موقع ملے تو ان سے ہاتھ ملایا جائے ۔ ہو سکے تو احترام سے انکا ہاتھ چومنے کی سعادت میسر آئے، ان کے ساتھ آپ بھی معتبر ہو جائیں۔معزز کہلائیں۔
یہاں مجھے اقرار کرنا پڑے گا کہ مجھے سیلفی لینی نہیں آتی ۔
گلوکاری میں بھی کوئی کمال حاصل نہیں۔ رقص کرنا بھی میرے بس کی بات نہیں۔ا س سب کے باوجود میرا آج کا سارا دن بڑے بڑے لوگوں سے ملاقات میں گزرا۔ ان کے ساتھ بے تحاشہ سلیفیاں لیں، گیت گائے اور خوشی سے بھنگڑے ڈالے۔
زمرد خان صاحب کے سویٹ ہومز کے بارے میں سنا تو بہت تھا مگر آج دیکھ بھی لیئے۔

(خبر جاری ہے)

یہ وہی سویٹ ہومز ہیں جن میں سارے پاکستان کے یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان سویٹ ہومز کی سارے پاکستان میں کل بائیس شاخیں ہیں۔

جن میں تین ہزار آٹھ سو بچے پڑھتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر بچے وہ ہیں جو کسی قدرتی آفت کے سبب یتیم ہو گئے، کہیں سیلاب آگیااورکہیں زلزلہ، کسی کے گھر والے دہشت گردی میں بچھڑ گئے اور کسی کے والدین حادثے میں مارے گئے۔یہ سارے بچے یہاں وہ تعلیم حاصل کرتے ہیں جسکا خواب بہت سے لوگ دیکھتے ہیں ۔ ان کو وہی سہولیات میسر ہیں جو اسلام آباد کے رہائشیوں کا تقاضا ہو تا ہے۔
سویٹ ہومز کی جانب سے رائزنگ پاکستان فیملی کارنیول کا اہتمام کیا گیا۔
تین دن کے اس کارنیول کا آج آخری دن تھا۔ اس موقع پر مختلف قسم کے سٹال لگائے گئے جن کا بنیادی مقصد لوگوں میں شعور اور آگاہی اجاگر کرناتھا۔ موسیقی کا بھی اہتمام تھا ۔ معروف گلوکار علی عظمت نے بڑے شوق سے اس میں شرکت کی اور نوجوان باصلاحیت ڈی جے بھٹی نے اپنے مخصوص انداز میں بچوں کا دل بہلایا۔ کھانے پینے کے سٹال بھی موجود تھے ۔ انہی بہت سارے سٹالز میں ایک سٹال پاکستان سپیشل اولمپکس کا بھی تھا۔
اس سٹال پر میرے وہ سارے شوق پورے ہو گئے جن کا ابتداء میں ذکر ہو چکا ہے۔سپیشل اولمپکس پاکستان ،ایک ایسا ادارہ ہے جو معذور بچوں کی کھیل میں شمولیت کو یقینی بناتا ہے۔ انکی ٹیموں کو بین الاقوامی سطح پر نمائندگی دلوانے کے لیئے جدوجہد کرتا ہے، انکے حقوق کے لیے آواز بلند کرتا ہے۔ سٹال پر سپیشل اولمپکس پاکستان کی ریجنل ڈائریکٹر شمائلہ ارم، سپیشل والنٹیئر آمنہ یوسف اور اس ادارے کی خصوصی معاون سحر موجو دتھیں۔
عثمان حیدر اور نوید شہزاد بھی معاونین میں شامل تھے۔ جس شوق سے انہوں نے معذور بچوں کے کارنامے بیان کیئے اس شوق سے تو کوئی کسی وزیراعظم کا تعارف نہیں کرواتا۔ معذور بچوں کو پڑھانے اور سکھانے میں جس قدر دشوار مرحلے ہوتے ہیں اس دشواری کا شائبہ تک انکے چہروں پر نہیں تھا۔انکے چہروں پر جو خوشی تھی وہ ان کی سپیشل بچوں سے محبت کا ثبوت تھی۔آمنہ یوسف نے بچوں کے تعارف کی ذمہ داری سنبھال لی۔ پہلی ملاقات انیس سالہ نوجوان حسیب سے ہوئی۔
انکے ساتھ انکی والدہ لبنیٰ عباسی بھی موجود تھیں۔ یہ بچہ آٹس ٹک ہے۔ اس کو بولنے میں بڑی دشواری تھی۔ گھر سے باہر نکلنا مشکل لگتا تھا۔ لیکن جب سے سپیشل اولمپکس میں شامل ہوئے ہیں حسیب فر فر بولتے ہیں اور بین الاقوامی
سطح پر تقریری مقابلوں میں شرکت کر چکے ہیں ۔ انٹرنیشنل فورم پر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے بیس منٹ کی تقریر کر کے گولڈ میڈل بھی حاصل کر چکے ہیں۔ہمایوں اختراور نعیم خان کا تعلق القاسم سکول جہلم سے ہے۔
یہ دونوں ہنر مند نوجوان پھولوں کی ڈیکوریشن بناتے ہیں۔ دونوں سماعت و گویائی سے محروم ہیں۔ دونوں اپنے ہنر سے اپنے خاندان کا پیٹ پالتے ہیں۔ عثمان ذوالنورین بڑے کمال کے نوجوان ہیں ۔ قوت سماعت و گویائی سے محروم ہیں مگر خطاطی اور مصوری میں یکتا ہیں۔ انکے مخطوطات دیکھنے کا موقع ملا، انکی لائنوں کو سمجھنے کی کوشش کی ۔ ان ساتھ تصویر کھنچوانے کی سعادت نصیب ہوئی۔ اقصٰی جنجوعہ بڑی پیاری بچی ہے۔
بول نہیں سکتیں مگر پھر بھی کمال کرتی ہیں۔ پاکستان سپیشل اولمپکس کی جانب سے لاس اینجلس میں تیراکی کے مقابلے میں گولڈ میڈل جیت کر آئی ہیں۔ اشاروں کی زبان پر دسترس رکھتی ہیں اور دوسروں کو بھی یہ زبان سکھاتی ہیں۔ مجھے سپیشل اوالمپکس کی سپیشل والنٹیئر آمنہ یوسف جانب سے ایک پی کیپ اور ایک چائے کا مگ پیش کیا گیا۔ جس کو وصول کرتے ہوئے میں نے بفرمائش تصویر کھنچوائی۔اس دوران موسیقی کا سٹیج تیار ہو گیا۔
علی عظمت کے ساتھ مل کر سب نے گانے گائے۔ جو بول نہیں سکتے تھے وہ بھی ساتھ شریک تھے۔ جو سن نہیں سکتے تھے وہ بھی ہجوم کے ساتھ محو رقص تھے۔ میں ان سب کے ساتھ تھا اور یہ میری زندگی کا ایک یادگار دن تھا۔
آپ کو میں نے شروع میں ہی بتایا تھا کہ مجھے بڑے لوگوں سے ملنے کا شوق ہے، ان سے ہاتھ ملانے کی خواہش ہے ان کے ساتھ سیلفی بنانے کی تمنا ہے۔ ان سے آٹو گراف لینے کی آرزو ہے۔ آج سب خواہشیں پوری ہوئیں۔
یہ خدا کا شکر ہے کہ میں نے بڑے لوگوں سے ملنے کی تمنا میں کسی اسمبلی، کسی سرکاری ادارے کا رخ نہیں کیا۔جن لوگوں سے میں آج مل کر آیا ہوں انکی عظمتوں اورحوصلے کا مقابلہ کسی اسمبلی یا سرکاری دفتر میں نہیں ہو سکتا۔ وہاں صرف پاناما اور دھرنے کا کھیل کھیلا جاتا ہے۔دنیا کو یہی پاکستان دکھا یا جاتا ہے۔ جن عظیم لوگوں سے آج میری ملاقات ہوئی یہ اصل پاکستان ہیں۔ یہ اس ملک کا وہ چہرہ ہیں جو حسین تو ہے مگر سیاست کے اندھیر میں روپوش ہے۔ ان لوگوں سے ملیں توآپ کو اپنا آپ اچھا لگے گا ، یہ ملک یہ سماج اچھا لگے گا، محبتوں کا ادراک اچھا لگے گا۔
اگر چہ سلیفی بنانے کے فن میں مجھے کوئی کمال حاصل نہیں ہے مگر آج کے دن کی ساری سیلفیاں ان بڑے لوگوں کا مجھ پر احسان ہیں، میرے سینے پر فخر کا نشان ہیں، میری پہچان ہیں۔ میرے وطن کا مان ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمار مسعود کے منگل نومبر کے مزید کالم