ماضی اور حال

بدھ نومبر    |    محمد عرفان ندیم

انہوں نے سوال غور سے سنا ،کچھ دیر خاموش رہے اور بولے ”تمہارا سوال بجا ہے لیکن اس سوال کے جواب سے پہلے میں تمہیں ماضی میں لے جانا چاہتا ہوں“ میں ہمہ تن گوش ہو کر سننے لگا ، وہ بولے”دنیا کی پانچ ہزار سالہ معلو م تاریخ میں 21 نامور تہذیبوں نے جنم لیا ہے اور ان میں سے ہر تہذیب اپنے دور کی سپر پاور ہو ا کرتی تھی ، ان میں سمیری تہذیب ، حتی تہذیب ،فونیقی تہذیب، قدیم مصری تہذیب، بابل و نینویٰ کی تہذیب، ایرانی تہذیب، ہندی، یونانی اور رومی تہذیبیں نمایاں ہیں ، ان تہذیبوں میں سے کوئی بھی ایسی نہیں تھی جو ایک بار تباہ ہونے کے بعد دوبارہ منظر عام پر آئی ہو، ایسا تو ہوا کہ مابعد تہذیب نے ماقبل تہذیب کی بہت سی اقدار وروایات کو لے کر آگے بڑھایا لیکن من حیث المجموع کوئی تہذیب دوبارہ زندہ ہیں ہو ئی اور جہاں تک تمہارے سوال کا تعلق ہے کہ اسلامی تہذیب دوبارہ عروج حاصل کر سکتی ہے یا نہیں تو سنت الہیہ تو یہی ہے اور تاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے کہ کوئی تہذیب دوبار ہ زندہ نہیں ہوئی لیکن تمہارے اس سوال کا جواب علامہ اقبال نے دیا ہے ،میں علامہ کی طرف تمہیں بعد میں لے کر جاوٴں گا پہلے میں تمہیں اسلامی تہذیب کے تابناک ماضی کی طرف لے کر جانا چاہتا ہوں تا کہ تمہیں بات سمجھنے میں آسانی ہو “ میں نے کتاب بند کر کے بیگ میں رکھی اور ان کے چہرے پر نظریں گاڑھ لیں ، وہ بولے ”کیا تم جانتے ہو کہ دنیا کی سب سے پہلی مستند یونیورسٹی القرویین یونیورسٹی تھی اور یہ 859 میں مراکش میں فاطمہ الفرہی نامی شہزادی نے قائم کی تھی اور آج 1200 سال بعد بھی یہ یونیورسٹی اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے۔

(خبر جاری ہے)

فاطمہ الفرہی اور مریم الفرہی دو بہنیں تھیں ، یہ دونوں اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں، انھیں وراثت میں خطیر رقم ملی تھی، دونوں بہنوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی ساری دولت مسجد اور اس یونیورسٹی کی تعمیر پر خرچ کریں گی۔مشہور جغرافیہ دان محمد الادریس نے بھی اسی جامعہ میں تعلیم حاصل کی تھی۔ 1912 میں مراکش پر فرانس کے قبضے کے بعد اس جامعہ کا زوال شروع ہوا۔دنیا کا سب سے پہلا ہسپتال بھی 872 میں مصر کے شہر قاہرہ میں مسلمانوں نے تعمیر کیا تھا ،اس ہسپتال میں مریضوں کا علاج مفت کیا جاتا تھا۔
مسلمانوں نے ہی سب سے پہلے میڈیکل سٹورز قائم کئے تھے، طبی نقطہ نظر سے حجاموں کی دْکانوں کا معائنہ کیا جاتا تھا۔ گیارہویں صدی میں سفری ہسپتالوں کا بھی ذِکر ملتا ہے۔ دِمشق میں قائم عظیمْ الشان المنصور ہسپتال جس کے دروازے امیر و غریب، مرد و زن، تمام مریضوں کے لئے ہر وقت کھلے رہتے تھے اور اس میں عورتوں اور مردوں کے لئے علیحدہ علیحدہ وارڈ موجود تھے۔ ایک وارڈ مکمل طور پر بخار کے لئے ، ایک آنکھوں کی بیماریوں کے لئے ، ایک وارڈ سرجری کے لئے اور ایک وارڈ پیچش اور آنتوں کی بیماریوں کے لئے مخصوص تھا۔
اس کے علاوہ ہسپتال میں باورچی خانے، لیکچر ہال اور اَدویات مہیا کرنے کے لیے ڈسپنسریاں بھی موجود تھیں۔جدید آٹو موبائل انڈسٹری کی بنیاد بھی مسلم سائنسدانوں نے رکھی تھی ،الجزائری کا نام تم نے سنا ہو گا ،یہ 1136 میں پیدا ہو ا، اس کا سب سے اہم کارنامہ آٹو موبائل انجن کی حرکت کا اصول وضع کرنا تھا جس کی بنیاد پہ آج ریل کا انجن اور دیگر آٹو موبائل انڈسٹری ہماری زندگیوں میں ترقی اور آسائشیں لارہی ہے۔
اس نے آٹو موبائل انجن میں شافٹ کو متعارف کرایا جس نے انجینئرنگ کی دنیا میں انقلاب برپا کردیا تھا۔ دنیا بھر کے انجینئروں کا ماننا ہے کہ اگر شافٹ ایجاد نہ ہوتی تو آج آٹو موبائل انڈسٹری اتنی ترقی نہ کرپاتی۔ موٹر سائیکل ، گاڑی ، ہوائی جہاز ، خلائی جہاز ، جیٹ طیارے ، ٹینک وغیرہ کچھ بھی نہ بن پاتا“
گفتگو معلومات سے بھر پور تھی اور میری دلچسپی بڑھتی جا رہی تھی، انہوں نے ذرا دیر کے لیے توقف کیا اور گہری سانس لے کر بولے ” برطانیہ میں شیمپو ایک ترک مسلمان نے متعارف کروایا تھا،اس ترک تاجرنے 1759 میں برائی ٹن کے ساحل پر ایک دکان کھولی اور بعد میں یہ مسلمان، بادشاہ جارج پنجم اور ولیم پنجم کا شیمپو سرجن مقرر ہوا تھا۔
تم ہوائی جہاز اور پیرا شوٹ کی کہانی بھی سن لو ، رائٹ برادران سے ایک ہزار سال پہلے مسلم موسیقار، انجینئراور شاعر عباس ابن فرناس نے ایک اڑن مشین کی تیاری کی متعدد کوششیں کیں، 852 عیسوی میں اس نے قرطبہ کی ایک مسجد کے مینار سے ایک ڈھیلے لباس اور لکڑی کے پروں کے ساتھ چھلانگ لگائی، اسے توقع تھی کہ وہ ایک پرندے کی طرح ہوا میں تیر سکے گا مگر وہ ناکام رہا، مگر اس لباس نے اس کے نیچے گرنے کی رفتار کم کردی اور اس طرح دنیا کا پہلا پیراشوٹ وجود میں آگیا۔
کافی کا مشروب آج دنیا بھرمیں مقبول ہے اور یہ بھی مسلمانوں کی دریافت ہے،سینکڑوں سال پہلے خا لد نام کا ایک عرب چرواہا ایتھوپیا کے علاقے میں بکریاں چرارہا تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کے جا نور ایک خاص قسم کی بوٹی کھانے کے بعد چاق و چوبند ہوگئے تھے۔ اس نے اس درخت کے پتوں کو پانی میں ابال کر دنیا کی پہلی کافی تیار کی تھی۔ ایتھوپیا سے یہ کافی یمن پہنچی جہاں صوفی ازم سے وابستہ لوگ ساری ساری رات اللہ کا ذکر کرنے اور عبادت کر نے کے لئے اس کو پیتے تھے۔
پندرھویں صدی میں کافی مکہ معظمہ پہنچی، وہاں سے ترکی پھر 1645 میں وینس پہنچی۔ 1650 میں یہ انگلینڈ لائی گئی۔ ایک ترک مسلمان نے لند ن سٹریٹ پر سب سے پہلی کافی شاپ کھولی۔ عربی کا لفظ قہوہ ترکی میں قہوے بن گیا جو اطالین میں کافے اور انگلش میں کافی بن گی“۔انہوں نے چشمہ اتار کر میز پر رکھا اور میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا اور بولے ”زریاب قرطبی کا نام تو تم نے سنا ہو گا ،یہ غلام تھااور بغداد سے اندلس گیا تھا وہاں جا کر اس نے اندلسیوں کے طرزِطعام میں حیرت انگیز تبدیلیاں متعارف کروائیں۔
میز کرسی پر کھانا کھانے کا رواج انگریزوں کا نہیں بلکہ اسپینش لوگوں کا ہے، اسپین میں اسے زریاب نے متعارف کروایا تھا۔ صفائی اور خوشنمائی کے لیے کھانے کی میز پر شیٹ ڈالنے کا رواج بھی زریاب سے شروع ہوا۔ اندلس میں بڑی بڑی دعوتوں اور ضیافتوں میں شیشے کے برتنوں کا استعمال عام تھا۔ شیشے کے برتنوں کے علاوہ زریاب نے چمچ اور چھری کانٹے کا استعمال بھی متعارف کروایا۔ یورپ میں اکثرلوگ کئی کئی ہفتے نہیں نہاتے تھے۔
زریاب نے اہلِ اسپین کو دن میں دووقت نہانے کے فوائد بتائے۔ اسپین میں لوگ دانتوں کی صفائی پر خاص توجہ نہیں دیتے تھے۔ زریاب نے مقامی جڑی بوٹیوں کواستعمال کرتے ہوئے دنیاکاسب سے پہلا”ٹوتھ پیسٹ“ بنایا۔کپڑوں سے غلاظت اور عفونت کو دور کرنے کے لیے زریاب نے واشنگ پاوٴڈر متعارف کروایا“انہوں نے پہلو بدلا ،ٹانگ پے ٹانگ چڑھائی اور بولے ” اب آتے ہیں تمہارے سوال کی طرف ، علامہ اقبال سے بھی کسی نے یہی سوال کیا تھا کہ اور علامہ نے پورے یقین کے ساتھ اس کا جواب دیا تھا کہ ہاں اسلامی تہذیب دوبارہ عروج حاصل کر سکتی ہے اور اسے دوسری تہذیبوں پر قیاس نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اسلامی تہذیب کے پاس قرآن اور نبی مہربان کے اقوال کی صورت میں ابدی ہدایت موجود ہے اوراس ہدایت پر عمل پیرا ہو کر کسی بھی دور میں مسلمان اور اسلامی تہذیب دوبارہ عروج حاصل کر سکتے ہیں “ ۔
ان کی بات ختم ہو چکی تھی اور مجھے میرے سوال کا جواب بھی مل گیا تھا ،میں نے ہاتھ آگے بڑھا یااوراور یہ سوچتا ہوا تاریک رات کے سناٹے میں گم ہو گیا کہ کیا اسلامی تہذیب اور مسلمان دوبارہ کبھی عروج حاصل کر سکیں گے؟؟؟ ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد عرفان ندیم کے بدھ نومبر کے مزید کالم