بیگم نور میموریل ہسپتال

جمعرات دسمبر    |    حافظ ذوہیب طیب

کئی عشرے گذر جانے کے باوجود بھی ہمارے ملک میں صحت کی صورتحال اس قدر ابتر اور بوسیدہ ہے کہ دیہا توں میں رہائش پذیرا فراد تو دور کی بات بڑے بڑے شہروں کے مکین بھی ابتدائی طبی امداد کے لئے خوار ہوتے نظر آتے ہیں ۔ خادم اعلیٰ پنجاب، میاں شہباز شریف، جو صحت کی شعبے کو بہتر اور فعال کرنے میں بلاشبہ کوئی کسر نہیں چھوڑتے ،جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ پورے پاکستان میں پنجاب ایک ایسا صوبہ ہے جہاں صحت پر سب سے زیادہ خرچ کیا جا رہا ہے ۔
لیکن اس کے باوجود بھی شعبے کی بہتری میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی دیکھنے کو نظر نہیںآ تی۔ لوگ آج بھی اپنے پیاروں کے علاج کے لئے ہسپتالوں میں اپنی باری کا انتظار کرتے تھک جاتے ہیں اور پھر جس کے نتیجے میں بر وقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے موت ان کے پیاروں کا مقدر بنتی ہے اور وہ پوری زندگی اسی چیز کی کسک اپنے سینے میں چھپائے حکومت، ڈاکٹروں اور اس سسٹم کو برا بھلا کہتے ہوئے گذار دیتے ہیں۔

(خبر جاری ہے)


لیکن بہت کم لوگ بشیر احمد کی طرح ہوتے ہیں جو اپنی اس کسک کو ایک چیلنج کے طور پر لیتے ہیں اور حکومت، ڈاکٹروں اور سسٹم کو برا بھلا کہنے کی بجائے ،اپنے حصے کا چراغ جلا کر چاروں طرف پھیلی ہوئی تاریکی میں امید اور آس کے سفیر بن کر لوگوں میں آسانیاں تقسیم کر نے کا ذریعہ بن جاتے ہیں ۔

بشیر احمد ، پاکستان کے دوردراز اور سنگلاخ علاقے چکوال کے ایک دور افتادہ دیہات کے رہنے والے ہیں ۔باقی دیہاتیوں کی طرح ، غربت، بھوک، فاقہ کشی اور اسباب کی کمی جیسی لعنتیں ان کے سامنے بھی کھڑی تھیں ۔یہی وجہ تھی کہ اپنی ہر دلعزیز والدہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتا دیکھ کر بھی علاج کرانے کی رقم نہ ہونے کے باعث آہستہ آہستہ مرتے دیکھتے، اور اگر کچھ اسباب جمع بھی کر لئے جاتے تو میلوں کوئی ہسپتال کیا ڈاکٹر بھی موجود نہیں ہوتا ۔
بالآخر ایک روز انہی حالات میں والدہ محترمہ ان کے ہاتھوں میں اپنی جان ، جان آفریں کے نام سپرد کر کے انہیں تنہا چھوڑ جاتی ہیں ۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ بھی اور لوگوں کی طرح اپنے حالات پر سارا ملبہ ڈالتے ہوئے پوری زندگی اسی کسک میں گزار دیتے ، لیکن انہوں نے ایک دوسرے رستے کا انتخاب کیا،انہوں نے غربت، بھوک اور وسائل کی کمی کے باوجود حالات سے لڑنے کا عہد کیا اور معاشرے کا ایک معزز شہری بننے کا خواب اپنی آنکھوں میں سجائے اُس کو پورا کر نے کی سعی میں لگ گئے ۔
اللہ کریم کے وعدے کے بقول:” انسان جس چیز کی کوشش کرتا ہے وہ اسے مل جاتی ہے“ شبہ روز محنت اور سخت ترین جدو جہد کے بعد بہت جلد خواب کی تعبیر، ان کے مقدر میں لکھ دی جاتی ہے ۔ بھوک، افلاس اور غربت سے ہوتا ہوا یہ سفر ایک کامیاب کا روباری شخص پر آکر ہی نہیں رُکتا بلکہ اپنے ساتھ ہونے والے دکھوں کا مداوا کرتے ہوئے عام اور غریب لوگ، جنہیں ایک وقت کی روٹی دور کی بات ڈاکٹر کی بھی سہولت میسر نہیں ، اُن کو اس عذاب سے بچانے کی کوشش میں ایک ایسے ہسپتال کا قیام جہاں دنیاء صحت کی جدید ترین سہولیات میسر ہوں کی صورت میں اپنی والدہ محترمہ کے نام سے منسوب ”بیگم نور میموریل ہسپتال“ کا قیام اور اس کے بعد اس میں مزید بہتری لانے اور نہ صرف اس دور دراز علاقے بلکہ پاکستان کے بنیادی سہولیات سے محروم تمام علاقوں میں صحت جیسی سہولت کو لوگوں تک پہنچانے کا خواب شامل ہے ۔

قارئین !میں ہسپتال اوریہاں کا انتظام دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا کہ کیسے یہاں غریب مریضوں کو ایک بڑے پرائیویٹ ہسپتال جیسی مہنگی ترین سولیات مفت فراہم کی جا رہی ہیں ۔ 200بیڈز پر مشتمل سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال میں سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی زیر نگرانی ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ،کلینیکل لیبارٹری،بلڈ بنک،آپریشن تھیٹر کمپلیکس،ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ،مدر چائلڈ ہیلتھ سینٹر،ایمبولینس سروس،شٹل سروس ،ماڈرن فارمیسی اور اس جیسے ڈیپارٹمنٹ میں خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار لوگ انتہائی مہارت کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
اس کے علاوہ سٹلائٹ کمیونٹی کلینک اینڈ سنٹر،لرننگ سنٹربرائے ہیلتھ ایورننس پروگرام ، سکول ہیلتھ سروسزاینڈ ہیلتھ ایجوکیشن ، فرسٹ ایڈ ٹریننگ اورآئی۔سی۔یوبھی اگلے مرحلے میں تعمیر کئے جانے کا ارادہ ہے۔کچھ ہی عرصے میں 25ہزار سے زائد مریض کسی نہ کسی طرح یہاں سے مستفیذ ہو چکے ہیں جو ایک بہت بڑا کارنامہ ہے ۔
قارئین محترم ! بشیر احمد صاحب نے تو چکوال جیسے دور دراز اور بنجر علاقے میں رہنے والے ،حالات کی ستم ظریفیوں کے تھپیڑے برداشت کرتے، ہزاروں غریب لوگوں کے لئے بیگم نور میموریل ہسپتال بنا کر اپنے حصے کا چراغ جلا دیا ہے۔
کیا ہی اچھا ہو کہ ہم بھی حکمرانوں، حالات اور سسٹم کو برا بھلا کہنے کی بجائے بشیر احمد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی اپنی استطا عت کے مطابق لوگوں کی فلاح کے لئے ایسے ادارے بنا نا یا پھر ایسے اداروں کے ساتھ تعاون کر نا شروع کردیں تو کچھ بعید نہیں کہ کچھ ہی عرصے میں نہ صرف شہروں بلکہ دیہاتوں میں بھی صحت کی ناپید ہوتی سہولیات عام لوگوں تک با آسانی پہنچنا شروع ہو جائیں اورپھر جس کے نتیجے میں بشیر احمد جیسے کئی لوگ اپنی ماؤں کو اپنے ہاتھوں میں مرتا دیکھنے کی بجائے صحت مند اور ہنستا مسکراتادیکھ سکیں گے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

حافظ ذوہیب طیب کے پیر نومبر کے مزید کالم