بنکر نمبر بیالیس

بدھ نومبر    |    شاہد سدھو

یہ روس کے دارالحکومت ماسکو کا میرا پہلا وزٹ ہے۔سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد سے جس بڑے پیمانے پر روسی سفید ریچھ کے خلاف لٹریچر پھیلایا گیا اور ہالی ووڈ فلموں کے ذریعے روس کا جو نقشہ کھینچا گیا وہ دل دہلا دینے والا تھا۔ میرے لئے بھی ماسکو کا تصور کافی سنسنی خیز تھا۔ سوا کروڑ سے زیادہ آبادی کے اس وسیع و عریض شہر میں منفی درجہ حرارت اور برف باری کے باوجود زندگی اپنی پوری رفتار سے رواں دواں ہے، لیکن سوویت یونین کے انہدام کے باوجود ماسکو اپنی خوف زدہ کردینے والی شہرت سے دستبردار نہیں ہُوا۔

سیاحوں کے لئے ماسکو کے پاس ہے بنکر نمبر بیالیس۔ اس بنکر میں جانے کے لئے آن لائن بکنگ کرنی پڑتی ہے، لِہٰذا بکنگ کروائی اور وقت سے ذرا پہلے ہی وہاں پہنچ گئے۔

(خبر جاری ہے)

ایک بظاہر عام سی نظر آنے والی عمارت کی انتہائی دائیں جانب سبز رنگ کا لوہے گیٹ نصب تھا، جِسے دیکھ کر گیراج کا گمان ہوتا تھا۔گیٹ پر نصب انٹرکام بیل بجانے پر گیٹ کھل گیا ۔ اندر ایک چھوٹی سی انتظار گاہ تھی، جِس کی چھت پر فوجی ترپال ڈلی ہوئی تھی اور دیواروں پر سوویت یونین کی ریڈ آرمی کے نشانات نصب تھے۔

چند منٹوں میں کچھ اور خواتین و حضرات بھی پہنچ گئے جنہوں نے بکنگ کروائی ہوئی تھی۔ شہر کے وسط میں کریملن کے قریب واقع بنکر نمبر بیالیس سوویت یونین کی اسٹرٹیجک نیوکلیر فورس کی کمانڈ پوسٹ کے طور پر بنایا گیا تھا۔ تقریباً چار دہائیوں تک کمانڈ پوسٹ کے طور پر کام کرنے والے اس بنکر کی خفیہ حیثیت کو ۱۹۹۵ میں ختم کر دیا گیا اور ۲۰۰۶ میں اسے فروخت کر دیا گیا اور ایک کمپنی نے یہاں میوزیم بنا دِیا۔
وقت مقررہ پر فوجی وردی میں ملبوس گائیڈ نے بریفنگ کا آغاز کِیا۔ گائیڈ کا پہلا انکشاف ہی کافی حیرت انگیز تھا۔ اُس نے عمارت کی دیوار پر ہاتھ مارتے ہوئے بتایا کہ یہ جعلی عمارت ہے۔ مکمل عمارت کے بجائے وہ صرف سیمنٹ، کنکریٹ، اسٹیل اور اسی طرح کے میٹیریل کا ایک مستطیل ڈھیر تھا جو بیرونی سطح پر کئے گئے پلاسٹر اور ڈیزائن کی وجہ سے عمارت لگتا تھا۔ ظاہر ہے یہ سارا انتظام اِس جگہ کی مضبوطی اور اسے خفیہ رکھنے کے لئے تھا۔
گائیڈ ایک تنگ سے راستے کی طرف راہنمائی کرتے ہوئے بنکر کے داخلی دروازے پر لے آیا۔ لوہے کے مضبوط دروازے سے گذر کر ہم بارہ افراد کا گروپ سیڑھیوں کے پاس پہنچ گیا۔ گائیڈ کی سر کر دگی میں سیڑھیاں اترنے کا آغاز ہُوا۔ سیڑھیوں کی چوڑائی کچھ زیادہ نہیں تھی، ایک وقت میں ایک ہی فرد سیڑھیاں اتر سکتا تھا۔ہر سات سیڑھیوں کے زینے کے بعد چبوترہ آتا اور پھر مزید سیڑھیاں۔ سیڑھیاں شیطان کی آنت ثابت ہورہی تھیں، ختم ہونے کا نام ہی نہی لے رہی تھیں۔
ہر بار لگتا تھا کہ سفر تمام ہو نے والا ہے، مگر کیفیت وہی تھی جو منیر نیازی نے شعر میں بیان کی تھی۔
منیر نیازی سے معذرت کے ساتھ #
اک اور سیڑھیوں کا سامنا تھا مجھ کو شاہد
میں ایک سیڑھیوں کے پاراترا تو میں نے دیکھا
بنکر نمبر بیالیس سطح زمین سے پینسٹھ میٹر یعنی تقریباً دو سو تیرہ فٹ نیچے بنایا گیا ہے۔ یوں کہنا چاہئے کہ ہم کوئی بیس اکیس منزلہ زیر زمین عمارت کی سیڑھیاں اتر کر اس بنکر میں پہنچے۔
زیر زمین اتنی گہرائی میں جانے کا یہ میرا پہلا اتفاق تھا۔ بنکرکا رقبہ تقریباً سات ہزار مربع میٹر ہے ۔سیمی سرکل نما بنکر کے چار بلاک تھے، آمدورفت کے لئے سرنگ نما راستہ تھا۔ بنکر کی دیواروں پر اسٹیل اور دیگر دھاتوں سے ری انفورسمنٹ کی گئی تھی۔ فوجیوں کے قیام کے لئے چھوٹی چھوٹی بیرکیں بنائی گئی تھیں۔ ایک بلاک میں ریسٹورنٹ اور انٹرٹینمنٹ کے لئے بیرکیں بنائی گئی تھیں۔ یہ بنکر ، کریملن کے آس پاس پھیلے ہوئے زیر زمین سرنگوں اور سڑکوں کے خفیہ نظام کا حصہ ہے۔
زیر زمین سرنگوں کے ذریعے بنکر نمبر بیالیس کا رابطہ ماسکو میٹرو ریل سروس سے بھی جوڑا گیا تھا تاکہ فوجیوں کی آمدورفت میں آسانی ہو۔ اس بنکر کی تعمیر ۱۹۵۶ میں مکمل ہوئی۔ اس بنکر میں تین ہزار افراد کے بغیر بیرونی دنیا سے رابطے کے تین ماہ قیام کی گنجائش موجود تھی۔ پانی کی سپلائی کے لئے کنوے کھودے گئے تھے ۔ ہوا کی فراہمی کے لئے ایئر ری سائیکلنگ سسٹم نصب کیا گیا تھا۔ بجلی کی فراہمی کے لئے ڈیزل جنریٹر نصب تھے۔
خوراک ، فیول اور دیگر ضروری اشیاء کے اسٹور بنائے گئے تھے۔ یہ بنکر نہ صرف سوویت قیادت کو ایٹمی حملے سے محفوظ رکھنے کے ارادے سے بنایا گیا تھا بلکہ یہ سوویت اسٹرٹیجک لانگ رینج نیو کلیئر فورس کی کمانڈ پوسٹ بھی تھی تاکہ دشمن (امریکہ) پر جوابی حملہ بھی کِیا جاسکے۔ ایک بیرک میں اسٹالن کا آفس بنایا گیا تھا۔ اسٹالن کے آفس سے ملحقہ ایک بڑی بیرک میں میٹنگ روم تھا جہاں جنرلز اور مارشلز حملے کی پلاننگ کرتے تھے۔
بنکر میں نصب کمیونیکیشن نظام کی بدولت یہاں موجود کمانڈرز سوویت یونین کے زیر کنٹرول مختلف علاقوں میں تعینات ایٹمی اور میزائل دستوں کے کمانڈروں سے رابطہ قائم کرسکتے تھے اور ان کو حملے کے احکامات دے سکتے تھے۔ بنکر کے ٹور کو معلوماتی اور سنسنی خیز بنانے کے لئے ایٹمی اسلحہ کی دوڑ اور تباہ کاریوں پر ایک دستاویزی فلم بھی ٹور کا حصہ تھی۔ ٹور کے دوران ایک بیرک میں قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سے مختلف کمپوٹر اسکرینوں پر نصب بٹن دبا کر اور حملے کے پاس ورڈ فیڈ کرکے ایک امریکی شہر پر ایٹمی میزائل اٹیک لانچ کرنے کا لائیو مظاہرہ کِیا گیا اور بڑی اسکرین پراِس حملے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کی منظر کشی کی گئی۔
ٹور کے دوران ایک سرنگ سے گذرتے ہوئے اچانک تیز آواز میں سائرن بجنا شروع ہوگیا اور اعلان کیا گیا کہ ماسکو پر ایٹمی حملہ ہُوا ہے اور شہر تباہ ہوگیا ہے۔سائرن اور حملے کا اعلان ماحول کو گھمبیر بنانے کے لئے کافی تھا۔ اب ٹور اپنے اختتام پر تھا۔ گائیڈ نے کہا کوئی سوال تو ایک لڑکی نے فوراً زور سے کہا یہاں سے باہر نکلنے کا راستہ کِس طرف ہے، لوگ بے اختیا ر ہنس پڑے اور ماحول کی گمبھیرتا میں کمی آگئی۔

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

شاہد سدھو کے منگل نومبر کے مزید کالم