ذہن رسا اور حسن نیت

اتوار دسمبر    |    عمار مسعود

یہ بحث بہت پرانی ہے کہ فرد معاشرے کو درستگی پر آمادہ کر تا ہے یا پھرمعاشرہ ایک ایسا نظام وضع کرتا ہے جس میں فرد ، خود ہی راست رہتا ہے۔دونوں ہی باتیں تاریخی طور پر درست ہیں ۔ دونوں کی مثالیں موجود ہیں۔یورپ کے ممالک اورامریکہ میں نظام فرد پر حکومت کرتا ہے۔ نظام راستہ بنتا ہے، راہ دکھاتا ہے۔ غلطی پر ٹوکتا ہے۔ ناانصافی سے روکتا ہے۔ وہاں نظام کا کام صرف تادیب ہی نہیں ہے تعمیر بھی اس سے مقصود ہے۔
وہاں کا نظام دکھی انسانوں کی مدد بھی کرتا ہے۔غریبوں کا ہمدرد بھی کہلاتا ہے۔ معذوروں کو عزت بھی دلاتا ہے۔ محنت کشوں کو انکا حق دلواتا ہے۔ تعلیم، صحت، سماجی بہبود کے شعبے بھی پوری توانائی سے چلاتا ہے۔ ہمارے ہاں صورت حال مختلف ہے۔ یہاں نظام بوجوہ اتنا توانا نہیں ہو سکا کہ وہ سارے معاشرتی سقم دور کر سکے۔

(خبر جاری ہے)

نظام کے پھلنے پھولنے میں کچھ ایسی روکاوٹیں در آتی ہیں کہ ہم نظام سے جلد ہی مایوس ہو جاتے ہیں۔

اسی کو الزام دیتے ہیں اور اسی کے خلاف بغاوت کرتے ہیں۔اسی نظام کی نفی کو سب سے بڑا اثبات سمجھتے ہیں۔ ہمارا سماجی بہتری کا ماڈل مختلف ہے۔ ہم ہیرو کی تلاش میں رہتے ہیں۔ مسیحا کی آرزو کرتے ہیں۔ ہمارا خواب یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص آئے اور سب کچھ بدل دے۔ انقلاب ہمارے ہاں اب بھی سب سے مقبول نعرہ ہے۔ تبدیلی کی آواز احتیاطا ہی ہماری رگوں میں جوش بپا کرتی ہے۔ ہم ایک مضبوط نظام کی عدم موجودگی میں ہمیشہ ایک ایسے شخص کے منتظر رہتے ہیں جو آئے گا اور جادو کی چھڑی سے سب کچھ بہتر کر دے گا۔
سب خرابیاں ، خامیاں اور کجیاں اس کے ایک حکم سے رفع ہو جائیں۔ پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ہماری اسی سوچ کی وجہ سے ماضی میں ہمیں بہت ضر رساں نتائج بھی بھگتنے پڑے ہیں۔ جس سے نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ فرد اہم نہیں نظام اہم ہے۔ اس ساری بحث او ر تمہید کے باوجود ہمارے ہاں ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں ایک شخص تبدیلی کا استعارہ بنا اور بہت کچھ درست ہو گیا۔ بساط اوردائرے اس ضمن میں مختلف ہو سکتے ہیں مگر کچھ لوگ کمال کرتے ہیں۔

تعلیم ہمارے ہاں ایک ایسا میدان ہے جس کو ہر دور میں بڑی سہولت سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ چونکہ نتائج کے لیئے انتظار طویل اور راستہ کٹھن ہے اس وجہ سے نہ ڈکٹیٹر اور نہ ہی سیاسی حکومتیں اس شعبے کی طرف توجہ دے سکیں ۔نہ سلیبس میں متوقع تبدیلیاں ہوئیں نہ اساتذہ کی تربیت کا انتظام ہوا، نہ طالب علم میں علم کی طلب کو جگایا گیا نہ فروغ علم کی کوئی سنجیدہ سبیل کی گئی، نہ تعلیمی معیار میں مساوات آئی ور نہ ہی علم کی ترسیل کا کوئی ہمہ جہت منصوبہ سامنے آیا۔
یہ شعبہ نظرا انداز تھا اور نظر انداز ہی رہا۔
پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں ایک بہت اہم قدم انیس سو چوہتر میں اٹھایا گیا جب ذوالفقار علی بھٹو جیسے زیرک سیاستدان نے پاکستان میں پیپلز اوپن یونیورسٹی کا آغاز کیا۔ اس وقت یہ ایشیاء میں اپنی نوعت کی پہلی اور دنیا میں دوسری اوپن یونیورسٹی تھی۔ انیس سو ستتر میں اسکا نام تبدیل کر کے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی رکھ دیا گیا۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں درسگاہوں کی کمی، اساتذہ کی عدم دستیابی اورتحقیق کا فقدان ہے وہاں اس سے بہتر حل پیش نہیں کیا جا سکتا تھا۔
گھر بیٹھے تعلیم حاصل کرنے کا یہ منصوبہ ابتداء میں تو ٹھیک کام کرتا رہا مگر رفتہ رفتہ اس کا حال ہر سرکاری شعبے والا ہو گیا۔ جدت اور ندرت مفقود ہو گئے اور گریڈ اور سرکاری بھرتیاں تعلیم کے نظریئے پر حاوی ہونے لگیں۔معیار پست ہونے لگا اور طلبہ کی تعداد گھٹنے لگی۔ دو سال پہلے اس یونیورسٹی کے وائیس چانسلر کے منصب پر ڈاکٹر شاہد صدیقی کو تعینات کیا گیا۔ یہ وہی ڈاکٹر شاہد صدیقی ہیں جنہوں نے گارڈن کالج سے انگریزی ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور یونیورسٹی آف ٹورنٹو سے لسانیات میں پی ایچ ڈی کی۔
ڈاکٹر صاحب دنیا بھر کی بہت سی یونیورسٹیوں میں بے شمار تعلیمی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ انکے ریسرچ پیپرز دنیا بھر کے معروف تحقیقی جریدوں کی زینت بن چکے ہیں۔ انکی بہت سی تحقیقی کتب بھی شائع ہو چکی ہیں۔ ادب کے میدان میں بھی انکا ناول آدھے ادھورے خواب اردو ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ دو سال قبل جب علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا نظام و نسق ڈاکٹر صاحب کے حوالے کیا گیا تو صورت حال ابتر تھی اور چلینج بہت دشوار تھا۔
ورلڈکالمسٹ کلب کو دی جانے والی ایک پریزنٹیشن میں گذشتہ دو سالوں میں ہونے والی مثبت تبدیلیاں کے بارے میں جب بتایا گیا تو یقین مانیئے بے پناہ فخر کا احساس ہوا۔ گزشتہ دو برسوں کا سب سے بڑا کارنامہ تو یہ ہے کہ ان دو برسوں میں طلباء کی تعداد چھ لاکھ سے تیرہ لاکھ ہو گئی۔ سائینس کے نو نئے شعبے متعارف کروائے گئے۔آرٹس میں ان شعبوں کی تعداد پندرہ تک پہنچ گئی۔تحقیق کے کلچر کو فروغ دیا گیا۔سلیبس پر نظر ثانی کر کے مثبت تبدیلیاں کی گئیں۔
۔ متعدد انٹر نیشل کانفرنسز منعقد کروائی گئیں۔لائیبریری کو وسعت دی گئی۔ آن لائن کتب کی سہولت ہر فرد تک پہنچائی گئی۔معذور افراد کی تعلیم کی طرف خصوصی توجہ دی گئی۔ طلباء کی شکایات فوری طور پر دور کرنے کا انتظام کیا گیا۔ مستحق طلباء کی مفت تعلیم کا اہتمام کیا گیا ۔ دور دراز کے علاقوں میں تعلیم کے فروغ کو سہل بنایا گیا۔ طلباء کو تعلیم دینے کے جدید طریقے اپنائے گئے۔ ماڈرن ٹیکنالوجی کے جدید نظام کو تعلیم کے لیئے استعمال کیا گیا۔
یہ سب ایک ایسے ادارے کے کارنامے ہیں جو ایک سفید ہاتھی کے طور پر مشہور تھا۔ جس میں ترقی خواب ہو چکی تھی۔ جس میں بہتری کی خواہش سراب ہو چکی تھی۔
ہم اپنی ابتدائی گفتگو کی طرف واپس آتے ہیں کہ فرد زیادہ اہم ہے یا نظام؟ ہمارا ہمیشہ سے ووٹ نظام کے حق میں رہا ہے مگر ڈاکٹر شاہد صدیقی کے کارہائے نمایاں دیکھ کر بخوبی یہ کہا جا سکتا ہے کہ ذہن رسا اور حسن نیت میسر ہو تو ایک شخص بھی انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ تما م تر نفی کو اثبات میں بدل سکتا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمار مسعود کے ہفتہ دسمبر کے مزید کالم