گریٹر اقبال پارک، اہل لاہور کے لئے انمول تحفہ

بدھ دسمبر    |    حافظ ذوہیب طیب

لاہور ،جسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ اسے پارکوں کا شہر بھی کہا جا تا جا تا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی زبان پر یہ ضرب المثل عام ہے کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا ،اس نے کچھ نہیں دیکھا۔ میٹرو بس اور اب اورنج لائن کی تعمیر کی وجہ سے جب پورا شہر دھول و مٹی اوراجاڑ کا منظر پیش کر رہا تھا جس کی وجہ سے اہلیان لاہور سانس کی مختلف بیماریوں کے ساتھ غصہ، عدم برداشت اور ڈپریشن جیسی بیماریوں کا شکار ہو رہے تھے ۔
ان حالات میں لوگوں کو اس عذاب سے بچانے اور انہیں آسان اور سستی تفریح مہیا کر نے کی اشد ضرورت تھی جہاں یہ لوگ اپنا سارا غصہ اور ڈپریشن ختم کر کے سکون اور طبیعت میں تر و تازگی کا احساس اپنے اندر پیدا کرسکیں۔ مجھے جب کچھ روز پہلے یہاں جانا ہوا تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ کس خو بصورت طریقے سے اسے سجایا گیا ہے ۔

(خبر جاری ہے)


گریٹر اقبا ل پارک کی تعمیر بلا شبہ حکومت پنجاب کا اہلیان لاہور کے لئے ایک انمول تحفہ ہے ۔

مینار پاکستان اور اقبال پارک اب گریٹر اقبال پارک کا حصہ ہیں جبکہ بادشاہی مسجد شا ہی قلعہ عتیق سٹیڈیم ،سپورٹس کمپلیکس،مڑھی رنجیت سنگھ اور حفیظ جالندھری کے مزار کا احاطہ بھی 116ایکڑپر محیط اسی پارک کا حصہ ہیں ۔ تا حد نگاہ سر سبز و شاداب سبزہ، رنگ برنگے خوشبودار پھول اور انتہائی خوبصورتی کے ساتھ سجائے گئے مختلف اقسام کے پودے روح کو تازگی اور فرحت بخشتے ہیں جبکہ پارک میں داخل ہوتے ساتھ ہی ناچتے فوارے،رنگ برنگی روشنیاں اور ایک ہی وقت میں پانی کی لہروں ،مختلف رنگوں اورموسیقی کے ساتھ تھرکتے فواروں کو دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہاں ایک ایسی گیلری قائم کی گئی ہے جوتحریک پاکستان کے ہیروز کے نام سے منسوب ہو گی ۔جس میں ممتاز رہنماؤں کی تصاویر ،تاریخی کارناموں کو اجاگر کر نے کے علاوہ گیلری میں آڈیو اینڈ ویژل کا انتظام ہو گا جن کے ذریعے دس سے پندرہ منٹ پر مشتمل مختصر تاریخی ڈاکومنٹریزبھی دکھائی جائیں گی۔پارک میں فوڈ کورٹس کے چھ داخلی راستوں کو سندھ،بلو چستان خیبرپختونخواہ،پنجاب،گلگت بلتستان اور کشمیرکی ثقافت سے مزین کیا جائے گا۔
کمشنر لاہور ڈویژن عبد اللہ خان سنبل نے یہاں قائم ہسٹری میوزیم کے لئے آرکائیو ڈیپارٹمنٹ کو خط بھی لکھ دیا ہے جس میں انہوں نے میوزیم کی تیاری میں اہم کردار کے حامل سٹیزن آرکائیو آف پاکستان کو تحریک آزادی کی قیمتی دستاویزات تک رسائی دینے کی درخواست کی ہے۔ جبکہ تحریک آزادی پاکستان کے حوالے سے اہم دستاویزات ، خطبہ جات اور ایوارڈز کا ریپلیکاتیار کر کے رکھا جائے گا۔ جن اہم دستاویزات اور معلومات تک رسائی مانگی گئی ہے اس میں ستمبر 1944 کی جناح گاندھی گفتگو کا متن،ریڈ کلف ایوارڈ،تین جون پلان،وائے سرائے ہند کی پریس کانفرنس کا متن،صدارتی خطاب محمد علی جناحاور پٹنی سیشن 1938کے متن،آئین اور پکستان کے قوانین،پاکستان مسلم لیگ کی سرکاری دستاویزات،قائداععظم محمد علی جناح کے پاسپورٹ کی کاپی اور قائداعظم کے 1940کا آل انڈیا مسلم لیگ لاہور سیشن کے خطاب کے متن تک رسائی مانگی گئی ہے۔

قارئین کرام !گریٹر اقبال پارک ، بلاشبہ اپنی نوعیت کا این منفرد اور شاہکار منصوبہ ہے جہاں عوام الناس کو تفریح کے ساتھ ساتھ اسلاف اورپاکستان کی تاریخ سے بھی بہرہ ور کرانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ جس کے لئے خادم اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف، کمشنر لاہور عبد اللہ سنبل اور ڈائریکٹر جنرل :پی۔ایچ۔اے، شکیل احمد کی کاوشیں قابل تعریف اور قابل تحسین ہیں۔جبکہ پارک کے انتظام کے ذمہ دار اختر محمود صاحب بھی اپنی ذمہ داریاں بخوبی سر انجام دے رہے ہیں ۔
کاش!سر کاری محکموں میں بیٹھے ہمارے دوسرے افراد بھی ان لوگوں کی طرح اہلیا ن وطن کے لئے آسانیاں پیدا کرتے ہوئے ان کو گریٹر اقبال پارک جیسی سہولیات دینے کا عہد کر لیں تو کچھ بعید نہیں کہ صرف لاہور ہی نہیں بلکہ پورا پاکستان باغوں اور میدانوں کا پاکستان ہو، جہاں نفرتوں، عداوتوں اور عدم برداشت کی بجائے سر سبز و شاداب سبزہ، رنگ برنگے پھول اور لہکتے شجر لوگوں کی نظروں کو خیرہ کر رہے ہوں اور ایک ایسا پاکستان وجود میں آئے جس کے بارے میں فیض احمد فیض نے کہا تھا
خدا کرے میری ارض پاک پہ اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

حافظ ذوہیب طیب کے منگل دسمبر کے مزید کالم