جونیئر

ہفتہ دسمبر    |    محمد واجد طاہر

مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں بات کیسے شروع کروں مگر پھر ہمت جمع کر کے اور موقع کی مناسبت کو بھانپتے ہوئے میں نے بات کا آغاز کر دیا۔ مجھے لگتا ہے میرے اند ر وہ ساری خوبیاں ہیں جو کہ ایک بہتر فیصلہ ساز میں ہوتی ہیں ۔ یہ بات میں نے اپنے سینیر کو بڑے اعتماد سے کہہ ڈالی۔ اس نے حیرانگی سے میری طرف دیکھا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں کھوجتے ہوئے پوچھا تو۔تو میرا خیال ہے کہ آپ سٹوڈنٹ کمیونٹی کی فیصلہ سازی کا اختیار مجھے سونپ دیں۔
آپ نے آج تک سٹوڈنٹ کمیونٹی کے لیے جو کچھ کیا وہ قابل تعریف ہے لیکن اب مجھے بھی سیکھنے کا موقع ملنا چاہیے ۔ مجھے بھی زندگی میں فیصلہ سازی کا ہنر آنا چاہیے۔اگر آپ ہی سارے فیصلے کریں گے تو میں کبھی بھی فیصلہ سازی نہیں سیکھ پاؤں گا۔

(خبر جاری ہے)

اس لیے آپ یہ ذمہ داری اپنے سے چھوٹوں کو سونپ دیں تاکہ وہ بھی اپنی صلا حیتوں کو نہ صرف پرکھ سکیں بلکہ اپنے اندر پائی جانے والی خامیوں کو پہچان سکیں ۔انکو درست کر سکیں اور ترقی کے باقی زینے بھی طے کر سکیں۔

یہ سب میں نے ایک ہی سانس میں کہہ ڈالا۔
کچھ دیر میرا منہ دیکھنے کے بعد وہ بولے۔ اپنے اندر احساس ذمہ داری پیدا کرنا اور اپنی صلاحیتوں کو پرکھنااور کچھ کر دکھانے کی جستجو رکھنا تو بہت ہی اچھی بات ہے مگر آپکو یہ کیوں لگتا ہے کہ صرف سٹوڈنٹ کمیونٹی کی مکمل ذمہ داری کو لیکر ہی آپ اپنی صلا حیتوں کر نکھار سکتے ہیں ۔آپ پہلے ہی سٹوڈنٹ کمیونٹی کے ایک ایکٹو ممبر ہیں ۔اور جہاں تک مجھے پتا ہے آپ تو یہاں پر بغیر سکالرشپ کے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
آپکو جرمن زبان بھی نہیں آتی اس وجہ سے آپکو اپنے شہر میں ابھی پارٹ ٹائم جاب کا حصول بھی نا ممکن سا لگتا ہے ۔تقریبا ہر سمیسٹر میں آپکو دوسرے شہروں میں پارٹ ٹائم جاب کے لیے بھی جانا پڑتا ہے ۔ آپکی ان مصروفیات کی وجہ سے آپکی تعلیم کا بھی ہرج ہوتا ہے ۔ جو ٹائم آپکو مشکل سے میسر آتا ہے وہ آپ تعلیم پر دیتے ہو اسی لیے آپکے گریڈ بھی اتنے اچھے نہیں آ پاتے۔ آپ کس طرح سٹوڈنٹ کمیونٹی کے معاملات کو احسن طریقہ سے نبھا سکتے ہیں۔

میں کونسا اکیلا یہ سب کرنے جا رہا ہوں ۔میں نے جواب دیا ۔ہم سب ماسٹرز کے سٹوڈنٹس مل کریہ کام کریں گے۔ہم سارے عہدے اور ذمہ داریاں خود میں بانٹ لیں گے اور سٹوڈنٹ کمیونٹی کو آگے لیکر چلیں گے۔ویسے بھی آپ لوگ ہو نا۔ آپ ہم لوگوں کو رہنمائی دینا ۔جہاں ہم کو آپ لوگوں کی ضرورت پڑے گی ہم آپ کے پاس آ جائیں گے۔ اچھا تو آپ صرف ماسڑز کے سٹوڈنٹس ہی کیوں۔ جو سٹوڈنٹس یہاں جرمن ذبان سیکھ رہے ہیں یا پھر کسی بیچلر ڈگری میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہ تو آپ لوگوں سے بھی جونیر ہیں اور انکو تو آپ لوگوں سے بھی ذیادہ مواقع ملنا چاہیے تو پھر وہ کیوں نہیں ۔
انہوں نے پوچھا۔ یہ بات سن کر میں ہڑبڑا گیا اور یکدم مجھ سے کوئی مناسب جواب نہیں بن پایا ۔میں نے کہا تو پھر ٹھیک ہے وہ بھی اپنا نمائندہ لے آئیں اور الیکشن کروا لیتے ہیں جو جیت جائے وہ سٹوڈنٹ کمیونٹی کی بھاگ دوڑ سنبھال لے۔
انہوں نے کہا اچھا تو مسئلہ سٹوڈنٹ کمیونٹی کی بھاگ ڈور سنبھالنا ہے ۔ اگر اس وقت میں اپنی خدمت کی خواہش اوربے لوث کاوشوں سے نام نہاد سٹوڈنٹ کمیونٹی کے معاملات دیکھ رہا ہوں ۔
میں جرمن ذبان جانتا ہوں اس لیے میری یونیورسٹی کے دفاتر تک آسان بہچ ہے۔میرے پاس گاڑی ہے جو کہ ہر وقت سٹوڈنٹ کمیونٹی کے لیے حاضر رہتی ہے۔میں اپنا وقت نکال کر ہر اس کام کی ابتدا کرتا ہوں جس سے کسی بھی سٹوڈنٹ کو کسی بھی طرح کا فائدہ پہچ سکے چاہے وہ کسی کے گھر کا حصول ہو یا پھر کھیل کے لیے جگہ۔ تو آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میں یہ سارے کام ٹھیک نہیں کر رہا اور آپ ان کاموں کو مجھ سے بہتر انداذ میں کر سکتے ہیں۔

آپ یہ سب اس لیے کرتے ہیں تا کہ لوگ آپکی تعریف کریں۔آپ اپنی گاڑی سے لوگوں کو مرغوب کرتے ہیں۔ آپ لوگوں پر پیسہ لگا کر انکو جتاتے ہیں۔ اس لیے لوگ آپکے پیچھے باتیں کرتے ہیں۔ اس لیے اگر آپ چاہتے ہیں کہ سٹوڈنٹ کمیونٹی کا کام آگے چلے تو اس کی بھاگ دوڑ ہمارے حوالے کر دیں۔ میں نے ترکی بہ ترکی انکو جواب دیا۔وہ بولے اچھا تو اگر وہ سب کچھ جو میں کرتا ہوں آپ کو کرنے کا موقع ملے تو کیا یہ الزامات میں یا کوئی اور آپ پر نہیں لگا سکتا۔
آپ کے پاس کونسا پیمانہ ہے میر ی نیت کو بھاپنے کا۔میرا یہ خیال ہے کہ لو گ تو ہمیشہ تنقید کرتے ہیں چاہے وہ سچائی پر مبنی ہو یا پھر حسد پر۔ اور ہمارا معاشرہ ایسی امثال سے بھرا پڑا ہے لوگ تو شوکت خانم جیسے پراجیکٹس کو معاف نہیں کرتے۔ باقی بات رہی میرے پیچھے باتیں کرنے کی تو اگر کسی کو میرے رویہ سے پرابلم ہے تو وہ میرے ساتھ اس پر بات کرے اگر میں کسی کا گناہگار ہوا تو میں اس سے معافی مانگ لوں گا۔
میری کاوشوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنا تو کہیں کی عقلمندی نہیں۔
وہ بولے ۔آپ اچھی طرح جانتے ہو کہ ابھی ہم اسی ادارے کی بنیادوں کو تعمیر کر رہے ہیں۔ کسی ادارے کو بنانا اور کسی پہلے سے بنے ہوئے ادرارے میں آ کر بیٹھ جانا دو مختلف باتیں ہیں۔ ابھی تو ہم اسکو بنا رہے ہیں اور ہم سب اس کے لیے پوری نیک نیتی سے کام کر رہے ہیں۔ آپ اچھی طرح جانتے ہو کہ میں نے اس کو چلانے کا ایک خاکہ بنایا ہے جس کی بنیاد پر یونیورسٹی نے اسکو رجسٹر کر لیا ہے ۔
لیکن ابھی بھی بہت سے معاملات باقی ہیں ۔سب سے اہم مسئلہ اس کے عہدوں پر مناسب لوگوں کی تعیناتی ہے۔ الیکشن کے لیے ہمیں ٹی او آرز بنانے ہوں گے جس کہ تحت الیکشن کا انعقاد ہو سکے گا۔ کیونکہ دوسرے صورت میں ہر کوئی تمہاری طرح عہدوں کی ڈیمانڈ کرے گا اور جسکو کوئی عہدہ نہیں ملے گا وہ مستقل نالاں رہے گا۔ باقی بات رہی میری ابھی معاملات چلانے کی تو جونہی اسکے سارے عہدے پر ہو جائیں گے۔ کل کو جو بھی اسکے رہنما بنیں گے ہم خوشی سے انکے ساتھ کام کریں گے ۔
آپ کے پاس کیا گارنٹی ہے کہ آپ سب لوگوں کو ایک جگہ اکھٹا کر پائیں گے کیونکہ بہت سے لوگ آپ سے نالاں ہیں۔ میں نے انکی بات ٹوک دی۔
اس میں دو باتیں ہیں اگر کوئی میرے ساتھ نالاں ہے تو وہ مجھ سے بات کرے آپ کو اپنا وکیل نہ بنائے۔ دوسری بات مجھے آپ دنیا میں کوئی ایسی تنظیم یا ادارہ بتاو جہاں پر لوگ ایک دوسرے سے ذاتی بنیادوں پر ناراض نہیں ہوتے۔لیکن اسکے باوجود ادارے بنتے بھی ہیں اور چلتے بھی ۔
جانتے ہو کیوں ۔ کیوں کہ جو ابتدائی کاوشیں کرتے ہیں انکے درمیان ایک اعتبار کا رشتہ ہوتا ہے۔ وہ موقع پرست نہیں ہوتے۔ انکو اپنی صلاحیتوں کا ٹھیک ٹھیک ادراک ہوتا ہے اور وہ انکے مطابق حصہ ڈالتے ہیں ۔ وہ اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی کاشوں کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ وہ کسی بھی مشکل صورتحال میں آپکی طرح یہ خواہش لے کر نہیں آ جاتے کہ اس ادراے کو ہم لیکر چلیں گے اور وہ لوگ جو دن رات پہلے سے کام کر رہے ہوتے ہیں انکو سائیڈ پر ہو جانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ہماری مادری زبان میں اسے پیچھے سے چھری مارنا کہتے ہیں۔ اورآپ کی سمجھ کے لیے پولیٹیکل پراسس میں موقع پرست لوگ ایسے ہی کرتے ہیں جیسا کہ بھٹو نے ایوب کے ساتھ کیا پھر ضیا ء نے بھٹو کے ساتھ کیا۔امید ہے میری باتیں آپکو تھوڑا اپنے اندر جانکنے کا موقع دیں گی۔یہ کہہ کر وہ چلے دیے مگر میں دل ہی دل میں اور منصوبوں پر کام کرنے لگ گیا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد واجد طاہر کے ہفتہ دسمبر کے مزید کالم