اسامہ بھی شہید

پیر دسمبر    |    عمر خان جوزوی

ان سے میری پہلی ملاقات 2013ء میں اس وقت ہوئی تھی جب وہ اسسٹنٹ کمشنر ایبٹ آباد تھے، میں ملاقات کیلئے جونہی ان کے دفتر میں داخل ہوا ۔۔ مجھے دیکھتے ہی وہ فوراً اپنی کرسی سے اٹھے اور بڑی گرمجوشی کے ساتھ انہوں نے مجھ سے مصافحہ کیا ۔۔ میں نے ان کے بارے میں جو سنا اور سوچا تھا آدھے پونے گھنٹے کی ملاقات میں۔۔ میں نے ان کو اس سے بھی بڑھ کر پایا ۔۔ وہ واقعی شرافت ۔۔ شجاعت ۔۔ جرأت اور بہادری کا ایک پیکر تھے ۔
۔ آئین۔۔ قانون اور میرٹ کی بالادستی قائم رکھنے کیلئے وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر آگ و خون کے دریا میں چھلانگ لگانا اپنا فرض سمجھتے تھے۔۔ خاموشی ۔۔ سادگی ۔۔ ایمانداری اور خوش اخلاقی ان کی بنیادی صفتیں تھیں۔۔زیادہ وہ بولتے نہیں تھے ۔۔لیکن منہ سے جو الفاظ نکلتے وہ پھر انمول موتیوں سے ہرگز کم نہ ہوتے ۔

(خبر جاری ہے)

۔ غریبوں کا دکھ ۔۔ درد دیکھ کر وہ بے چین ہو جاتے ۔۔۔۔ اسی وجہ سے ایبٹ آباد ۔۔ پشاور اور پھر چترال میں تعیناتی کے دوران انہوں نے غریبوں کو ہی مرکز نگاہ بنائے رکھا ۔

۔ ایبٹ آباد کے وہ غریب لوگ جن کو قبضہ اور تجاوزات مافیا نے عرصہ دراز سے چاروں طرف سے اپنے پنجوں میں گھیر رکھا تھا بااثر اور سیاسی پشت پناہی کی آمیزش سے لبریز اس قبضہ اور تجاوزات مافیاکے کئی کئی فٹ لمبے پنجے انہوں نے سالوں اور مہینوں نہیں دنوں میں جڑوں سے ہی کاٹ ڈالے۔۔ جس پر ایبٹ آباد کے غریب لوگ آج بھی دونوں ہاتھ اٹھا کر ان کو دعائیں دے رہے ہیں ۔۔ غریبوں کے جسموں سے قبضہ و تجاوزات مافیا کے کانٹے نکالنے کے بعد تو پھر بہت جلدوہ ایبٹ آباد سے پشاور تبدیل ہوئے لیکن ایبٹ آباد کے عوام ان کو آج تک نہیں بھولے ۔
۔غریبوں کے ہاتھ آج بھی جب دعاؤں کیلئے اٹھتے ہیں تو ان کے لبوں پر سب سے پہلا نام اسی کا ہوتا ہے ۔۔۔ ہم نے تو کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ اس طرح پہاڑوں میں روٹھ اورگم ہو کر ہمیں چھوڑ جائیں گے ۔۔ اللہ گواہ ہے کہ اس کی جدائی ۔۔۔ روٹھنے اور بن بتائے ہمیں چھوڑنے پر ذرہ بھی یقین نہیں آرہا ۔۔ ہم جب بھی لبوں پر ان کا نام لاتے ہیں تو اس کا ہنستا مسکراتا چہرہ ہمارے سامنے آجاتا ہے ۔۔ حویلیاں طیارہ حادثے میں معروف نعت خواں اور مذہبی سکالر جنید جمشید سمیت دیگر 47 افراد کی شہادت پر تو ہر آنکھ نم ۔
۔۔۔ دل زخمی زخمی اور وجود غم سے بھاری بھاری ہے ۔۔لیکن اس حادثے میں اپنی اہلیہ اور معصوم بچی سمیت جام شہادت نوش کرنے والے ڈپٹی کمشنر چترال اسامہ وڑائچ کی اچانک جدائی نے تو ہمیں اور بھی دکھی کر دیا ہے ۔۔ ایک طرف جنید جمشید اور دیگر شہیدوں کی جدائی پر آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تو دوسری طرف اسامہ وڑائچ کے بچھڑنے کا غم اندراندرسے دل کو خون کے آنسو رلا رہا ہے ۔۔ میں تو ابھی تک والد کی جدائی کا گہرا صدمہ اور غم بھی سہہ نہیں سکاتھاکہ اوپر سے انتہائی پیارے دوست اور ایماندار آفیسر اسامہ وڑائچ بھی جدائی کا گہرا داغ اور کبھی نہ بھرنے والا زخم دے کے چلے گئے ۔
۔۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب اسامہ وڑائچ کی ایبٹ آباد سے پشاور ٹرانسفر ہوئی تو ٹرانسفر کی اطلاع ملتے ہی میں نے ان کو میسج کیا کہ ۔۔۔ بھائی جان سنا ہے آپ ہمیں چھوڑ کر جا رہے ہیں ۔۔ پانچ منٹ بعد ان کا میسج آیا۔۔ کہ ٹرانسفر یہ سروس کا ایک حصہ ہے ۔۔۔ کبھی ایبٹ آباد ۔۔ کبھی پشاور اور کبھی مانسہرہ یہ تبدیلیاں ہوتی رہیں گی لیکن ہم آپ کو کبھی چھوڑ کر نہیں جائیں گے ۔۔ پشاور گئے یا مردان ۔۔۔ پھر بھی آپ کے ساتھ رہیں گے ۔
۔ آپ کے دلوں میں رہیں گے ۔۔ اس نے ٹھیک کہا تھا ۔۔۔ پھر وہ ایبٹ آباد سے تبدیل ہو کر پشاور میں تعینات ہوئے لیکن پھر بھی وہ ہمارے دلوں میں رہے ۔۔۔ پشاور سے چترال تبدیلی بھی ان کو ہمارے دلوں سے نہ نکال سکی ۔۔۔ انہوں نے جرأت ۔۔ بہادری ۔۔ ایمانداری ۔۔ اور عجز و انکساری کے ذریعے نہ صرف مجھے بلکہ ایبٹ آباد کے عوام کو بھی اپنا گرویدہ بنایا تھا ۔۔ یہی وجہ تھی کہ جب حویلیاں طیارہ حادثے میں ان کی شہادت کی اطلاع آئی تو اپنی نم آنکھوں ۔
۔ دھڑکتے دل اور لرزتے جسم کے ساتھ میں نے بہت سوں کو سکتے کے عالم میں دیکھا ۔۔ انہوں نے جاتے جاتے لاکھوں دلوں کودکھی اور پورے ملک کی فضاء کو سوگوار کر دیا ۔۔۔ جنید جمشید کی طرح اسامہ وڑائچ بھی ہمارا قیمتی بہت ہی قیمتی اثاثہ تھے ۔۔ جنید جمشید دین اسلام کی تبلیغ عام کررہے تھے اور اسامہ وڑائچ ۔۔ معاشرے سے جھوٹ ۔۔ فریب ۔۔ دھوکہ بازی ۔۔ لوٹ مار ۔۔غنڈہ گردی۔۔ کرپشن اور ظلم کے گناہ مٹانے اور ملک میں امن کے قیام کیلئے برسر پیکار تھے ۔
۔ وہ چوروں ۔۔ لٹیروں ۔۔ جھوٹوں اور فراڈیوں کی آنکھوں کا کانٹا ضرور تھے مگر ساتھ وہ لاکھوں غریبوں اور مظلوموں کے دلوں کی دھڑکن بھی تھے ۔۔ وہ اگر چوروں اور لٹیروں کا صفایا کرنے کیلئے لڑتے اور بڑھتے جارہے تھے تو اس کی بڑی وجہ غریبوں اور مظلوموں کی وہ دعائیں تھیں جو ہمہ وقت ان کے ساتھ ہوتی تھیں ۔۔ شہادت کی موت بھی بڑے نصیب والوں کو ملتی ہے ۔۔ ہر کلمہ گو مسلمان کی یہ دلی خواہش ہوتی ہے کہ اسے شہادت کی موت نصیب ہو اور اس کیلئے لوگ آدھی آدھی راتوں کو نرم گرم بستروں سے اٹھ کر دعائیں بھی مانگتے ہیں مگر پھر بھی شہادت کی موت صرف ان کو ملتی ہے جن کے نصیب اچھے اور جن پر پروردگار عالم کی خصوصی رحمت ہو۔
۔ جنید جمشید اور اسامہ وڑائچ سمیت حویلیاں طیارہ حادثے میں شہید ہونے والے 47 افراد بڑے خوش قسمت تھے کہ انہیں شہادت کی موت نصیب ہوئی ۔۔۔ جنید جمشید اور اسامہ وڑائچ تو اس لحاظ سے اوربھی خوش قسمت نکلے کہ وہ جب تک زندہ رہیں نیکی کے کاموں سے جڑے رہے ۔۔۔ ایک کی زندگی اگر سماجی برائیوں اور عوامی فلاحی کاموں میں گزری تو دوسرا بھی دعوت دین کی تبلیغ کرتے ہوئے اس حال میں ہی اپنے رب کے حضور حاضر ہو گیا ۔
۔ حویلیاں طیارہ حادثے نے جنید جمشید اور اسامہ وڑائچ کو ہم سے جدا کرکے ہماری امیدیں زندہ درگور اور دلوں کا چین و سکون غارت کر دیا ہے ۔۔ یہ حقیقت کہ کلیدی عہدوں پر تعینات اور بے پناہ مصروفیت کے باعث اسامہ وڑائچ سے روز روز ملنا ممکن نہیں تھا لیکن پھر بھی ملنے کی امیدیں قائم تھیں ۔۔ موبائل اور سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ بھی تو ہوتا رہتا تھا لیکن اب ۔۔۔۔ ؟ہم کہاں ڈھونڈیں گے اسامہ کو ۔۔؟کہاں ملے گااب ہمیں پیاراسااسامہ۔
۔؟ایک نہیں دواسامہ ہم نے گنوادےئے۔۔اب کون بنے گاہمارااسامہ ۔۔؟اسامہ وڑائچ آپ تو کہہ رہے تھے کہ میں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا
۔۔پھر اچانک یہ روٹھنا کیوں ۔۔ ؟ اسامہ آپ تو شہادت کا جام پی کر سرخرو ہو گئے۔۔ مگر ہمارااب کیا ہو گا۔۔ ؟ ایبٹ آباد کی وہ گلیاں اور محلے جو آپ نے قبضہ مافیا سے واگزار کرائے ان پر چل کراب روز ہمیں آپ کی یاد ستائے گی ۔۔ ہم چاہتے ہوئے بھی آپ کواب کبھی بھول نہیں پائیں گے ۔
۔ آپ ہمارے محسن اور ہیرو تھے ۔۔۔۔ ہیں۔۔ اور رہیں گے ۔۔۔۔کیونکہ ہم اپنے محسنوں اور ہیروز کو کبھی بھولتے نہیں ۔۔ دعاہے کہ اسامہ وڑائچ اس دنیامیں بھی اسی طرح خوش رہیں۔۔اللہ کریم اسامہ وڑائچ اورجنیدجمشید سمیت حویلیاں حادثے میں شہیدہونے والوں کی مغفرت فرماکران کوجنت الفردوس میں اعلیٰ وارفع مقام نصیب فرمائے اورلواحقین کویہ عظیم سانحہ برداشت کرنے کی ہمت وتوفیق دے ۔۔آمین یارب العالمین
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمر خان جوزوی کے اتوار دسمبر کے مزید کالم