آخر کب تک ۔۔۔؟

بدھ دسمبر    |    پروفیسر رفعت مظہر

ہمارے کپتان کی ہدایت پر اُن کے وکیل نعیم بخاری نے سپریم کورٹ میں اعلان کر دیا کہ تحریکِ انصاف کو تحقیقاتی کمیشن قبول نہیں ۔ اُنہوں نے یہ کہتے ہوئے دھماکہ کر دیا کہ اگر سپریم کورٹ نے کمیشن بنایا تو وہ اِس کا بائیکاٹ کریں گے۔ یہ شائد پوری دنیا کی عدالتی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ کسی مدعی نے سپریم کورٹ کو بلیک میل کرنے کی دھمکی دی ہو۔ جہاں تک ہمیں یاد پڑتا ہے کہ کپتان صاحب کا تو پچھلے چھ ماہ سے یہی مطالبہ تھا کہ سپریم کورٹ تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے اور اُنہوں نے اپنی پٹیشن میں بھی کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ ہی کیا تھا۔
دوسری طرف میاں فیملی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عدالت کمیشن بنائے یا خود فیصلہ کرے ،ہر دو صورتوں میں اُنہیں قبول ہو گا۔

(خبر جاری ہے)

اِس سے پہلے وزیرِاعظم صاحب کا بھی یہ بیان منظرِ عام پر آ چکا ہے کہ عدالت فیصلہ کرے یا کمیشن بنایا جائے،اُنہیں دونوں صورتوں میں قبول ہے ۔ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا مطالبہ بھی اُنہی کی طرف سے آیا تھا۔ جماعت اسلامی اور ایک دوسرے مدعی کی جانب سے بھی تحقیقاتی کمیشن ہی کی بات کی گئی ۔

صرف تحریکِ انصاف ہی ایسی تھی جس نے کمیشن کی تشکیل پر اعتراض کیا ۔
یہ تو خیر پہلے ہی طے شدہ تھا کہ تحریکِ انصاف عدالتی کمیشن پر اعتراض اُٹھائے گی کیونکہ کپتان صاحب اِس کا اظہار کر چکے تھے اور اُنہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر کمیشن ہی بنانا ہے تو پہلے میاں نوازشریف استعفا دیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ کپتان صاحب نے عدالت کے روبرو اتنا بڑا یوٹرن کیوں لیا؟۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ تحریکِ انصاف عدالت میں ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکی اور اُس نے جو ثبوت اخباری تراشوں اور سوشل میڈیا کی رپورٹوں کے ذریعے پیش کرنے کی کوشش کی ، اُنہیں عدالت نے رَد کر دیا ۔
دَراصل تحریکِ انصاف کو وقت درکار تھا ، اِسی لیے یہ ڈرامہ رچایا گیا۔ حقیقتاََ تحریکِ انصاف سڑکوں پر نکل کر نواز لیگ کو بدنام کرنا چاہتی ہے۔ جس کا اظہار کپتان صاحب نے کر بھی دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اُنہیں کیس کی سماعت جنوری تک ملتوی ہونے کی وجہ سے شدید مایوسی ہوئی ہے ۔ وہ پاناما کیس کو بھولیں گے ، نہ بھولنے دیں گے اور سڑکوں پر آنے کا آپشن کھَلا ہے لیکن ہمارے خیال میں ایسا نہیں ہے کیونکہ کپتان صاحب کے چہرے سے مایوسی عیاں تھی اور اُن کے دائیں بائیں کھڑے اصحاب کے چہروں پر ”بارہ“ بج رہے تھے۔

چیف جسٹس آف پاکستان محترم انور ظہیر جمالی نے فرمایا کہ چونکہ وہ ریٹائر ہو رہے ہیں اور 15 دسمبر کے بعد عدالت میں نہیں بیٹھیں گے ۔ اِس کے علاوہ کورٹ کی چھٹیاں بھی ہو رہی ہیں۔ اب جنوری کے پہلے ہفتے میں نئے چیف جسٹس نیا بِنچ تشکیل دیں گے اور نئے سرے سے انکوائری ہو گی۔اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ فیصلہ اب بھی کر سکتے تھے لیکن سب کا پورا موٴقف سننا چاہتے ہیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ہزاروں پیپرز آپ لوگوں نے تو شائد پڑھے ہیں یا نہیں لیکن ہم تو اِن کا مطالعہ کرکے ہی کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں جو تین چار دِنوں میں ممکن نہیں۔
عدالت کے مختصر حکم میں کہا گیا کہ اب تک کی سماعت کو سُنا ہوا مقدمہ تصور نہ کیا جائے ، نیا بنچ چاہے تو وکلاء کو دوبارہ دلائل دینا ہوں گے۔
کپتان صاحب کو اِس فیصلے پر یقیناََ مایوسی ہوئی ہو گی ۔ اب اُنہیں یہ سوچنا ہو گا کہ آخر کب تک وہ سڑکوں پر آنے کی بیکار ”پریکٹس“ کرتے رہیں گے ۔ ایک طرف تو وہ سپریم کورٹ پر اندھے اعتماد کا اظہار کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف اُن کا رویہ یہ ہے کہ اگر عدالت تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے تو وہ اِس کے بائیکاٹ کی دھمکی دیتے ہیں۔
گویا اگر مَن مرضی کا فیصلہ آ جاتا ہے تو اعلیٰ عدلیہ بالکل درست اور اگر نہیں تو پھر سڑکوں کا آپشن تو کھُلا ہی ہے۔ کپتان صاحب کی سیاست کا تو خیر محورومرکز ہی یہی ہے کہ وہ اپنی پسند کا فیصلہ چاہتے ہیں اور اگر ایسا نہ ہو سکے تو بَرملا کہہ دیتے ہیں ”کتنے میں بِکے؟“۔ کپتان صاحب کے اِسی رویے کو مدّ ِ نظر رکھتے ہوئے چند دِن پہلے حمزہ شہباز نے کہا تھا کہ اُنہیں صرف ”شیروانی“ دَرکار ہے جو ہم سلوا کر دینے کو تیار ہیں جبکہ پرویز رشید وزارت کا قلمدان چھِن جانے کے بعد پہلی دفعہ نمودار ہوئے اور ساتھ ہی یہ کھڑاک بھی کر دیا کہ ”عمران خاں وزیرِاعظم کا استعفا مانگتے ہیں ، ہم استعفٰی تو کجا ،عمران خاں کو وزیرِاعظم کی کسی پُرانی شیروانی کا ٹوٹا ہوا بٹن دینے کو بھی تیار نہیں“۔
وزیرِمملکت انوشہ رحمٰن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عجیب بات ہے کہ عمران خاں اگر تحقیقاتی کمیشن نہیں بنتا تو ”لاک ڈاوٴن“ کی دھمکی دیتے ہیں اور اگر کمیشن بننے کی بات ہوتی ہے تو بائیکاٹ کی دھمکی۔ گویا ہر دو صورتوں میں وہ احتجاجی سیاست ہی کرنا چاہتے ہیں۔
کپتان صاحب نے تو اپنی سیاست کی بنیاد ہی ”احتجاجی سیاست“ پر رکھی ہے ۔ اکتوبر 2011ء سے اب تک وہ احتجاج ، احتجاج ہی کھیل رہے ہیں،عملی طور پر تو وہ یہ ثابت نہیں کر سکے کہ اُن کے اندر ایک ایسے رہنماء کی خصوصیات ہیں جوملک و قوم کے لیے کچھ نہ کچھ کر گزرنے کی اُمنگ جواں رکھتا ہو۔
2013ء کے انتخابات کے بعد اُنہیں ایک رہنماء کے طور پر اُبھر کر سامنے آنے کا موقع اُس وقت ملا جب تحریکِ انصاف نے خیبر پختونخوا میں حکومت بنائی ۔ اگر وہ اپنی تمام تر توجہ خیبر پختونخواکی ترقی پر مرکوز کر دیتے اور اُسے ایک مثالی صوبے میں ڈھالنے کی کوشش کرتے تو یقیناََ الیکشن 2018ء میں صورتِ حال مختلف ہوتی لیکن وہ تو احتجاج کی راہ پر چل نکلے ۔ آج اُن کا دامن تہی ہے اور عوام کو قائل و مائل کرنے کے لیے اُن کے پاس کچھ بھی نہیں۔
صرف میوزیکل کنسرٹ سے تو ووٹ نہیں ملا کرتے، اِس کے لیے کچھ کر کے دکھانا پڑتا ہے ۔ یہی صورتِ حال پیپلز پارٹی کی بھی ہے۔
پیپلز پارٹی جو بلاشبہ چاروں صوبوں کی جماعت تھی ، اب سُکڑ سمٹ کر صرف سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔ اُسے 2008ء کے انتخابات کے بعد اپنی کارکردگی دکھانے کا بھرپور موقع ملا جس میں وہ مکمل طور پر ناکام ہو گئی اور اُس کے رہنما کرپشن کی راہ پر ایسے چل نکلے کہ جیسے یہ لوٹ مار کا آخری موقع ہو ۔
اُس کے دَورِحکومت میں نہ صرف کرپشن اپنے عروج پر رہی بلکہ بدانتظامی بھی اپنی انتہاوٴں کو چھوتی رہی ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عوام نے اُسے بُری طرح دھتکار دیا اور اُس کی جگہ تحریکِ انصاف نے لے لی۔ لیکن اب یوں محسوس ہونے لگا ہے کہ جیسے پیپلز پارٹی ایک دفعہ پھر تحریکِ انصاف کو پچھاڑ دے گی۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اب مقابلہ پیپلز پارٹی اور تحریکِ انصاف کے درمیان ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ 2018ء کے انتخابات میں اِن دونوں میں سے کون سی جماعت دوسرے نمبر پر آئے گی۔
پہلا نمبر تو اب بھی نواز لیگ ہی کا ہے ۔ وجہ اُس کی یہ ہے کہ نوازلیگ نے بہرحال کچھ نہ کچھ کر کے ضرور دکھایا ہے۔ اقتصادی راہداری کی اُسی کے دَور میں بنیاد رکھی گئی اور اب وہ ما شاء اللہ آپریشنل ہوچکی۔ لوڈ شیڈنگ کے عفریت پر بہت حد تک قابو پایا جا چکا ، اور 2018ء تک لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں۔ سڑکوں کا جال بچھایا جا رہا ہے اور بین الاقوامی سرویز میں بھی ملک بہتری کی جانب گامزن نظر آتا ہے ۔ کشمیر کا مسٴلہ بھی اسی دَور میں نہ صرف اُبھر کر سامنے آیا بلکہ اِس میں جان بھی پڑ گئی ۔ آپریشن ضربِ عضب کی صورت میں دہشت گردی پر بڑی حد تک قابو پایا جا چکا ہے ۔ گوادر بین الاقوامی بندرگاہ کی صورت میں ڈھل چکی ہے اور کراچی کی روشنیاں بھی آہستہ آہستہ لَوٹ رہی ہیں ۔ اِس لیے محسوس تو یہی ہوتا ہے کہ اگلے پانچ سال بھی نوازلیگ ہی کے ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

پروفیسر رفعت مظہر کے پیر دسمبر کے مزید کالم