”بیمار حکمران “

جمعرات دسمبر    |    ارشاد بھٹی

قدرت اللہ شہاب ”شہبا ب نامہ “میں لکھتے ہیں کہ فالج کے مریض گورنر جنرل غلام محمد کا بلڈ پریشر مستقل ہائی رہتا ۔چند قدم چلنے سے بھی معذور وہ وہیل چیئر پر بیٹھ کر گورنر جنر ل ہاوٴس کا گشت کیا کرتے۔ہاتھوں میں رعشہ کی وجہ سے دستخطوں کے علاوہ کچھ لکھنے کے قابل نہ تھے ۔ فالج کی وجہ سے ان کی زبان کچھ اس طرح متاثر ہوئی کہ جب گفتگو کرتے تو غوں غوں ،غاں غاں اور خر خر کے علاوہ کچھ نہ نکلتا اور بات چیت کے دوران رالیں بہتی رہتیں جو مسلسل صاف کی جاتیں۔
کھاتے پیتے ہوئے کھانے کا کچھ حصہ منہ کے دونوں طرف سے باہر گرتا رہتا۔غصے میں منہ سے جھاگ نکلنے لگتی اور جب وہ چیخ چیخ کر خود ہی نڈھال ہو جاتے تو اسی انتظار میں موجود ڈاکٹر آجاتاجو انہیں اگلے غصے کیلئے تیار کرتا ۔

(خبر جاری ہے)

ان کی گفتگو صرف ان کی امریکن سیکرٹری مس روتھ بورل ہی سمجھ پاتیں اور وہی آگے بتا تیں کہ اس وقت گورنر جنرل صاحب کیا فرما رہے ہیں ۔ایک بار مصر کے صدر جما ل عبدا لناصر کہیں اور جاتے ہوئے ایک رات کیلئے کراچی رکے ۔

گورنر جنرل ہاوٴس میں ڈنر سے پہلے دونوں رہنماوٴں کے درمیان انگریزی میں کچھ اس طرح بات چیت شروع ہوئی ۔غلام محمد :۔پچھلے سال میں بڑا بیمار ہو گیا تھا ۔صدر ناصر :۔ (جن کے پلے کچھ نہ پڑا بولے )یس ایکسلینسی ۔گڈ۔ویری گڈ ۔غلام محمد :۔ میں اتنا سخت بیمار ہوگیا تھا کہ مرنے کے قریب تھا ۔صدر ناصر:۔یس ایکسلینسی۔گڈ۔ویری گڈ ۔اس سے پہلے کہ کچھ اور جاتا مس روتھ بورل نے آگے بڑھ کر ترجمانی کے فرائض سنبھال لیئے ۔
قائداعظم کی قبل ازوقت رحلت اور قائدِ ملت لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد معذور غلام محمد ہماری وہ بنیاد بنے کہ جس پر کروڑوں عوام والے ملک کی عمارت کھڑی ہوئی ۔اور پھر ایک آدھ کو چھوڑ کر ہر غلام محمد نے اس عمارت کا لالچ کے سیمنٹ ،مفادات کے سریئے اور سازشوں کی اینٹوں سے حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا ۔یہی وجہ ہے کہ آج7 6 سال گذرنے کے بعد بھی ملک ،قوم اور نظام کی صحت غلام محمد جتنی ہی قابل ِ رشک ہے۔اپنے ”غلام محمدوں “کے سدا بہار ویژن مطلب ذہنی صحت کا تذکرہ پھر کبھی سہی۔
آج بات ہوگی ان کی جسمانی صحت کی اور بات شروع کرتے ہیں قائداعظم محمد علی جناح سے۔ ملک وقوم کیلئے مسلسل تگ دو اور انتھک کام کرتے کمزور صحت والے قائداعظم کو پہلے ٹی بی اور پھر تپ دق ہوئی مگر وہ ڈاکٹروں کے مشوروں کو تب تک نظر انداز کرتے رہے جب تک پاکستان بن نہ گیا اور انکی یہ بیماریاں لاعلاج نہ ہو گئیں۔ اور پھر ایک روز وہ زیارت سے واپسی پر کراچی کی ایک سڑک پر اُس خراب ایمبولینس میں زندگی کی بازی ہار گئے کہ جس میں نہ آکسیجن کٹ تھی اور نہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے والی ادویات ۔
انتہائی شاہانہ زندگی گذارنے والے آخری گورنر جنرل اور پہلے صدر سکندر مرزا کو جب ایوب خان نے لندن جلا وطن کیا تو وہاں ایک صنعتکار کے فلیٹ میں مقیم وہ اور انکی بیگم ناہید مرزا مسلسل مالی پریشانیوں میں گھرے رہے۔کثرتِ شراب نوشی سے ان کے پھپھڑے جواب دے گئے ۔کانوں میں انفکشن کیوجہ سے اونچا سننے لگے ۔ کولیسڑول ہائی ہوا اور آخری دنوں میں علاج کے اخراجات برداشت نہ کر سکنے والے سکندر مرزا نے ایک طویل علالت کے بعد وفات پائی ۔
اردن کے شاہ حسین کو عشائیہ دے کر ایوان صدرپہنچتے ہی فیلڈ مارشل ایو ب خان کو ہارٹ اٹیک ہوا اور ہفتہ بھر موت وحیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد بہت زیادہ سکون کی دوائیوں کے استعمال سے وہ ایک عرصے تک سستی اورغنودگی کی کیفیت میں رہے۔شراب اورشباب میں غرق جنرل یحییٰ خان قید وبند کی صعوبتوں کے دوران بلڈ پریشر کے مریض ہوئے ۔بعد میں پھپھڑوں نے جواب دیدیا اور پھر فالج ہونے کے بعد سی ایم ایچ راولپنڈی میں انتقال کر گئے۔
ذوالفقار علی بھٹو کو کبھی کبھاربلڈ پریشر کی شکایت ہوجاتی۔وہ عمر بھر بے خوابی میں مبتلا رہے۔چاہنے کے باوجود زیادہ سو نہیں سکتے تھے ۔اُنہوں نے اپنے اس وہم کو بھی اپنی بیماری بنا لیا تھا کہ چونکہ ان کے دونوں بھائی امداد اور سکندر 39برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے ۔لہذا وہ بھی جوانی میں ہی فوت ہو جائیں گے ۔صدر فضل الہی چوہدری بلڈ پریشر اور گردوں کے عارضے میں مبتلا رہے ۔مارشل لاء لگانے کے بعد جنرل ضیا ء الحق جو بہت زیادہ سگریٹ پیا کرتے تھے اپنی بیٹی زین کے کہنے پر نہ صرف خود سگریٹ چھوڑ دی بلکہ ایوان صدر میں بھی سگریٹ پینے پر پابندی لگا دی ۔
ایک گلاس دودھ اور ایک سلائس سے ناشتہ کرنے اور آلو گوشت کے شوقین جنرل ضیا ء الحق کو کبھی کبھار السر کی شکایت ہوجاتی۔انہیں ”فٹ راٹ “بھی تھا جس کی وجہ سے پاوٴں کی انگلیوں کے درمیان جلد گل جاتی تھی ۔لہذا وہ سہ پہر کے بعد ربڑکی چپل پہنتے اور اگر کوئی اہم ملاقات ہوتی تو کوہاٹی چپل پہن لیتے ۔کم کھانے اور کم سونے والے صد غلام اسحق خان ویسے تو ملٹی وٹامنز کی گولیاں باقاعدگی سے لیتے تھے۔
مگر نواز شریف کے ساتھ اقتدار کی رسہ کشی کے دوران ایک وہ وقت بھی آیا کہ جب ان کو ”شیوزوفیرنیا“(منہ سے جھاگ نکلنے کی بیماری) ہوگیا ۔17اپریل 1993ء کو نواز حکومت کو برطرف کرنے والی تقریر میں اسی بیماری کی وجہ سے وہ رومال سے مسلسل منہ صاف کرتے رہے ۔قابل ِرشک صحت والے فاروق لغاری کو جب دل کی تکلیف ہوئی تو وہ انجیو پلاسٹی کروانے امریکہ گئے ۔مگر انجیو پلاسٹی کے اگلے دن ہی انہیں دوبارہ سینے میں شدید درد ہوا۔
دوبارہ ہسپتال سے رابطہ کیاگیا تو ڈاکٹروں نے اسے معمول کا درد قرار دیا ۔لیکن ایک گھنٹے بعد مسلسل بڑھتے درد کے ساتھ جب انہیں پسینے بھی آنا شروع ہوگئے تو فوری طور پرانہیں دوسرے امریکی ہسپتال منتقل کیاگیا۔جہاں جا کر پتا چلا کہ نہ صرف ان کے دل کی بڑی شریان بند ہے بلکہ صرف 20فیصد دل کام کر رہا ہے۔ہنگامی طور پر بائی پاس ہوا مگر صورتحال سنبھل نہ سکی۔ بعد میں بات کرتے ہوئے بھی ان کی سانس پھول جاتی ۔
آخری دنوں میں سی ایم ایچ راولپنڈی میں زیرعلاج مرحوم صدر کو ہارٹ ٹرانسپلانٹ کیلئے جرمنی لے جایا جانا تھا مگر زندگی نے مہلت ہی نہ دی ۔کمانڈ وصدر پرویز مشرف کی عدالت میں پیش کی گئی 9بیماریوں والی میڈیکل رپورٹ کے برعکس انہیں ایک آدھ مہرے میں ہلکا درد ،کبھی کبھار بلڈ پریشر اورمعمولی سی دل کی تکلیف ہے ۔ آصف علی زرداری انجیوپلاسٹی کرواچکے ہیں۔انہیں شوگر کے ساتھ ساتھ 11سال قیدوبند کی وجہ سے ”نروس سسٹم “کی پچیدگیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے ۔
سابق صدر رفیق تارڑ کی بھی انجیوپلاسٹی ہو چکی ہے ۔قائدملت لیاقت علی خان کو بلڈ پریشر اور کمر درد رہتا تھا ۔خواجہ ناظم الدین کو کھانے پر بالکل کنٹرول نہیں تھا ۔اکثر زیادہ کھا لیتے اور پھر ہاضمے کی گولیاں کھاتے رہتے۔وزیراعظم محمد علی بوگرہ کے بازوٴں اور ٹانگوں میں اکثر درد رہتا۔ 2ماہ وزیراعظم رہنے والے چوہدری محمد علی مختلف قسم کی بیماریوں میں گھرے رہے ۔سکندر مرزا کے پرزور اصرار پر 20ہزار قرضہ لے کر وہ بیرون ملک علاج کیلئے بھی گئے اور پھر ایک لمبی علالت کے بعد وفات پائی ۔
ملک کے پانچویں وزیراعظم حسین شہید سہرودری دل کے پرانے مریض تھے اور ایک شدید ہارٹ اٹیک ہونے پر بیروت میں وفات پائی ۔وزیراعظم ابراہیم اسماعیل چند ریگر کو مثانے کی تکلیف تھی ۔ تقریباً 9ماہ وزیراعظم رہنے والے فیروز خان نون کواکثر آشوپ چشم ہوجاتا اور انکے پاوٴں اکثر سوجے رہتے ۔وزیراعظم محمد خان جونیجو کو کولیسٹرول اور لو بلڈ پریشر کی شکایت رہی اور ایک موذی مرض میں مبتلا ہو کر وفات پائی ۔
چین سموکر ملک معراج خالد کو اکثر پھپھڑوں کی تکلیف رہتی ۔انہیں وقفے وقفے سے سردرد بھی ہوتا رہتا ۔بلڈ پریشر اور کمر درد کے مریض وزیراعظم ظفر اللہ جمالی کو گھٹنوں کی شدید تکلیف تھی ۔وہ روزانہ فزیو تھراپی کرواتے ۔بعد میں دل کی تکلیف ہوئی تو اُنہوں نے انجیوپلاسٹی کروائی ۔چوہدری شجاعت حسین رعشے اور شوگر کے مریض ہیں۔وزیراعظم شوکت عزیز کبھی کبھی اعصابی تناوٴ سے بچنے کی ادویات لیتے تھے ۔خوش لباس،خوش خوراک اور باقاعدگی سے چہرے کا فیشل کروانے والے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو اکثر بلڈ پریشر ہو جاتا ہے۔
وہ طبی معائنوں سے اس لیئے دور بھاگتے ہیں کہ کوئی بیماری ہی نہ نکل آئے ۔ و زیراعظم نواز شریف اور شہباز شریف دونوں کی انجیوپلاسٹی ہو چکی ہے ۔شہباز شریف ایک بڑی بیماری سے صحت یاب ہو چکے ہیں اور انہیں کم خوابی کی بھی شکایت رہتی ہے ۔بے نظیر بھٹو اکثر ملٹی وٹامنز کی گولیاں استعمال کرتیں ۔اور آخر میں ہر مشکل کا بہادری سے مقابلہ کرنے ،خاوند اور پھر یکے بعد دیگرے اولاد کی اموات کے صدمے سہنے والی بیگم نصرت بھٹو کا تذکرہ ۔انہیں گلے کا کینسر ہوا جو پھیل گیا ۔پھر بھولنے کی بیماری لگی اور آخر میں فالج ہونے پر قومے میں چلی گئیں اور اسی حالت میں ان کا انتقال ہوگیا ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ارشاد بھٹی کے بدھ دسمبر کے مزید کالم