امت سید لولاک سے خوف آتا ہے

جمعہ دسمبر    |    خواجہ محمد کلیم

رسول عربی ،خاتم الانبیا ﷺ کی عزت کی قسم ،میں نہیں سمجھتا کہ یہ اسلام کی تعلیمات ہیں ۔ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے ،ببانگ دہل یہ کہتا ہوں کہ رسول اللہ کے ناموس پر میرے ماں باپ اور اولاد بھی قربان ،لیکن غیر مسلموں کی عبادت گاہوں پر حملے اور دھاوے بولنا اسلام کیسے ہو سکتا ہے؟۔چکوال میں عین رسول اللہ کے یوم ولادت کے موقع پرایک قلیل گروہ کا احمدیوں کی عبادت گاہ پرحملہ جہالت ، رسول اللہ کی تعلیمات سے لاعلمی کا عکا س اور اسلام کے منہ پر کالک ملنے کے مترادف ہے ۔
قادیا نی یا احمدی اگر ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتے تو ان کے بارے میں پاکستان کی پارلیمنٹ ایک تاریخی فیصلہ کر چکی ،جس پر خط تنسیخ پھیر نے کی ہمت اب کسی میں نہیں۔ پاکستان میں بسنے والے قادیانیوں سے بھی گزارش ہے کہ اس فیصلے کو تسلیم کریں اور قومی دھارے میں شامل ہو کر اپنی حب الوطنی کو ثابت کردکھائیں ۔

(خبر جاری ہے)

پھر واضح کرتا ہوں !میرے بڑوں نے روح محمدی کو جس طور میرے دل و دماغ میں ڈالا ہے اسے کوئی نکال نہ سکے گا۔

بخدا میں نام محمد کا وکیل ہوں، ابوبکر و عمراور عثمان غنی  کا غلام ہوں ،حید رکرار کے نام سے قرار پاتاہوں لیکن کیا محمد عربی ﷺ پرایمان نہ رکھنے والے پر زمین تنگ کر دی جائے؟کیا اس کی جان کی حرمت برقرار نہ رہنے دی جائے؟کیا اس کا مال ومتاع لوٹ لیا جائے؟ کیا ان کی خواتین کی عزت محفوظ نہ رہے؟کیا ان کے بچوں سے محبت نہ کی جائے؟کیوں؟ایک کافراور مشرک کے بچوں سے بھی محبت مجھے میرے رسول ﷺ نے سکھائی ہے ۔
خود رسول اللہ کی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔مذہب کی بنیا د پر کسی بھی انسان کی جان ومال کو نقصان پہنچانا محمدی تعلیمات کے بالکل برعکس ہے ۔ کتنے ہی معرکے ایسے ہیں جہاں خود رسول اللہ نے صحابہ کرام  کو روانہ کرتے ہوئے غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کونقصان پہنچانے ،ہتھیار ڈالنے والوں کو جان کی امان دینے ،عورتوں اور بچوں پر ہتھیار نہ اٹھانے کی تلقین کی ۔ایک سچے عاشق رسول کے نزدیک قادیانی بھی تو غیرمسلم ہی ہیں ۔
ذرا تصور کیجئے ! اس سے بڑی گستاخی اور کیا ہو گی کہ ایک بڑھیا روزانہ رسول اللہ کے جسم اطہر پر کوڑا پھینکتی ہے لیکن اللہ کے رسول راستہ نہیں بدلتے بلکہ جب وہ بیمار ہوتی ہے تو آمنہ کے لعل بے قرار ہوجاتے ہیں ، اس بڑھیا کی کٹیا کو شرف نیاز بخشتے ہیں اور ا س کی تیمار داری کرتے ہیں اور گھر کے کام کاج بھی نبٹاتے ہیں ۔یہ واقعہ تو ہمیں سکول کی ابتدائی کلاسوں میں پڑھایا گیا تھا پھر ہم کیسے اس سبق کو بھول سکتے ہیں ۔
اس سے بڑی اذیت اور کیا ہوگی کہ حرم پاک میں اللہ کے رسول بارگاہ خداوندی میں سجدہ ریز ہیں اور کچھ ناپاک ہاتھوں نے غلاظت سے بھری اونٹ کی اوجڑی آپ کے سر پر ایسے باندھی کہ اللہ کے رسول کا دم گھٹنے لگا۔ قریب تھا کہ آپ کی روح اقدس جسم اطہر کا ساتھ چھوڑ دیتی لیکن دو معطر اور مقدس ہاتھوں نے آگے بڑھ کر آپ کو اس اذیت سے نجات دلائی ۔ اور پھر طائف کی وادی کس کو بھول سکتی ہے جہاں رسول اللہ پر اس قدر تشدد کیا گیا کہ آپ کے جسم اطہر سے خون پھوٹ پڑا اور پائے مبارک تک جا پہنچا ،چشم تصور سے دیکھئے کہ اللہ کے نبی نے طائف میں کس قدر اذیت اور تکلیف سہی ،کوئی رستم زماں دیکھا ہے تاریخ عالم نے کہ جو اس سلوک کے بعد اپنے دشمنوں سے بدلا لینے کا خیال تک دل میں نہ لائے بلکہ الٹا ان کے حق میں دعائے خیر کرے اوراپنے خالق سے ان کیلئے ایمان کی دولت سے نوازے جانے کی التجا کرے۔
کائنات کے خالق کے حکم سے فرشتہ حاضر خدمت ہوا اور کہا !اللہ کے رسول اگر آپ کی اجازت ہو تو ان گستاخوں کو پہاڑوں میں کچل کر رکھ دوں ۔ میرے ماں باپ قربان ، جان ِ فاطمہکے چہرے پر مسکان بکھری اور فرمایا نہیں ، ہو سکتا ہے مجھے مبعوث کرنے والا ان کو نہیں تو ان کی اولاد کو ایمان کی دولت سے مالا مال کر دے اس لئے میں ان کے حق میں کچھ برا کرنے کی حمایت نہیں کر سکتا ۔ عر ب کی وہ گھاٹی کسے بھول سکتی ہے جہاں رسو ل اللہ کواہل بیت اور صحابہ کے ہمراہ محصور کردیا گیا۔
تین برس تک سماجی بائیکاٹ کے بعد بھی اللہ کے رسول نے صبر اور حکمت کا دامن نہیں چھوڑا اور پیار و محبت کے ساتھ اپنے رب کی مخلوق کو رب سے جوڑنے کے لئے بے قرار رہے۔رحمتہ اللعالمین کے عہدے پر مسند نشین ہونا ہر گز آسان نہ تھا ، موسیٰ کلیم اللہ بھی گزرے، عیسیٰ روح اللہ بھی ،ابراہیم خلیل اللہ بھی اوراسمعیل ذبیح اللہ بھی ،ہر پیغمبرعلیہ السلام نے توحید کا پرچار کرتے ہوئے بے شمار قربانیاں دیں۔تاریخ کے اوراق ان تکلیفوں اور اذیتوں سے بھرے پڑے ہیں جو اللہ کی مبعوث کی گئی ہستیوں نے اپنی جانوں پر ہنستے مسکراتے برداشت کیں اوراپنے فرائض کے سلسلے میں اللہ کے ہاں سرخرو ہوئے لیکن تاریخ عالم آمنہ کے لعل جیسی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے اور رہے گی ۔

میں کوئی عالم یا مفتی نہیں بلکہ ایک عام سا مسلمان ہوں اور اتنا جانتا ہوں کہ پیار ، محبت اور حکمت سے آپ جنگل کے درندوں کو بھی اپنا تابع فرمان بنا کر سرکس میں ناچنے پر مجبور کر سکتے ہیں لیکن ڈنڈے کے زور پر آپ ایک چیونٹی کوبھی اپنا راستہ بدلنے پر مجبور نہیں کر سکتے ۔ اس لئے جو رسول عربی کے سچے غلام ہیں ، ان کی حقیقی تعلیمات پر عمل کرنے والے ہیں ، ان کے اسوہ حسنہ کے فروغ پر یقین رکھتے ہیں ان کو اب اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
فرقہ واریت اور دہشتگردی نے اس قوم کے تن پر ایسے ایسے زخم لگائے ہیں جو بھرنے کے لئے ایک مدت درکار ہے لیکن اقوام عالم کی صف میں کھڑے ہوکر ہمیں ایک اور داغ اپنے دامن پر لگنے سے بچانا ہوگا۔ہمیں سوچنا ہو گا کہ کہیں ہم جانے انجانے اس جال میں تو نہیں پھنس رہے جس میں دشمن ہمیں پھنسانا چاہتا ہے تاکہ قدرتی اور انسانی وسائل سے بھرپور یہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہ ہوسکے۔ ہمیں اپنے رسول کی تعلیمات کے عین مطابق صبر اور حکمت کے ساتھ پرایوں کو اپنا بناناہوگا۔
ایک ہندو شخصیت ”اچاریہ پرامود کرشنن“کی نعت کے اشعار ہیں ۔۔۔
سبق تم نے محبت کا ہراک انساں کو سکھلایا
مقدس راستہ دے کر دین دنیا میں پھیلایا
تمہی ساگر،تمہی دریا ،تمہی کشتی ،تمہی ملاح
رسول اللہ،رسول اللہ،رسول اللہ،رسول اللہ
اس لئے دوستو! میری گزارش ہے کہ نفرتوں کے الاوٴ جلانے کی بجائے رسو ل اللہ نے محبت کا جو درس انسانیت کو دیا ہے اسے ایک بار پھر سے دہرایاجائے تاکہ مملکت خداوندی امن و آشتی کے ساتھ ترقی و خوشحالی کے راستے پر گامزن ہو سکے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک بار پھر ہم پر یہ پھبتی کسی جائے کہ ،
امت سید لولاک سے خوف آتا ہے
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

خواجہ محمد کلیم کے جمعرات دسمبر کے مزید کالم