اس سے پہلے کہ سانسیں رُک جائیں

جمعہ دسمبر    |    حافظ ذوہیب طیب

گذشتہ دنوں دو ایسے بڑے واقعات رونما ہوئے جس کے بعد کم از کم میں تو یہ بات سوچنے پر مجبور ہوں کہ اپنی اپنی طاقتوں کے نشے میں مست ،ہم لوگ اس قدر بے بس و لاچار ہیں کہ اگلے لمحے کا معلوم نہیں کہ سانس لے سکیں گے یا نہیں؟۔ بڑے بڑے محلات ، بڑی بڑی صنعتیں وکاروبار، بے تحاشہ رقم کا انبار اور بڑے بڑے ذاتی معا لج رکھنے کے باوجود بھی ہم اس بات سے غافل ہوتے ہیں کہ نا معلوم ہمارے سینے میں دوڑتی بھاگتی سانسوں کوچلنے کی مزید مہلت نصیب ہو سکے گی یا نہیں؟
ناصر سعید ، ملک کے ایک معروف تاجر اور حکمران جماعت کے بڑے رہنما تھے۔
ان کے ایک اشارے پر رکے ہوئے کام ہو جاتے اور ہونے والے کام رک جاتے تھے۔ لاہور کی تاجر برادری میں انہیں ایک نمایا مقام حاصل تھا ۔

(خبر جاری ہے)

دولت ، شہرت اور طاقت ، یہ تینوں نعمتیں انہیں حاصل تھیں ۔ کچھ رو ز پہلے فیس بک پر انہوں نے اپنی ایک ایسی خوبصورت تصویر شئیر کی جسے دیکھنے والاضرور یہ سوچتا تھا کہ کیسا مطمئن انسا ن ہے ۔تصویر کو شئیر ہوئے ابھی دو گھنٹے ہی گذرے تھے کہ خبر ملی لاہور میں تاجروں کی ایک تقریب سے خطاب کے دوران انہیں ہارٹ اٹیک ہوا ،جنہیں اسی حالت میں فوراََ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وی۔

وی۔آئی۔پی میڈیکل سہولیات دے گئیں لیکن شدت مرض کی وجہ سے وہ جانبر نہ ہوئے اور کچھ دیر پہلے تک دنیا کی تینوں نعمتوں کی طاقت رکھنے والا، بظا ہر ہشاش بشاش اور صحت مند نظر آنے والا ناصر سعید تاریخ کا حصہ بن جا تا ہے ۔ اب ان کا چہرہ اداس اور رنگ زرد ہو چکا تھا اور دولت، شہرت اور طاقت یہ تینوں چیزیں ان کے ہاتھوں سے نکل گئی تھیں۔
قارئین ! میں ابھی ناصر سعیدکی اچانک موت کے بعد انسانی زندگی کے حوالے سے سوچ رہا تھا کہ ایک اور دالخراش خبر سامنے آگئی کہ پاکستان ائیر لائنز کا طیارہ پی۔
کے 661جو چترال سے 48مسافروں کو لے کر اسلام آباد کے لئے محو پرواز تھا ، اپنی منزل مقصود تک پہنچنے سے پہلے ہی حادثے کا شکار ہو گیا اور اس میں موجود تما م مسافراپنی اصل منزل مقصود تک پہنچ چکے تھے۔ اس خبر نے مجھ سمیت لاکھوں لوگوں کو دکھ اور کرب کی وادی کا مسافر بنا دیا تھا جہاں سے نکلنے کی ہر کوشش نا کام و نامراد ٹہرتی تھی۔ ویسے تو تما م لوگ اپنی اپنی جگہ اہم ہوتے ہیں جس میں کوئی کسی کی ماں ، باپ یا بیٹی تھی لیکن جنید جمشید، ان کی اہلیہ ڈی۔
سی چترال اور چترال کے ایک ہی گھر کے چھ افراد بھی شامل تھے ۔ چترال کی 14سالہ حسینہ بی۔بی کے ماں، باپ،دو بہنیں اور دو بھائی اس حادثے کی نظر ہو چکے ہیں۔ ساتویں کلاس میں زیر تعلیم اس بچی کا اب کل سر مایہ گھر کی دیواریں اور اپنوں کی حسین یادیں ہیں۔ حسینہ کو بھی اس بد قسمت طیارے میں اپنے گھر والوں کے ساتھ اسلام آباد جانا تھا لیکن اپنے امتحانات کی وجہ سے اسے پراگرام منسوخ کر نا پڑا۔
قارئین کرام ! پی۔
آئی۔اے کے اس مسافر طیارے میں سوار تما م لوگوں کے بھی ہماری طرح بڑے بڑے خواب تھے، مستقبل کی پلاننگ تھے، اپنے لئے، گھر والوں کے لئے اور دوسروں کے لئے بہت سے ارمان تھے جو پورے کر نے تھے لیکن قدرت نے انہیں، ان کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا وقت ہی نہیں دیا، اور یوں وہ اپنی بیسیوں خواہشات، دسیوں پلاننگز اور کئی خوابوں کو اپنے سینے میں لئے ہی اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ اس میں کئی ایسے بھی ہو نگے جو لوگوں پرظلم رواء رکھنے کے تما م ریکارڈ توڑنے کا اعزاز اپنے سینے پر سجائے ہوئے ہو ں گے، لوگوں کے حقوق غضب کر نے والے، فراڈ، ظلم اور نا انصافی کے ذریعے دولت کے انبار لگانے والے بھی ہو نگے۔
اور ہ لوگ بھی ہو نگے جومستقبل قریب میں اپنے ان تما م مظالم پر اپنے اللہ کے حضور معافی طلب کر کے اپنے گناہوں کا ازالہ کر نے والے ہو نگے۔ لیکن ! قدرت کے آگے بھلا کس کا بس چلتا ہے ۔ ان کی تما م امیدیں، تما م خواب اور اپنے گناہوں پر توبہ اور ازالہ کر نے کی پلاننگ پوری نہیں ہو پائی ۔
انسان جتنا بھی طاقتور ہو جائے ، عزت، شہرت اور دولت کی تینوں نعمتیں بھی اس کو میسر کیوں نہ آجائیں لیکن موت جیسی حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ۔
موت ایک پل میں انسان کی سب امیدوں اورآرزؤوں کو ختم کر کے رکھ دیتی ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ اٹل حقیقت ہمیں بھی آگھیرے ،اس سے پہلے کے سانسیں رُک جائیں ،آئیں اپنا اپنا احتساب شروع کریں ، جن لوگوں کے ساتھ ظلم و زیادتی والا معاملہ روا ء رکھا ، جن کی حق تلفی کی ، ان سب سے معافی مانگیں ۔کیامعلوم ہمارے نصیب کی بس چند سانسیں باقی ہوں اور آنے والے کچھ لمحوں میں ہم بھی، ناصر سعید اور پی۔کے 661کے مسافروں کی طرح ہمارے چہرے بھی سرخ سے زرد ، ہمارا جسم بے جان اور دسیوں خواب سجانے والی ا ٓنکھیں پتھرا جائیں اور سینے میں پلتی بیسیوں خواہشات ، خواہشات ہی رہ جائیں ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

حافظ ذوہیب طیب کے جمعہ دسمبر کے مزید کالم