اندرونی و بیرونی محاذوں کے چیلنجز

ہفتہ دسمبر    |    پروفیسر رفعت مظہر

کپتان صاحب نے بائیکاٹ ختم کرکے ایک دفعہ پھر پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کا اعلان کر دیا ۔ شاید اُنہوں نے سوچا ہو گا کہ دھرنوں کے لیے فضا ابھی سازگار نہیں ، اِس لیے پارلیمنٹ ہی میں جا کرلہو گرم رکھنے کا بہانہ تراشا جائے ۔ دراصل جتنی دیر تک ”رَولا شَولا“ نہ ہو ، کپتان صاحب کو چین نہیں آتا۔ کچھ عرصہ پہلے اُنہوں نے اسلام آباد کو ”لاک ڈاوٴن“ کرنے کی ٹھانی لیکن اِس بار وزیرِ داخلہ چودھری نثار علی خاں کا موڈ کچھ اورہی تھا ۔
اُنہوں نے تحریکِ انصاف کے سامنے ایسی سدّ ِ سکندری کھڑی کی کہ سب کچھ ”ٹائیں ٹائیں فِش“ ہو گیا۔ کپتان صاحب تو بنی گالہ ہی سے نہ نکل سکے اور ہمارے وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک المعروف ”تیلی پہلوان“ کے سارے دعوے دَھرے کے دھرے رہ گئے۔

(خبر جاری ہے)

وہ کے پی کے سے نکلے تھے کپتان صاحب کو بنی گالہ سے ”رہا“ کروانے لیکن چودھری نثار نے ایسی پلاننگ کی کہ پرویز خٹک بُرہان انٹرچینج سے ہی واپس ”دُڑکی“ لگا گئے ۔

وہ تو اللہ بھلا کرے سپریم کورٹ کا ، جس نے 2 نومبر کو تحقیقاتی کمیشن بنانے کا اعلان کر دیا اور خاں صاحب بُری ہزیمت سے بال بال بچے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کپتان صاحب نے پاناما کیس سپریم کورٹ میں اوپن ہونے پر بڑی خوشیاں منائیں کہ اُنہیں سپریم کورٹ کے باہردِل کی بھڑاس نکالنے کا موقع جو مِل گیا تھا۔
جب سپریم کورٹ نے جنوری 2017ء کے پہلے ہفتے میں نئے چیف جسٹس ، نئے بنچ اور اَز سرِنَو تحقیقات کا حکم دیا تو کپتان صاحب کو سخت مایوسی ہوئی اور اُنہوں نے ایک دفعہ پھر سڑکوں پر نکلنے کا عندیہ دے دیا۔
شاید اُنہیں حواریوں نے سمجھایا ہو گا کہ چودھری نثار علی کے تیور بڑے خطرناک ہیں اور ہمارے نرم ونازک ”سونامیے“ اِس کی تاب نہیں لا سکتے۔اِس لیے سڑکوں پر آنے کا آپشن تو رہنے ہی دیں ۔ اِس لیے کپتان صاحب نے پارلیمنٹ میں ”دھماکے“ کرنے کا پروگرام ترتیب دیتے ہوئے کہہ دیا کہ اُنہیں سپریم کورٹ نے سخت مایوس کیا ہے، اِس لیے اب” پاناما کھڑاک“ پارلیمنٹ میں کیا جائے گا ۔ اِس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ پہلے پیپلز پارٹی ”گو نثار گو“ کے نعرے لگاتی تھی ، اب تحریکِ انصاف بھی اِس نعرے ں شامل ہو گئی ہے۔
اُدھر چودھری نثار تحریکِ انصاف کو ”پھڑکا“ کے اِستراحت فرمانے لندن چلے گئے ، جہاں اُنہوں نے اپنا طبّی معائنہ کروایا اور چھوٹی موٹی بیماریوں کا علاج بھی ۔ اب وہ مکمل فِٹ ہو کر پاکستان آ چکے ہیں لیکن فی الحال اُن کی توپوں کا رُخ پیپلز پارٹی یا تحریکِ انصاف کی بجائے بھارت کی طرف ہے ۔
چند دِن پہلے مخبوط الحواس بھارتی وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کو دَس ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی گیدڑ بھبکی دی ۔
جِس پر چودھری نثار علی خاں نے کہا کہ بی جے پی حکومت کا پاکستان کے ٹکڑے کرنا محض ایک دیوانے کی بَڑہے جو انشاء اللہ کبھی شرمندہٴ تعبیر نہیں ہو گا ۔ اُنہوں نے کہا کہ جِس حکومت کے ہاتھ مظلوم کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوں ، جہاں ریاستی جَبر حکومتی پالیسی کا حصّہ ہو ، وہ کیسے دہشت گردی کی بات کر سکتے ہیں۔ ہندو مسلم بھائی بھائی کے نعرے لگانے والے ذرا اپنے ماضی اور حال پر نظر دَوڑا کر دیکھیں کہ کِس طرح ریاستی مشینری کا وحشیانہ استعمال کرتے ہوئے کشمیریوں اور بھارت میں بسنے والے مسلمانو ں کے خون سے ہولی کھیلی جاتی ہے۔
بھارت میں موجود مسلمانوں ، دلتوں ، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کے گرد زندگی کا دائرہ تنگ کیا جاتا ہے ۔ بی جے پی کی حکومت میں تمام اقلیتیں شدید خطرات اور خوف کا شکار ہیں ۔ بھارت سرکار نے صرف کشمیر ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے مختلف مذاہب کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کر دی ہے ۔ مسلم اور اقلیت کُش فسادات ہندوستان کی موجودہ حکومت کی سیاسی اور سرکاری پالیسی کا مُنہ بولتا ثبوت ہیں۔
وزیرِ داخلہ نے کہا کہ دہشت گردی کی وجہ پاکستان نہیں بلکہ وہ ملک ہیں جہاں انسانی حقوق کی پامالی ، جبر وتشدد اور مذہبی منافرت ریاستی پالیسی کا حصّہ ہیں۔ اُنہوں نے اندرونی مداخلت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح بھارت بلوچستان اور ملک کے دیگر حصّوں میں نہ صرف مداخلت کر رہا ہے بلکہ اِس کا بَرملا اعتراف بھی کرتا ہے ، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ کَل بھوشن یادیواور دیگر بھارتی ایجنٹوں کی گرفتاری اِس کا بین ثبوت ہے مگر افسوس کہ بھارتی اشتعال انگیزی اور کھلم کھلا مداخلت پر عالمی برادری خاموش ہے۔
وزیرِداخلہ نے کہا کہ بی جے پی کی موجودگی میں کسی اور کو مذہب کی بنیاد پرہندوستان کو تقسیم کرنے کی کوشش کی ضرورت نہیں ۔بھارت کو مذہبی بنیادوں پر پاکستان نہیں بلکہ بی جے پی کی پالیسیاں تقسیم کر رہی ہے ۔ جس حکومت کی بنیاد اور منشور ہی مذہبی جنونیت ، تفریق ، منافرت اور تشدد پر مبنی ہو ، وہ کِس مُنہ سے پاکستان پر الزام تراشی کر سکتا ہے ۔
ہم تو ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں افغان صدر اشرف غنی اور بھارتی وزیرِاعظم نریندرمودی کی باتوں سے جَل بھُن کر کباب بلکہ سیخ کباب ہوئے بیٹھے تھے اور بار بار سوچتے تھے کہ سرتاج عزیز کوڈِھیلا ڈھالا نہیں ، کرارا جواب دینا چاہیے تھا لیکن چودھری صاحب کے اِس ”کھڑاک“ نے ہمارا جی خوش کر دیا۔
ہندو لالے کو ایسا ہی مُنہ توڑ جواب دینا چاہیے تھا جیسا چودھری صاحب نے دیا کیونکہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔ ویسے بھی سبھی جانتے ہیں کہ یہ محض بھارت کی گیدڑ بھبکیاں ہی ہیں کیونکہ ہندو لالہ ایٹمی پاکستان پر حملہ کرنے کی کبھی جرأت نہیں کر سکتا۔ ہمارا تو مطلوب و مقصود ہی شہادت ہے ، اِس لیے موت کا کبھی خوف نہیں ہوا۔ اگر ہندوستان نے کبھی پاکستان پر حملہ کرنے کی جرأت کی تو پھر اُس کی ”داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں“۔
وہ زیادہ سے زیادہ پاکستان کے خلاف سازشیں ہی کر سکتا ہے ، جو وہ کر رہا ہے لیکن اِس میں بھی زیادہ قصور ہمارا اپنا ہے کہ ہم تاحال اپنے آپ کو اندرونی طور پر مستحکم نہیں کر سکے۔
ہمارے کچھ مہربان ایسے بھی ہیں جنہیں حصولِ اقتدار کی بہت جلدی ہے ۔ پیپلزپارٹی اقتدار چھِن جانے پر ہاتھ مَل رہی ہے کیونکہ اُس نے تو ابھی ایک نہیں ، کئی ”سرے محل“ اوربنانے تھے۔ ہمارے کپتان صاحب کو جلدی ہی بہت ہے کیونکہ اُنہیں ڈھلتی عمر کا خوف دامن گیر ہے ۔ وہ سوچتے ہیں کہ اگر پانچ ، دَس سال مزیدگزرنے کے بعد وزارتِ عظمیٰ مِل بھی گئی تو کیا خاک مزہ آئے گا۔ شاید اِسی لیے وہ بوکھلاہٹ میں بار بار یو ٹرن لیتے رہتے ہیں ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

پروفیسر رفعت مظہر کے ہفتہ دسمبر کے مزید کالم