شام جل رہا ہے !

پیر دسمبر    |    محمد عرفان ندیم

یہ اینی ہیدلگوہیں ، اسپین کے شہر سان فرنینڈو میں 1959میں پیدا ہوئیں ، اسپین میں سول وارشروع ہو ئی تو اینی کے آبا وٴ اجداد اسپین سے فرانس شفٹ ہوگئے ۔ فرانس کی آب ہوا راس نہ آئی اور اسپین کی سول وار ختم ہوئی تو یہ خاندان دوبارہ اسپین آگیا۔اینی کے والد الیکٹریشن تھے ، انہوں نے ایک درزن سے شادی کر لی ۔ 1959میں اینی پیدا ہوئیں تو والد روزگار کے سلسلے میں دوبارہ فرانس چلے گئے ، اینی نے فرانس کے شہر لیون میں پرورش پائی، کالج اوریونیورسٹی کی تعلیم بھی لیون سے حاصل کی ، اینی اور ماریہ جوان ہوئیں تو والدین دوبارہ اسپین چلے گئے، ماریہ لاس اینجلس منتقل ہوگئیں اوراینی نے فرانسیسی شہریت اختیار کر لی ۔
فرانسیسی شہریت ملنے کے بعد اینی نے فلاحی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا ، کچھ عرصے بعد وہ سیاست میں بھی ان ہو گئیں ،پہلے فرانس کے لیبر ڈیپارٹمنٹ میں خدمات سرانجام دیں ، 1995میں اقوام متحدہ کے دفتر جنیوا میں لیبر آفس میں کام کیا 1997میں فرانس کے ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ میں متعین ہوئیں ۔

(خبر جاری ہے)

2001میں فرانس میں میونسپل الیکشن ہوئے تو وہ پیرس کی پہلی ڈپٹی میئر خاتون مقرر ہوئیں اور 2014کے الیکشن میں وہ واضح اکثریت کے ساتھ وہ دنیا کے خوبصورت شہر پیرس کی میئر منتخب ہوگئیں ۔

2014سے تا حال وہ پیرس کی میئر چلی آ رہی ہیں ، کچھ دن پہلے انہوں نے ایک اہم اعلان کیا لیکن میں اس سے پہلے آپ کو پیرس اور پیرس میں موجود ایفل ٹاور کے بارے میں کچھ بتانا چاہتا ہوں ۔
پیرس کا شمار دنیا کے خوبصورت شہروں میں ہوتا ہے ، اسے خوشبووٴں کا شہر بھی کہا جاتا ہے ، پیرس میں ہر قسم کی برانڈڈ خوشبوئیں بنتی ہیں ، پیرس کی اصل پہچان ایفل ٹاور ہے ،ایفل ٹاور کیا ہے ، یہ لوہے سے بنے ایک مینار کا نام ہے ،یہ ٹاور دریائے سین کے کنارے واقع ہے۔
1789میں فرانسیسی عوام نے بادشاہ کے خلاف بغاوت کی اور اسے جیل میں ڈال دیا ، تاریخ اس دن کو انقلاب فرانس کے نام سے جانتی ہے ، انقلاب فرانس سے جدید جمہوری ریاستوں کا آغاز ہوا اور سب سے پہلے پارلیمنٹ کا لفظ بھی انقلاب فرانس کے بعد استعمال کیا گیا۔ٹھیک ایک صدی بعد فرانسیسی عوام نے اسی جگہ جہاں سے انقلاب فرانس کا آغاز ہوا تھا یاد گار کے طور پر ایک ٹاور تعمیر کرنے کا اعلان کیا اور 1889 میں ایفل ٹاور دنیا کے سامنے انقلاب فرانس کی نشانی کے طور پر موجود تھا۔
ایفل ٹاور کا نام اس کو ڈیزائن کرنے والے معمار ایفل پر رکھا گیا ہے۔یہ پیرس کا سب سے اونچا ٹاورہے اور دنیا میں سب سے زیادہ پہچانی جانے والی یادگار ہے۔ اسکی بلندی 1063 فٹ ہے۔ اب تک اسے بیس کروڑ لوگ دیکھ چکے ہیں اس لحاظ سے یہ دنیا کی ایسی جگہ ہے جہاں سب سے زیادہ سیاح آچکے ہیں۔ اس کا وزن 7300 ٹن ہے۔اس میں 1660 سیڑھیاں ہیں اور اوپر جانے کے لیے لفٹ بھی موجود ہے۔اب ہم واپس آتے ہیں اینی ہیدلگو کی طرف ،ہفتہ پہلے شام میں جب بشار الاسد کی فوج کی طرف سے شامی مسلمانوں ، خواتین اور بچوں پر قیامت ڈھائی گئی تو اینی میدان میں آگئیں ، بشار الاسد نے ایک ہی دن میں سینکڑوں شامی مسلمانون کو شہید کر دیا ، حلب کے شہری محصور ہو کر رہ گئے، پچاس ہزار لوگوں نے سوشل میڈیا پر اپنے آخری پیغامات جاری کرنا شروع کر دیئے، ان پیغامات میں لکھا تھا کہ ہم بشار کی فوج کے حصار میں ہیں ، ہمارے چاروں طرف قیامت برپا ہے اور ہمیں نہیں معلوم ہم کب موت کے منہ میں چلے جائیں ، شاید یہ ہمارا آخری پیغام ہے اور اس کے بعد ہم زندہ نہیں رہیں گے لیکن ہمیں افسوس ہے کہ دنیا کے سات ارب انسانوں میں سے کوئی بھی ہماری مدد کے لیے نہیں آیا ۔
اینی نے بھی سوشل میڈیا پر یہ پیغامات سنے اور اس نے اعلان کر دیا کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے لیے ایفل ٹاور کی روشنیاں بند رہیں گی۔ دنیا بھر سے ہزاروں سیاح ایفل ٹاور دیکھنے کے لیے پیرس میں موجود تھے لیکن اینی نے اس کے باوجود شامی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ایفل ٹاور کی روشنیاں گل کر دیں ۔ اینی کا کہنا تھا کہ وہ شام کے حوالے سے انسانیت کے عالمی ضمیر کو جگانا چاہتی ہیں ، وہ اس عمل کے ذریعے سے دنیا بھر کے سیاحوں اور دنیا کو شام میں ہونے والے مظالم کی طرف متوجہ کرنا چاہتی ہیں ۔
اینی نے شامی مہاجرین کے لیے ایک کیمپ بھی قائم کرنے کا اعلان کیا جس میں اسی ہزار شامی مسلمانوں کو رہائش دی جا سکے گی۔ یہ اینی کا اقدام تھا اس سے پہلے اٹلی اور جرمنی بھی شامی مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھول چکے ہیں اور انہوں نے شامی مسلمانوں سے ا ظہار یکجہتی کے لیے کئی اقدامات کیئے ۔ پوپ نے شامی مہاجرین کو اپنا بھائی ڈکلیئر کیا اور شامی مہاجرین کے پاوٴں تک چوم ڈالے ۔ برطانوی پارلیمنٹ میں بھی شامی مسلمانوں کے حق میں آوازیں اٹھ رہی ہیں ، برطانوی پورلیمنٹ کے ارکان اسپیکر کے سامنے پھٹ پڑے اور انہوں نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ۔
دنیا بھر کا میڈیااور انٹرنیشنل صحافی بھی شامی مسلمانوں کو بھرپور کوریج دے رہے ہیں ،دنیا کا ہر بڑا اخبار اور میڈیا چینل شامی مسلمانوں کی کسمپرسی کو دکھا رہا ہے اور سوشل میڈیا بھی شامی مسلمانوں کے حق میں پیش پیش ہے ۔ لیکن میں گزشتہ ہفتے سے کنفیوژن کا شکار ہوں ، میں سوچ رہا ہوں کہ میں کس گروہ ،کس طبقے اور کس امت کا حصہ ہوں ، میں کس ملک کا باشندہ اور کس مذہب کا پیرو کار ہوں ۔ میں سوچ رہا ہوں کہ میں اصل مسلمان ہوں ، میرے ملک کے باشندے مسلمان ہیں ، ستاون اسلامی ممالک کے حکمران اصل مسلمان ہیں ،حجا ز و یثرب کے عرب مسلمان ہیں یا اینی ہیدلگو ، برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان اور فرانس ،جرمنی اور اٹلی کی حکومتیں اصل مسلمان ہیں ۔
میں گزشتہ ایک ہفتے سے ستاون اسلامی ممالک میں کسی اینی ہیدلگو کو تلاش کر رہا ہوں ،میں ستاون اسلامی ممالک کی پارلیمنٹ میں سے ایسے ارکان پارلیمنٹ کی تلاش میں ہوں جو برطانوی پارلیمنٹیرین کی طرح منہ میں زبان رکھتے ہوں ۔ میں اسلامی ممالک کے میڈیا ہاوٴسز کو بھی تلاش کر رہا ہوں اور میں پاکستان سمیت اسلامی ممالک کے انٹرنیشنل صحافیوں کو بھی تلاش کر رہا ہوں لیکن میری یہ تلاش کا سفر بہت جلد ختم ہو جاتا ہے ۔
تلاش کے اس سفر میں مجھے ایران تو نظر آتا ہے لیکن اٹلی کہیں نہیں ، مجھے سعودی عرب تو نظر آتا ہے لیکن جرمنی کہیں نہیں ، مجھے حز ب اللہ تو نظر آتی ہے لیکن اینی ہیدلگو کہیں نہیں ، مجھے اہل تشیع کے مذہبی راہنماشام کے بارے میں زبانوں سے آگ اگلتے تو نظر آتے ہیں لیکن مہاجرین کے پاوٴں چومنے والا پوپ کہیں نہیں ۔مجھے جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل یاد آ رہی ہے جس نے آج سے ایک سال پہلے کہا تھاکہ میں حیران ہوں شامی مسلمان مکہ اور مدینہ نزدیک ہونے کے باوجود وہاں ہجرت کر کے کیوں نہیں جا رہے اور ہزاروں میل دور خطرناک سمندی سفر طے کر کے اٹلی اور جرمنی کیوں آ رہے ہیں ؟
شام جل رہا ہے ، حلب پکار رہا ہے ، شامی مسلمان چیخ رہے ہیں ، دنیا جاگ رہی ہے لیکن ستاون اسلامی ممالک کے حکمرانوں سمیت ایک ارب پچھترکروڑ مسلمان سور ہے ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد عرفان ندیم کے اتوار دسمبر کے مزید کالم