عوام کی عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا

پیر دسمبر    |    عمار مسعود

جنرل مشرف کے ایمرجنسی نما مارشل کے ابتدائی دن تھے۔ عوامی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔ چند خوشامدی ٹی وی پر مٹھائیاں تقسیم کر رہے تھے۔ مارشل لاء کو خوش آمدید کہنے والا طبقہ ہر طرف نظر آ رہا تھا جب کہ جمہوریت کا ماتم کرنے والے خال خال دکھائی دیتے تھے۔ پی ٹی وی کے گیٹ سے افواج پاکستان کے سپاہیوں کی پیش قدمی بار بار سکرین کی زینت بن رہی تھی۔جلد ہی نواز شریف کو ملک بدر کر دیا گیا۔ تین سال میں سب کچھ بدلنے کا نعرہ لگا۔
قوم کو سات نکاتی ایجنڈا سنایا گیا۔ریفرینڈم ہوا۔ کرپٹ سیاستدانوں کی جگہ نیک اور صالح چودھری شجاعت اینڈ کمپنی نے سنبھال لی۔ مسلم لیگ ق وجود میں آ گئی۔شائد انہی دنوں کی بات ہے کہ ایک بین الا قوامی چینل پر نئے نئے مارشل زدہ وزیر اطلاعات کا انٹرویو نشر کیا گیا۔

(خبر جاری ہے)

میزبان نے جب سوال کیا کہ آپ نے کیسے عوام کی منتخب جماعت کو اقتدار سے ہٹا دیا ؟جمہوریت کا قتل کیسے کیا ؟ آئین کو پاوں تلے کیسے روند ڈالا؟تو اس وقت کے بہت درست لہجے میں انگریزی بولنے والے وزیر اطلاعات نے بڑے رسان سے جواب دیا کہ ہم نے کرپٹ جمہوریت کو ختم کر کے حقیقی جمہوریت کو فروغ دیاہے۔

میزبان نے پھر سوال کیا کہ اس حقیقی جمہوریت کو لانے کا حق آپ کو کس نے دیا تو وزیر موصوف بولے بات دراصل یہ ہے کہ عوام کی عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ عوام کی اکثریت نے مارشل لاء کی حمائت کردی ہے۔میزبان نے یہ دریافت کرنے کی بہت کوشش کی کہ یہ عوام کی عدالت کا فیصلہ آپ تک کیسے پہنچا ۔ اس عدالت میں استغاثہ کون تھا؟ جرح کس نے کی؟ جج کے فرائض منصبی کس کے ہاتھ آئے؟ثبوت کون لایا؟ تاریخ کب لگی؟ وزیر موصوف ان سوالات کا جواب تو نہ دے سکے البتہ بار بار یہ دہراتے رہے کہ عوام کی عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔
حقیقی جمہوریت کی خاطر یہ مارشل لاء عوام کے پرزور اصرار پر لگا ہے۔
عوام کی عدالت کا فیصلہ ماضی میں ہمیں کئی مشکلوں سے نکال چکا ہے۔ جب ضیاء الحق نے مارشل لاء لگایا تو تب بھی عوام کی عدالت نے فیصلہ سنا دیا تھا۔ جب ضیاء الحق کا ریفرینڈم ہوا تب بھی عوام کی عدالت نے فیصلہ سنا دیا تھا۔ جب محترمہ فاطمہ جناح سے الیکشن میں بدسلوکیاں کی گئیں، ریڈیو پر خطاب سنسر کیا گیا تو تب بھی یہی کہا گیا ہو گا کہ عوام کی عدالت نے فیصلہ سنا دیا ہے۔
جب بھٹو نے مشرقی پاکستان کے انتخابی نتائج نہ تسلیم کئے ہوں گے تب بھی پناہ عوام کے فیصلے میں حاصل کی گئی ہو گی۔حتی کے جب بھٹو کو پھانسی دی گئی ہو گی تو بھی ایک ڈکٹیٹر نے یہی کہا گیا کہ عوام کی عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ہم نے دیکھا ہے کہ جب بھی کسی نے اپنی سوچ عوام کے ذہنوں پر مسلط کرنی ہو۔ عوام کو دھوکہ دینا ہو، عوام کے اختیارات سلب کرنے ہوں۔عوامی رائے عامہ کا مذاق اڑانا ہو تو ذمہ داری عوام کی عدالت کے فیصلے پرڈال دی جاتی ہے۔
اس تمہیدسے سبق یہ بھی ملتا ہے جب بھی کوئی شخص یا جماعت بلاوجہ عوام کے فیصلے کا شور کر ے تو اس فرد، جماعت اور اس لمحے سے خوف زدہ رہنا چاہیے۔
آج پھر ہمیں عوام کا ایک اور فیصلہ درپیش ہے۔ پی ٹی آئی پانامہ کیس سپریم کورٹ میں لے آئی۔ ثبوت نہ پہلے کسی بات کے تھے نہ ہی اب کوئی ایسا کاغذ دستیاب ہے۔ مقدمے میں ثبوت نہ ہوں تو نتیجہ سامنے ہی ہوتا ہے۔ متوقع نتیجے سے خوف زدہ ہو کر پی ٹی آئی کی جانب سے تین باتیں کی جا رہی ہیں وہ بہت خطرناک ہیں۔
پہلی بات تو یہ کہی گئی کہ حکومت پاک فوج کو پنجاب پولیس بنانا چاہتی ہے۔یہ بات فوج کے مورال کے لیئے، اس ادارے کی ساکھ کے لیئے اور افواج پاکستان کی اقدار کے لئے کس قدر ضرررساں ثابت وہ سکتی ہے اس کا گمان شائد خان صاحب کے ذہن میں نہ ہومگر اس بہتان کے مضمرات بہت دور تک جا سکتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہی جا رہی ہے کہ سپریم کورٹ شریف برادران کی کورٹ بننے جا رہی ہے۔ وہ ادارہ جو انصاف کے لئے قائم ہے اس پر اس طرح کی تہمت لگا کر سارے نظام انصاف کو رسوا کرنا کسی طرح بھی مناسب نہیں تھا۔
اور تیسری اور آخری بات جو سننے میں آرہی ہے وہ سب سے پریشان کن ہے کہ عدالت کا فیصلہ جو مرضی ہو عوام کی عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔جی تو چاہتا ہے کہ کوئی ان سے سوال کرے کہ کیا جو ضمنی انتخابات میں ہوا وہ عوام کا فیصلہ نہیں تھا؟ کیا جلسوں میں کم ہونے والے تعداد عوام کا فیصلہ نہیں تھا؟ کیا پشاور میں اپنی جماعت کے وزیروں کی بغاوت عوام کا فیصلہ نہیں تھا؟
اب جو پارلیمنٹ میں شور شرابہ ہے، جو جمہوریت کا راگ الاپا جا رہا ہے، جو استحقاق کی بات ہو رہی اس میں پی ٹی آئی سے بہت دیر ہو گئی ہے۔
اگر کوئی شخص ساڑھے تین سال سورج کو اندھیرے کی علامت بتائے اور پھر وہ اچانک ہی اسی سورج کو نہ صرف روشنی کا منبع قرار دے بلکہ اپنے حصے کی روشنی بھی مانگے تو ایسی غیر جمہوری جماعتوں کے مقدر میں صرف تاریکی رہ جاتی ہے۔جمہوریت کے نام پر حقوق ایک دم نہیں ملتے اس کے لئے اس کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ پارلیمان کو احترام دینا پڑتا ہے۔ اس کے قوانین کی پاس داری کرنی ہوتی ہے۔ اس نظام کوگالی دینے والوں کو جمہوریت اتنی جلدی عزت نہیں دیتی۔اس کے لیئے برسوں عوام کے ووٹ کا احترام کرنا پڑتا ہے۔
رہا مسئلہ عوام کی عدالت کے فیصلے کا تو جمہوریت میں عوام کی عدالت کا فیصلہ صرف الیکشن کے ذریعے سنایا جاتا ہے۔ اس نظام میں خلق خد ایمپائر کی انگلی کے ذریعے نہیں ا ووٹ کے ذریعے اپنے حق میں آواز بلند کرتی ہے ۔ اور اس کے لئے دھرنا نہیں ، بلکہ دو ہزار اٹھارہ کا انتظار کرنا ہو گا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمار مسعود کے پیر دسمبر کے مزید کالم