آمد عیسیٰ و نوید مسیحا

بدھ دسمبر    |    عارف محمود کسانہ

حسن اتفاق سے حضرت عیسیٰ اور رسول اکرم ﷺکی ولادت کی تقریبات ایک ہی ماہ میں منعقد ہورہی ہیں۔اللہ کے ان دو عظیم رسولوں نے دنیا سے ظلم، ناانصافی، جبر اور انسانوں کے انسانوں پر تسلط کو ختم کرکے انقلاب پرپا کیا۔ حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفےٰﷺ کی دعوت اور حیات آفرین پیغام پر غریبوں اور مظلوم طبقہ نے لبیک کہا جبکہ بالا دست سرمایہ دار اور مذہبی پیشوائیت نے زبردست مخالفت کی۔ یہ طبقات اس لیے مخالفت کررہے تھے کہ اگر یہ دعوت انقلاب مقبولیت عام اختیار کر گئی تو ہمارا مقام و مرتبہ ختم ہوجائے گا اور جن کا ہم استحصال کررہے ہیں وہ آزادی حاصل کرلیں گے۔
کفار مکہ رسول اکرم کی مخالفت اور آپ کے جانی دشمن بتوں کی عبادت سے منع کرنے کی وجہ سے نہیں ہوئے تھے بلکہ انہیں اپنے استحصالی نظام کا خاتمہ نظر آرہا تھاجسے علامہ اقبال نے نوحہ ابو جہل کے عنوان سے بیان کیا ہے۔

(خبر جاری ہے)

انسانوں کی رہنمائی کے لیے وحی کی صورت میں جو رشد و ہدایت کا سلسلہ دور اولین سے شروع ہوا اور حضرت نوح سے ہوتا ہوا حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک پہنچااور رسول اکرم پر آکر ختم ہوا۔ تمام پیغمبر ایک ہی دعوت دیتے تھے جسے قرآن حکیم نے سورہ التین کی ابتدائی آیات میں بہت خوبصورتی ہے بیان کیا ہیکہ جو صدائے حق حضرت موسیٰ نے کو ہ طور سے بلندکی اور جسے کوہ زیتون سے حضرت عیسیٰ نے دہرایا وہی پیام حق شہر مکہ سے پیغمبر آخر الزمان نے دنیا والوں کودیا۔

حضرت عیسیٰ نے بنی اسرائیل سے کہا ہے کہ میں تمھاری ایسی تربیت کروں گاجس سے تمہارے اندر زندگی کی تازگی اور توانائی پیدا ہو جائے گی۔ جس سے تمہیں دنیا میں بلندیاں نصیب ہو جائیں گی(3: 49)۔ میں تمہیں ایسی نئی زندگی عطا کروں گا جس سے تم اپنی موجودہ خاک نشینی کی پستی سے ابھر کر فضا میں اڑنے کے قابل ہو جاوٴ گے۔ میں تم میں ایسی روح پھونکوں گا جس سے تمہیں قانون خداوندی کی رو سے، بے انتہا بلندیاں نصیب ہو جائیں گی۔
اقبال کے الفاظ میں۔
اگر یک قطرہ خوں داری اگر مشت پرے داری
بیا من باتو آموزم طریق شاہبازی را
قرآن حکیم کی سورہ مریم کی آیت 33میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان مبارک سے ان کے اپنی ولادت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں اور جس دن زندہ اٹھایا جاوٴں۔حضرت عیسیٰ کا عبرانی نام یسوع جس کا معنی سردار، عیسیٰ بھی اسی سے نکلا ہے۔ یونانی نامJesus مسیح ان کا لقب ہے جس کا مطلب نجات دہندہ ہے اور یونانی لفظ کرائسٹ اس کا مترادف ہے۔
آپ کی پیدائش جنوبی فلسطین میں بیت اللحم کے مقام پر حضرت مریم کے ہاں ہوئی۔ مسیحی انہیں خدا کا بیٹا کہتے ہیں لیکن قرآن حکیم میں ہے کہ اے اہل کتاب مبالغہ نہ کرو اور حق بات کرو۔ بے شک عیسیٰ ابن مریم تو اللہ کے رسول ہیں۔ حضرت مریم نے یہودی معاشرہ میں رہبانیت اور خانقاہیت کے نظام میں انقلاب پیدا کیا۔ قرآن حکیم نے حضرت عیسیٰ  اور ان کی والدہ حضرت مریم  کا اصل مقام و مرتبہ واضع کرتے ہوئے اُن کے بارے لگائے گئے تمام الزامات کو رد کیا۔

حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ وہ ہستیہیں جو ظہور دعائے خلیل، ، تمنّائے کلیم  اور نویدِ مسیحا  ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ میلاد مسیح و مصطفےٰ کی اس دوہری خوشی کو عقیدت و محبت اور اس عزم کے ساتھ منائیں کہ اپنی زندگی کو اْن کی تعلیمات کی روشنی میں بسر کریں۔ رسول اکرم ﷺ کی تشریف لانا باعث خوشی ہے جس کی بشارت حضرت عیسیٰ  نے دی ( 61/6)۔ انبیاء اکرام کی ولادت کا دن ہو یا اس دنیا سے تشریف لے جانے کا یا دوبارہ اٹھانے کا، اللہ نے اس پر سلام بھیجا ہے (سورہ مریم آیت 15 )۔
رب کریم نے حضور کی بعث کو مومنین پر احسان قرار دیا (3/164)، حضورﷺ کوبہت بڑی نعمت قرار دیا ہے ۔ یہ حکم بھی دیا کہ نعمت ملنے پر اس کا چرچا کرو (93/11) یہ حکم بھی دیا ہ نعمت ملنے پر شکر ادا کرنا چاہیے16/114 سورہ یونس کی آیت 59میں فرمایا کہ قرآن ملنے پر جشن مسرت مناوٴ۔ قرآن کو صاحب قرآن سے الگ نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ آپ مجسم قرآن ہیں۔ اسی لئے مومنین آپ کی دنیا میں تشریف آوری پر رب کا شکر ادا کرتے ہوئے ر عید میلاد النبی مناتے ہیں۔
خود خالقِ کائنات رسول اکرم کی یوں تعریف کررہاہے کہ یقینًا آپ اِنسانی اخلاق کی اِنتہائی بلندیوں پر ہیں۔اور اِنسانیت کے بلند ترین مقام پر فائز ہیں۔ انسانیت کی معراجِ کْبرٰی اور شرفِ اعلیٰ کا یہی وہ مقام ہے جِس کے پیشِ نظر اللہ اور اْس کے فرشتے اْس ذاتِ گرامی پر ہزار تحسین و تبریک کے پھْول نِچھاور کرتے ہیں اور ہمیں بھی یہ کرنے کا حکم ہے ۔ ایک روایت ہے رسول اللہ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک مجھے پوری دنیا کے انسانوں سے زیادہ محبت نہ کرے۔
عربی کا مقولہ ہے جو جس سے پیار کرتا ہے اُس کا کثرت سے ذکر کرتا ہے۔اسی محبت کا تقاضا ہے کہ ہمیں ایسی محافل ضرور منعقد کرنی چاہیے جہاں رسول پاک ﷺ پر درود سلام کے نذرانے پیش کیے جائیں اور قرآن کا درس دیا جائے۔ اپنے کرادر کو رسول اللہ کے اسوہ حسنہ کے مطابق ڈھالیں اور قرآن کو اپنی زندگی کا نصب العین بنائیں یہی درود سلام پیش کرنے کا حقیقی انداز ہے۔ ایسے کاموں اور سرگرمیوں سے اجتناب کرنا چاہیے جو قرآن حکیم کی تعلیمات اور اسوہ حسنہ کے منافی ہوں۔حضرت عیسیٰ  اور رسول پاکﷺ ،دونوں نے توحید، امن،انسان دوستی، عالمگیر بھائی چارہ ، حلم ، برداشت اور محبت کا درس دیا جسے دونوں مذاہب کے پیروکاروں کو اپنا کر اپنے رسول سے محبت کا عملی ثبوت دینا چاہیے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عارف محمود کسانہ کے بدھ دسمبر کے مزید کالم