حلب پر وحشیانی بمباری کے بعد قبضہ

جمعرات دسمبر    |    میر افسر امان

شام جسے انگلش میں سیریا لکھا جاتا ہے، میں دوسرے عرب ملکوں کے طرح کنٹرول قسم کی شخصی جمہوریت ہے۔ ایک ہی شیعہ نصیری اقلیتی فرقے کے خاندان کی حکومت اکتالیس سال سے چلی آرہی ہے جعلی انتخابات ہوتے رہے ہیں۔۱۹۷۰ء سے ایک ہی خاندا ن کامیاب ہوتا رہا ہے ۔۱۹۷۰ء میں موجودہ صدر بشارالاسد کے والد حافظ الاسد اُس وقت کے وزیر دفاع نے، دوسرے عرب حکمرانوں کی طرح صدر بورالدین عطاشی کا تختہ الٹ دیا تھا اس کے بعد۱۹۷۱ء میں جعلی انتخاب کے ذریعے شام کے صدر منتخب ہو گئے تھے۔
۸۹ سال کی عمر میں۲۰۰۰ء میں وفات پائی اور بشارالاسد والد کی وفات کے بعد ان کے جانشین مقرر ہوئے۔ پھر نا م نہاد ریفرنڈم کے ذریعے یہ بھی صدر منتخب ہو گئے۔ عرب بہار کے وقت نا م نہاد جمہوری ڈکٹیٹروں، لیبیا، ٹیونس اور مصر کے بت پہ بت گرائے گئے تھے پھر شام کی باری آنے والی تھی مگر بین لاقوامی سازشوں کی وجہ سے شام میں شخصی حکومت کا تعلق اب تک ایک ہی خاندان سے ہے۔

(خبر جاری ہے)

اکثریت پر جبر اور طاقت کے زور سے حکومت کی جارہی تھی۔

جو بین الاقوامی ، انسانی اوراخلاقی اصولوں کے خلاف ہے موجودہ جدوجہد سے پہلے ۱۹۸۲ء میں بھی حافظ الاسد کے دور حکومت میں بھی اکثریت نے اقلیتی شخصی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی تھی جسے حکومتی جبر سے دبا دیا گیاتھا۔ شام میں ۱۹۸۲ء میں حمص شہر سے اسلام پسندوں نے جدوجہد شروع کی تھی اس کی وجہ عرب نیشنلز ازم اور سیکولزم اور اقلیتی حکومت سے نفرت تھی اس جدو جہد کو طاقت اور جبر سے نیست و نابود کر دیا گیا تھا ۔
فضائی حملوں اور ٹی۔۷۲ٹینکوں کی بمباری سے چالیس ہزار افراد اُس وقت ہلاک ہوئے تھے ۔پندرہ سو افراد کو غائب کر دیا گیا تھا۔ لاتعداد کو جیلوں میں بند کر دیا گیا تھا۔ حمص شہرکو اقلیتی حکومت نے کھنڈرات میں تبدیل کر دیاگیا تھا جیسے اب حلب کو گھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ موجودہ تحریک پھر اسی حمص شہر اور صوبے سے تحریک اٹھی جو پورے شام میں پھیل گئی تھی ۔پہلے کی طرح پولیس اورفوج کو استعمال کیا گیا۔
اب پولیس اور فوج کے ساتھ ایران کے پاسداران انقلاب اور دوسری شیعہ ملیشیا تنظیمیں بھی کھل کر شام کی جنگ میں شامل ہو گئیں ہیں۔اس شخصی حکومت نے عوامی بغاوت کو کنٹرول کرنے کے لیے آئے دن بڑے بڑے مظاہرے کروائے مگر ایسی مصنوعی سانپوں کے مظاہروں سے نہ فرعون کا اقتدار بچا تھا نہ یہ موجودہ اقلیتی حکومت بچ سکتی ہے اب تک لاکھوں شامی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ لاکھوں ملک سے ہجرت کر کے دنیا میں تتربتر ہو چکے ہیں۔
میڈیا میں پابندی کی وجہ سے ہلاکتوں کی صحیح تعداد سامنے نہیں آئی۔ ترکی نے اپنے ملک میں شامی مہاجرین کوپناہ دی ہے۔ فوج کے کچھ حصے نے بغاوت کر دی تھی اورمظاہرین کے ساتھ ساتھ حکومتی فوج سے لڑتی رہی۔ شروع میں حمص شہر میں پہلے چار لاکھ لوگوں نے مظاہرہ کیا اس کے بعد پانچ لاکھ مظاہرین نے اپنی اکثریت دکھائی اس مظاہروں کو دیکھنے کے لیے جرمن اور امریکی ایمبیسڈر حمص گئے ان مظاہروں کی کامیابی کی سزا صوبہ حمص کے گورنر کی سبکدوشی کی صورت میں سامنے آئی مساجد اور ہسپتالوں پر بمباری کی گئی اس کے بعد شام کے تمام شہروں میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔
مصر میں عرب لیگ نے اپنے اجلاس منعقدہ ۱۲ نومبر۲۰۱۱ء میں شام کی رکنیت معطل کر دی رکن ممالک نے اپنے سفیر واپس بلا لیے تھے۔ یہ سب عرب حکومتیں شام کے مظلوں کی مدد پہلے بھی مدد کرتے رہے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں۔ شام کی رکنیت معطل ہونے کے بعد دمشق میں حکومت کے حامیوں نے سعودی عرب، فرانس،قطر، اور ترکی کے سفارتخانوں پر حملہ کر دیا تھا۔ یورپی یونین نے شام پر نئی پابندیاں عائد کر دیں تھیں۔ شامی حزب مخالف کے رہنمابرہان غالیون ماسکو بھی گئے مگر روس نے مددد کرنے کے بجائے شام کی خاصب حکومت کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔
شام کے مظلوں پربمباری شروع کر دی۔ روس کے اس عمل سے پوری دنیا کے مسلمان روس کے خلاف ہو گئے ہیں۔ روسی ظلم کے رد عمل کے طور پرآج ہی ترکی میں روس کے سفیر کوقتل کر دیا گیا۔جرمنی اور اٹلی نے بشار کو ایسی ٹیکنالوجی دی جس سے ٹیلیفون کالیں،مبائل فون، فیکس، ای میل میں باغیوں کی نکل و حرکت ٹریس کرنے اور پکڑنے میں مدد ملی ہے۔ حلب میں عورتوں، بچوں اور بے گناہ شہریوں پر شامی اور روسی بمباری کی وجہ سے، حال ہی میں مصر کی جانب سے حلب میں سات روزہ جنگ بندی کی ایک قرارداد سلامتی کونسل میں پیش کی گئی جسے روس اور چین نے ویٹو کر دیا۔
صدر بشار کے اس اعلانِ معافی کہ جو باغی ہتھیار ڈالے گا اس پر کوئی عدالتی کاروائی نہیں کی جائے گی ۔ شام کے سرکاری خبروں کے مطابق اس اعلان کے بعد جنوبی ومشق کے کناکر قصبے کے ۱۵۰۰ باغیوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ شیعہ مذہب کا فرقہ ہونے کے ناتے شام کی اس جنگ میں ایران شروع دن سے اسلحہ اور پاسداران انقلاب بھیج کے بشار کی مدد کر رہا ہے۔ ایران کے پاسداران انقلاب شام میں جنگ لڑتے رہے ہیں۔ اس جنگ میں لاتعداد پاسداران جنگ میں مارے بھی گئے۔
ایرانی اپوزیشن نے الزام لگایا ہے کہ حلب میں قتل عام کے ذمے دارپاسدران انقلاب ہیں۔ پاسداران کے کئی کمانڈر بھی مارے گئے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے شام میں خانہ جنگی ہو رہی ہے اور مذمتی قراداد بھی منظور تھی اورکہا کہ بشارالاسد کو اقتدار چھوڑ دینا چاہیے۔امریکا جو بظاہر شام میں مزاحمت کاروں کے ساتھ ہے اسلحہ بھی دیتا ہے۔ اس پالیسی پر عمل کر رہا ہے کہ شام کی گوریلا جنگ کے ذریعے روس کو اس جنگ میں بھی افغانستان کی طرح پھنسا دے۔
ایک اخباری خبر کے مطابق اب کانگریس نے مزاحمت کاروں کو اینٹی ایئر گرافٹ اسلحہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ روس اورترکی نے حلب کی شہری آبادی ے کے انخلا کے لیے ایک معاہدہ باغیوں اور شامی حکومت میں کروایا ہے۔ ایران نے اس میں اپنے مطلب کی شکیں شامل کروائیں ہیں۔ مثلا پہلے شیعہ آبادی کو نکالا جائے وغیرہ۔ایرانی جنرل جواد غفاری جو شام میں لڑنے والے پاسداران کے قائد ہیں۔ جو ۱۶ شیعہ ملشیاؤں کے بھی سربراہ ہیں نے کہا ہے کہ حلب میں محصور تمام لوگوں کو قتل کر دیا جائے۔
نقل مکانی کی آڑ میں مزاحمت کار نکل جائیں گے۔معاہدے کے باوجود روس نے حلب میں شام مخالف علاقوں میں بمباری کی۔ روس نے الزام لگایا کہ باغیوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شام کی فوجی ٹکانوں پر حملے کیے۔ جب کہ ترکی کے صدر طیب اردوان نے کہا کہ پہل شامی فوجیوں نے کی۔اقوام متحدہ میں اب فرانس کی قرارداد منظور کرتے ہوئے عالمی مبصرین کی تعیناتی کا فیصلہ کیا ہے جسے روس نے بھی منظور کر لیا ہے۔
صاحبو! دشمن طاقتیں مسلمان کو مسلمان سے لڑا کر اپنا الو سیدھا کر رہی ہیں چائے وہ امریکا ہو، مغرب ہو،چین ہو یا روس۔ کتناہی اچھا ہو کہ مسلمان عصری تقاضوں کے مطابق پرامن طریقے سے غیرجانبدار الیکشن کمیشن کے ذریعے اقتدار حقیقی نمائندوں کے ہاتھوں میں دے دیا جائے اور۴۱ سالہ شخصی حکومت ختم ہو مگر تاریخ کا یہ سبق ہے اقتدار بغیر قربانیوں کے حاصل نہیں ہوتا ۔ شام کے سنی عوام شام کی اقلیتی شیعہ نصریہ فرقے سے ۱۹۸۲ء سے جنگ لڑ رہے ہیں۔ لاکھوں شہید ہو چکے ہیں ۔ لاکھوں بے وطن ہو گئے ہیں۔ شام میں اقتدار اکثریتی سنی عوام کا حق ہے ان کو مل کر رہے گا چاہے شام کی حکومت کتنا بھی ظلم و تشدد کرے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

میر افسر امان کے بدھ دسمبر کے مزید کالم