سالانہ مقصدِ میلاد رسول ﷺ کانفرنس

بدھ دسمبر    |    محمد عزیر عاصم

سیرت کمیٹی تحصیل حضرو کی نہایت فعال تنظیم کی حیثیت اختیار کر چکی ہے،ماہ ربیع الاول اور محرم الحرام میں سیرت کمیٹی کے توسط اور زیرنگرانی علاقہ بھر میں دینی مجالس کا اہتمام ہوتا ہے،اس سال بھی وہی جوش و جذبہ اور وہی مشن لئے ریتلہ منڈی حضرو میں سالانہ مقصدِ میلادرسول ﷺ کانفرنس کا اہتمام کیا گیا،صبح ہی سے حضرو شہر میں کانفرنس کی تیاریوں کا آغاز کر دیا گیا تھا،چھچھ سے باہر سے آنے والے شرکاء قافلوں کی صور ت میں پنڈال پہنچتے رہے،پروگرام کا باقاعدہ آغاز نمازِ ظہر کے بعد ہوا،سٹیج پر علاقہ بھر سے تشریف لائے ہوئے جید علمائے کرام تشریف فرما تھے،جن میں حضرت مولانا سید محمدیوسف شاہ(ہارون)،حضرت مولانا اشرف علی (راولپنڈی)،مولانا شیر زمان(امیر جمعیت علمائے اسلام اٹک)،مولانا ضیاء الاسلام صاحبزادہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالغنی،حافظ محمد ادریس(مومن پور)حافظ محمد بہرام (نرتوپہ)شیخ الحدیث مولاناامتیاز خان،مولانا قاری چن محمد،مولانا عبدالخالق(نرتوپہ)،مولانا محمد زبیر(شاہ ڈیر)،حافظ ہارون الرشید،مولانا ضیا ء لاسلام صاحبزادہ شیخ الحدیث مولانا عبدالسلام،مولانا فضل وہاب،مولانا غلام مرتضیٰ،مولانااظہارالحق(جنرل سیکرٹری جمیعت علمائے اسلام حضرو) ،مولانا بلال بادشاہ،مولانا رشید خان (پانڈک )،مولانا نعمان طارق گڑنگی (مانسہرہ )،قاری نظام الدین ،مولانا محمد رضوان ،قاری محمد الیاس اور علاقہ بھر سے دیگر علمائے کرام شامل ہیں،ان علمائے کرام کے درمیان مہمان خصوصی کی حیثیت سے تشریف لانے والے حضرات میں مولانا حفظ الرحمان ندیم شاہ اور مفتی شبیر احمد عثمانی تھے،نعت رسول مقبول ﷺ کے بعد سیرت کمیٹی کے صدر قاری چن محمد نے جامعہ عربیہ اشاعت القران کے درجہ موقوف علیہ کے طالب علم کو وفاق المدارس العربیہ پاکستان میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر مبارک باد پیش کی اور جامعہ کی طرف سے ان کے لئے بیس ہزار روپے بطورِ انعام پیش کیا گیا جو مولانا سید محمد یوسف شاہ صاحب کے دست مبارک سے ان کو دیا گیا،ان کے بعد مولانا فضل وہاب نے مختلف قراردادیں پیش کیں ،جن کے مطابق
۱۔

(خبر جاری ہے)

پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے،یہاں اسلامی نظام نافذ کیا جائے اور قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہ کی جائے۔
۲۔سند ھ حکومت نے جو خلاف ِ اسلام قانون پاس کیا ہے ،اس کو فوراً ختم کیا جائے۔
۳۔قادیانی اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں ،ان کو اقلیتی حقوق دے کر اعلیٰ عہدوں سے برطرف کیا جائے۔
۴۔کشمیر،فلسطین ،برمااور شام کے مسلمانوں پر مظالم کے خاتمے کے لئے حکومت اپنا کردار ادا کرے۔

۵۔مولانا مسرور نواز جھنگوی کو منتخب کرنے پہ جھنگ کے عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ،اور جس طرح انہوں نے منتخب ہو کر جمعیت علمائے اسلام میں شمولیت اختیار کر کے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے،ہم اس فیصلے پر ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
ان قرادادوں کی تائید ہزاروں کے مجمع نے کی ،ان کے بعد مہمانِ خصوصی مولانا حفظ الرحمان ندیم شاہ کو دعوت دی گئی،انہوں نے پہلی بار چھچھ میں اپنی حاضری کو یاد گار بنایا اور سید عبدالمجید ندیم شاہ  کی یاد تازہ کر دی،وہی انداز،وہی آواز،انہوں نے اتنے بہترین انداز میں پروگرام کا انعقاد کرنے پہ سیرت کمیٹی کو خراج تحسین پیش کیا،وقت کی قلت کا ذکر کرتے ہوئے اپنے موضوع پہ براہ راست بات کی اور میلاد اور مقصد میلاد رسولﷺ پہ مفصل روشنی ڈالی،ان کا کہنا تھا کہ میلاد کا منکر کوئی نہیں ہے،میلاد کہتے ہیں ،دنیا میں تشریف لانے کو ،حضورﷺ دنیا میں تشریف لائے،اس کا انکار نہ آج کے دور کی سپر پاورز کو ہے،نہ اس وقت ابوجہل،ابولہب وغیرہ نے کیا،ولادت روز روشن کی طرح عیاں،سب ولادت کے ماننے والے،بلکہ ولادت اور میلاد پہ اپنی لونڈیوں کو آزاد کرنے والے،اختلاف کا آغاز تو اس وقت ہوا جب غارحرا کی خلوتوں میں وحی کی آمد ہوئی،فاران کی چوٹیوں پہ لاالہ الااللہ کی ضرب لگی،توحید کی صدا بلند ہوئی تو اختلاف شروع ہوگیا،مقصد کی بات آئی تو اپنے بیگانے ہوگئے،لونڈی آزاد کرنے والے پتھر برسانے لگے،بھتیجا کہنے والے،صادق اور امین کہنے والے،میلاد کی خوشی میں خوش ہونے والے مقصد میلاد کی بات آئی تو ساحر،جادوگر اور کاہن کہنے لگے،مقصد میلاد کی بات آئی ت ومنکر ہوگئے،میلاد منانے والوں نے مقصد کو فراموش کر دیا،ہمیشہ کی ناکامی کو گلے لگا لیا،ان بے چاروں کو کیا پتہ کہ حضور ﷺ کے آنے کا مقصد منایا نہیں بلکہ اپنایا جا تا ہے،شاہ صاحب کا خطاب جاری رہتا مگر عصر کی نماز کا وقت نکلا جارہا تھا،شرکاء کی تعداد گزشتہ سالوں کی نسبت زیادہ تھی،انتظامیہ نے لوگوں کے بیٹھنے کا مناسب انتظام کیا ہوا تھا،لوگوں کی خوائش تھی کہ شاہ صاحب کی خوبصورت آواز سنتے رہیں،مگر وقت نے اجازت نہ دی اور انہیں اپنی بات ختم کر نی پڑی،یقینا یہ شاہ صاحب کی کامیاب انٹری تھی،آنے والے دنوں میں سیرت کمیٹی کے توسط سے انہیں چھچھ میں بار بار آنا پڑے گا۔
،میں ان کو پیشگی خوش آمدید کہہ رہاہوں۔
پنڈال میں نماز عصر باجماعت ادا کر کے چوکوں ،چوراہوں ،روڈوں پہ میلاد منانے والوں کو عملاً نماز کا درس دیا گیا کہ جس نبی ﷺ کا میلاد مناتے ہوئے آپ نمازوں کو چھوڑ دیتے ہیں ،اس نبی ﷺ کی محبت کا تقاضا ہے کہ نماز جماعت کے ساتھ ادا کی جائے،نماز کے بعد فیصل آباد سے آئے ہوئے معروف خطیب (میں اب انہیں چھچھ کا اپنا خطیب کہتا ہوں)مولانا شبیر احمد عثمانی نے اپنے دلنشین،خوب صورت اور پیارے انداز میں نبی اکرم ﷺ کی دنیا میں آمد کا مقصد بیان کیا،میلاد اور مقصد میلاد رسول ﷺ پہ روشنی ڈالی ،مغرب کی اذان تک ان کا دلنشین بیان جاری رہا،یوں یہ خوب صورت اور چھچھ کا نمائندہ پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا ،میں ان سطور میں سیرت کمیٹی کی خد مت میں ملتمس ہوں کہ ممکن ہو تو آنے والے برس اس پروگرام کا انعقاد صبح دس بجے سے کر دیا جائے،تاکہ باہر سے آنے والے مہمانوں کو بھر پور وقت دیا جاسکے۔
سیرت کمیٹی حضرو کو کامیاب پروگرام پہ مبارک باد۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد عزیر عاصم کے بدھ دسمبر کے مزید کالم