اپنائیت کی موت

جمعرات دسمبر    |    سید بدر سعید

موسم بدلتے ہی پنجاب ہی نہیں بلکہ کراچی تک میں جرائم کی وارداتوں میں تیزی آئی ہے ،مجموعی طور پر البتہ اس سال گذشتہ برس کی نسبت 15 فیصد کم جرائم ہوئے ہیں ۔جب ہم سوچ رہے تھے کہ خیبر تا لاہور امن قائم ہو رہا ہے اسی وقت خبریں موصول ہونا شروع ہو گئیں کہ لاہور میں ڈکیتی کی واردات میں قتل ہو گئے ۔ڈاکوؤں نے اشارے پر کار سوار فیملی کو لوٹ لیا۔ اسی دوران کراچی سے اس سے بھی زیادہ سنگین خبر آئی ۔
ٹریفک پولیس کے ڈی ایس پی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا ۔ لاہور میں تو آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نے اس صورت حال کا نوٹس لیتے ہوئے اعلی سطحی اجلاس بھی طلب کر لیا جس میں سی سی پی او لاہور سے بریفنگ لی گئی اور احکامات جاری کئے گئے ۔ یہاں اچھی بات یہ تھی کہ آئی جی پنجاب نے اس صورت حال سے جان چھڑانے والا کوئی پالیسی بیان جاری کرکے حقائق پر پردہ ڈالنے کی کو شش نہیں کی ۔

(خبر جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ ملت پارک قتل کیس کے ملزمان کا گرفتار نہ ہونا پولیس فورس کے لئے چیلنج ہے ۔

اس سلسلے میں انہوں نے آپریشنل احکامات بھی جاری کئے ۔ جس کے بعد سی سی پی او امین وینس اور ان کی ٹیم نے چند روز میں ہی قتل کے ملزمان ٹریس کر کے گرفتار کر لئے ۔ یہ سب گذشتہ دنوں کی خبروں کا خلاصہ ہے جس سے موجودہ منظر نامہ واضح ہوتا ہے ۔اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں ۔ ہمارے یہاں عموما گرمیوں میں جرائم کم اور سردیوں میں زیادہ ہوتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گرمیوں میں دن طویل ہوتا ہے ۔ رات دس ، گیارہ بجے تک چہل پہل ہوتی ہے۔
اس کی نسبت سردیوں میں لوگ سرشام ہی گھروں میں دبک جاتے ہیں ۔ سورج جلد ڈوب جاتا ہے اور دھند کا راج ہوتا ہے ۔ ایسے موسم میں جرائم پیشہ افراد کے لئے مواقع بڑھ جاتے ہیں ۔
یہ محض ایک تصویر کے دو رخ ہیں ۔ کہانی ابھی باقی ہے ۔ ہم اس منظر نامے کی بنیاد پر یہ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ سردیوں میں لوگ لٹتے رہیں اور انہیں کوئی نہ بچائے ۔ پولیس کا فرض ہے کہ وہ عام شہریوں کو تحفظ فراہم کرے ۔ یہ تحفظ ریاست کے ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور ریاست ہر شہری کو تحفظ فراہم کرنے کی پابند ہے ۔
پولیس اسی ریاست کا ایک ادارہ ہے جس کی ذمہ داری اس بنیادی حق کو حقدار تک پہنچانا ہے ۔مجھے البتہ ایک نوحہ لکھنا ہے ۔ یہ نوحہ ہمارے بدلتے کلچراور بکھرتی روایات کا ہے ۔ اگلے روز حافظ شفیق الرحمن صاحب ہی بتا رہے تھے کہ انہوں نے نیا گھر تعمیر کیا تو ان کے بچوں نے وہاں جانے سے انکار کر دیا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اندرون لاہور میں پلنے والے بچوں کو سوسائٹی کلچر کی ویرانی اور بے حسی عجیب لگتی ہے ۔

چند برس ہوتے ہیں ۔ہمارا اپنا ایک مخصوص کلچر تھا جس سے اپنایت کی مہک چھلکتی تھی ۔ محلہ میں کسی کی شادی ہو تو کئی ہمسائیوں کی بیٹھک مہمانوں کے لئے خالی ہو جاتی تھی ۔ بیٹی کی شادی پر دیگ پکانے والا نائی گھر اور گلی کے بچوں کو بزرگ کی طرح حکم دیتا تھا اور مہمانوں سے پہلے کسی کو دیگ کے قریب بھی نہ پھٹکنے دیتا تھا ۔ تب محلہ کا ہر بچہ اپنا بچہ اور ہر بیٹی اپنی عزت ہوتی تھی ۔ ماسٹر سبق یاد نہ ہونے پر بچے کی پٹائی کرتے تو باپ خوش ہوتا تھا ۔
کوئی فوت ہو تو اہل خانہ سے زیادہ محلہ دارکفن دفن اور کھانے کا انتظام کرتے نظر آتے تھے ۔ بدمعاش تک محلہ کی عزت کی خاطر لڑنے مرنے پر آمادہ ہو جاتے تھے ۔ لوگوں کو علم ہوتا تھا کہ فلاں محلہ میں فلاں بدمعاش رہتا ہے لہذا اس محلہ سے نظریں نیچی کر کے گزرنا ہے ۔ قصہ مختصر اپنایت ، خلوص اور احساس ذمہ داری اس بلندی پر تھا کہ بدمعاش تک اپنے محلہ کی عزت ، جان اور مال کے محافظ سمجھے جاتے تھے اور بزرگوں کا فیصلہ حرف آخر سمجھا جاتا تھا ۔
اب حالات یہ ہیں کہ ہمسائے کو شادی میں بلایا تک نہیں جاتا ۔ خوشی غمی کی تقریبات اب نجی ہال میں ہوتی ہیں اور محلہ میں کسی کو خبر نہیں ہوتی ۔ساتھ والے گھر میں جنازہ پڑا ہو تب بھی لوگ خاموشی سے دفتر جاتے نظر آتے ہیں ۔ ہمارے اصل کلچر کو تو ترقی کے نام پر پھیلنے والی بے حسی کھا گئی ہے ۔
بزرگ بتاتے ہیں کہ انگریز کے زمانے میں ایک سپاہی محض ڈنڈہ تھامے جاتا تھا اوردرجن بھر لوگوں کو گرفتار کر کے ہانکتا ہوا تھانے لے آتا تھا ۔
سوال یہ ہے کہ اب سپاہی اتنا طاقتور کیوں نہیں ہے ؟ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم اپنی روایات ، اپنا کلچر اور اپنے اقتدار سے دور ہو گئے ہیں ۔ جب ایک سپاہی ڈاکوؤں کے پورے قبیلہ کو ہانکتا ہوا تھانے لے آتا تھا تب لوگ سپاہی کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے ۔ اس کی ایک آواز پر پورا گاؤں ڈاکو کا تعاقب کرتا تھا ۔ کہیں واردات ہوتی تو گاؤں کے بزرگ لاٹھی بردار نوجوانوں کی ٹولیاں بنا کر رات بھر گشت پر لگا دیتے تھے ۔
یہ نوجوان کسی بھی مشکوک شخص کو دیکھتے ہی پولیس کو خبر کرتے تھے اور پولیس کے آنے تک اس مشکوک شخص کو روکے رکھتے تھے ۔ تب تھانہ اور سپاہی اپنا سمجھا جاتا تھا ۔نمبردار اور کونسلر علاقہ میں ہونے والی مشکوک حرکتوں کی اطلاع پولیس کو دینا اپنا فرض سمجھتے تھے ۔ لوگ اپنی ہی نہیں اپنے علاقے کی حفاظت کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہوتے تھے ۔یہ وہ دور تھا جب ہر شہری ”پولیس“ تھا ۔
اب حالات یہ ہیں کہ ہمسائے کو لٹتا دیکھ کر ہم نظر انداز کر دیتے ہیں ۔
کہیں کسی مشکوک شخص کو دیکھیں تو اس کی نشاندہی کی بجائے خاموشی سے گزر جاتے ہیں ۔ مجرم کو پہچاننے کے باوجود گواہی دینے پر آمادہ نہیں ہوتے ۔ ہم دوسروں کا گھر جلتا دیکھ کر سوچتے ہیں کہ ہماری چھت محفوظ رہے گی ۔ ہم اپنی وجہ سے غیر محفوظ ہوئے جاتے ہیں اور ستم یہ ہے کہ خود ہمیں بھی اس کا احساس نہیں ۔ یورپ تک میں اگر کوئی جرم ہوتا دیکھے تو فورا پولیس کو آگاہ کرتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جرائم یا مجرم کی پردہ پوشی بھی جرم ہے ۔
ہمارے یہاں البتہ قوم ابھی اتنی مہذب نہیں ہوسکی ۔ہماری پارلیمنٹ کے پاس بھی پولیس کے لئے بھاری فنڈز کی منظوری کا کوئی بل نہیں ہے ۔ ان حالات میں یہ ممکن نہیں کہ ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ آبادی کے حامل شہر لاہور میں چند ہزار پولیس اہلکار ہر شخص پر نظر رکھ سکیں ۔ یہ نظر ہمیں خودرکھنی ہے ۔ سچ یہ ہے کہ مصنوعی زندگی ، بے حسی اور سوسائٹی کلچر کے نام پر پھیلنے والی اجنبیت کی دبیز دھند اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔
ہمیں محفوظ رہنا ہے تو پہلے کی سی رواداری ، اور محبتوں کو تلاش کرنا ہو گا ۔ احساس ذمہ داری ہی کھو جائے تو کچھ نہیں بچتا ۔یہ تو ممکن نہیں کہ ہر شخص کے ساتھ دو پولیس اہلکار نتھی ہوں ، البتہ مقامی سطح پر اب بھی” پولیس عوام ساتھ ساتھ“ کے نظریہ کے تحت ایک نیٹ ورک ضرور بن سکتا ہے ۔ پہلے کی طرح معززین کی نگرانی میں محلہ میں چوکیداری کا نظام قائم کر کے اسے علاقہ کے تھانے سے منسلک کیا جا سکتا ہے ۔سچ یہ ہے کہ کوئی اور نہیں بلکہ ہم خود پنے آپ کو لوٹنے پر تلے ہیں ،ہمارے کلچر میں موجود اپنائیت مر رہی ہے ۔ ممکن ہو تو اس اپنائیت کو بچا لیں ورنہ ہر شخص لٹیرا ہو گا اورگھر کسی نہ کا بچے گا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

سید بدر سعید کے جمعرات دسمبر کے مزید کالم